احمد رضا کا تازہ ہے گلستاں آج بھی / ایمان میں صبر کی اہمیت/تقویٰ کی اہمیت/اللہ  سے ڈرنے کا اجر/نیکیاں چھپاؤ / علم و حکمت کے مدنی پھول

احمد رضا کا تازہ ہے گلستاں آج بھی

ماہنامہ رمضان المبارک 1438

 

(1)جب تک نبیِّ کریم ( صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم )  کی سچی  تعظیم  نہ ہو ،  عمر بھر عبادتِ الٰہی میں گزرے ،  سب بے کار و مردود ہے۔ (تمہید الایمان ، ص53مکتبۃ المدینہ)

(2) بلا ضرورت و مجبوری شَرعی  فرض روزہ زبر دستی تڑوانے والا شیطانِ مُجَسَّم( یعنی سر سے پاؤں تک شیطان  ہے) اور مستحقِ نارِ جہنم (جہنم کی آگ کا مستحق) ہے ۔ (فتاوی رضویہ ، 10 / 520)

(3)مسلمان اے مسلمان!شریعتِ مصطفوی کو تابعِ فرمان جان اور یقین جان کہ سجدہ حضرت عزتجَلَالُہ کے سوا کسی کے لئے نہیں۔ اس کے غیر کو سجدۂ عبادت یقیناً اجماعاً شرکِ مُہِیْن (بدترین شرک) و کفرِمُبِیْن(واضح ترین کفر) اور سجدۂ تَحِیَّت (سجدہ تعظیمی)حرام وگناہ کبیرہ بِالیقین۔ (فتاویٰ رضویہ ، 22 / 429)

(4) اے عزیز! آدمی کو اس کی اَنانِیَّت(خودی و غرور) نے ہلاک کیا ، گناہ کرتا ہے اور جب اس سے کہا جائے توبہ کر ، تو اپنی کسر ِشان(بے عزّتی) سمجھتا ہے۔ عقل رکھتا تو اِصرار میں زیادہ ذِلّت و  خوار ی جانتا۔ (فتاویٰ رضویہ ، 27 / 186)

(5) مسلمان بھائیوں کو چاہئے کہ شرع کے کام شرع کے طور پر کریں اپنے خیالات کو دخل نہ دیں۔

(فتاوی رضویہ ، 10 / 445)

(6)کنگھے کے لئے شریعت میں کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہے۔ اِعتِدال کا حکم ہے ، نہ تو یہ ہو کہ آدمی جِنّاتی شکل  بنا رہے نہ یہ ہو کہ ہر وقت مانگ چوٹی میں گرفتار(رہے)۔ (فتاویٰ رضویہ ، 29 / 94)

(7)مسلمانو!دیکھو دینِ اسلام بھیجنے ، قراٰنِ مجید اتارنے کامقصود  ہی تمہارے مولیٰتَبَارَکَ وَتَعَالٰیکاتین باتیں بتانا ہے :

اَوّل یہ کہ لوگ اﷲ و رسول پر ایمان لائیں ۔ دوم یہ کہ رسول اﷲ   صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ وسَلَّم  کی تعظیم کریں ۔ سوم یہ کہ اللہ تَعَالٰی کی عبادت میں رہیں۔ (فتاویٰ رضویہ ، 30 / 308)

 (8)روزے میں سُرمہ بھی ہر وقت لگانے کی اِجازت ہے اور روزہ دار سر میں روغَن(تیل) ڈال سکتا ہے ، بدن پر بھی روغَن مَل سکتا ہے۔ (فتاویٰ رضویہ ، 10 / 511 ، ملخصاً)

 (9)رمضانُ المبارک میں اگر کسی وجہ(سے)  روزہ نہ ہو تو غیرِ مَعْذورِ شرعی(وہ شخص  جسے عذرِ شرعی لاحق نہ ہو) کو  دن بھر  روزہ(دار) کی طرح رہنا واجب اور کھانا پینا حرام ۔ (فتاویٰ رضویہ ، 10 / 519)

 (10)اپنے بدلے  دوسرے کو روزہ رکھوانا  محض باطل و بے معنیٰ ہے ، بدنی عبادت ایک کے  کئے  دوسرے پر سے نہیں اُتَر سکتی ۔ (فتاویٰ رضویہ ، 10 / 520)

(11) دین خیر خواہی ہے اور خیر خواہی پر ثواب ملتاہے۔ (فتاویٰ رضویہ ، 27 / 653)

(12) زلزلہ آنے کا اصلی باعث آدمیوں  کے گناہ  ہیں۔ (فتاویٰ رضویہ ، 27 / 93ملخصاً)

 

Share

 احمد رضا کا تازہ ہے گلستاں آج بھی / ایمان میں صبر کی اہمیت/تقویٰ کی اہمیت/اللہ  سے ڈرنے کا اجر/نیکیاں چھپاؤ / علم و حکمت کے مدنی پھول

ارشاداتِ امیر المؤمنین سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجہَہُ الْکریم: (1)عمل سے بڑھ کر اس کی  قبولیت کا اہتمام کرو اس لئے کہ تقویٰ کے ساتھ کیا گیا تھوڑا عمل بھی بہت ہوتا ہے اور جو عمل  مقبول ہوجائے  وہ کیونکر تھوڑا ہوگا۔(حلیۃ الاولیاء،ج1، ص117،رقم:232)

(2) ایمان میں صبر کی وہ اہمیت  ہے جیسی  جسم میں سَر (Head)کی، اس کا ایمان (کامل) نہیں  جو بے صبری کا مظاہرہ  کرتا ہے۔(حلیۃ الاولیاء،ج1، ص117، رقم:234)

(3) میں دو چیزوں سے بہت خوف زدہ رہتا ہوں (1)خواہش کی پیروی (2)لمبی اُمّیدیں  کیونکہ خواہش کی پیروی  حق قبول کرنے میں رُکاوَٹ بن جاتی ہے اور لمبی امیدیں آخرت بھلا دیتی ہیں۔(حلیۃ الاولیاء،ج1، ص117،رقم:235ملخصاً)

(4)تم آخرت کے بیٹے بنو! دنیا کے نہیں  اس لئے کہ آج(دنیا میں) عمل ہے  حساب نہیں اور کل(آخرت میں) حساب ہے عمل نہیں ۔(حلیۃ الاولیاء،ج1، ص117،رقم:235)

(5)ارشادِ سَیِّدُنا امام جعفر صادق علیہِ رحمۃُ اللہِ الرَّازِق:تقویٰ سے افضل کوئی زادِ راہ نہیں، خاموشی سے بہتر کوئی چیز نہیں، جہالت سے بڑھ کر کوئی نقصان دِہ دشمن نہیں اور جھوٹ سے بڑی کوئی بیماری نہیں۔(سير اعلام النبلاء،ج 6، ص444)

(6)ارشادِ سَیِّدُنا مُطَرِِّف رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ:اگر مومن کی اُمّید اور خوفِ(خدا) کا وزن کیا (یعنی تولا) جائے تو ان میں سے کوئی بھی دوسرے سے زیادہ نہیں ہوگا۔(الزھد لاحمد بن حنبل، ص 251، رقم: 1325)

(7)ارشادِ سَیِّدُنا ابومُسلم خَولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی:پہلے کے لوگ ایسے پتے(کی مثل)تھے کہ ان کے ساتھ  کانٹے نہیں ہوتے تھے جبکہ اب لوگ ایسے کانٹے(کی طرح) ہیں جن کے ساتھ کوئی پتا نہیں ہے۔(حلیۃ الاولیاء،ج3، ص189، رقم: 3658)

(8)ارشادِ سَیِّدُنا ابو حازِمرحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ:جب تم یہ دیکھو کہ تمہارا پروردگار عَزَّوَجَلَّ تمہیں پے دَر پے نعمتیں عطا فرما رہا ہے اور تم اس کی نافرمانی کئے جارہے ہو تو تمہیں اس سے ڈرنا چاہئے۔(تاريخ دمشق،ج 22، ص64)

(9)ارشادِ سَیِّدُنا ایوب سَخْتِیانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی: بندہ اس وقت تک سردار نہیں بن سکتاجب تک کہ اس میں دو خصلتیں نہ پائی جائیں:(1)لوگوں کے پاس موجودچیزوں سے نااُمّیدی اور (2)لوگوں کے معاملات سے بے پرواہوجانا۔(حلیۃ الاولیاء،ج3، ص5، رقم: 2921)

(10)ارشادِ سَیِّدُنا زید بن اَسلمعلیہِ رحمۃُ اللہِ الاکرم:جو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتا ہے تو لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔(حلیۃ الاولیاء،ج3، ص258، رقم: 3881)

(11)ارشادِ سَیِّدُنا یحییٰ بن ابوکثیر علیہِ رحمۃُ اللہِ الْقَدِیْر: علم جسمانی راحت و آرام کے ساتھ حاصل نہیں ہوتا۔(تاريخ بغداد،  ج10، ص142)

(12)ارشادِ سَیِّدُنا ابو حازمرحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ:جس طرح پوری کوشش سےتم اپنے گناہ کوچھپاتےہواسی طرح اپنی نیکیاں بھی چھپانے کی کوشش کرو۔)تاریخ دمشق،ج22، ص68)

(13)ارشادِ سَیِّدُنا وہب بن مُنَبِّہرحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ:شیطان کو اولاد آدم میں زیادہ سونے اور زیادہ کھانے والا سب سے زیادہ پسند ہے۔(المتفق والمفترق،ج1، ص260،رقم: 107)

Share

 احمد رضا کا تازہ ہے گلستاں آج بھی / ایمان میں صبر کی اہمیت/تقویٰ کی اہمیت/اللہ  سے ڈرنے کا اجر/نیکیاں چھپاؤ / علم و حکمت کے مدنی پھول

علم و حکمت کے مدنی پھول

ماہنامہ رمضان المبارک1438

شیخِ طریقت امیرِ اَہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں :

(1)روزہ (افطارکرنے) میں فوراً برف کا ٹھنڈا پانی پی لینے سے گیس ، تَبْخِیْرِ مِعدہ اور جگر کے وَرم کا سخْت خطرہ ہے۔      (فیضان سنت ، ص1020)

(2)مِل کر کھانا کھاتے ہوئے ایسا انداز اختیار نہ کریں کہ دوسروں کو گِھن آئے ، مہذب سے مہذب ترین انداز ہونا چاہئے۔ (مَدَنی مذاکرہ ، 24 ذوالحجۃ الحرام 1435ھ)

(3)افسوس! دُنیا کی محبّت نے ہمارے دل میں ایسا بَسیرا کر لیا ہے کہ اِس کی وجہ سے نماز و تلاوت سوز و رِقّت اور خُشوع ختم ہوگیا ہے۔ (مَدَنی مذاکرہ ، 4 ذوالقعدۃ الحرام 1435ھ)

(4)بڑے جانوروں میں سب سے زیادہ غذائیت سے بھرپور اُونٹنی کا دُودھ ہوتا ہے۔

(مَدَنی مذاکرہ ، 11 ذوالحجۃ الحرام 1435ھ)

(5)ہر کام میں اِعتِدال (یعنی درمیانی درجہ) ہونا چاہئے ، ہمارے ہاں اس کا بہت فُقدان (یعنی کمی) ہے۔

(مَدَنی مذاکرہ ، 12 شوال المکرم 1435ھ)

(6)والِدین سے خدمت لینے کی بجا ئے اِن کی خدمت کیجئے۔ (مَدَنی مذاکرہ ، 16 ذوالحجۃ الحرام 1435ھ)

(7)لوگوں کا مال ناحق دَبا لینے والوں ، ڈکیتیاں کرنے والوں ، چٹّھیاں بھیج کر رقموں کا مطالبہ کرنے والوں کو خوب غور کر لینا چاہئے کہ آج جو مالِ حرام بآسانی گلے سے نیچے اترتا ہوا محسوس ہو رہا ہے وہ بروزِ قیامت کہیں سخت مصیبت میں نہ ڈال دے۔ (ظلم کا انجام ، ص 6تا7)

(8)اِسلام دہشت گردی کی مُمانعت کرتا اور اَمْن و راحت  کا پیغام دیتا ہے۔ (مَدَنی مذاکرہ ، 17 شوال المکرم 1435ھ)

(9)سب مل کر مُلک کی تعمیر اور “ مسجد بھرو تحریک “ میں ہمارا ساتھ دیں۔ ہمارا بچّہ بچّہ نَمازی بن گیا تو مُلک بھی خوشحال ہوجائے گا۔ اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّوَجَلَّ (مَدَنی مذاکرہ ، 5 ذوالحجۃ الحرام 1435ھ)

(10)راہِ خدا میں حرام مال دینا مقبول نہیں ، اللہ  عَزَّوَجَلَّ  پاک ہے اور پاک مال ہی قَبول فرماتا ہے۔

(ماخوذ اَز پُر اسرار بھکاری ، ص 18)

(11)جو پورے ماہِ رمضان کا اعتکاف عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ باب المدینہ (کراچی) میں کرتے ہیں وہ میرے “ مدنی بیٹے “ ہیں۔ (مَدَنی مذاکرہ ، 17ربیع الآخر 1436ھ)

(12)یادگار چیزوں کے ساتھ موقع کی مُناسبت سے تاریخ (Date) اور اُس کے بارے میں کچھ معلومات لکھ کر رکھنا آئندہ کیلئے دِلچسپی کا باعث اور مُفید ہے۔           (مَدَنی مذاکرہ ، 10 ذوالحجۃ الحرام 1435ھ)

(13)بے باکی کے ساتھ گناہ کئے جانے والے کا یہ ذِہن بنا لینا کہ “ اللہ تعالٰی کی رَحْمت سے میں ضَرور بخشا جاؤں گا “ خود کو  دھوکا دینے والی بات ہے۔

(14)مُعاشَرے کی غَلَط رسومات میں شامل ہوجانا مَردانگی نہیں ، مَرد تو وہ ہے جو مُعاشَرے کو اپنے پیچھے چلائے۔ (مَدَنی مذاکرہ ، 11 ذوالحجۃ الحرام 1435ھ)

(15)جب بھی مصیبت آئے ہمیں گھبرا کر رَبُّ الْعٰلَمِیْن جَلَّ جَلَا لُہٗ کی بارگاہِ بے کَس پناہ میں رُجوع کر کے خوب توبہ و اِستِغْفَار کرنا چاہئے۔ (خود کُشی کا علاج ، ص 30)

 

Share

Articles

Comments


Security Code