Book Name:Seerat e Sayyiduna Zubair bin awam

تکلیف پر صَبْر وتحمل کا مُظاہَرہ کیا اور اپنا تَن ، مَن، دَھن سب راہِ خُدا میں قربان کر کےتبلیغِ اسلام کی اِشَاعت میں بھر پُور حصّہ لیا۔ ان میں کچھ ہستیاں ایسی بھی ہیں، جن کی بے شمار دینی خدمات پر انہیں دنیا ہی میں جَنَّت کی نَوِیْدسنادی گئی۔ یوں تو مختلف اَوْقات میں جَنَّت کی بِشَارت پانے والے صحابَۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کئی ہیں، مگردس ایسےجَلِیْلُ الْقَدْراورخُوش نصیب صحابَۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن   ہیں، جن کو آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مِنبر شریف پر کھڑے ہو کر ایک ساتھ نام لے لے کر جنّتی ہونے کی خُوشخبری سُنائی۔چنانچہ

حضرت سَیِّدُنا عبدُالرَّحْمٰن بن حمیدرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنا سعید بن زیدرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنےایک مجلس میں انہیں یہ حدیث بیان کی کہ حُضُور نبیِّ اکرم ،نُورِ مُجسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا: ’’دس آدمی جنّتی ہیں،ابُوبکر جنَّتی ہیں، عُمر جنَّتی ہیں،عُثمان،علی، زُبیر، طلحہ،عبدُ الرَّحْمٰن بن عَوف، ابُوعُبیدہ بن جَراح اور سَعَد بن ابی وَقاص جنّتی ہیں۔ ‘‘

حضرت سَیِّدُنا سعید بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ 9افراد کے نام بتاکر دسویں پر خاموش ہوگئے، لوگوں نے کہا :’’اے ابُو الاَعْوَر! ہم آپ کواللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم دےکرپوچھتے ہیں کہ دسواں کون ہے؟‘‘فرمایا: ’’تم نے مجھے قسم دی ہے تو سُنو! دَسْواں فرد ابُوالاَعْوَر ہے۔‘‘(ابُوالاَعْوَرحضرت سَیِّدُنا سعید بن زیدرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی کُنیت ہے۔)(سنن الترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب عبد الرحمن بن عوف، الحدیث: ۳۷۶۹، ج۵، ص۴۱۶)اِنہی دس(10) خُوش نصیبوں میں سے ایک حَضْرتِ سَیِّدُنا زُبَیْر بن عوّامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی ہیں۔

رِفْعَت و اَفْضَلِیَّت کا مُژدہ ملا        خاص عِـزّ و وَجَاہَت کا مُژدہ ملا

رَحْمتِ کُل سےرَحمت کا مُژدہ ملا       وہ دَسوں جن کو جَنَّت کا مُژدہ ملا