Book Name:Seerat e Sayyiduna Zubair bin awam

صوفی بننے والے لمبی لمبی لَٹِیْں بڑھا لیتے ہیں جو اُن کے سینے پر سانپ کی طرح لہراتی ہیں اور بعض چوٹیاں گُوندھتے ہیں یا جُوڑے(یعنی عورَتوں کی طرح بال اکٹّھے کر کے گُدّی کی طرف گانٹھ) بنالیتے ہیں،یہ سب ناجائز کام اور خِلافِ شَرع ہیں۔تَصوُّف بالوں کے بڑھانے اور رَنگے ہوئے کپڑے پہننے کا نام نہیں بلکہ حُضُورِاَقْدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پوری پَیروی کرنے اور خواہِشَاتِ نَفْس کو مِٹانے کا نام ہے۔(بہارِ شریعت ج۳ص۵۸۷،از  163مَدَنی پھول ،ص۱۵،۱۶ بتغیّر)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                 صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

جُرأت و بہادری

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حَضْرتِ سَیِّدُنا زُبَیْر بن عوّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے غَزْوَۂ بَدْر، غزوۂ اُحُد سمیت تمام غَزَوَات میں حصّہ لیا(معرفۃ الصحابہ:۱/۱۲۰) جنگِ یَرمُوک میں بھی آپ پیش پیش تھے۔ (تاریخ دمشق: ۱۸/۳۳۲)آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ابتدا سے ہی انتہائی بہادُر اور دِلیر انسان تھے۔ منقول ہے کہ سب سے پہلے جس شَخْص  نے حضورنبیِّ اَکْرَم،نُوْرِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی حفاظت کی سَعَادَت پائی وہ حَضْرتِ سَیِّدُنا زُبَیْر بن عوّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں،آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے شیطان کی پھیلائی ہوئی خبرسنی کہ حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو شہید کردیا گیا ہے،تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ لوگوں کوہٹاتے ہوئے حُضُورنبیِ اَکْرَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضِر ہو گئے،آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اِرْشادفرمایا:’’اے زُبَیْر! کیا ہوا؟‘‘ عرض کی:’’یارَسُولَاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مجھے خبر ملی تھی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو شہید کر دیا گیا ہے۔‘‘راوی کہتے ہیں کہ’’سرکارِدوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے نماز پڑھ کر حَضْرتِ سیِّدُنازُبَیْررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے لیے دُعا فرمائی۔(موسوعۃ لابن الدنیا،