Book Name:Seerat-e-Usman-e-Ghani

مسواک کرنےکی سُنتیں اور آداب

پیاری پیاری اسلامی بہنو!آئیے!امیرِاہلسنَّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے رسالے” 163 مَدَنی پُھول‘‘سےمِسْواک کی سنتیں اور آداب سنتی ہیں۔ پہلےدو(2)فرامینِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ سُنئے : (1)2رکعت مِسواک کرکے پڑھنا بغیر مِسواک کی سَتّر(70) رکعتوں سے افضل ہے۔ (الترغیب والترہیب ، ۱ / ۱۰۲ ، حدیث :  ۱۸)(2)مِسواک کا اِستعمال اپنے لئے لازم کرلو کیونکہ اِس میں مُنہ کی صَفائی اور رَبِّ کریم کی رِضا کاسبب ہے۔ (مسندِ احمد ، ۲ / ۴۳۸ ، حدیث :  ۵۸۶۹)٭حضرت ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا سےروایت ہے : مِسْواک میں10خُوبیاں ہیں : مُنہ صاف کرتی ہے ، مَسُوڑھے کو مضبُوط بناتی ہے ، دیکھنے کی قوت بڑھاتی ہے ، بلغم دُورکرتی ہے ، مُنْہ کی بدبو ختم کرتی ہے ، سُنَّت کے مُوافق ہے ، فرشتے خُوش ہوتےہیں ، رَبّ کریم راضی ہوتاہے ، نیکی بڑھاتی اور معدہ دُرُست کرتی ہے۔ (جمع الجوامع ، ۵  /  ۲۴۹  ،  حدیث :  ۱۴۸۶۷)٭مسوا ک پیلو یازیتون یا نیم وغیرہ کڑوی لکڑی کی ہو۔ ٭مسواک کی موٹائی چھوٹی اُنگلی کے برابرہو۔ ٭مسوا ک ایک بالِشْتْ سےزِیادہ لمبی نہ ہوورنہ اُس پر شیطان بیٹھتا ہے۔ ٭اِس کے رَیشے نرم ہوں کہ سخت رَیشے دانتوں اور مسوڑھوں کےدرمیان خَلا کا باعث بنتےہیں۔ ٭مسواک تازہ ہوتو بہتر ورنہ کچھ دیر پانی کےگلاس میں بِھگَوکرنرم کرلیجئے۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                             صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد