Book Name:Fazail-e-Makkah & Hajj

غیر مسلموں نے چند دلائل دئیے؛ مثلاً ایک دلیل اُنہوں نے یہ دِی کہ بیت المُقَدَّس پہلے تعمیر ہُوا اَوْر کعبہ شریف کی تعمیر بعد میں ہوئی ، لہٰذا بیت المُقَدَّس کو شانِ اَوَّلِیَّت حاصِل ہے ، اس سے ثابِت ہوا کہ بیت المُقَدَّس اَفْضَل ہے ،  غیر مسلموں کی دوسری دلیل یہ تھی کہ بیت المُقَدَّس مُلْکِ شام میں ہے اَوْر مُلْکِ شام برکت والی سرزمین ہے ، روزِ قیامت میدانِ محشر بھی یہیں ہو گا (خیال رہے! اُس وَقْت مُلْکِ شام بہت وسیع تھا ، فلسطین بھی مُلْکِ شام ہی میں شامِل تھا ، اس لئے غیر مسلموں نے یُوں کہا) ، اسی طرح بیت المُقَدَّس انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کا قبلہ ہے ، لہٰذا بیت المُقَدَّس کعبہ شریف سے اَفْضَل ہے۔ ([1]) غیر مُسْلموں کے اس اعتراض کے جواب میں اللہ پاک نے پارہ 4 ، سورۂ آلِ عمران کی آیت : 96 اور 97 نازِل فرمائی ، اِرْشاد ہوتا ہے :

اِنَّ  اَوَّلَ  بَیْتٍ  وُّضِعَ  لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ  بِبَكَّةَ  مُبٰرَكًا  وَّ  هُدًى  لِّلْعٰلَمِیْنَۚ(۹۶) فِیْهِ  اٰیٰتٌۢ  بَیِّنٰتٌ  مَّقَامُ  اِبْرٰهِیْمَ  ﳛ  وَ  مَنْ  دَخَلَهٗ  كَانَ  اٰمِنًاؕ-وَ  لِلّٰهِ  عَلَى  النَّاسِ   حِجُّ  الْبَیْتِ  مَنِ  اسْتَطَاعَ  اِلَیْهِ  سَبِیْلًاؕ-وَ  مَنْ  كَفَرَ  فَاِنَّ  اللّٰهَ  غَنِیٌّ  عَنِ  الْعٰلَمِیْنَ(۹۷) (پارہ4 ، سورۃآلِ عمران : 96-97)                 

ترجمہ کنزُ العِرفان : بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کے لئے بنایا گیا وہ ہے جو مکہ  میں ہے برکت والا ہے اور سارے جہان والوں کے لئے ہدایت ہے ، اس میں کھلی نشانیاں ہیں ، ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے اور جو اس میں داخل ہو گیا امن والا ہو گیا اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہے اور جو انکار کرے تو اللہ سارے جہان سے بےپرواہ ہے۔


 

 



[1]...تفسیر نعیمی ، پارہ : 4 ، آل عمران ، تحت الآیۃ96 ، جلد : 4 ، صفحہ : 29 ۔