Book Name:Seerat-e-Usman-e-Ghani

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                             صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد

پیاری  پیاری اسلامی بہنو!”نیکی کی دعوت“دینا اوربُرائی سے منع کرنا بہت ضروری ہے ، اِ س کے لیے ہمیں حوصلہ بُلند رکھنا ہوگا اورپہلے سے یہ ذہن بنائے رکھنا ہوگاکہ دِین کی راہ میں تکالیف آتی ہیں ، مجھے اِس سے گھبراکرپیچھے نہیں ہٹنا بلکہ استقامت کے ساتھ جانبِ منزل اپنا سفر جاری رکھنا ہے۔ آئیے!ترغیب کے لئے امیرُالمؤمنین حضرت عثمانِ  غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی ایمان پر استقامت کے تعلق سے ایک فکر انگیز حکایت سنتی ہیں ، چنانچہ

دنیا چھوڑ سکتا ہوں پر اِیمان نہیں

اَمیرُ الْمُؤ مِنِین حضرت عثمانِ غَنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ جب اِسلام لاۓ تو نہ صِرف اپنے گھر والوں بلکہ پُورے خاندان(Family)کی شدید مُخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کومارا پیٹا گیا یہاں تک کہ آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کاچچا حَکَمۡ بن اَبی الْعاص تو اِس قَدرناراض ہواکہ آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کو پکڑ کر ایک رَسّی سے باندھ کر کہنے لگا : تُم نے اپنے باپ دادا  کا دِین چھوڑ کر دُوسرا  مَذہب اِختیار کرلیا ہے ، جب تک  تُم نئے مَذہب کو نہیں چھوڑوگے ہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے ، اِسی طرح باندھ کر رکھیں گے۔ یہ سُن کر  امیرُالمؤمنین حضرت عثمانِ غَنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے فرمایا : خُدا پاک کی قسم!میں اسلام کوکبھی نہیں چھوڑ سکتا ، حَکَمۡ بن اَبی العاص نے جب آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ  کا یہ جذبہ دیکھا تو مَجبور ہو کر آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کو  قید سےآزادکردیا۔ (تاریخ مدینۃ دمشق ، عثمان بن عفان  ، ۳۹  / ۲۶)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                            صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد

پیاری پیاری اسلامی بہنو!آپ نے سنا کہ اِیمان لانے کے بعد امیرُالمؤمنین حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ     پرآپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے چچا نے کس قَدرظُلم کئے  مگر آ پ  رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اُنہیں بَرداشت