عقائد متعلّقہ نبوت

عقائد متعلّقۂ نبوت

مسلمان کے لیے جس طرح ذات و صفات کا جاننا ضروری ہے، کہ کسی ضروری کا انکار یا محال کا اثبات اسے کافر نہ کر دے، اسی طرح یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ نبی کے لیے کیاجائز ہے اور کیا واجب اور کیا محال، کہ واجب کا انکار اور محال کا اقرار موجب کُفر ہے اور بہت ممکن ہے کہ آدمی نادانی سے خلاف عقیدہ رکھے یا خلاف بات زبان سے نکالے اور ہلاک ہو جائے۔

عقیدہ (۱): نبی اُس بشر کو کہتے ہیں جسے اللہ تَعَالٰی نے ہدایت کے لیے وحی بھیجی ہو [1] اور رسول بشر ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ملائکہ میں بھی رسول ہیں ۔ [2]

عقیدہ (۲): انبیا سب بشر تھے اور مرد، نہ کوئی جن نبی ہوا نہ عورت۔ [3]

عقیدہ (۳): اللہ عَزَّوَجَل پر نبی کا بھیجنا واجب نہیں ، اُس نے اپنے فضل وکرم سے لوگوں کی ہدایت کے لیے انبیا بھیجے۔ [4] عقیدہ (۴): نبی ہونے کے لیے اُس پر وحی ہونا ضروری ہے، خواہ فرشتہ کی معرفت ہو یا بلا واسطہ۔[5]

عقیدہ (۵): بہت سے نبیوں پر اللہ تَعَالٰی نے صحیفے اور آسمانی کتابیں اُتاریں ، اُن میں سے چار کتابیں بہت مشہور ہیں : ’’تورات‘‘ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر، ’’زبور‘‘ حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام پر، ’’اِنجیل‘‘ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر، ’’قرآنِ عظیم‘‘ کہ سب سے افضل کتاب ہے، سب سے افضل رسول حضور پُر نور احمدِ مجتبیٰ محمدِ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر۔[6] کلامِ الٰہی میں بعض کا بعض سے افضل ہونا اس کے یہ معنی ہیں کہ ہمارے لیے اس میں ثواب زائد ہے، ورنہ اللہ (عزوجل) ایک، اُس کا کلام ایک، اُس میں افضل ومفضول کی گنجائش نہیں ۔[7]

عقیدہ (۶): سب آسمانی کتابیں اور صحیفے حق ہیں اور سب کلام اللہ ہیں ، اُن میں جو کچھ ارشاد ہوا سب پر ایمان ضروری ہے[8] ، مگر یہ بات البتہ ہوئی کہ اگلی کتابوں کی حفاظت اللہ تَعَالٰی نے اُمّت کے سپرد کی تھی، اُن سے اُس کا حفظ نہ ہوسکا، کلامِ الٰہی جیسا اُترا تھا اُن کے ہاتھوں میں ویسا باقی نہ رہا، بلکہ اُن کے شریروں نے تو یہ کیا کہ اُن میں تحریفیں کر دیں ، یعنی اپنی خواہش کے مطابق گھٹا بڑھا دیا۔ [9]

لہٰذا جب کوئی بات اُن کتابوں کی ہمارے سامنے پیش ہو تو اگر وہ ہماری کتاب کے مطابق ہے، ہم اُس کی تصدیق کریں گے اور اگر مخالف ہے تو یقین جانیں گے کہ یہ اُن کی تحر یفات سے ہے اور اگر موافقت، مخالفت کچھ معلوم نہیں تو حکم ہے کہ ہم اس بات کی نہ تصدیق کریں نہ تکذیب، بلکہ یوں کہیں کہ:

’’ اٰمَنْتُ بِاللہِ وَمَلٰئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ۔‘‘

’’اللہ (عَزَّوَجَل) اور اُس کے فرشتوں اور اُس کی کتابوں اور اُس کے رسولوں پر ہمارا ایمان ہے۔‘‘ [10]

عقیدہ (۷): چونکہ یہ دین ہمیشہ رہنے والا ہے، لہٰذا قرآنِ عظیم کی حفاظت اللہ عَزَّوَجَل نے اپنے ذِمّہ رکھی، فرماتا ہے:

[اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(۹)] [11]

’’بے شک ہم نے قرآن اُتارا اور بے شک ہم اُس کے ضرور نگہبان ہیں ۔‘‘

لہٰذا اس میں کسی حرف یا نقطہ کی کمی بیشی محال ہے، اگرچہ تمام دنیا اس کے بدلنے پر جمع ہو جائے تو جو یہ کہے کہ اس میں کے کچھ پارے یا سورتیں یا آیتیں بلکہ ایک حرف بھی کسی نے کم کر دیا، یا بڑھا دیا، یا بدل دیا، قطعاً کافر ہے، کہ اس نے اُس آیت کا انکار کیا جو ہم نے ابھی لکھی۔[12]

عقیدہ (۸): قرآنِ مجید، کتابُ اللہ ہونے پر اپنے آپ دلیل ہے کہ خود اعلان کے ساتھ کہہ رہا ہے:

{ وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ۪-وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۲۳)فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ ۚۖ-اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ(۲۴)}۔[13]

’’اگر تم کو اس کتاب میں جو ہم نے اپنے سب سے خاص بندے ( محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) پر اُتاری کوئی شک ہو تو اُس کی مثل کوئی چھوٹی سی سُورت کہہ لاؤ اور اللہ کے سوا اپنے سب حمایتیوں کوبلالو اگر تم سچے ہو تو اگر ایسا نہ کرسکو اور ہم کہے دیتے ہیں ہرگز ایسا نہ کر سکو گے تو اُس آگ سے ڈروجس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ، جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔‘‘

لہٰذا کافروں نے اس کے مقابلہ میں جی توڑ کوششیں کیں ، مگر اس کی مثل ایک سطر نہ بنا سکے نہ بناسکیں ۔[14]

مسئلہ : اگلی کتابیں انبیا ہی کو زبانی یاد ہوتیں [15]، قرآنِ عظیم کا معجزہ ہے کہ مسلمانوں کا بچہّ بچہّ یاد کر لیتا ہے۔ [16]

عقیدہ (۹): قرآنِ عظیم کی سات قرائتیں سب سے زیادہ مشہور اور متواتر ہیں [17]، ان میں مَعَا ذَاللہ کہیں اختلافِ معنی نہیں [18]، وہ سب حق ہیں ، اس میں اُمّت کے لیے آسانی یہ ہے کہ جس کے لیے جو قراء ت آسان ہو وہ پڑھے[19] اور حکم یہ ہے کہ جس ملک میں جو قراء ت رائج ہے عوام کے سامنے وہی پڑھی جائے، جیسے ہمارے ملک میں قرا ء تِ عاصم بروایتِ حفص، کہ لوگ ناواقفی سے انکار کریں گے اور وہ مَعَا ذَاللہ کلمۂ کفر ہوگا۔ [20]

عقیدہ (۱۰): قرآنِ مجید نے اگلی کتابوں کے بہت سے احکام منسو خ کر دیے۔[21] یو ہیں قرآنِ مجید کی بعض آیتوں نے بعض آیت کو منسوخ کر دیا۔[22]

عقیدہ (۱۱): نَسخْ کا مطلب یہ ہے کہ بعض احکام کسی خاص وقت تک کے لیے ہوتے ہیں ، مگر یہ ظاہر نہیں کیا جاتا کہ یہ حکم فلاں وقت تک کے لیے ہے، جب میعاد پوری ہوجاتی ہے تو دوسرا حکم نازل ہوتا ہے، جس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ پہلا حکم اُٹھا دیا گیا اور حقیقۃً دیکھا جائے تو اُس کے وقت کا ختم ہو جانا بتایا گیا۔[23] منسوخ کے معنی بعض لوگ باطل ہونا کہتے ہیں ، یہ بہت سخت بات ہے، احکامِ الٰہیہ سب حق ہیں ، وہاں باطل کی رسائی کہاں ۔۔۔!

عقیدہ (۱۲): قرآن کی بعض باتیں مُحکَم ہیں کہ ہماری سمجھ میں آتی ہیں اور بعض متشابہ کہ اُن کا پورا مطلب اللہ اور اللہ کے حبیب (عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم) کے سوا کوئی نہیں جانتا، متشابہ کی تلاش اور اُس کے معنی کی کِنْکاش وہی کرتا ہے جس کے دل میں کجی[24] ہو۔[25]

عقیدہ (۱۳): وحیٔ نبوت، انبیا کے لیے خاص ہے [26] ، جو اسے کسی غیرِ نبی کے لیے مانے کافر ہے۔[27] نبی کو خواب میں جو چیز بتائی جائے وہ بھی وحی ہے، اُس کے جھوٹے ہونے کا احتمال نہیں ۔[28] ولی کے دل میں بعض وقت سوتے یا جاگتے میں کوئی بات اِلقا ہوتی ہے، اُس کو اِلہام کہتے ہیں [29] اور وحیٔ شیطانی کہ اِلقا من جانبِ شیطان ہو، یہ کاہن، ساحر اور دیگر کفّار وفسّاق کے لیے ہوتی ہے۔[30]

عقیدہ (۱۴): نبوّت کسبی نہیں کہ آدمی عبادت و رِیاضت کے ذریعہ سے حاصل کرسکے[31]، بلکہ محض عطائے الٰہی ہے، کہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے دیتا ہے، ہاں ! دیتا اُسی کو ہے جسے اس منصبِ عظیم کے قابل بناتا ہے، جو قبلِ حصولِ نبوّت تمام

اخلاق رذیلہ سے پاک، اور تمام اخلاق فاضلہ سے مزین ہو کر جملہ مدارجِ ولایت طے کر چکتا ہے اور اپنے نسب و جسم و قول وفعل وحرکات و سکنات میں ہرایسی بات سے منزّہ ہوتا ہے جو باعثِ نفرت ہو، اُسے عقلِ کامل عطا کی جاتی ہے، جو اوروں کی عقل سے بدرجہا زائد ہے[32]، کسی حکیم اور کسی فلسفی کی عقل اُس کے لاکھویں حصّہ تک نہیں پہنچ سکتی۔[33]

{ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗؕ-}[34]

[ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ(۲۱)] [35]

اور جو اِسے کسبی مانے کہ آدمی اپنے کسب و ریاضت سے منصبِ نبوّت تک پہنچ سکتا ہے، کافر ہے۔ [36]

عقیدہ (۱۵): جو شخص نبی سے نبوّت کا زوال جائز جانے کافر ہے۔ [37]

عقیدہ (۱۶): نبی کا معصوم ہونا ضروری ہے[38] اور یہ عصمت نبی اور مَلَک کا خاصہ ہے، کہ نبی اور فرشتہ کے سوا کوئی معصوم نہیں ۔[39] اماموں کو انبیا کی طرح معصوم سمجھنا گمراہی و بد دینی ہے۔ عصمتِ انبیا کے یہ معنی ہیں کہ اُن کے لیے حفظِ الٰہی کا وعدہ ہو لیا، جس کے سبب اُن سے صدورِ گناہ شرعاً محال ہے[40]،بخلاف ائمہ[41] و اکابر اولیا، کہ اللہ عَزَّوَجَل اُنھیں محفوظ رکھتا ہے، اُن سے گناہ ہوتا نہیں ، مگر ہو تو شرعاً محال بھی نہیں ۔[42]

عقیدہ (۱۷): انبیا عَلَیْہِمُ السَّلَام شرک و کفر اور ہرایسے امر سے جو خلق کے لیے باعثِ نفرت ہو، جیسے کذب و خیانت و جہل وغیرہا صفاتِ ذمیمہ[43] سے، نیز ایسے افعال سے جو وجاہت اور مُروّت کے خلاف ہیں قبلِ نبوت اور بعد ِنبوت بالاجماع معصوم ہیں اور کبائر سے بھی مطلقاً معصوم ہیں اور حق یہ ہے کہ تعمّدِ صغائر سے بھی قبلِ نبوّت اور بعدِ نبوّت معصوم ہیں ۔[44]

عقیدہ (۱۸): اللہ تَعَالی نے انبیا عَلَیْہِمُ السَّلَام پر بندوں کے لیے جتنے احکام نازل فرمائے اُنھوں نے وہ سب پہنچا دیے، جو یہ کہے کہ کسی حکم کو کسی نبی نے چھپا رکھا، تقیہ یعنی خوف کی وجہ سے یا اور کسی وجہ سے نہ پہنچایا، کافر ہے۔ [45]

عقیدہ (۱۹): احکامِ تبلیغیہ میں انبیا سے سہو و نسیان محال ہے۔[46]

عقیدہ (۲۰): اُن کے جسم کا برص و جذام وغیرہ ایسے امراض سے جن سے تنفّر ہوتا ہے، پاک ہونا ضروری ہے۔[47]

عقیدہ(۲۱): اللہ عَزَّوَجَل نے انبیا عَلَیْہِمُ السَّلَام کو اپنے غیوب پر اطلاع دی [48]، زمین و آسمان کا ہر ذرّہ ہر نبی کے پیشِ نظر ہے[49]، مگر یہ علمِ غیب کہ ان کو ہے اللہ (عَزَّوَجَل) کے دیے سے ہے، لہٰذا ان کا علم عطائی ہوا اور علمِ عطائی اللہ عَزَّوَجَل کےلیے محال ہے، کہ اُس کی کوئی صفت، کوئی کمال کسی کا دیا ہوا نہیں ہوسکتا، بلکہ ذاتی ہے۔ [50] جو لوگ انبیا بلکہ سیّد الانبیا صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وعلیہم وسلم سے مطلق علمِ غیب کی نفی کرتے ہیں ، وہ قرآنِ عظیم کی اس آیت کے مصداق ہیں :

{ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍۚ- }[51]

یعنی: ’’قرآنِ عظیم کی بعض باتیں مانتے ہیں اور بعض کے ساتھ کُفر کرتے ہیں ۔‘‘

کہ آیتِ نفی دیکھتے ہیں اور اُن آیتوں سے جن میں انبیا عَلَیْہِمُ السَّلَام کو علومِ غیب عطا کیا جانا بیان کیا گیا ہے، انکار کرتے ہیں ، حالانکہ نفی واِثبات دونوں حق ہیں ، کہ نفی علمِ ذاتی کی ہے کہ یہ خاصۂ اُلوہیت ہے، اِثبات عطائی کا ہے کہ یہ انبیا ہی کی شایانِ شان ہے اور مُنافیٔ اُلوہیت ہے اور یہ کہنا کہ ہر ذرّہ کا علم نبی کے لیے مانا جائے تو خالق و مخلوق کی مساوات لازم آئے گی، باطل محض ہے،کہ مساوات تو جب لازم آئے کہ اللہ عَزَّوَجَل کیلئے بھی اتنا ہی علم ثابت کیا جائے اور یہ نہ کہے گا مگر کافر، ذرّاتِ عالَم متناہی ہیں اور اُس کا علم غیرِ متناہی، ورنہ جہل لازم آئے گا اور یہ محال، کہ خدا جہل سے پاک، نیز ذاتی و عطائی کا فرق بیان کرنے پر بھی مساوات کا الزام دینا صراحۃً ایمان و اسلام کے خلاف ہے، کہ اس فرق کے ہوتے ہوئے مساوات ہو جایا کرے تو لازم کہ ممکن و واجب وجود میں معاذاللہ مساوی ہو جائیں ، کہ ممکن بھی موجود ہے اور واجب بھی موجود اور وجود میں مساوی کہنا صریح کُفر کھلا شرک ہے۔[52] انبیا عَلَیْہِمُ السَّلَام غیب کی خبر دینے کے لیے ہی آتے ہیں کہ جنّت و نار و حشر و نشر و عذاب و ثواب غیب نہیں تو اور کیا ہیں ۔۔۔؟ اُن کا منصب ہی یہ ہے کہ وہ باتیں ارشاد فرمائیں جن تک عقل و حواس کی رسائی نہیں اور اسی کا نام غیب ہے۔[53]

اولیا کو بھی علمِ غیب عطائی ہوتا ہے، مگر بواسطہ انبیا کے۔ [54]

عقیدہ (۲۲): انبیائے کرام، تمام مخلوق یہاں تک کہ رُسُلِ ملائکہ سے افضل ہیں ۔ [55] ولی کتنا ہی بڑے مرتبہ والا ہو، کسی نبی کے برابر نہیں ہوسکتا۔ جو کسی غیرِ نبی کو کسی نبی سے افضل یا برابر بتائے، کافر ہے۔ [56]

عقیدہ (۲۳): نبی کی تعظیم فرضِ عین بلکہ اصلِ تمام فرائض ہے۔ [57] کسی نبی کی ادنیٰ توہین یا تکذیب، کفر ہے۔ [58]

عقیدہ (۲۴): حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام سے ہمارے حضور سیّد عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تک اللہ تَعَالٰی نے بہت سے نبی بھیجے، بعض کا صریح ذکر قرآنِ مجید میں ہے اور بعض کا نہیں [59]، جن کے اسمائے طیّبہ بالتصریح قرآنِ مجید میں ہیں ، وہ یہ ہیں:

حضرت آدم[60] عَلَیْہِ السَّلَام ، حضرت نوح [61]عَلَیْہِ السَّلَام ، حضرت ابراہیم [62]عَلَیْہِ السَّلَام ، حضرت اسماعیل [63]عَلَیْہِ السَّلَام ، حضرت اسحاق[64]عَلَیْہِ السَّلَام ، حضرت یعقوب [65]عَلَیْہِ السَّلَام ، حضرت یوسف [66]عَلَیْہِ السَّلَام ، حضرت موسیٰ [67]عَلَیْہِ السَّلَام ، حضرت ہارون [68]عَلَیْہِ السَّلَام ، حضرت شعیب [69]عَلَیْہِ السَّلَام ، حضرت لُوط [70]عَلَیْہِ السَّلَام ، حضرت ہُود [71]عَلَیْہِ السَّلَام ، حضرت داود [72]عَلَیْہِ السَّلَام ، حضرت سلیمان[73]عَلَیْہِ السَّلَام ، حضرت ایّوب[74]عَلَیْہِ السَّلَام ، حضرت زکریا [75]عَلَیْہِ السَّلَام ، حضرت یحیٰی[76]عَلَیْہِ السَّلَام ، حضرت عیسیٰ [77]عَلَیْہِ السَّلَام حضرت الیاس [78]عَلَیْہِ السَّلَام ، حضرت الیسع [79]عَلَیْہِ السَّلَام ، حضرت یونس[80]عَلَیْہِ السَّلَام ، حضرت ادریس [81]عَلَیْہِ السَّلَام ، حضرت ذوالکفل [82]عَلَیْہِ السَّلَام ، حضرت صالح [83]عَلَیْہِ السَّلَام ، [حضرت عزیر[84]عَلَیْہِ السَّلَام ]، حضور سیّد المرسلین محمد رسول اللہ [85]صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ۔

عقیدہ (۲۵): حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو اللہ تَعَالی نے بے ماں باپ کے مٹی سے پیدا کیا [86] اور اپنا خلیفہ کیا [87] اور تمام اسما ومسمّیات [88] کا علم دیا [89] ، ملائکہ کو حکم دیا کہ ان کو سجدہ کریں ، سب نے سجدہ کیا، شیطان (کہ از قسمِ جِن تھا [90] ، مگر بہت بڑا عابد زاہد تھا، یہاں تک کہ گروہِ ملائکہ میں اُس کا شمار تھا [91] ) بانکار پیش آیا، ہمیشہ کے لیے مردود ہوا۔ [92]

عقیدہ (۲۶): حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام سے پہلے انسان کا وجود نہ تھا، بلکہ سب انسان اُن ہی کی اولاد ہیں ، اسی و جہ سے انسان کو آدمی کہتے ہیں ، یعنی اولادِ آدم اور حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو ابو البشر کہتے ہیں ، یعنی سب انسانوں کے باپ۔ [93]

عقیدہ (۲۷): سب میں پہلے نبی حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام ہوئے [94] اور سب میں پہلے رسول جو کُفّار پر بھیجے گئے حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام ہیں [95] ، اُنھوں نے ساڑھے نو سو برس ہدایت فرمائی[96] ، اُن کے زمانہ کے کفّار بہت سخت تھے، ہر قسم کی تکلیفیں پہنچاتے، استہزا کرتے، اتنے عرصہ میں گنتی کے لوگ مسلمان ہوئے، باقیوں کو جب ملاحظہ فرمایا کہ ہرگز اصلاح پذیر نہیں ، ہٹ دھرمی اور کُفر سے باز نہ آئیں گے، مجبور ہو کر اپنے رب کے حضور اُن کے ہلاک کی دُعا کی، طوفان آیا اور ساری زمین ڈوب گئی، صرف وہ گنتی کے مسلمان اور ہر جانور کا ایک ایک جوڑا جو کشتی میں لے لیا گیا تھا، بچ گئے۔[97]

عقیدہ (۲۸): انبیا کی کوئی تعداد معیّن کرنا جائز نہیں ، کہ خبریں اِس باب میں مختلف ہیں اور تعداد معیّن پر ایمان رکھنے میں نبی کو نبوّت سے خارج ماننے، یا غیرِ نبی کو نبی جاننے کا احتمال ہے[98] اور یہ دونوں باتیں کفر ہیں ، لہٰذا یہ اعتقاد چاہیے کہ اللہ (عزوجل) کے ہر نبی پر ہمارا ایمان ہے۔

عقیدہ (۲۹): نبیوں کے مختلف درجے ہیں ، بعض کو بعض پر فضیلت ہے اور سب میں افضل ہمارے آقا و مولیٰ سیّدالمرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں [99]، حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) کے بعد سب سے بڑا مرتبہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ عَلَیْہِ السَّلَام کا ہے،پھر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام ، پھر حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کا[100]، اِن حضرات کو مرسلین اُولو العزم[101] کہتے ہیں [102] اور یہ پانچوں حضرات باقی تمام انبیا و مرسلینِ انس و مَلَک و جن و جمیع مخلوقاتِ الٰہی سے افضل ہیں ۔ جس طرح حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) تمام رسولوں کے سردار اور سب سے افضل ہیں ، بلا تشبیہ حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) کے صدقہ میں حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) کی اُمت تمام اُمتوں سے افضل۔[103]

عقیدہ (۳۰): تمام انبیا، اللہ عَزَّوَجَل کے حضور عظیم وجاہت و عزت والے ہیں [104]، ان کو اللہ تَعَالی کے نزدیک معاذاللہ چوہڑے چمار کی مثل کہنا[105] کُھلی گستاخی اور کلمۂ کفر ہے۔

عقیدہ (۳۱): نبی کے دعویٔ نبوّت میں سچے ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ نبی اپنے صدق کا علانیہ دعویٰ فرماکر محالاتِ عادیہ کے ظاہر کرنے کا ذمّہ لیتا اور منکروں کو اُس کے مثل کی طرف بلاتا ہے، اللہ عَزَّوَجَل اُس کے دعویٰ کے مطابق امرِ محالِ عادی ظاہر فرما دیتا ہے اور منکرین سب عاجز رہتے ہیں اسی کو معجزہ کہتے ہیں [106]، جیسے حضرت صالح عَلَیْہِ السَّلَام کا ناقہ[107]، حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے عصا کا سانپ ہو جانا[108] اور یدِ بیضا[109] اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا مُردوں کو جِلا دینا اور مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کر دینا [110] اور ہمارے حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) کے معجزے تو بہت ہیں۔[111]

عقیدہ (۳۲): جو شخص نبی نہ ہو اور نبوّت کا دعویٰ کرے، وہ دعویٰ کرکے کوئی محالِ عادی اپنے دعوے کے مطابق ظاہر نہیں کرسکتا، ورنہ سچے جھوٹے میں فرق نہ رہے گا۔[112]

فائدہ: نبی سے جو بات خلافِ عادت قبلِ نبوّت ظاہر ہو، اُس کو اِرہاص کہتے ہیں اور ولی سے جو ایسی بات صادر ہو، اس کو کرامت کہتے ہیں اور عام مومنین سے جو صادر ہو، اُسے معونت کہتے ہیں اور بیباک فجّار یا کفّار سے جو اُن کے موافق ظاہر ہو، اُس کو اِستِدراج کہتے ہیں اور اُن کے خلاف ظاہر ہو تو اِہانت ہے۔[113]

عقیدہ (۳۳): انبیا عَلَیْہِمُ السَّلَام اپنی اپنی قبروں میں اُسی طرح بحیاتِ حقیقی زندہ ہیں ، جیسے دنیا میں تھے، کھاتے پیتے ہیں [114]، جہاں چاہیں آتے جاتے ہیں ، تصدیقِ وعدۂ الٰہیہ کے لیے ایک آن کو اُن پر موت طاری ہوئی، پھر بدستور زندہ ہوگئے ، اُن کی حیات، حیاتِ شہدا سے بہت ارفع و اعلیٰ ہے [115]، فلہذا شہید کا ترکہ تقسیم ہوگا، اُس کی بی بی بعدِ عدت نکاح کرسکتی ہے[116]،

بخلاف انبیا کے، کہ وہاں یہ جائز نہیں ۔[117] یہاں تک جو عقائد بیان ہوئے، اُن میں تمام انبیا عَلَیْہِمُ السَّلَام شریک ہیں ، اب بعض وہ اُمور جو نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم کے خصائص میں ہیں ، بیان کیے جاتے ہیں ۔

عقیدہ (۳۴): اور انبیا کی بعثت خاص کسی ایک قوم کی طرف ہوئی [118]، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَتمام مخلوق انسان وجن، بلکہ ملائکہ، حیوانات، جمادات، سب کی طرف مبعوث ہوئے [119]، جس طرح انسان کے ذمّہ حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کی اِطاعت فرض ہے۔[120] یوہیں ہر مخلوق پر حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کی فرمانبرداری ضروری۔[121]

عقیدہ (۳۵): حضورِ ا قدس صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم ملائکہ و انس و جن و حُور و غلمان و حیوانات و جمادات، غرض تمام عالَم کے لیے رحمت ہیں [122] اور مسلمانوں پر تو نہایت ہی مہربان۔ [123]

عقیدہ (۳۶): حضور، خاتم النبییّن ہیں [124]، یعنی اللہ عَزَّوَجَل نے سلسلۂ نبوّت حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) پر ختم کر دیا ، کہ حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کے زمانہ میں یا بعد کوئی نیا نبی نہیں ہوسکتا[125]، جو حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) کے زمانہ میں یا حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کے بعد کسی کو نبوّت ملنا مانے یا جائز جانے، کافر ہے۔[126]

عقیدہ (۳۷): حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) افضل جمیع مخلوقِ الٰہی ہیں [127]، کہ اوروں کو فرداً فرداًجو کمالات عطا ہوئے حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) میں وہ سب جمع کر دیے گئے[128]اور اِن کے علاوہ حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کو وہ کمالات ملے جن میں کسی کا حصہ نہیں [129]،بلکہ اوروں کو جو کچھ مِلا حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کے طفیل میں ، بلکہ حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کے دستِ اقدس سے ملا، بلکہ کمال اس لیے کمال ہوا کہ حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کی صفت ہے اور حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) اپنے رب کے کرم سے اپنے نفسِ ذات میں کامل و اکمل ہیں ، حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کا کمال کسی وصف سے نہیں ، بلکہ اس وصف کا کمال ہے کہ کامل کی صفت بن کر خود کمال و کامل و مکمّل ہو گیا، کہ جس میں پایا جائے اس کو کامل بنا دے۔[130]

عقیدہ (۳۸): مُحال ہے کہ کوئی حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کا مثل ہو[131]، جو کسی صفت ِخاصّہ میں کسی کو حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم ) کا مثل بتائے،گمراہ ہے یا کافر۔

عقیدہ (۳۹): حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم ) کو اللہ عَزَّوَجَل نے مرتبۂ محبوبیتِ کبریٰ سے سرفراز فرمایا ، کہ تمام خَلق جُویائے رضائے مولا ہے [132] اور اللہ عَزَّوَجَل طالبِ رضائے مصطفیٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم ۔[133]

ع خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم خدا چاہتا ہے رضائے محمد [’’حدائق بخشش‘‘، ص۴۹]۔

عقیدہ (۴۰): حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کے خصائص سے معراج ہے، کہ مسجد ِحرام سے مسجدِ اقصیٰ تک[134] اور وہاں سے ساتوں آسمان [135] اور کُرسی و عرش تک، بلکہ بالائے عرش [136] رات کے ایک خفیف حصّہ میں مع جسم تشریف لے گئے[137]

اور وہ قربِ خاص حاصل ہوا کہ کسی بشر و مَلَک کو کبھی نہ حاصل ہوا نہ ہو [138]، اور جمالِ الٰہی بچشمِ سر دیکھا[139] اور کلامِ الٰہی بلاواسطہ سنا [140] اور تمام ملکوت السمٰوات والارض کو بالتفصیل ذرّہ ذرّہ ملاحظہ فرمایا ۔[141]

عقیدہ (۴۱): تمام مخلوق اوّلین وآخرین حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کی نیاز مند ہے[142]، یہاں تک کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام۔[143]

عقیدہ (۴۲): قیامت کے دن مرتبۂ شفاعتِ کبریٰ حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کے خصائص سے ہے کہ جب تک حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) فتحِ بابِ شفاعت نہ فرمائیں گے کسی کو مجالِ شفاعت نہ ہو گی[144]، بلکہ حقیقۃً جتنے شفاعت کرنے والے ہیں حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کے دربار میں شفاعت لائیں گے[145] اور اللہ عَزَّوَجَل کے حضور مخلوقات میں صرف حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) شفیع ہیں [146]اور یہ شفاعتِ کُبریٰ مومن، کافر، مطیع، عاصی سب کے لیے ہے، کہ وہ انتظارِ حساب جو سخت جانگزا ہوگا، جس کے لیے لوگ تمنّائیں کریں گے کہ کاش جہنم میں پھینک دیے جاتے اور اس انتظار سے نجات پاتے، اِس بلا سے چھٹکارا کفّار کو بھی حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کی بدولت ملے گا، جس پر اوّلین و آخرین، موافقین و مخالفین، مؤمنین و کافرین سب حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کی حمد کریں گے، اِسی کا نام مقامِ محمود ہے[147] اور شفاعت کے اور اقسام بھی ہیں ، مثلاً بہتوں کو بلاحساب جنت میں داخل فرمائیں گے،جن میں چار اَرَب نوے کروڑ کی تعداد معلوم ہے، اِس سے بہت زائد اور ہیں ، جو اللہ و رسول (عزوجل و صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کے علم میں ہیں [148]، بہُتیرے وہ ہوں گے جن کا حساب ہوچکا ہے اور مستحقِ جہنم ہوچکے، اُن کو جہنم سے بچائیں گے[149] اور بعضوں کی شفاعت فرما کر جہنم سے نکالیں گے[150] اور بعضوں کے درجات بلند فرمائیں گے[151] اور بعضوں سے تخفیفِ عذاب فرمائیں گے۔ [152]

عقیدہ (۴۳): ہر قسم کی شفاعت حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کے لیے ثابت ہے۔ شفاعت بالو جاہۃ، شفاعت بالمحبۃ، شفاعت بالاذن، اِن میں سے کسی کا انکار وہی کرے گا جو گمراہ ہے۔ [153]

عقیدہ (۴۴): منصبِ شفاعت حضور کو دیا جاچکا، حضور فرماتے ہیں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ:

((أُعْطِیْتُ الشَّفَاعَۃَ)) [154]، اور ان کا رب فرماتا ہے:

{ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِؕ-}[155]

’’مغفرت چاہو اپنے خاصوں کے گناہوں اور عام مؤمنین و مؤمنات کے گناہوں کی۔‘‘

شفاعت اور کس کا نام ہے۔۔۔؟ ’’اَللّٰھُمَّ ارْزُقْـنَا شَفَاعَۃَ حَبِیْبِکَ الْکَرِیْمِ۔‘‘

{ یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ(۸۸) اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ(۸۹)}[156]

شفاعت کے بعض احوال، نیز دیگر خصائص جو قیامت کے دن ظاہر ہوں گے، احوالِ آخرت میں اِنْ شَاء اللہ تَعَالٰی بیان ہوں گے۔

عقیدہ (۴۵): حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کی محبت مدار ِایمان،بلکہ ایمان اِسی محبت ہی کا نام ہے، جب تک حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کی محبت ماں باپ اولاد اور تمام جہان سے زیادہ نہ ہو آدمی مسلمان نہیں ہوسکتا۔ [157]

عقیدہ (۴۶): حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کی اِطاعت عین طاعتِ الٰہی ہے، طاعتِ الٰہی بے طاعتِ حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) ناممکن ہے[158]، یہاں تک کہ آدمی اگر فرض نماز میں ہو اور حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) اُسے یاد فرمائیں ، فوراً جواب دے اور حاضرِ خدمت ہو[159] اوریہ شخص کتنی ہی دیر تک حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) سے کلام کرے، بدستور نماز میں ہے، اِس سے نماز میں کوئی خلل نہیں ۔[160]

عقیدہ (۴۷): حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم کی تعظیم یعنی اعتقادِ عظمت جزو ِایمان و رکنِ ایمان ہے[161] اور فعلِ تعظیم بعد ایمان ہر فرض سے مقدّم ہے، اِس کی اہمیت کاپتا اس حدیث سے چلتا ہے کہ غزوۂ خیبر سے واپسی میں منزل صہبا پر نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم نے نمازِ عصر پڑھ کر مولیٰ علی کرّم اللہ تَعَالٰی وجہہ کے زانو پر سرِ مبارک رکھ کر آرام فرمایا، مولیٰ علی نے نمازِ عصر نہ پڑھی تھی، آنکھ سے دیکھ رہے تھے کہ وقت جارہا ہے، مگر اِس خیال سے کہ زانو سرکاؤں تو شاید خوابِ مبارک میں خلل آئے، زانو نہ ہٹایا، یہاں تک کہ آفتاب غروب ہوگیا، جب چشمِ اقدس کھلی مولیٰ علی نے اپنی نماز کا حال عرض کیا، حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) نے حکم دیا، ڈوبا ہوا آفتاب پلٹ آیا، مولیٰ علی نے نماز ادا کی پھر ڈوب گیا[162]، اس سے ثابت ہوا کہ افضل العبادات نماز اور وہ بھی صلوٰۃِ وُسطیٰ نمازِ عصر [163] مولیٰ علی نے حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کی نیند پر قربان کر دی، کہ عبادتیں بھی ہمیں حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم)ہی کے صدقہ میں ملیں ۔ دوسری حدیث اسکی تائید میں یہ ہے کہ غارِ ثور میں پہلے صدیقِ اکبر رضی اللہ تَعَالٰی عنہ گئے، اپنے کپڑے پھاڑ پھاڑ کر اُس کے سوراخ بند کر دیے، ایک سوراخ باقی رہ گیا، اُس میں پاؤں کا انگوٹھا رکھ دیا، پھر حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم کو بلایا، تشریف لے گئے اور اُن کے زانو پر سرِاقدس رکھ کر آرام فرمایا، اُس غارمیں ایک سانپ مشتاقِ زیارت رہتا تھا، اُس نے اپنا سَر صدیقِ اکبر کے پاؤں پر مَلا، انھوں نے اِس خیال سے کہ حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کی نیند میں فرق نہ آئے پاؤں نہ ہٹایا، آخر اُس نے پاؤں میں کاٹ لیا، جب صدیقِ اکبر کے آنسو چہرۂ انور پر گرے، چشمِ مبارک کھلی، عرضِ حال کیا، حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) نے لعابِ دہن لگا دیا فوراً آرام ہوگیا ، ہر سال وہ زہر عَود کرتا، بار۲ ۱ ہ برس بعد اُسی سے شہادت پائی۔ [164]

ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں

اَصلُ الاصول بندگی اُس تاجور کی ہے[165]

عقیدہ (۴۸): حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کی تعظیم و توقیر جس طرح اُس وقت تھی کہ حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) اِس عالم میں ظاہری نگاہوں کے سامنے تشریف فرماتھے، اب بھی اُسی طرح فرضِ اعظم ہے[166]، جب حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کا ذکر آئے توبکمالِ خشوع و خضوع و انکسار بادب سُنے[167] ، اور نامِ پاک سُنتے ہی درود شریف پڑھنا واجب ہے۔ [168]

’’اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰـنَا مُحَمَّدٍ مَّعْدِنِ الْجُوْدِ وَالْکَرَمِ وَاٰلہِ الْکِرَامِ وَصَحْبِہِ الْعظَامِ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ۔‘‘

اور حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) سے محبت کی علامت یہ ہے کہ بکثرت ذکر کرے [169] اور درود شریف کی کثرت کرےاور نامِ پاک لکھے تو اُس کے بعد صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم لکھے، بعض لوگ براہِ اختصار صلعم یا ؐلکھتے ہیں ، یہ محض ناجائز وحرام ہے[170] اور محبت کی یہ بھی علامت ہے کہ آل و اَصحاب ، مہاجرین و انصار و جمیع متعلقین و متوسلین سے محبت رکھے اور حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کے دشمنوں سے عداوت رکھے[171]، اگرچہ وہ اپنا باپ یا بیٹا یا بھائی یا کُنبہ کے کیوں نہ ہوں [172] اور جو ایسا نہ کرے وہ اِس دعویٰ میں جھوٹا ہے، کیا تم کو نہیں معلوم کہ صحابۂ کرام نے حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کی محبت میں اپنے سب عزیزوں ، قریبوں ، باپ، بھائیوں اور وطن کو چھوڑا اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ و رسول (عزوجل و صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) سے بھی محبت ہو اور اُن کے دشمنوں سے بھی اُلفت۔۔۔! ایک کو اختیار کر کہ ضِدَّین[173] جمع نہیں ہو سکتیں ، چاہے جنت کی راہ چل یا جہنم کو جا۔ نیز علامتِ محبت یہ ہےکہ شانِ اقدس میں جو الفاظ استعمال کیے جائیں ادب میں ڈوبے ہوئے ہوں ، کوئی ایسا لفظ جس میں کم تعظیمی کی بُو بھی ہو، کبھی زبان پر نہ لائے، اگر حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کو پکارے تو نامِ پاک کے ساتھ ندا نہ کرے، کہ یہ جائز نہیں ، بلکہ یوں کہے:

’’ یَا نَبِيَّ اللہِ! یَا رَسُوْلَ اللہ! یَا حَبِیْبَ اللہِ! ‘‘[174]

اگر مدینہ طیبہ کی حاضری نصیب ہو تو روضۂ شریف کے سامنے چارہاتھ کے فاصلہ سے دست بستہ جیسے نماز میں کھڑا ہوتا ہے، کھڑا ہو کر سر جھکا ئے ہوئے صلاۃ و سلام عرض کرے، بہُت قریب نہ جائے، نہ اِدھر اُدھر دیکھے[175] اور خبردار۔۔۔! خبردار۔۔۔!آواز کبھی بلند نہ کرنا ، کہ عمر بھر کا سارا کِیا دھرا اَکارت جائے [176] اور محبت کی یہ نشانی بھی ہے کہ حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کے اقوال و افعال و احوال لوگوں سے دریافت کرے اور اُن کی پیروی کرے۔ [177]

عقیدہ (۴۹): حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کے کسی قول و فعل و عمل و حالت کو جو بہ نظرِ حقارت دیکھے کافر ہے۔[178]

عقیدہ (۵۰): حضور اقدس صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم ، اللہ عَزَّوَجَل کے نائبِ مطلق ہیں [179] ، تمام جہان حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم)کے تحتِ تصرّف [180]کر دیا گیا[181]، جو چاہیں کریں ، جسے جو چاہیں دیں ، جس سے جو چاہیں واپس لیں [182]، تمام جہان میں اُن کے حکم کا پھیرنے والا کوئی نہیں [183]، تمام جہان اُن کا محکوم ہے اور وہ اپنے رب کے سوا کسی کے محکوم نہیں [184]، تمام آدمیوں کےمالک ہیں [185]،جو اُنھیں اپنا مالک نہ جانے حلاوتِ سنّت[186] سے محروم رہے[187]، تمام زمین اُن کی مِلک ہے[188]، تمام جنت اُن کیجاگیر ہے[189]، ملکوت السمٰواتِ والارض حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کے زیر ِفرمان[190]،جنت و نار کی کنجیاں دستِ اقدس میں دیدی گئیں [191]، رزق وخیر اور ہر قسم کی عطائیں حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) ہی کے دربار سے تقسیم ہوتی ہیں [192]، دنیا و آخرت حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کی عطا کا ایک حصہ ہے[193]، احکامِ تشریعیہ[194] حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کے قبضہ میں کر دیے گئے، کہ جس پر جو چاہیں حرام فرما دیں اور جس کے لیے جو چاہیں حلال کر دیں [195]اور جو فرض چاہیں معاف فرما دیں۔[196]

عقیدہ (۵۱): سب سے پہلے مرتبۂ نبوّت حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کو ملا۔[197] روزِ میثاق تمام انبیا سے حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) پر ایمان لانے اور حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کی نصرت کرنے کا عہد لیا گیا[198] اور اِسی شرط پر یہ منصبِ اعظم اُن کو دیا گیا۔[199] حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) نبی الانبیا ہیں اور تمام انبیا حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کے اُمّتی، سب نے اپنے اپنے عہدِکریم میں حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کی نیابت میں کام کیا[200]، اللہ عَزَّوَجَل نے حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کو اپنی ذات کا مظہر بنایا اور حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) کے نُور سے تمام عالَم کو منوّر فرمایا[201]،بایں معنی ہر جگہ حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ تَعَالٰی وَسَلَّم) تشریف فرما ہیں ۔ ؎

کالشمس في وسط السماءِ ونُورُھا

یغشي البلاد مشارقاً ومغارباً[202]

مگر کورِ باطن کا کیا علاج ؎

گر نہ بیند بروز شپرہ چشم

چشمۂ آفتاب را چہ گناہ[203]

مسئلۂ ضروریہ: انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام سے جو لغزشیں واقع ہوئیں ، انکا ذکر تلاوتِ قرآن و روایتِ حدیث کے سوا حرام اور سخت حرام ہے، اوروں کو اُن سرکاروں میں لب کشائی کی کیا مجال۔۔۔! مولیٰ عَزَّوَجَلَّ اُن کا مالک ہے، جس محل پر جس طرح چاہے تعبیر فرمائے، وہ اُس کے پیارے بندے ہیں ، اپنے رب کے لیے جس قدرچاہیں تواضع فرمائیں ، دوسرا اُن کلمات کو سند نہیں بناسکتا [204] اور خود اُن کا اطلاق کرے تو مردودِ بارگاہ ہو، پھر اُنکے یہ افعال جن کو زَلَّت و لغزش سے تعبیر کیا جائےہزارہا حِکَم و مَصالح پر مبنی، ہزارہا فوائد و برکات کی مُثمِر[205] ہوتی ہیں ، ایک لغزشِ اَبِیْنَا آدم علیہ الصلاۃ والسلام[206] کو دیکھیے، اگر وہ نہ ہوتی، جنت سے نہ اترتے، دنیا آباد نہ ہوتی، نہ کتابیں اُترتیں ، نہ رسول آتے، نہ جہاد ہوتے، لاکھوں کروڑوں مثُوبات [207] کے دروازے بند رہتے، اُن سب کا فتحِ باب ایک لغزشِ آدم کا نتیجۂ بارکہ و ثمرۂ طیّبہ ہے۔ بالجملہ انبیا عَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کی لغزش، مَن و تُو کس شمار میں ہیں ، صدیقین کی حَسَنَات سے افضل و اعلیٰ ہے۔ ’’حَسَنَاتُ الأبْرَارِ سَیّاٰتُ الْمُقَرَّبِیْنَ۔‘‘ [208] (بہارِشریعت،حصہ اول،جلد۱صفحہ۲۸تا۸۹)


[1] في ’’شرح المقاصد‘‘، المبحث الأوّل في تعریف النبي والرسول: (النبي إنسان بعثہ اللّٰہ لتبلیغ ما أوحي إلیہ) ج۳، ص۲۶۸۔

وفي ’’المعتقد المنتقد‘‘، الباب الثاني في النبوّات، ص۱۰۵: (المشہور: أنّ النبي من أوحي إلیہ بشرع، وإن أمر بالتبلیغ أیضا فرسول

[2] { وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًاؕ-} پ۱۲، ہود: ۶۹۔

في ’’تفسیر الطبري‘‘، پ۱۲، ہود: تحت الآیۃ ۶۹: (قال أبو جعفر: یقول تعالی ذکرہ:{ وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ من الملائکۃ وہم فیما ذکر،کانوا جبریل وملکین آخرین، وقیل:إنّ الملکین الآخرین کانا میکائیل وإسرافیل معہ ج۷، ص۶۷۔ { اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓىٕكَةِ رُسُلًا } پ۲۲، فاطر: ا۔

في ’’الجامع لأحکام القرآن‘‘ للقرطبي، ج۷، الجزء الرابع عشر، ص۲۳۳، تحت الآیۃ: { جَاعِلِ الْمَلٰٓىٕكَةِ رُسُلًا } الرسل منہم جبریل ومیکائیل وإسرافیل وملک الموت، صلی اللّٰہ علیہم أجمعین

[3] { وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ } پ۱۳، یوسف: ۱۰۹۔

في ’’الجامع لأحکام القرآن‘‘ للقرطبي، پ۱۲، یوسف، تحت ہذہ الآیۃ: (قال الحسن: لم یبعث اللّٰہ نبیا من أہل البادیۃ قط، ولا من النساء، ولا من الجن) ج۵، الجزء التاسع، ص۱۹۳۔

[4] في ’’شرح المقاصد‘‘، المقصد السادس، المبحث الأول في تعریف النبي والرسول، ج۳، ص۲۶۸: (النبي إنسان بعثہ اللّٰہ لتبلیغ ما أوحي إلیہ،والبعثۃ لتضمّنہا مصالح لا تحصی لطف من اللّٰہ تعالی ورحمۃ یختص بہا من یشاء من عبادہ من غیر وجوب علیہ وفي ’’المعتمد المستند‘‘، ص۹۸: قال الإمام أحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن: (لا یجب علی اللّٰہ سبحانہ بعث الرسل

[5] { وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُؕ-اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ(۵۱) } پ۲۵، الشوری: ۵۱۔في ’’المعتقد المنتقد‘‘، ص۱۰۶: (قال السنوسي في ’’شرح الجزائریۃ‘‘: مرجع النبوۃ عند أہل الحقّ إلی اصطفاء اللّٰہ تعالی عبدًا من عبادہ بالوحي إلیہ، فالنبوۃ اختصاص بسماع وحي من اللّٰہ بواسطۃ الملک أو دونہ

وفي ’’نسیم الریاض‘‘، القسم الأول في تعظیم العلی الأعلی لقدر النبي صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، ج۳، ص۳۴۴: (’’والإعلام‘‘ من اللّٰہ تعالی ’’بخواص النبوۃ‘‘ أي: ما یختص بالنبوۃ الشاملۃ للرسالۃ کالعصمۃ والوحي بواسطۃ الملک، أو بدونہا۔

[6] في ’’تکمیل الإیمان‘‘، ص۶۳: (’’ولہ کتب أنزلہا علی رسلہ‘‘، حق سبحانہ وتعالی را کتابہا ست کہ بر بعضی پیغمبران فرستادہ دیگر آن را بمتابعتوازمیان کتابہا نیز چہار کتاب اعظم واشہر است،، ’’منہا التوراۃ‘‘ یکی زان کتابہ ای آسمانی توریت است کہ بر موسی علیہ السلام منزل شدہ، ’’والزبور‘‘ دیگر زبور است کہ بر داؤد علیہ السلام نزول یافتہ، ’’والإنجیل‘‘ کہ بر عیسی علیہ السلام فرو دآمدہ، ’’والقرآن العظیم‘‘ زبدہ وخلاصۂ جمیع کتب سماوی قرآن مجید وفرقان عظیم است کہ بر سید رسل وخاتم الأنبیاء علیہ من الصلاۃ افضلہا والتحیات اکملہا ملتقطاً۔

یعنی: حق تبارک وتعالی کی کتابیں ہیں جن کو اس نے اپنے بعض رسولوں پر نازل فرمایا اور دوسروں کو ان کی پیروی کا حکم دیا، ان میں سے چار کتابیں بڑی اور بہت مشہورہیں ، ان میں سے ایک تورات ہے جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر نازل ہوئی۔ دوسری زبور ہے جو حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام پر نازل ہوئی، تیسری انجیل ہے جو حضرت عیسی عَلَیْہِ السَّلَام پر نازل ہوئی، اور چوتھی قرآن مجید فرقان عظیم ہے جو تمام آسمانی کتابوں کا خلاصہ ہے اور سب سے افضل رسول خاتم الانبیاء صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم پر نازل ہوئی۔

[7] في ’’تفسیر الخازن‘‘، پ۳، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۵۵: (من أجاز تفضیل بعض القرآن علی بعض من العلماء والمتکلمین قالوا: ہذا التفضیل راجع إلی عظم أجر القاریٔ أو جزیل ثوابہ وقول: إنّ ہذہ الآیۃ أو ہذہ السورۃ أعظم أو أفضل بمعنی أنّ الثواب المتعلق بہا أکثر وہذا ہو المختار ج۱، ص۱۹۵۔

وفي’’النبراس‘‘، بیان الکتب المنزلۃ، ص ۲۹۱:(أنّ القرآن کلام واحد أي: في درجۃ واحدۃ من الفضیلۃ (لا یتصوّر فیہ تفضیل من حیث إنّہ کلام اللّٰہ سبحانہ؛ لأنّ ہذا الشرف یعمّ الآیات والسور کلّہا (ثم باعتبار القراء ۃ والکتابۃ یجوز أن یکون بعض الصور أفضل کما ورد في الحدیث، وحقیقۃ التفضیل أنّ قراء تہ أفضل لما أنّہ أنفع) من حیث کثرۃ الثواب والنجات من المکروہات ملتقطاً۔

8في ’’تفسیر الخازن‘‘، پ۳، البقرۃ: ۲۸۵،ج۱، ص۲۲۵: (الإیمان بکتبہ فہو أن یؤمن بأنّ الکتب المنزلۃ من عند اللّٰہ ہي وحي اللّٰہ إلی رسلہ، وأنّہا حق وصدق من عند اللّٰہ بغیر شک ولا ارتیاب

في ’’تفسیر الخازن‘‘، ج۱، ص۹۴:({ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى } یعني التوراۃ { وَ عِیْسٰى } یعني الإنجیل{ وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْۚ- } والمعنی آمنّا أیضاً بالتوراۃ والإنجیل والکتب التي أوتي جمیع النبیین وصدّقنا أنّ ذلک کلّہ حق وہدی ونور وأنّ الجمیع من عند اللّٰہ

[9] { اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(۹) } پ۱۴، الحجر:۹۔

في’’تفسیر الخازن‘‘، تحت الآیۃ: ({وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(۹) } الضمیر في: { لَهٗ} یرجع إلی الذکر یعني، وإنّا للذکر الذي أنزلناہ علی محمد لحافظون یعني من الزیادۃ فیہ، والنقص منہ والتغییر والتبدیل والتحریف، فالقرآن العظیم محفوظ من ہذہ الأشیاء کلّہا لا یقدر أحد من جمیع الخلق من الجن والإنس أن یزید فیہ، أو ینقص منہ حرفاً واحداً أو کلمۃً واحدۃً، وہذا مختصّ بالقرآن العظیم بخلاف سائر الکتب المنزلۃ فإنّہ قد دخل علی بعضہا التحریف والتبدیل والزیادۃ والنقصان ولما تولی اللّٰہ عزوجل حفظ ہذا الکتاب بقي مصوناً علی الأبد محروساً من الزیادۃ والنقصان ج۳، ص۹۵۔

[10] { وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ ﳓ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ(۴۶)} پ۲۱، العنکبوت: ۴۶۔

في ’’تفسیر ابن کثیر‘‘، ج۶، ص۲۵۶، تحت ہذہ الآیۃ: (أن أبا نَمْلَۃَ الأنصاري أخبرہ، أنہ بینما ہو جالس عند رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جاء ہ رجل من الیہود، فقال: یا محمد، ہل تتکلم ہذہ الجنازۃ؟ قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((اللّٰہ أعلم))، قال الیہودي: أنا أشہد أنّہا تتکلم فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((إذا حدثکم أہل الکتاب فلا تصدقوہم ولا تکذبوہم، وقولوا: آمنا باللّٰہ وکتبہ ورسلہ، فإن کان حقًّا لم تکذبوہم، وإن کان باطلاً لم تصدقوہم)))۔

في ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب التفسیر، باب { وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا }، الحدیث: ۴۴۸۵، ج۳، ص۱۶۹:

عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: کان أہل الکتاب یقرء ون التوراۃ بالعبرانیۃ ویفسرونہا بالعربیۃ لأہل الإسلام، فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((لا تصدقوا أہل الکتاب ولا تکذبوہم وقولوا: { وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا }))۔

و’’مشکاۃ المصابیح‘‘، کتاب الإیمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، الفصل الأول، الحدیث: ۱۵۵، ج۱، ص۵۱۔

في ’’المرقاۃ‘‘ للقاریٔ، ج۱، ص۳۹۱، تحت ہذا الحدیث: (قال رسول اللّٰہ: ((لا تصدقوا)) أي: فیما لم یتبین لکم صدقہ لاحتمال أن یکون کذباً وہو الظاہر أنّ أحوالہم ((أہل الکتاب)) أي: الیہود والنصاری؛ لأنہم حرّفوا کتابہم ((ولا تکذبوہم)) أي: فیما حدثوا من التوراۃ والإنجیل ولم یتبین لکم کذبہ لاحتمال أن یکون صدقاً وإن کان نادراً؛ لأنّ الکذوب قد یصدق وفیہ إشارۃ إلی التوقف فیما أشکل من الأمور والعلوم۔

[11] پ۱۴، الحجر: ۹۔

[12] في ’’منح الروض الأزہر‘‘، فصل في القراء ۃ والصلاۃ، ص۱۶۷:(من جحد القرآن، أي:کلّہ أو سورۃ منہ أو آیۃ، قلت: وکذا کلمۃ أو قراء ۃ متواترۃ، أو زعم أنّہا لیست من کلام اللّٰہ تعالی کفر، یعني: إذا کان کونہ من القرآن مجمعاً علیہ مثل البسملۃ في سورۃ النمل، بخلاف البسملۃ في أوائل السور، فإنّہا لیست من القرآن عند المالکیۃ علی خلاف الشافعیۃ، وعند المحققین من الحنفیۃ أنّہا آیۃ مستقلۃ أنزلت للفصل في ’’الشفا‘‘، فصل في بیان ما ہو من المقالات کفر، الجزء الثاني، ص۲۸۹: (وکذلک کافر من أنکر القرآن أو حرفاً منہ أو غیّر شیئاً منہ أو زاد فیہ ملخصاً۔’’الفتاوی الرضویۃ‘‘ ، کتاب السیر، ج۱۴، ص۲۵۹۔۲۶۲۔

[13] پ۱، البقرۃ: ۲۳۔۲۴۔

[14] في’’النبراس‘‘، الدلائل علی نبوۃ خاتم الأنبیاء علیہ السلام، ص۲۷۵:(فإنّ اللّٰہ تعالی دعاہم أوّلاً لمعارضۃ جمیعہ حیث قال:{ فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِهٖۤ } ثم قال:{ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ} ثم قال:{ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ۪- فعجزوا عن الکل (مع تہالکہم علی ذلک) أي: حرصہم علی المعارضۃ

[15] في ’’تفسیر روح البیان‘‘، پ۲۱، العنکبوت، تحت الآیۃ ۴۹: (قال الکاشفي: یعني: کونہ محفوظاً في الصدور من خصائص القرآن؛ لأنّ من تقدم کانوا لا یقرؤون کتبہم إلاّ نظراً، فإذا أطبقوہا لم یعرفوا منہا شیئًا سوی الأنبیائ) ج۶، ص۴۸۱۔

[16] { وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠(۴۰) } پ۲۷، القمر:۱۷۔

في ’’تفسیرالخازن‘‘، ج۴، ص۲۰۴، تحت الآیۃ:{ وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ } أي: سہّلنا القرآن { لِلذِّكْرِ }أي: لیتذکر ویعتبر بہ، قال سعید بن جبیر: یسرناہ للحفظ والقراء ۃ ولیس شيء من کتب اللّٰہ تعالی یقرأ کلّہ ظاہراً إلاّ القرآن، { فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠} أي: متعظ بمواعظہ، وفیہ الحث علی تعلیم القرآن والاشتغال بہ؛ لأنّہ قد یسّرہ اللّٰہ وسہلہ علی من یشاء من عبادہ بحیث یسہل حفظہ للصغیر والکبیر والعربي والعجمي وغیرہم

اعلیٰ حضرت عظیم المرتبت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ’’فتاویٰ رضویہ ‘‘میں فرماتے ہیں : کچھ عجب نہیں کہ مولیٰ عزوجل بعض نعمتیں بعض انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کو عطافرمائے اگلی امتوں میں نبی کے سوا کسی کو نہ ملتی ہوں مگر اس امت مرحومہ کے لیے انہیں عام فرمادے جیسے: کتاب اللہ کا حافظ ہونا کہ اممِ سابقہ میں خاصۂ انبیاء علیہم الصلاۃ والثناء تھا اس امت کے لیے رب عَزَّوَجَل نے قرآن کریم حفظ کیلئے آسان فرمادیا کہ دس دس برس کے بچے حافظ ہوتے ہیں اور ہمارے مولیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فضل ظاہر کہ انکی امت کو وہ ملا جو صرف انبیاء کو ملا کرتا تھا علیہ وعلیہم افضل الصلاۃ والثناء واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔ ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۵، ص۶۷۔

17عن ابن مسعود رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((أنزل القرآن علی سبعۃ أحرف، لکلّ آیۃ منہا ظہر وبطن، ولکل حد مطلع))۔’’مشکاۃ المصابیح‘‘، کتاب العلم، الحدیث:۲۳۸، ج۱، ص۱۱۳۔

في’’المرقاۃ‘‘، ج۱، ص۴۹۹، تحت ہذا الحدیث: (قال ابن حجر: الجملۃ الأولی جاء ت من روایۃ أحد وعشرین صحابیًا، ومن ثم نص أبو عبید علی أنّہا متواترۃ أي: معنیً

[18] في ’’فیض القدیر‘‘، ج۲، ص۶۹۲، تحت الحدیث:۲۵۱۲: ((إنّ ہذا القرآن أنزل علی سبعۃ أحرف)) أي: سبع لغات أوسبعۃ أوجہ من المعاني المتفقۃ بألفاظ مختلفۃ أو غیر ذلک

[19] قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((إنّ ہذا القرآن أنزل علی سبعۃ أحرف فاقرء وا ما تیسر منہ)) ملتقطاً۔’’صحیح مسلم‘‘، باب بیان أنّ القرآن أنزل علی سبعۃ أحرف۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۸۱۸، ص۴۰۸۔

[20] في ’’الدر‘‘، کتاب الصلاۃ، فصل في القرآۃ، ج۲، ص۳۲۰: (ویجوز بالروایات السبع، لکنّ الأولی أن لا یقرأ بالغریبۃ عند العوام صیانۃ لدینہم وفي ’’رد المحتار‘‘ تحت قولہ: (بالغریبۃ) أي: بالروایات الغریبۃ والإمالات؛ لأنّ بعض السفہاء یقولون ما لا یعلمون فیقعون في الإثم والشقاء، ولا ینبغي للأئمۃ أن یحملوا العوام علی ما فیہ نقصان دینہم، ولا یقرأ عندہم مثل قراء ۃ أبي جعفر وابن عامر وعلي بن حمزۃ الکسائي صیانۃ لدینہم فلعلّہم یستخفون أو یضحکون وإن کان کل القراء ات والروایات صحیحۃ فصیحۃ، ومشایخنا اختاروا قراء ۃ أبي عمرو وحفص عن عاصم وانظر: ’’التتارخانیۃ‘‘، ج۱، ص۴۵۵۔

[21] { اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآىٕكُمْؕ-}۲، البقرۃ: ۱۸۷]۔

في ’’الجامع لأحکام القرآن‘‘ للقرطبي، ج۱، ص۲۴۱، تحت الآیۃ: (قولہ تعالی: { اُحِلَّ لَكُمْ } لفظ: { اُحِلَّ } یقتضي أنّہ کان محرّماً قبل ذلک ثم نسخ، روی أبو داود عن ابن أبي لیلی قال: وحدثنا أصحابنا قال: وکان الرجل إذا أفطر فنام قبل أن یأکل لم یأکل حتی یصبح، قال: فجاء عمر فأراد امرأتہ فقالت: إنّي قد نمت، فظنّ أنّہا تعتل فأتاہا، فجاء رجل من الأنصار فأراد طعاماً فقالوا: حتی نسخن لک شیئاً فنام، فلما أصبحوا أنزلت ہذہ الآیۃ، وفیہا: { اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآىٕكُمْؕ-}۔

[22] { یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةًؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُؕ-فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۲)۲۸، المجادلۃ: ۱۲]۔

في ’’روح البیان‘‘، المجادلۃ، تحت الآیۃ، الجزء الثامن والعشرون، ج۹، ص۴۰۵: (والآیۃ نزلت حین أکثر الناس علیہ السؤال حتی أسأموہ وأملوہ فأمرہم اللّٰہ بتقدیم الصدقۃ عند المناجاۃ فکف کثیر من الناس، أمّا الفقیر فلعسرتہ، وأمّا الغني فلشحہ وفي ہذا الأمر تعظیم الرسول ونفع الفقرآء والزجر عن الإفراط في السؤال والتمییز بین المخلص والمنافق ومحب الآخرۃ ومحب الدنیا واختلف في أنّہ للندب أو للوجوب لکنّہ نسخ بقولہ تعالی: { ءَاَشْفَقْتُمْ } الآیۃ۔۔۔ إلخ وفي ’’روح المعاني‘‘، الجزء الثامن والعشرین، ج۱۴، ص۳۱۴۔۳۱۵۔

{ وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًاۚ-}۲، البقرۃ: ۲۳۴]۔

في ’’الجامع لأحکام القرآن‘‘ للقرطبي، ج۲، ص۱۳۳، تحت الآیۃ: (وأکثر العلماء علی أنّ ہذہ الآیۃ ناسخۃ لقولہ عز وجل: {وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا ۚۖ-وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍۚ- } لأنّ الناس أقاموا برہۃ من الإسلام إذا توفی الرجل وخلف امرأتہ حاملا أوصی لہا زوجہا بنفقۃ سنۃ وبالسکنی ما لم تخرج فتتزوج، ثم نسخ ذلک بأربعۃ أشہر وعشر، وبالمیراث

[23] قال الإمام أحمد رضا في ’’المعتمد المستند‘‘، ص۵۵: (والمطلق یکون في علم اللّٰہ مؤبداً أو مقیداً، وہذا الأخیر ہو الذي یأتیہ النسخ فیظنّ أنّ الحکم تبدل؛ لأنّ المطلق یکون ظاہرہ التأبید حتی سبق إلی بعض الخواطر أنّ النسخ رفع الحکم وإنّما ہو بیان مدتہ عندنا وعند المحققین في ’’تفسیر الصاوي‘‘،

البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۶، ج۱، ص۹۸: النسخ : بیان انتھاء حکم التعبد۔ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت فتاویٰ رضویہ ، ج۱۴، ص۱۵۶میں فرماتے ہیں : ’’نسخ کے یہی معنی ہیں کہ اگلے حکم کی مدت پوری ہوگئی‘‘ ۔

انظر للتفصیل: ’’الإتقان في علوم القرآن‘‘ للسیوطي، النوع ۴۷ في ناسخہ ومنسوخہ، ج۲، ص۳۲۶۔

24 ٹیڑھا پن۔

[25] { هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌؕ-فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ ﳘ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ ﳕ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖۙ-كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَاۚ-وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۷)} پ۳، اٰلِ عمرٰن: ۷۔

في ’’نور الأنوار‘‘، ص۹۷: (أنّ المراد بہ (أي: بالمتشابہ) حق وإن لم نعلمہ قبل یوم القیامۃ، وأمّا بعد القیامۃ فیصیر مکشوفاً لکل أحد إن شاء اللّٰہ تعالیٰ، وہذا في حق الأمۃ، وأمّا في حق النبي علیہ السلام فکان معلومًا وإلاّ تبطل فائدۃ التخاطب ویصیر التخاطب بالمہمل کالتکلم بالزنجي مع العربي وہذا عندنا وفي ’’شرح الحسامي‘‘، ص۲۱: (فالمتشابہ کرجل فقد عن الناس حتی انقطع أثرہ وانقضی جیرانہ وأقرانہ، (وحکمہ التوقف فیہ أبدًا) في حقنا، لأنّ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان یعلم المتشابہات کما صرح بہ فخر الإسلام في ’’أصولہ‘‘۔انظر للتفصیل والدلائل: ’’انباء الحي‘‘، ص۵۰۔

[26] في ’’المعتقد المنتقد‘‘، ص۱۰۵: (الوحي قسمان: وحي نبوۃ، ویختص بہ الأنبیاء دون غیرہم

[27] في ’’الشفا‘‘، فصل في بیان ما ہو من المقالات کفر، الجزء ۲، ص۲۸۵: (من ادّعی النبوۃ لنفسہ أو جوّز اکتسابہا والبلوغ بصفاء القلب إلی مرتبتہا کالفلاسفۃ وغلاۃ المتصوفۃ، وکذلک من ادّعی منہم أنّہ یوحی إلیہ وإن لم یدع النبوۃ فہؤلاء کلّہم کفار مکذبون للنبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم؛ لأنّہ أخبر صلی اللّٰہ علیہ وسلم أنّہ خاتم النبیین لا نبي بعدہ ملتقطاً۔

[28] { اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ(۴)} پ۱۲، یوسف:۴۔ في ’’تفسیر الطبري‘‘، تحت الآیۃ، عن ابن عباس في قولہ: ({اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ(۴)}، قال: کانت رؤیا الأنبیاء وحیًا)۔ ج۷، ص۱۴۸۔

{ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰىؕ-قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ٘-سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۰۲) پ۲۳، الصافات:۱۰۲۔

في ’’تفسیر الطبري‘‘، تحت الآیۃ: عن قتادۃ، قولہ: ({یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ } قال: رؤیا الأنبیاء حق إذا رأوا في المنام شیئا فعلوہ)۔ وعن عبید بن عمیر، قال: (رؤیا الأنبیاء وحيٌ، ثم تلا ہذہ الآیۃ:{ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ ج۱۰، ص۵۰۷۔

29في’’المرقاۃ‘‘، کتاب العلم،ج۱،ص۴۴۵:(والإلہام لغۃ: الإبلاغ، وہو علم حق یقذفہ اللّٰہ من الغیب في قلوب عبادہ

[30] { وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًاؕ-} پ۸، الأنعام: ۱۱۲۔ في ’’تفسیر الطبري‘‘، ج۵، ص۳۱۴، تحت الآیۃ: (أمّا قولہ: { یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًاؕ- فإنّہ یعني أنّہ یلقي الملقي منہم القولَ، الذي زیّنہ وحسَّنہ بالباطل إلی صاحبہ، لیغترّ بہ من سمعہ، فیضلّ عن سبیل اللّٰہوعن السدي في قولہ: { یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًاؕ- قال: للإنسان شیطان، وللجنّي شیطان، فیلقَی شیطان الإنس شیطان الجن، فیوحي بعضہم إلی بعض زخرف القول غرورًا

{ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُؕ(۲۲۱) تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ(۲۲۲)} پ۱۹، الشعراء: ۲۲۱۔۲۲۲۔

في ’’تفسیر الطبري‘‘، تحت الآیۃ، عن قتادۃ، في قولہ: { كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ} قال: ہم الکہنۃ تسترق الجن السمع، ثم یأتون بہ إلی أولیائہم من الإنسج۹، ص۴۸۷۔.

في ’’تفسیر ابن کثیر‘‘، تحت الآیۃ:{ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ } أي: أخبرکم{ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُؕ(۲۲۱) تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ(۲۲۲)} أي: کذوب في قولہ وہو الأفاک (الأثیم) وہو الفاجر في أفعالہ۔فہذا ہو الذي تنزل علیہ الشیاطین من الکہان وما جری مجراہم من الکذبۃ الفسقۃ، فإنّ الشیاطین أیضاً کذبۃ فسقۃ ج۶، ص۱۵۵۔

[31] في ’’المعتقد المنتقد‘‘، ص۱۰۷: (النبوۃ لیست کسبیۃ

وفي ’’الیواقیت والجواہر‘‘، ص۲۲۴: (لیست النبوۃ مکتسبۃ حتی یتوصل إلیہا بالنسک والریا ضات کما ظنّہ جماعۃ من الحمقی، فإنّ اللّٰہ تعالی حکی عن الرسل بقولہ: { قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖؕ- پ ۱۳، ابراہیم:۱۱، فالنبوۃ إذن محض فضل اللّٰہ تعالی ملتقطاً۔

[32] في ’’المسایرۃ‘‘ و’’المسامرۃ‘‘، شروط النبوۃ، ص۲۲۶: (شرط النبوۃ: الذکورۃ وکونہ أکمل أہل زمانہ عقلا وخلقا و) أکملہم (فطنۃ وقوۃ رأي والسلامۃ من دناء ۃ الآبائ) ومن (غمز الأمہات و) السلامۃ من (القسوۃ والعیوب المنفرۃ) منہم (کالبرص والجذام و) من (قلۃ المروء ۃ کالأکل علی الطریق، و) من (دناء ۃ الصناعۃ کالحجامۃ۔۔۔ إلخ) ملتقطاً۔

في ’’شرح المقاصد‘‘، المبحث السادس، ج۳، ص۳۱۷: (النبوۃ مشروطۃ بالذکورۃ، وکمال العقل، وقوۃ الرأي، والسلامۃ عن المنفرات کزنا الآبائ، وعھر الأمہات والفظاظۃ، ومثل البرص، والجذام، والحِرَف الدنیئۃ، وکل ما یخل بالمروء ۃ وحکمۃ البعثۃ ونحو ذلک انظر للتفصیل: ’’المعتقد المنتقد‘‘، باب: وہا أنا أذکر ما یجب لہم علیہم السلام، ص۱۱۰۔۱۱۷۔

[33] عن وہب بن منبہ، قال:قرأت واحدا وسبعین کتابا فوجدت في جمیعہا أنّ اللّٰہ عز وجل لم یعط جمیع الناس من بدء الدنیا إلی انقضائہا من العقل في جنب عقل محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم إلاّ کحبۃ رمل من بین رمال جمیع الدنیا، وأنّ محمداً صلی اللّٰہ علیہ وسلم أرجح الناس عقلاً وأفضلہم رأیاً رواہ أبو نعیم في’’الحلیۃ‘‘، ج۴، ص۲۹۔۳۰، الحدیث: ۴۶۵۲۔

[34] ترجمۂ کنز الایمان: اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھے۔ پ۸، الأنعام: ۱۲۴۔

[35] ترجمۂ کنز الایمان: یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ پ۲۷، الحدید: ۲۱۔

[36] في ’’المعتقد المنتقد‘‘، مسئلۃ: النبوۃ لیست کسبیۃ۔۔۔ إلخ، ص۱۰۷: (النبوۃ لیست کسبیۃ، قال التورفشتي في ’’المعتمد‘‘: اعتقاد حصول النبوۃ بالکسب کفر)، ملتقطاً۔ في ’’الیواقیت والجواہر‘‘،ص۲۲۴:(وقد أفتی المالکیۃ وغیرہم بکفر من قال:إنّ النبوۃ مکتسبۃ، واللّٰہ تعالی أعلم

[37] في ’’المعتقد المنتقد‘‘، مسئلۃ: من جوّز زوال النبوۃ من نبي۔۔۔ إلخ، ص۱۰۹: (من جوز زوال النبوۃ من نبي فإنّہ یصیر کافراً، کذا في ’’التمہید‘‘)۔

[38] وفي ’’منح الروض الأزہر‘‘، ص۵۶: (الأنبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کلّہم منزہون) أي: معصومون، ملتقطاً۔

وفي ’’شرح النووي‘‘، ج۱، ص۱۰۸: (ذہب جماعۃ من أہل التحقیق والنظر من الفقہاء والمتکلمین من أئمتنا إلی عصمتہم من الصغائر کعصمتہم من الکبائر)

[39] في’’المعتقد المنتقد‘‘، ص۱۱۰: (فمنہ العصمۃ: وہي من خصائص النبوۃ علی مذہب أہل الحق

في’’الحبائک في أخبار الملائک‘‘، ص۸۲: (أجمع المسلمون علی أنّ الملائکۃ مؤمنون فضلائ، واتفق أئمۃ المسلمین أنّ حکم المرسلین منہم حکم النبیین سوائً في العصمۃ ممّا ذکرنا عصمتہم منہ، وأنّہم في حقوق الأنبیاء والتبلیغ إلیہم کالأنبیاء مع الأمم واختلفوا في غیر المرسلین منہم فذہبت طائفۃ إلی عصمۃ جمیعہم عن المعاصي واحتجوا بقولہ تعالی: { لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ(۶) وبقولہ: { وَ مَا مِنَّاۤ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌۙ(۱۶۴) وَّ اِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَۚ (۱۶۵)وَ اِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ(۱۶۶) وبقولہ: { وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا یَسْتَحْسِرُوْنَۚ(۱۹) یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ(۲۰)}ونحوہ من السمعیّات، وذہبت طائفۃ إلی أنّ ہذا خصوص للمرسلین منہم والمقربین…، والصواب عصمۃ جمیعہم وتنزیہ نصابہم الرفیع عن جمیع ما یحطّ من رتبتہم ومنزلتہم عن جلیل مقدارہم)، ملتقطاً۔ و’’الشفا‘‘، فصل في القول في عصمۃ الملائکۃ،ج۲، ص۱۷۴۔۱۷۵۔

وفي’’منح الروض الأزہر‘‘، ص۱۲: (وملائکتہ) بأنّہم عباد مکرمون لایسبقونہ بالقول وہم بأمرہ یعملون، وأنّہم معصومون ولا یعصون اللّٰہ

وفي’’النبراس‘‘، ص۲۸۷: (والملائکۃ عباد اللّٰہ تَعَالٰی العاملون بأمرہ) یرید أنّہم معصومون وقد اختلف في عصمتہم فالمختار أنّہم معصومون عن کل معصیۃ۔

وفي ’’الحدیقۃ الندیۃ‘‘ شرح ’’الطریقۃ المحمدیۃ‘‘، ج۱، ص۲۹۰: (’’أنّ الملائکۃ‘‘ الذین ہم عباد مکرمون لا یسبقونہ بالقول وہم بأمرہ یعملون) لا یعملون قط ما لم یأمرہم بہ قالہ البیضاوي (لا یوصفون) أي: الملائکۃ علیہم السلام (بمعصیۃ) صغیرۃ ولا کبیرۃ؛ لأنّہم کالأنبیاء معصومون

وفي ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱۴، ص۱۸۷: (بشر میں انبیا علیہم الصلوٰۃ والسلام کے سوا کوئی معصوم نہیں

[40] انظر للتفصیل: ’’نسیم الریاض في شرح شفاء القاضي عیاض‘‘، الباب الأوّل فیما یجب للأنبیاء علیہم الصلاۃ والسلام، ویمتنع أو یصح من الأحوال۔۔۔ إلخ، فصل في عصمۃ الأنبیاء قبل النبوۃ من الجھل۔۔۔ إلخ، ج ۵، ص ۱۴۴۔ ۱۹۳۔۳۳۷۔

[41] في ’’شرح المقاصد‘‘، المقصد السادس، المبحث الثاني، الشروط التي تجب في الإمام، ج۳، ص۴۸۴: (واحتج أصحابنا علی عدم وجوب العصمۃ بالإجماع علی إمامۃ أبي بکر وعمر وعثمان رضي اللّٰہ عنہم مع الإجماع علی أنّہم لم تجب عصمتہم، وإن کانوا معصومین بمعنی أنّہم منذ آمنوا کان لہم ملکۃ اجتناب المعاصي مع التمکن منہا، وحاصل ہذا دعوی الإجماع علی عدم اشتراط العصمۃ في الإمام

[42] في ’’بریقۃ محمودیۃ‘‘ شرح ’’طریقۃ محمدیۃ‘‘ ج۲، ص۱: (اعلم أنّہ لا تجب عصمۃ الولي کما تجب عصمۃ النبي لکن عصمتہ بمعنی أن یکون محفوظاً لا تصدر عنہ زلۃ أصلاً، ولا امتناع من صدورہا، وقیل للجنید: ہل یزني العارف؟ فأطرق ملیاً ثم رفع رأسہ وقال: { وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدْرًا مَّقْدُوْرَا٘ﰳۙ (۳۸)}۲۲، الأحزاب: ۳۸]۔

وفي ’’الرسالۃ القشیریۃ‘‘، باب الولایۃ، ص۲۹۲: (ومن شرط الولي أن یکون محفوظاً، کما أنّ من شرط النبي أن یکون معصوماً وفیہا، باب کرامات الأولیاء، ص۳۸۱: (فإن قیل: ہل یکون الولی معصوماً؟ قیل: أمّا وجوباً کما یقال في الأنبیاء فلا، وأمّا أن یکون محفوظاً حتی لا یصر علی الذنوب إن حصلت ہنات أو آفات أو زلات فلا یمتنع ذلک في وصفہم، ولقد قیل للجنید: العارف یزني یا أبا القاسم؟ فأطرق ملیاً، ثم رفع رأسہ وقال: وکان أمر اللّٰہ قدراً مقدرواً

في ’’الفتاوی الحدیثیۃ‘‘، مطلب: في أنّ الإلہام لیس بحجۃ۔۔۔الخ، ص۴۲۲: (والأولیاء وإن لم یکن لہم العصمۃ لجواز وقوع الذنب منہم ولا ینافیہ الولایۃ، ومن ثم قیل للجنید: أیزني الولي؟ فقال: وکان أمر اللّٰہ قدراً مقدرواً، لکن لہم الحفظ فلا تقع منہم کبیرۃ ولا صغیرۃ غالباً

[43] بُری صفتوں ۔

[44] في ’’روح البیان‘‘، پ۲۳، ج۸، ص۴۵، تحت الآیۃ: ۴۴: (واعلم: أنّ العلماء قالوا: إنّ الأنبیاء علیہم الصلاۃ والسلام معصومون من الأمراض المنفرۃ

في ’’الحدیقۃ الندیۃ‘‘ علی ’’الطریقۃ المحمدیۃ‘‘، ج۱، ص۲۸۸:(وہم) أي: الأنبیاء والرسل علیہم السلام کلہم (مبرؤون عن الکفر) باللّٰہ تعالی (و)عن (الکذب مطلقاً أي: قبل النبوۃ وبعدہا العمد من ذلک والسہو والکذب علی اللّٰہ تعالی وعلی غیرہ في الأمور الشرعیۃ والعادیۃ، (و) مبرؤون (عن الکبائر) من الذنوب (و)عن (الصغائر) منہا أیضاً (المنفرۃ) نعت للصغائر أي: التي تنفر غیرہم من أتباعہم (کسرقۃ لقمۃ) من المأکولات (وتطفیف) أي: تنقیص (حبۃ) من الحبوب التي

یبیعونہا فإنّ ذلک ممّا یدلّ علی الخسۃ والدناء ۃ (و)مبرؤون أیضاً من (تعمد الصغائر غیرہا) أي غیر المنفرۃ (بعد البعثۃ) أي:إرسالہم إلی دعوۃ الخلق

في ’’منح الروض الأزہر‘‘ للقاریٔ، الأنبیاء منزہون عن الصغائر والکبائر، ص۵۶۔۵۷: (والأنبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کلہم) أي: جمیعہم الشامل لرسلہم ومشاہیرہم وغیرہم (منزّہون) أي: معصومون (عن الصغائر والکبائر) أي: من جمیع المعاصي (والکفر) خص؛ لأنّہ أکبر الکبائر (والقبائح) وفي نسخۃ: والفواحش، وہي أخص من الکبائر في مقام التغایر کما یدل علیہ قولہ سبحانہ وتعالی: { اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓىٕرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ } والمراد بہا نحو: القتل والزنا واللواطۃ والسرقۃ وقذف المحصنۃ والسحر والفرار من الزحف والنمیمۃ وأکل الربا ومال الیتیم وظلم العباد وقصد الفساد في البلاد۔۔۔ إلخ، ثم ہذہ العصمۃ ثابتۃ للأنبیاء قبل النبوۃ وبعدہا علی الأصح، وہم مؤیدون بالمعجزات الباہرات والآیات الظاہرات۔ ملتقطاً۔

وقال الإمام الأعظم في ’’الفقہ الأکبر‘‘، ص۶۱: (ولم یشرک باللّٰہ طرفۃ عین قط، ولم یرتکب صغیرۃ ولا کبیرۃ قط قال الملا علي القاریٔ في شرحہ: (ولم یشرک باللّٰہ طرفۃ عین قط) أي: لا قبل النبوۃ ولا بعدہا، فإنّ الأنبیاء علیہم الصلوۃ والسلام معصومون عن الکفر مطلقاً بالإجماع

45{ یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَؕ-وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗؕ-وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ(۶۷)} پ۶، المائدۃ: ۶۷۔

في ’’الجامع لأحکام القرآن‘‘ للقرطبي، ج۳، الجزء الثاني، ص۱۴۵، تحت ہذہ الآیۃ: (دلت الآیۃ علی رد قول من قال: إنّ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم کتم شیئاً من أمر الدین تقیۃً، وعلی بطلانہ، وہم الرافضۃ، ودلت علی أنّہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لم یسر إلی أحد شیئاً من أمر الدین؛ لأنّ المعنی بلغ جمیع ما أنزل إلیک ظاہراً، قال ابن عباس: والمعنی بلغ جمیع ما أنزل إلیک من ربک، فإن کتمت شیئاً منہ فما بلغت رسالتہ، وہذا تأدیب للنبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم، وتأدیب لحملۃ العلم من أمتہ ألا یکتموا شیئا من أمر شریعتہ، وقد علم اللّٰہ تعالی من أمر نبیہ أنّہ لا یکتم شیئا من وحیہ، وفي ’’صحیح مسلم‘‘ عن مسروق عن عائشۃ أنّہا قالت: ((من حدثک أنّ محمداً صلی اللّٰہ علیہ وسلم کتم شیئا من الوحي فقد کذب، واللّٰہ تعالی یقول: { یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَؕ-وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗؕ-}))۔وقبّح اللّٰہ الروافض حیث قالوا: إنّہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کتم شیئاً ممّا أوحی اللّٰہ إلیہ کان بالناس حاجۃ إلیہ ملتقطاً۔

وفي ’’المعتقد المنتقد‘‘، ص۱۱۳۔۱۱۴: (ومنہ التبلیغ لجمیع ما جاء وا بہ من عند اللّٰہ ، وأمروا بتبلیغہ للعباد، اعتقادیاً کان أو عملیاً، فیجب أن یعتقد أنّہم صلوات اللّٰہ تَعَالٰی علیہم بلّغوا عن اللّٰہ ما أمروا بتبلیغہ ولم یکتموا منہ شیئاً، ولو في قوۃ الخوف

وقال الإمام أحمد رضا خان في ’’ المعتمد المستند‘‘ ص۱۱۴، تحت اللفظ: ولو في قوۃ: (وتجویز التقیۃ علیہم في التبلیغ کما تزعمہ الطائفۃ الشقیۃ ہدم لأساس الدین، وکفر و ضلال مبین

في ’’الیواقیت والجواہر‘‘، ص۲۵۲: (أجمعت الأمۃ علی أنّہ بلغ الرسالۃ بتمامہا وکمالہا وکذلک تشہد لجمیع الأنبیاء أنّہم بلغوا رسالات ربہم، وقد خطب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم في حجۃ الوداع فحذر وأنذر وأوعد وما خص بذلک أحدا دون أحد، ثم قال: ((ألا ہل بلغت)) فقالوا: بلغت یا رسول اللّٰہ، فقال: ((اللّٰہم اشہد))۔

46… في ’’المسامرۃ بشرح المسایرۃ‘‘، شروط النبوّۃ، الکلام علی العصمۃ، ص۲۳۴۔۲۳۵: (وأمّا فیما طریقہ الإبلاغ) أي: إبلاغ الشرع وتقریرہ من الأقوال وما یجري مجراہا من الأفعال کتعلیم الأمۃ بالفعل (فہم معصومون فیہ من السہو والغلط

في ’’شرح النووي‘‘، ج۱، ص۱۰۸: (اتفقوا علی أنّ کل ما کان طریقہ الإبلاغ في القول فہم معصومون فیہ علی کل حال، وأمّا ما کان طریقہ الإبلاغ في الفعل فذہب بعضہم إلی العصمۃ فیہ رأساً وأنّ السہو والنسیان لا یجوز علیہم فیہ

[47] في ’’المسامرۃ بشرح المسایرۃ‘‘، ص۲۲۶: (من شروط النبوۃ السلامۃ من (العیوب المنفرۃ) منہم (کالبرص والجذام ملتقطاً۔وفي ’’المعتقد المنتقد‘‘، ص۱۱۵: (ومنہ النزاہۃ في الذات: أي: السلامۃ من البرص والجذام والعمی وغیر ذلک من المنفرات

[48] { وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا } پ۱، البقرۃ: ۳۱۔

في ’’تفسیر روح البیان‘‘، ج۱، ص۱۰۰، تحت ہذہ الآیۃ: (علّمہ أسماء الأشیاء کلّہا أي: ألہمہ فوقع في قلبہ فجری علی لسانہ بما في قلبہ بتسمیۃ الأشیاء من عندہ فعلّمہ جمیع أسماء المسمیات بکل اللغات بأن أراہ الأجناس التي خلقہا وعلّمہ أنّ ہذا اسمہ فرس وہذا اسمہ بعیر وہذا اسمہ کذا، وعلّمہ أحوالہا وما یتعلق بہا من المنافع الدینیۃ والدنیویۃ، وعلّمہ أسماء الملائکۃ وأسماء ذریتہ کلہم وأسماء الحیوانات والجمادات وصنعۃ کل شيئ، وأسماء المدن والقری وأسماء الطیر والشجر وما یکون وکل نسمۃ یخلقہا إلی یوم القیامۃ وأسماء المطعومات والمشروبات وکل نعیم في الجنۃ وأسماء کل شيء حتی القصعۃ والقصیعۃ وحتی الجفنۃ والمحلبوفي الخبر: علّمہ سبعمائۃ ألف لغۃ{ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَۚ-} پ۳، البقرۃ:۲۵۵۔

في ’’تفسیر الخازن‘‘، ج۱، ص۱۹۶، تحت الآیۃ: ({اِلَّا بِمَا شَآءَۚ-} } یعني: أن یطّلعہم علیہ وہم الأنبیاء والرسل لیکون ما یطلعہم علیہ من علم غیبہ دلیلاً علی نبوتہم کما قال تعالی:{ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ(۲۶) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ

{ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَۙ-فِیْ بُیُوْتِكُمْؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ(۴۹)} پ۳، آل عمران:۴۹۔ في ’’تفسیر الطبري‘‘، ج۳، ص۲۷۸، تحت الآیۃ: قال عطاء بن أبي رباح: یعني قولہ:{ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَۙ-فِیْ بُیُوْتِكُمْؕ-قال: الطعام والشيء یدّخرونہ في بیوتہم، غیبًا علّمہ اللّٰہ إیاہ.

{ وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ } پ۷، الأنعام:۷۵۔

في ’’تفسیرالخازن‘‘، ج۲، ص۲۸، تحت الآیۃ: قال مجاہد وسعید بن جبیر: (یعني: آیات السموات والأرض وذلک أنّہ أقیم علی صخرۃ وکشف لہ عن السموات حتی رأی العرش والکرسي وما في السموات من العجائب، وحتی رأی مکانہ في الجنۃ فذلک قولہ:(وآتیناہ أجرہ في الدنیایعني أریناہ مکانہ في الجنۃ وکشف لہ عن الأرض حتی نظر إلی أسفل الأرضین ورأی ما فیہا من العجائب

{قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَاؕ-ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْؕ- } پ۱۲، یوسف:۳۷۔ في ’’تفسیر الکبیر‘‘، ج۶، ص۴۵۵، تحت الآیۃ: ({لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ } محمول علی الیقظۃ، والمعنی: أنّہ لا یأتیکما طعام ترزقانہ إلاّ أخبرتکما أيّ طعام ہو، وأي لون ہو، وکم ہو، وکیف یکون عاقبتہ؟ أي: إذا أکلہ الإنسان فہو یفید الصحۃ أوالسقم

{ وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا(۶۵)} پ۱۵، الکھف: ۶۵۔ وفي ’’تفسیر القرطبي‘‘،ج۵، الجزء التاسع، ص۳۱۶، تحت الآیۃ: { وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا(۶۵)}أي: علم الغیب.

في ’’تفسیر الطبري‘‘، پ۱۵، الکھف، ج۸، ص۲۵۳:(قال لہ موسی: جئتک لتعلّمني مما علمت رشدًا، { قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا(۶۷) وکان رجلاً یعلم علم الغیب قد عُلِّم ذلک { وَ  مَا  كَانَ  اللّٰهُ  لِیُطْلِعَكُمْ  عَلَى  الْغَیْبِ  وَ  لٰكِنَّ  اللّٰهَ  یَجْتَبِیْ  مِنْ  رُّسُلِهٖ  مَنْ  یَّشَآءُ   ۪-  پ۴، آٰل عمرٰن: ۱۷۹۔

في ’’تفسیر الخازن‘‘، ج۱، ص۳۲۹، تحت الأیۃ: (یعني: ولکن اللّٰہ یصطفي ویختار من رسلہ من یشاء فیطّلعہ علی ما یشاء من غیبہ

{ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا(۱۱۳)} پ۵، النساء: ۱۱۳۔

في ’’تفسیر الخازن‘‘، ج۱، ص۴۲۹، تحت الآیۃ: یعني: من أحکام الشرع وأمور الدین، وقیل: علّمک من علم الغیب ما لم تکن تعلم، وقیل: معناہ وعلّمک من خفیات الأمور واطلعک علی ضمائر القلوب وعلّمک من أحوال المنافقین وکیدہم ما لم تکن تعلم)۔{ عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ(۲۶) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ } پ۲۹، الجن: ۲۶۔۲۷۔ في ’’تفسیر الطبري‘‘، ج ۱۲، ص۲۷۵، تحت ہذہ الآیۃ: عن قتادۃ، قولہ: { عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ(۲۶) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فإنّہ یصطفیہم، ویطّلعہم علی ما یشاء من الغیب وعن قتادۃ قال: { اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ } فإنّہ یظہرہ من الغیب علی ما شاء إذا ارتضاہ

{ وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ(۲۴)} پ۳۰، التکویر: ۲۴۔

في ’’تفسیر البغوي‘‘، ج۴، ص۴۲۲، تحت الآیۃ:({ وَ مَا هُوَ } یعني: محمدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم { عَلَى الْغَیْبِ } ، أي: الوحي، وخبر السماء وما أطلع علیہ مما کان غائبا عنہ من الأنباء والقصص، { بِضَنِیْنٍۚ} أي: ببخیل یقول: إنّہ یأتیہ علم الغیب فلا یبخل بہ علیکم بل یعلمکم ویخبرکم بہ، ولا یکتمہ کما یکتم الکاہن)

عن طارق بن شہاب قال: سمعت عمر رضي اللّّٰہ عنہ یقول: ((قام فینا النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم مقاماً فأخبرنا عن بدء الخلق حتی دخل أہل الجنۃ منازلہم وأہل النار منازلہم، حفظ ذلک من حفظہ ونسیہ من نسیہ))۔ ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب بدء الخلق، الحدیث: ۳۱۹۲، ج۲، ص۳۷۵۔

في ’’عمدۃ القاري‘‘، ج۱۰، ص۵۴۴، تحت الحدیث: (وفیہ دلالۃ علی أنّہ أخبر في المجلس الواحد بجمیع أحوال المخلوقات من ابتدائہا إلی انتہائہا، وفي إیراد ذلک کلّہ في مجلس واحد أمر عظیم من خوارق العادۃ، وکیف! وقد أعطي جوامع الکلم مع ذلک

عن حذیفۃ قال: ((قام فینا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مقاماً ما ترک شیئاً یکون في مقامہ ذلک إلی قیام الساعۃ إلاّ حدث بہ حفظہ من حفظہ ونسیہ من نسیہ))۔ ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الفتن، باب إخبار النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم فیما یکون إلی قیام الساعۃ، الحدیث: ۲۳۔(۲۸۹۱)، ص۱۵۴۵۔ حدثني أبو زید یعني: عمرو بن أخطب قال: صلّی بنا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الفجر وصعد المنبر فخطبنا حتی حضرت الظہر فنزل فصلی ثم صعد المنبر فخطبنا حتی حضرت العصر ثم نزل فصلی ثم صعد المنبر فخطبنا حتی غربت الشمس فأخبرنا بما کان وبما ہوکائن فأعلمنا أحفظنا۔ ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الفتن، باب إخبار النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم فیما یکون إلی قیام الساعۃ، الحدیث: ۲۸۹۲، ص۱۵۴۶۔

ع اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا

جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود [’’حدائق بخشش‘‘، ص۱۹۱]۔

مزیددلائل کیلئے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کی کتب مثلاً: ’’الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ‘‘، ’’خالص الاعتقاد‘‘، ’’إنباء الحي‘‘، ’’إزاحۃ العیب بسیف الغیب‘‘، ’’إنباء المصطفی بحال سرّ وأخفی‘‘، ’’مالیٔ الجیب بعلوم الغیب‘‘، وغیرہا کا مطالعہ کریں ۔

[49] عن ابن عمر قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((إنّ اللّٰہ عزوجل قد رفع لي الدنیا فأنا أنظر إلیہا وإلی ما ہو کائن فیہا إلی یوم القیامۃ کأنّما أنظر إلی کفّي ہذہ جلیان من أمر اللّٰہ عزوجل جلاّہ لنبیّہ کما جلاّہ للنبیّین من قبلہ))۔

’’حلیۃ الأولیاء‘‘، ج۶، ص۱۰۷، و’’الخصائص الکبری‘‘، ج۲، ص۱۸۵، و’’الدولۃ المکیّۃ بالمادّۃ الغیبیۃ‘‘، ص۵۶۔

اعلی حضرت عظیم البرکت عظیم المرتبت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن ’’فتاوی رضویہ‘‘ میں اس حدیث ِمبارکہ کو نقل کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں :’’اس حدیث سے روشن ہے کہ جو کچھ سماوات وارض میں ہے اور جو قیامت تک ہوگا اس سب کا علم اگلے انبیاء ِکرام علیہم السلام کو بھی عطا ہوا تھا اور حضرت عزت عز جلا لہ نے اس تمام ما کان وما یکون کو اپنے ان محبوبوں کے پیش نظر فرمادیا، مثلاً: مشرق سے مغرب تک، سماک سے سمک تک، ارض سے فلک تک اس وقت جو کچھ ہورہا ہے سیدنا ابراہیم خلیل علیہ الصلاۃ والتسلیم ہزار ہا برس پہلے اس سب کو ایسا دیکھ رہے تھے گویا اس وقت ہر جگہ موجود ہیں ،ایمانی نگاہ میں یہ نہ قدرتِ الٰہی پر دشوار اور نہ عزت ووجاہت ِانبیاء کے مقابل بسیار۔ ’’فتاوی رضویۃ‘‘ ، ج۲۹، ص۴۹۵۔

وعن ثوبان قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((إنّ اللّٰہ زوی لي الأرض فرأیت مشارقہا ومغاربہا))۔

’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الفتن، باب ہلاک ہذہ الأمۃ بعضہم ببعض، الحدیث: ۲۸۸۹، ص۱۵۴۴۔

في ’’المرقاۃ‘‘، ج۱۰، ص ۱۵، تحت الحدیث: (إنّ اللّٰہ زوی لي الأرض، أي: جمعہا لأجلي، یرید بہ تقریب البعید منہا حتی اطّلع علیہ اطلاعہ علی القریب منہا، وحاصلہ: أنّہ طوی لہ الأرض وجعلہا مجموعۃ کہیئۃ کف في مرآۃ نظرہ، ولذا قال: فرأیت مشارقہا ومغاربہا، أي: جمیعہا) ملتقطاً۔

وفي روایۃ: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم:((رأیت ربي في أحسن صورۃ، قال:فیم یختصم الملأ الأعلی؟ فقلت: أنت أعلم یا رب، قال: فوضع کفہ بین کتفيّ فوجدت بردہا بین ثدیيّ فعلمت ما في السموات والأرض))۔ ’’سنن الدارمي‘‘، کتاب الرؤیا، باب في رؤیۃ الرب تعالی في النوم، ج۲، ص۱۷۰۔

في ’’المرقاۃ‘‘، ج۲، ص۴۲۹، تحت الحدیث: (فعلمت أي: بسبب وصول ذلک الفیض ما في السموات والأرض، یعني: ما أعلمہ اللّٰہ تعالی مما فیہما من الملائکۃ والأشجار وغیرہما، وہو عبارۃ عن سعۃ علمہ الذي فتح اللّٰہ بہ علیہ، وقال ابن حجر: أي: جمیع الکائنات التي في السموات بل وما فوقہا، کما یستفاد من قصۃ المعراج، والأرض ہي بمعنی الجنس، أي: وجمیع ما في الأرضین السبع بل وما تحتہا

وفي ’’أشعۃ اللمعات‘‘، ج۱، ص۳۵۷، تحت قولہ: (( فعلمت ما في السموات والأرض)) پس دانستم ہر چہ در آسمان ہا و ہرچہ در زمین بود عبارت است از حصول تمامۂ علوم جزوی وکلی واحاطۂ آن)۔

ترجمہ: پس جو کچھ آسمان وزمین میں تھا سب کچھ میں نے جان لیا یہ بات تمام علوم کلی وجزئی کو گھیرے ہوئے ہے۔

اعلی حضرت امام اہلسنّت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ’’فتاوی رضویہ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’اللہ عزوجل نے روز اَزل سے روز آخر تک جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے ایک ایک ذرّہ کا تفصیلی علم اپنے حبیب اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو عطا فرمایا، ہزار تاریکیوں میں جو ذرّہ یا ریگ کا دانہ پڑا ہے حضور کا علم اس کو محیط ہے، اور فقط علم ہی نہیں بلکہ تمام دنیا بھر اور جو کچھ اس میں قیامت تک ہونے والا ہے سب کو ایسا دیکھ رہے ہیں جیسا اپنی اس ہتھیلی کو ، آسمانوں اور زمینوں میں کوئی ذرّہ ان کی نگاہ سے مخفی نہیں بلکہ یہ جو کچھ مذکور ہے ان کے علم کے سمندروں میں سے ایک چھوٹی سی نہر ہے، اپنی تمام امت کو اس سے زیادہ پہچانتے ہیں جیسا آدمی اپنے پاس بیٹھنے والوں کو، اور فقط پہچانتے ہی نہیں بلکہ ان کے ایک ایک عمل ایک ایک حرکت کو دیکھ رہے ہیں ، دلوں میں جو خطرہ گزرتا ہے اس سے آگاہ ہیں ، اور پھر ان کے علم کے وہ تمام سمندر اور جمیع علوم اوّلین وآخرین مل کر علم الہی سے وہ نسبت نہیں رکھتے جو ایک ذَرَا سے قطرہ کو کرور سمندر وں سے‘‘۔ ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج ۱۵، ص۷۴۔

50{ وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَؕ-} پ۷ الأنعام: ۵۹۔

قال الإمام أحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن في ’’الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ‘‘، ص۳۹: (إنّ العلم إمّا ذاتي إن کان مصدرہ ذات العالم لا مدخل فیہ لغیرہ عطاء ولا تسبیبا، وإمّا عطائي إذا کان بعطاء غیرہ، فالأوّل مختص بالمولی سبحانہ وتَعَالٰی لا یمکن لغیرہ ومن أثبت شیئاً منہ ولو أدنی من أدنی من أدنی من ذرۃ لأحد من العالمین فقد کفر وأشرک، وبار وہلک۔ والثاني مختص بعبادہ عزّ جلالُہ لا إمکان لہ فیہ، ومن أثبت شیئاً منہ للّٰہ تعالی فقد کفر، وأتی بما ہو أخنع وأشنع من الشرک الأکبر؛ لأنّ المشرک من یسوي باللّٰہ غیرہ، وہذا جعل غیرہ أعلی منہ حیث أفاض علیہ علمہ وخیرہ۔

[51] پ۱، البقرۃ: ۸۵

[52] ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۲۹، ص۴۰۸۔ ۴۰۹، ۴۴۵، ۴۵۰۔

[53] في ’’الجامع لأحکام القرآن‘‘ للقرطبي، ج۱، الجزء الأوّل، ص۱۴۸:( الغیب کلّ ما أخبر بہ الرسول علیہ السلام ممّا

لا تہتدي إلیہ العقول من أشراط الساعۃ وعذاب القبر والحشر والنشر والصراط والمیزان والجنۃ والنار

[54] { ٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ(۲۶) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ } پ۲۹، الجن: ۲۶۔۲۷۔

في ’’تفسیر روح البیان‘‘، ج۱۰، ص۲۰۱۔۲۰۲، تحت الآیۃ:(قال ابن شیخ: إنّہ تعالی لا یطلع علی الغیب الذي یختص بہ علمہ إلاّ المرتضی الذي یکون رسولاً، وما لا یختص بہ یطلع علیہ غیر الرسول، إمّا بتوسط الأنبیائ، أو بنصب الدلائل وترتیب المقدمات أو بأن یلہم اللّٰہ بعض الأولیاء وقوع بعض المغیبات في المستقبل بواسطۃ الملک، فلیس مراد اللّٰہ بہذہ الآیۃ أن لا یطلع احداً علی شيء من المغیبات إلاّ الرسل لظہور أنّہ تعالی قد یطلع علی شيء من الغیب غیر الرسل

وفي ’’إرشاد الساري‘‘، کتاب التفسیر، تحت الحدیث: ۴۶۹۷:(ولا یعلم متی تقوم الساعۃ أحد إلاّ اللّٰہ إلاّ من ارتضی من رسول فإنّہ یطلعہ علی ما یشاء من غیبہ، والولي التابع لہ یأخذ عنہ) ج۱۰، ص۳۶۹۔

[55] { وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶)} پ۷، الأنعام: ۸۶۔

في ’’تفسیرالخازن‘‘، ج۲، ص۳۳، تحت الآیۃ: { وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶)} یعني: علی عالمي زمانہم ویستدلّ بہذہ الآیۃ من یقول: إنّ الأنبیاء أفضل من الملائکۃ؛ لأنّ العالم اسم لکلّ موجود سوی اللّٰہ تعالی فیدخل فیہ الملک فیقتضي أنّ الأنبیاء أفضل من الملائکۃ۔

وفي ’’التفسیر الکبیر‘‘، پ۱، البقرۃ، ج۱، ص۴۳۰، تحت الآیۃ: ۳۴:(اعلم أنّ جماعۃ من أصحابنا یحتجون بأمر اللّٰہ تعالی للملائکۃ بسجود آدم علیہ السلام علی أنّ آدم أفضل من الملائکۃ فرأینا أن نذکر ہہنا ہذہ المسألۃ فنقول: قال أکثر أہل السنّۃ: الأنبیاء أفضل من الملائکۃ

وفي ’’شرح المقاصد‘‘، المبحث السابع، الملائکۃ، ج۳، ص۳۲۰۔۳۲۱:(فذہب جمہور أصحابنا والشیعۃ إلی أنّ الأنبیاء أفضل من الملائکۃ

[56] في’’منح الروض الأزہر‘‘ ص۱۲۱:(أنّ الولي لا یبلغ درجۃ النبي، فما نقل عن بعض الکرامیۃ من جواز کون الولي أفضل من النبي کفر وضلالۃ وإلحاد وجہالۃ ملتقطاً۔وفي’’إرشاد الساري‘‘، کتاب العلم، باب ما یستحب للعالم۔۔۔ إلخ، ج۱، ص۳۷۸:(فالنبي أفضل من الولي، وہو أمر مقطوع بہ، والقائل بخلافہ کافر، لأنّہ معلوم من الشرع بالضرورۃ

وفي ’’الشفاء‘‘، ج۲، ص۲۹۰:(وکذلک نقطع بتکفیر غلاۃ الرافضۃ في قولہم: إنّ الأئمۃ أفضل من الأنبیاء

وفي ’’المعتقد المنتقد‘‘، ص۱۲۵:(إنّ نبیاً واحداً أفضل عند اللّٰہ من جمیع الأولیاء، ومن فضّل ولیّاً علی نبي یخشی الکفر بل ہو کافر

[57] { اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ-وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا(۹) پ۲۶، الفتح: ۹۔ وفي ’’جواہر البحار‘‘، ج۳، ص۲۶۰:(إنّ اللّٰہ فرض علینا تعزیر رسولہ، وتوقیرہ

[58] في ’’تفسیر روح البیان‘‘، پ۱۰، التوبۃ، ج۳، ص۳۹۴، تحت الآیۃ: ۱۲:(واعلم أنّہ قد اجتمعت الأمّۃ علی أنّ الاستخفاف بنبینا وبأي نبيکان من الأنبیاء کفر سواء فعلہ فاعل ذلک استحلالاً أم فعلہ معتقداً بحرمتہ، لیس بین العلماء خلاف في ذلک۔۔۔ إلخ

وفي ’’الشفا‘‘، فصل في بیان ما ہوحقہ، ج۲، ص۲۱۹:(قال ابن عتاب: الکتاب والسنۃ موجبان أنّ من قصد النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم بأذی أو نقص معرضا أو مصرّحا وإن قلّ فقتلہ واجب) وصفحۃ ۲۱۷:(قال بعض علمائنا: أجمع العلماء علی أنّ من دعا علی نبي من الأنبیاء بالویل أو بشيء من المکروہ أنّہ یقتل بلا استتابۃ

وفي ’’فتاوی قاضي خان‘‘، کتاب السیر:(إذا عاب الرجل النبي علیہ السلام في شيء کان کافراً۔ قال بعض العلماء: لو قال: شعر النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم شُعَیر فقد کفر۔ وعن أبي حفص الکبیر رحمہ اللّٰہ: من عاب النبي علیہ السلام بشعر من شعراتہ فقد کفر ج۴، ص۴۶۸۔وفي ’’التتارخانیہ‘‘، کتاب أحکام المرتدین، ج۵، ص۴۷۷:(من لم یقر ببعض الأنبیاء علیہم السلام أوعاب نبیا بشيء أولم یرض بسنۃ من سنن المرسلین علیہم السلام فقد کفر

اعلی حضرت امام اہلسنت مجدد دین وملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ’’فتاوی رضویۃ‘‘، ج۱۵، ص۵۸۷ میں فرماتے ہیں : ’’ہر نبی کی تحقیر مطلقا کفر قطعی ہے‘‘۔

59… { وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَؕ-} پ۲۴، المؤمن:۷۸۔

[60] { وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا } پ۱، البقرۃ:۳۱۔

[61] { اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا } پ۳، آل عمران:۳۳۔

[62] { وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّؕ-} پ۱، البقرۃ:۱۲۴۔

[63] { وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ } پ۱، البقرۃ:۱۲۵۔

[64] { وَ اِسْحٰقَ } پ۱، البقرۃ:۱۳۳۔

[65] { وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَ یَعْقُوْبُؕ-} پ۱، البقرۃ:۱۳۲۔

[66] { اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ } پ۱۲، یوسف: ۴۔

[67] { وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰۤى اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً } پ۱، البقرۃ:۵۱۔

[68] { وَ هٰرُوْنَ } پ۶، النساء: ۱۶۳۔

[69] { وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًاؕ- } پ۸، الأعراف:۸۵۔

[70] { وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا } پ۱۲، ہود: ۷۷۔

[71] { وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا } پ۸، الأعراف: ۶۵۔

[72] { وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ } پ۲، البقرۃ: ۲۵۱۔

[73] { وَ مَا كَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا } پ۱، البقرۃ: ۱۰۲۔

[74] { وَ اَیُّوْبَ }پ۶، النساء: ۱۶۳۔

[75] { وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّاؕ-} پ۳، آل عمران:۳۷۔

[76] { وَ یَحْیٰى } پ۷، الانعام: ۸۵۔

[77] { وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِؕ-} پ۱، البقرۃ: ۸۷۔

[78] { وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَؕ-كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ(۸۵)} پ۷، الأنعام:۸۵۔

[79] { وَ الْیَسَعَ } پ۷، الانعام:۸۶۔

[80] { وَ یُوْنُسَ } پ۶، النساء: ۱۶۳۔

[81] { وَ اِدْرِیْسَ } پ۱۷، الانبیاء:۸۵۔

[82] { وَ ذَا الْكِفْلِؕ- } پ۱۷، الانبیاء:۸۵۔

[83] { وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًاۘ-} پ۸، الأعراف:۷۳۔

[84] { وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ ﰳابْنُ اللّٰهِ } پ۱۰، التوبۃ: ۳۰۔

نوٹ: صراحت کے ساتھ انبیاء کرام علیہم السلام کے ملنے والے ناموں میں ایک نام حضرت عزیر علیہ السلام کا بھی ہے اس لیے ہم نے متن میں کرلی بریکٹ []میں ان کا اضافہ کردیا، تفصیل کے لیے ’’فتاوی رضویہ‘‘ ملاحظہ فرمائیں ۔ انظر ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱۴، ص۳۴۲۔

[85] { وَ  مَا  مُحَمَّدٌ  اِلَّا  رَسُوْلٌۚ- پ۴، آل عمران: ۱۴۴۔

{ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-} پ۲۲، الأحزاب:۴۰۔

{ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ } پ۲۶، محمد:۲۔ { مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ-} پ۲۶، الفتح: