Book Name:Fazail-e-Makkah & Hajj

مَوْجُود ہے۔ حضرت مُجَاہِد رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : زمین کا وہ ٹکڑا جہاں اب کعبہ شریف مَوْجُود ہے ، یہ زمین کی تخلیق سے 2 ہزار سال پہلے بنایا گیا تھا اور حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سے رِوایَت ہے : ابھی زمین کی پیدائش نہیں ہوئی تھی ، اس سے 2 ہزار سال پہلے کعبہ شریف پانی میں ایک ٹیلے کی طرح تھا ، یہاں 2 فرشتے اللہ پاک کی تسبیح کرتے تھے ، پھر جب اللہ پاک نے زمین کی پیدائش کا ارادہ فرمایا تو اسی ٹیلے سے زمین کو پھیلا دیا۔ ([1])   

مَعْلُوم ہوا؛ زمین پر پہلا گھر ہونا تو بہت بعد کی بات ہے ، کعبہ شریف پُوری زمین کی اَصْل ہے کہ زمین کا یہ ٹکڑا سب سے پہلے پیدا کیا گیا اور اسی سے تمام زمین پھیلائی گئی۔ سُبْحٰنَ اللہ! یہ ہے کعبہ شریف کی شانِ اَوَّلِیَّت...!!

صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب!                                               صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد

کعبہ شریف کی عِمَارت کب بنائی گئی؟

اے عاشقانِ رسول !    یہ تو مَعْلُوم ہو گیا کہ زمین کا سب سے پہلا ٹکڑا جو پیدا کیا گیا ، وہ وہی مقام ہے جہاں آج کعبہ شریف مَوْجُود ہے ، اب سُوال یہ ہے کہ کعبہ شریف کی عِمَارت سب سے پہلے کب بنائی گئی؟ اِس سُوال کے جواب کے لئے آئیے! ایک ایمان افروز حکایت سُنتے ہیں : چنانچہ منقول ہے کہ ایک بار حضرت اِمام زَیْنُ العابدین رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ طواف فرما رہے تھے کہ ایک شخص نے آپ سے سُوال پوچھا مگر  اِمام زین العابدین رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ فرمائی ، حتیٰ کہ آپ نے طواف کے 7 پھیرے مکمل فرمائے ، پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ حطیم میں تشریف لائے اور میزابِ رَحْمت کے نیچے کھڑے


 

 



[1]...سبل الھدی ، الباب الاول ، جلد : 1 ، صفحہ : 140تا141۔