Book Name:Seerat e Sayyiduna Zubair bin awam

مذہبی دُور کی جائے تو وہ جنّتی ہے۔ (حِلْیَۃُ الْاولیاء ج۱۰ص۴۵رقم ۱۴۴۶۶) ایک اور حدیثِ پاک میں ہے رَحْمَتِ عالَم،نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرْشَاد فرمایا: بازار میں اللہ    عَزَّ  وَجَلَّ کا ذِکْر کرنے والے کے لیے ہر بال کے بدلے قِیَامَت میں نُور ہوگا۔ (شُعَبُ الْاِیمان ج۱ ص۴۱۲حدیث ۵۶۷ )یاد رہے!  تِلاوتِ قرآن،حمدو ثنا، مُنَاجَات و دُعا، دُرُود و سلام، نعت ، مسجد درس، چوک درس، سُنّتوں  بھرا بیان وغیرہ سب ”ذِکْرُ الله عَزَّوَجَلَّ “میں شامل ہیں۔ اس لیے زیادہ سے زیادہ چوک درس دینے کی ترکیب بنائیے۔آئیے!ترغیب کے لیے چوک درس کی ایک مَدَنی بہاربھی سُنتے ہیں۔چُنانچِہ،

رانا بدمعاش:

صوبہ اُترانْچَل(ہِنْد)کے ایک 20سالہ نوجوان اسلامی بھائی نے جو کچھ لکھ کر دیا وہ بَتَـصَرُّف پیشِ خدمت ہے:میں بُری صحبت کے باعِث کم و بیش 14 سال کی عمر ہی سے جَرَائم کے دلدل میں پھنس چکا تھا۔ شراب پینا اور آوارہ گردِی کرنا میرا محبوب مَشْغَلَہ تھا۔ پھر میں نے بدمَعَاشی شُرُوع کردی ۔ لوگوں سے بے وجہ لڑنا، مار پِیْٹ کرنا، میری عَادَت میں شامل ہوگیا،یہاں تک کہ میں ”رانابدمَعَاش“ کے نام سے پہچانا جانے لگا۔ میں عمر میں ضَرور چھوٹا تھا، مگر میں کسی سے ڈرے بِغیر سامنے والے پر پَے دَرپَے وار کرنا شروع کردیتا تھا۔ ہر طَرَف میری دَھاک بیٹھ گئی ،لوگ میرے نام سے ڈرنے لگے۔ والِدَین مجھ سے بے زار ہوچکے تھے مگر بے بس تھے۔ میرے کالے کرتُوت دن بَدِن بڑھتے جا رہے تھے۔ ایک دن گلی کے نُکڑ پر ایک سبز عمامے والے اسلامی بھائی کو چوک درس دیتا دیکھ کر میں قریب جا کھڑا ہوا، جو کچھ سُنا وہ مجھے بَہُت اچّھا لگا۔ میں نے کتاب پر نظر ڈالی تو اُس پر فَیْضَانِ سُنّت لکھا تھا۔درس دینے والے اسلامی بھائی نے مجھ سے بڑی مَحَبَّت کے ساتھ ملاقات کی اور اِنفِرادی کوشِش