Book Name:Seerat-e-Usman-e-Ghani

بَیان سُننے کی نیّتیں

موقع کی مناسبت اور نوعیت کے اعتبار سے نیتوں میں کمی ، بیشی وتبدیلی کی جاسکتی ہے۔

نگاہیں نیچی کئے خُوب کان لگا کر بَیان سُنُوںگی۔ ٹیک لگا کر بیٹھنے کے بجائے عِلْمِ دِیْن کی تَعْظِیم کی خاطِر جہاں تک ہو سکا دو زانو بیٹھوں گی۔ ضَرورَتاً سِمَٹ سَرَک کر دوسری اسلامی بہنوں کے لئے جگہ کُشادہ کروں گی۔ دھکّا وغیرہ لگا تو صبر کروں گی ، گُھورنے ، جِھڑکنےاوراُلجھنے سے بچوں گی۔ صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ ، اُذْکُرُوااللّٰـہَ ،  تُوبُوْا اِلَی اللّٰـہِ  وغیرہ سُن  کر ثواب کمانے اور صدا لگانے والی کی دل جُوئی کے لئےپست آواز سے جواب دوں گی۔ اجتماع کے بعد خُود آگے بڑھ کر سَلَام و مُصَافَحَہ اور اِنْفِرادی کوشش کروں گی۔ دورانِ بیان موبائل کے غیر ضروری استعمال سے بچوں گی ، نہ بیان ریکارڈ کروں گی نہ ہی اور کسی قسم کی آواز  کہ  اِس کی اجازت نہیں ، جو کچھ سنوں گی ، اسے سن   اور سمجھ   کر اس پہ عمل کرنے اور اسے بعد میں دوسروں تک پہنچا   کر نیکی کی دعوت عام کرنے کی سعادت حاصل کروں گی۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                   صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد

پیاری  پیاری اسلامی بہنو! اِنْ شَآءَاللہ!آج ہم تیسرے خلیفۂ راشِدامیُرالمؤمنین حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی سیرتِ طیّبہ کے چند ایمان افروز واقعات سننے کی سعادت حاصل کریں گی پہلے ایک ایمان افروز واقعہ سنتی  ہیں ، چنانچہ

حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ  کی شانِ سخاوت

حضرت عبدُالرَّحْمٰن بن خَبّاب رَضِیَ اللہُ  عَنْہُ  سے مَروی ہے ، میں بارگاہِ نَبَوی میں حاضِر تھا  اور رسولِ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ صَحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو”جَیشِ عُسْرَت“یعنی غَزوۂ تَبوک کی تیّاری کیلئے ترغیب اِرْشاد فرمارہے تھے۔ امیرُالمؤمنین حضرت عُثمان بن عَفّان رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے اُٹھ کر عَرْض کی : یارَسُولَاللہ