Book Name:Eman Ki Hifazat

والدین،  بہن بھائیوں اور دوستوں کی شکلوں میں آپہنچتا ہے۔شیطان اس سے کہتا ہے:اے فُلاں!تُو تو عنقریب مرجائے گا جبکہ ہم تجھ سے پہلے موت کا مزہ چکھ چکے ہیں لہٰذا تُو (اسلام کو چھوڑ کر) فُلاں دِین اِختیار کر لے کہ یہی دِین اللہ کریم کی بارگاہ میں مقبول ہے، اگر مرنے والا اس کی بات نہیں مانتا تو وہ  اور اس کے شاگرد دوسرے دوستوں کی شکل میں آکر کہتے ہیں: تُو(اسلام چھوڑ کر) فُلاں دین اِختیار کرلے۔یوں وہ اسے ہر دِین کےعقائد یاددلاتے ہیں۔ تو اس لمحے جس کے  حق  میں (ایمان سے )پِھر جانا لکھا ہوتاہےوہ اُس وقت ڈگمگا جاتا اور باطِل مذہب اِختیار کرلیتا ہے۔( مجموعۃ رسائل الامام الغزالی، ص۵۱۱ ملخصاً) (برے خاتمے کے اسباب،ص۲۸)

اَللّٰہُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّارِ اے اللہ پاک مجھے(دوزخ کی) آگ سے نجات عطا فرما!

یَامُجِیۡرُ یَامُجِیۡرُ یَامُجِیۡرُ  اے نجات دینے والے، اے نجات دینے والے، اے نجات دینے والے!

بِرَحۡمَتِکَ یَآاَرۡحَمَ الرّٰحِمِیۡنَ  اپنی رحمت کے سبب ہم پر رحم فرما،اے سب سے بڑھ کررحم فرمانے والے!

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                                                                 صَلَّی اللّٰہُ  عَلٰی مُحَمَّد

      پیارے پیارے اسلامی بھائیو! آپ نے سُنا کہ  موت کا مرحلہ کس قدر دشوار ہوتا ہے کہ سانس اٹک  رہی ہوتی ہے،ہوش و حواس جواب دے جاتے ہیں،پیاس کی شدت اپنی انتہا پر ہوتی ہے،ایسے مشکل حالات  میں شیطان ملعون اپنی اولاد کے ساتھ مل کر اپنی اصل شکل میں نہیں بلکہ عزیزوں، ماں  باپ بہن بھائیوں اور  دوستوں کی شکل میں آکر اپنی نحوستیں لُٹاتا،ایمان والوں کے ایمان سے نہایت خطرناک انداز  میں کھیلتا اور دولت ِ ایمان کو ضائع کرنے کے لئے مختلف طریقے آزماتا ہے،ہمارے بُزرگان ِ دِین رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ  عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن موت کے وقت ایمان سلامت  رہنے کے بارے میں بہت غمگین  رہتے تھے، جیسا کہ