Share this link via
Personality Websites!
لیکن جب تنہائی میں ہوتا تو نافرمانیوں کے ذریعے مجھ سے اِعْلانِ جنگ کیا کرتا تھا۔([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
آخرت کی تقسیم تقویٰ پر کی گئی ہے
تَصَوُّف کی مشہور کتاب ”رِسَالَہ قُشَیْرِیَہ“ میں ہے، حضرت شیخ کَتَّانِی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: دُنیا کی تقسیم آزمائش پر کی گئی ہے اور آخرت کی تقسیم تقویٰ پر کی گئی ہے۔([2]) یعنی دُنیا میں عِزَّت، مرتبہ ومقام، بلندی، ترقی، کامیابی اُسے ملتی ہے جو زیادہ محنت کرتا ہے جبکہ آخرت میں بلند درجات، زیادہ عِزَّت، زیادہ مقام ومرتبہ اسے ملے گا جو زیادہ تقویٰ والا ہو گا۔ چنانچہ پارہ: 12، سورۂ ہُود، آیت: 49 میں ارشاد ہوتا ہے:
اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠(۴۹) (پارہ12،سورۃھود:49)
ترجمہ کنزُ العِرفان:بے شک اچھاانجام پرہیز گاروں کے لئے ہے۔
ایک مقام پر اللہ پاک جنّت کے متعلق ارشاد فرماتا ہے:
اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ(۱۳۳) (پارہ4،سورۃآل عمران:133)
ترجمہ کنزُ العِرفان:وہ پرہیز گاروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔
سُبْحٰنَ اللہ! معلوم ہوا اللہ پاک نے جنَّت بنائی ہی اَہْلِ تقویٰ کے لئے ہے، لہٰذا جو زیادہ متقی ہو گا، اسے جنّت میں زیادہ بلند درجات نصیب ہوں گے، اسے زیادہ نعمتیں ملیں گی۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami