Share this link via
Personality Websites!
کی برائیوں کو معاف ہی نہیں بلکہ نیکیوں سے تبدیل بھی کر دیا جاتا ہے۔ اور ہم پر ہماری ماؤں سے بڑھ کر رحمت کرنے والا ہمارا خالق و مالک توبہ کرنے پر ہمیں اپنی محبت سے بھی نوازتا ہے چنانچہ پارہ 2 سورہ بقرہ کی آیت نمبر222 میں ارشاد ہوتا ہے :
اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ
ترجمۂ کنزالایمان : بیشک اللہ پسندر کھتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو
اور توبہ کرنے والوں کو ایک انعام یہ بھی عطا کرتا ہے کہ ان سے عذاب دورفرمادیتاہےجیساکہ پارہ9 ، سورۂ اَنْفَال کی آیت نمبر33میں اِرشاد ہوتاہے :
وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ
ترجمۂ کنزالایمان : اور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں ۔
علامہ علی بن محمد خازن رحمۃ اللہ علیہ فرما تے ہیں اس آیت سے ثابت ہوا کہ استغفار عذاب سے امن میں رہنے کا ذریعہ ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو!سنا آپ نے کہ ہمارے رحیم و کریم اللہ کو ہمارا توبہ کرنا کس قدر پسند ہے اور وہ توبہ کرنے پر کیسی رحمتیں فرماتا ہےکہ وہ گناہوں کو نیکیوں میں بھی بدلتا ہے اور استغفار کرنے والےکو پسند فرماتے ہوئے اس سے عذاب کو بھی دور رکھتا ہے۔
اے عاشقانِ رسول!احادیث میں محبوبِ ربُّ العٰلَمِین ، جنابِ صادِق وامین
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami