Book Name:Seerat e Sayyiduna Zubair bin awam

میری پھوپھی ہیں۔( معجم الصحابہ، باب الزاء، الزُبَیْر بن العوّام، الحدیث:۷۸۷، ج۲، ۴۲۶)

       میٹھے میٹھے اسلامی  بھائیو!دیکھا آپ نے کہ حَضْرتِ سَیِّدُنا زُبَیْر بن عوّامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو پیارےآقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کس قدر نسبتیں حاصل تھیں۔ اس سے اندازہ لگایاجا سکتا ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا مقام و مرتبہ کیا ہے؟آپ کانام”زُبَیْر“والد کا نام”عوّام“ اور  کُنْیَتْ ”ابو عَبْدُ اللہ“ہے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا اسلام قَبول کرنے والوں میں چوتھا یا پانچواں نمبر ہے۔(اسدالغابہ:۲/۲۹۵)

قبولِ اسلام

 آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی    عَنْہُ سابقین اَوَّلین میں سے ہیں اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے راہِ خدا میں دو مرتبہ ہجرت کی۔پہلی مرتبہ حَبْشہ اوردوسری مرتبہ مدینۂ مُنوَّرہ(زَادَھَااللہُ شَرَفًاوَّتَعۡظِیۡمًا) کی طرف۔ (حَضْرتِ سیدنا زُبَیْر بن عوّام، ص۲۸، بتغیر)اِسلام لانے کی وجہ سے جہاں دیگر مُسَلمانوں کو بہت سی تکالیف کا سامنا تھا وہیں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی اہلِ مکہ کی شر انگیزیوں سے محفوظ نہ رہے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے قبولِ اسلام  کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے خاندان والے بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کےخلاف ہو گئے۔ منقول ہے کہ ان کا چچا ان کو چٹائی میں لپیٹ کر ان کی ناک میں دھواں دیتا تھا، جس سے ان کا دم گُھٹنے لگتا تھا۔(سیرتِ مصطفے،ص۱۲۲)پھر وہ ان سے کہتا کہ اپنا مذہب چھوڑدو(تو اس تکلیف سے محفوظ رہو گے)، پر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا ہمیشہ یہی فرمانا ہوتا ”لَااَکْفُرُ اَبَدًا“یعنی میں کبھی بھی اسلام سے دست بردار نہیں ہوں گا۔جب ان کا چچا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے اسلام سے پھرنے سے مایوس ہو گیا،تو اس نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو چھوڑدیا۔  (معرفۃ الصحابہ:۱/۱۲۱)اور ایسا ہوتا بھی کیسے کہ  ہرا یک مسلمان کا یہی اعلان ہے کہ

یہ اک جان کیا ہے، اگر ہوں کروڑوں

ترے نام پر سب کو وارا کروں میں