Book Name:Khof-e-Khuda Hasil Karnay Kay Tariqay

رِکشہ میں تشریف فرما ہوئے ہی تھے کہ ایک شخص نے حاضِر ہو کر عرض کی : حُضُور! فلاں پریشانی سے دوچار ہوں ، تَعْوِیذ عطا فرما دیجئے۔ علَّامہ ارشدُ الْقادری صاحب رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اس شخص سے فرمایا : گاڑی کا ٹائم ہو چکا ہے اور تم ابھی تعویذ کے لئے بول رہے ہو! حضور مفتئ اعظم ہند رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ نے علَّامہ ارشد القادری صاحب کو روک دیا۔ عَلَّامہ صاحب نے عرض کیا : حُضُور! گاڑی چُھوٹ جائے گی۔ اس پر حضور مفتئ اعظم ہند رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ نے خوفِ خُدا کے جذبے سے سرشار ہو کر فرمایا : چُھوٹ جانے دو۔ دوسری ٹرین سے چلا جاؤں گا۔ کل قیامت کے دِن اگر خُداوندِ کریم نے پوچھ لیا کہ تُو نے میرے فُلاں بندے کی پریشانی میں کیوں مدد نہیں کی تو میں کیا جواب دوں گا؟ یہ فرما کر رکشہ سے سارا سامان اُتروا لیا۔ ([1])

خیالِ خاطِرِ احباب چاہئے ہر دَم            انیسؔ ٹھیس نہ لگ جائے آبگینے کو

 اے عاشقانِ رسول ! غور فرمائیے! حُضُور مفتئ اعظم ہند رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ خوفِ خُدا والے تھے ،  آپ کو روزِ قیامت اللہ پاک کی بارگاہ میں پیشی کا خوف تھا ، آپ نے ایک دُکھی مسلمان کی خیر خواہی کے لئے گاڑی چُھوٹ جانا تو گوارا کیا مگر اس کی دِل جُوئی کئے بغیر چلے جانا منظور نہ ہوا۔ اب غور فرمائیے! مسلمان بھائیوں کی خیر خواہی کا یہ جذبہ اگر ہمیں نصیب ہو جائے تو ہمارا مُعَاشَرہ کیسا حَسِیْن اور خوبصُورت ہو جائے ، لڑائی جھگڑے دَم توڑ جائیں ، گالی گلوچ کا تَصَوُّر بھی باقی نہ رہے ، حَسَد ، جَلَن ، بغض و کینہ وغیرہ یہ تمام باطنی بیماریاں مُعَاشَرے سے ختم ہو جائیں ۔ اور یہ سب کیسے ہو گا؟ خوفِ خُدا کے ذریعے۔

معلوم ہوا کسی بھی مُعَاشرے کو مِثَالی معاشرہ بنانے کے لئے جو اَہَم اور بنیادی چیزیں ہیں : حق تلفیوں سے بچنا اور خیر خواہی ، یہ دونوں خوفِ خُدا کے ذریعے بخوبی حاصِل ہوتی


 

 



[1]...فیضانِ سُنَّت ، صفحہ : 111۔