ایمان وکفر کا بیان

ایمان و کفر کا بیان

ایمان اسے کہتے ہیں کہ سچے دل سے اُن سب باتوں کی تصدیق کرے جو ضروریاتِ دین ہیں اور کسی ایک ضرورتِ دینی کے انکار کو کفر کہتے ہیں ، اگرچہ باقی تمام ضروریات کی تصدیق کرتا ہو۔ ضروریاتِ دین وہ مسائلِ دین ہیں جن کو ہر خاص و عام جانتے ہوں ، جیسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وحدانیت، انبیا کی نبوت، جنت و نار، حشر و نشر وغیرہا[1]، مثلاً یہ اعتقاد کہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَخاتم النبیین ہیں ، حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ) کے بعد کوئی نیا نبی نہیں ہوسکتا۔[2] عوام سے مراد وہ مسلمان ہیں جو طبقۂ علما میں نہ شمار کیے جاتے ہوں ، مگر علما کی صحبت سے شرفیاب ہوں اور مسائلِ علمیہ سے ذوق رکھتے ہوں [3]، نہ وہ کہ کوردہ[4] اور جنگل اور پہاڑوں کے رہنے والے ہوں جو کلمہ بھی صحیح نہیں پڑھ سکتے، کہ ایسے لوگوں کا ضروریاتِ دین سے ناواقف ہونا اُس ضروری کو غیر ضروری نہ کر دے گا، البتہ ان کے مسلمان ہونے کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ ضروریاتِ دین کے منکر نہ ہوں اور یہ اعتقاد رکھتے ہوں کہ اسلام میں جو کچھ ہے حق ہے، ان سب پر اِجمالاً ایما ن لائے ہوں ۔

عقیدہ (۱):اصلِ ایمان صرف تصدیق کا نام ہے[5]، اعمالِ بدن تو اصلاً جزو ایمان نہیں [6]، رہا اقرار، اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر تصدیق کے بعد اس کو اظہار کا موقع نہ ملا تو عند اللہ [7] مومن ہے اور اگر موقع ملا اور اُس سے مطالبہ کیا گیا اور اقرار نہ کیا تو کافر ہے اور اگر مطالبہ نہ کیا گیا تو احکام دنیا میں کافر سمجھا جائے گا، نہ اُس کے جنازے کی نماز پڑھیں گے، نہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کریں گے، مگر عند اللہ مومن ہے اگر کوئی امر خلافِ اسلام ظاہر نہ کیا ہو۔[8]

عقیدہ (۲):مسلمان ہونے کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ زبان سے کسی ایسی چیز کا انکار نہ کرے جو ضروریاتِ دین سے ہے، اگرچہ باقی باتوں کا اقرار کرتا ہو، اگرچہ وہ یہ کہے کہ صرف زبان سے انکار ہے دل میں انکار نہیں [9]، ۔۔۔۔

کہ بلا اِکراہِ شرعی[10] مسلمان کلمۂ کفر صادر نہیں کر سکتا، وہی شخص ایسی بات منہ پر لائے گا جس کے دل میں اتنی ہی وقعت ہے کہ جب چاہا اِنکار کر دیا اور ایمان تو ایسی تصدیق ہے جس کے خلاف کی اصلاً گنجائش نہیں ۔[11]

مسئلہ(۱): اگر معاذ اللہ کلمۂ کفر جاری کرنے پر کوئی شخص مجبور کیا گیا، یعنی اُسے مار ڈالنے یا اُس کا عضو کاٹ ڈالنے کی صحیح دھمکی دی گئی کہ یہ دھمکانے والے کو اس بات کے کرنے پر قادر سمجھے تو ایسی حالت میں اس کو رخصت دی گئی ہے، مگر شرط یہ ہے کہ دل میں وہی اطمینانِ ایمانی ہو جو پیشتر تھا ، مگر افضل جب بھی یہی ہے کہ قتل ہو جائے اور کلمۂ کفر نہ کہے۔[12]

مسئلہ (۲): عملِ جوارح [13] داخلِ ایمان نہیں [14]، البتہ بعض اعمال جو قطعاً مُنافیٔ ایمان ہوں اُن کے مرتکب کو کافر کہا جائے گا، جیسے بُت یا چاند سورج کو سجدہ کرنا اور قتلِ نبی یا نبی کی توہین یا مصحَف شریف یا کعبۂ معظمہ کی توہین اور کسی سنّت کو ہلکا بتانا، یہ باتیں یقینا کُفر ہیں ۔[15] یوہیں بعض اعمال کفر کی علامت ہیں ، جیسے زُنّار[16] باندھنا، سر پر چُوٹیا[17] رکھنا، قَشْقَہْ[18] لگانا، ایسے افعال کے مرتکب کو فقہائے کرام کافر کہتے ہیں ۔[19] تو جب ان اعمال سے کفر لازم آتا ہے تو ان کے مرتکب کو از سرِ نو اسلام لانے اور اس کے بعد اپنی عورت سے تجدیدِ نکاح کا حکم دیا جائے گا۔[20]

عقیدہ (۳): جس چیز کی حِلّت، نصِّ قطعی سے ثابت ہو[21] اُس کو حرام کہنا اور جس کی حُرمت یقینی ہو اسے حلال بتانا

کفر ہے، جبکہ یہ حکم ضروریاتِ دین سے ہو، یا منکر اس حکمِ قطعی سے آگاہ ہو۔ [22]

مسئلہ (۱): اُصولِ عقائد میں تقلید جائز نہیں بلکہ جو بات ہو یقینِ قطعی کے ساتھ ہو، خواہ وہ یقین کسی طرح بھی حاصل ہو، اس کے حصول میں بالخصوص علمِ استدلالی[23] کی حاجت نہیں ، ہاں ! بعض فروعِ عقائد میں تقلید ہوسکتی ہے[24] ،اِسی بنا پر خوداہلِ سنّت میں دو گروہ ہیں : ’’ماتُرِیدیہ‘‘کہ امام عَلم الہدیٰ حضرت ابو منصور ماتریدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ [25] کے متّبع ہوئے اور ’’اَشاعرہ‘‘ کہ حضرت امام شیخ ابو الحسن اشعری رَحِمَہُ اﷲُ تَعَالٰی[26] کے تابع ہیں ، یہ دونوں جماعتیں اہلِ سنّت ہی کی ہیں اور دونوں حق پر ہیں ، آپس میں صرف بعض فروع کا اختلاف ہے۔[27]اِن کا اختلاف حنفی، شافعی کا سا ہے، کہ دونوں اہلِ حق ہیں ، کوئی کسی کی تضلیل و تفسیق نہیں کرسکتا۔[28]

مسئلہ (۲): ایمان قابلِ زیادتی و نقصان نہیں ، اس لیے کہ کمی بیشی اُس میں ہو تی ہے جو مقدار یعنی لمبائی، چوڑائی، موٹائی یا گنتی رکھتا ہو اور ایمان تصدیق ہے اور تصدیق، کَیف یعنی ایک حالتِ اِذعانیہ۔[29] بعض آیات میں ایمان کا زیادہ ہونا جو فرمایا ہے اُس سے مراد مُؤمَن بہ ومُصدََّق بہ ہے، یعنی جس پر ایمان لایا گیا اور جس کی تصدیق کی گئی کہ زمانۂ نزولِ قرآن میں اس کی کوئی حد معیّن نہ تھی، بلکہ احکام نازل ہوتے رہتے اور جو حکم نازل ہوتا اس پر ایمان لازم ہوتا، نہ کہ خود نفسِ ایمان بڑھ گَھٹ جاتا ہو، البتہ ایمان قابلِ شدّت و ضُعف ہے کہ یہ کَیف کے عوارض سے ہیں ۔ [30] حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا تنہا ایمان اس اُمت کے تمام افراد کے مجموع ایمانوں پر غالب ہے۔ [31]

عقیدہ (۴): ایمان و کفر میں واسطہ نہیں [32]، یعنی آدمی یا مسلمان ہوگا یا کافر، تیسری صورت کوئی نہیں کہ نہ مسلمان[33]؎ ہو نہ کافر۔

مسئلہ: نفاق کہ زبان سے دعویٔ اسلام کرنا اور دل میں اسلام سے انکار، یہ بھی خالص کفر ہے[34]، بلکہ ایسے لوگوں کے لیے جہنم کا سب سے نیچے کا طبقہ ہے۔[35] حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکے زمانۂ اقدس میں کچھ لوگ اس صفت کے اس نام کے ساتھ مشہور ہوئے کہ ان کے کفرِ باطنی پر قرآن ناطق ہوا[36]، نیز نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَنے اپنے وسیع علم سے ایک ایک کو پہچانا اور فرما دیا کہ یہ منافق ہے۔[37] اب اِس زمانہ میں کسی خاص شخص کی نسبت قطع[38] کے ساتھ منافق نہیں کہا جاسکتا، کہ ہمارے سامنے جو دعویٔ اسلام کرے ہم اس کو مسلمان ہی سمجھیں گے، جب تک اس سے وہ قول یا فعل جو مُنافیِ ایمان ہے نہ صادر ہو، البتہ نفاق کی ایک شاخ اِس زمانہ میں پائی جاتی ہے کہ بہت سے بد مذہب اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور دیکھا جاتا ہے تو دعویٔ اسلام کے ساتھ ضروریاتِ دین کا انکار بھی ہے۔

عقیدہ (۵): شرک کے معنی غیرِ خدا کو واجبُ الوجود یا مستحقِ عبادت جاننا، یعنی اُلوہیت میں دوسرے کو شریک کرنا[39] اور یہ کفر کی سب سے بدتر قسم ہے، اس کے سوا کوئی بات اگرچہ کیسی ہی شدید کفر ہو حقیقۃً شرک نہیں ، ولہٰذا شرعِ مطہّر نے اہلِ کتاب کفّار کے احکام مشرکین کے احکام سے جدا فرمائے، کتابی کا ذبیحہ حلال، مشرک کا مُردار، کتابیہ سے نکاح ہو سکتا ہے، مشرکہ سے نہیں ہوسکتا،[40] امام شافعی کے نزدیک کتابی سے جزیہ[41] لیا جائے گا، مشرک سے نہ لیا جائے گا[42] ۔

اور کبھی شرک بول کر مطلق کفر مراد لیا جاتا ہے، یہ جو قرآنِ عظیم میں فرمایا: کہ ـ’’شرک نہ بخشا جائے گا‘‘[43] وہ اسی معنی پر ہے، یعنی اَصلاً کسی کفر کی مغفرت نہ ہوگی، باقی سب گناہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مشیت پر ہیں ، جسے چاہے بخش دے۔ [44]

عقیدہ (۶): مرتکبِ کبیرہ مسلمان ہے[45] اور جنت میں جائے گا، خواہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے محض فضل سے اس کی مغفرت فرما دے، یا حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکی شفاعت کے بعد، یا اپنے کیے کی کچھ سزا پا کر، اُس کے بعد کبھی جنت سے نہ نکلے گا۔[46]

مسئلہ: جو کسی کافر کے لیے اُس کے مرنے کے بعد مغفرت کی دعا کرے، یا کسی مردہ مُرتد کو مرحوم یا مغفور، یا کسی مُردہ ہندو کو بیکنٹھ باشی[47] کہے، وہ خود کافر ہے۔[48]

عقیدہ (۷): مسلمان کو مسلمان، کافر کو کافر جاننا ضروریاتِ دین سے ہے، اگرچہ کسی خاص شخص کی نسبت یہ یقین نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا خاتمہ ایمان یا معاذاﷲ کفر پر ہوا، تاوقتیکہ اس کے خاتمہ کا حال دلیلِ شرعی سے ثابت نہ ہو، مگر اس سے یہ نہ ہوگا کہ جس شخص نے قطعاً کفر کیا ہو اس کے کُفر میں شک کیا جائے، کہ قطعی کافر کے کفر میں شک بھی آدمی کو کافر بنا دیتا ہے۔[49]

خاتمہ پر بِنا روزِ قیامت اور ظاہر پر مدار حکمِ شرع ہے، اس کو یوں سمجھو کہ کوئی کافر مثلاً یہودی یا نصرانی یا بُت پرست مر گیا تو یقین کے ساتھ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کفر پر مرا، مگر ہم کو اﷲ و رسول (عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ) کا حکم یہی ہے کہ اُسے کافر ہی جانیں ، اس کی زندگی میں اور موت کے بعد تمام وہی معاملات اس کے ساتھ کریں جو کافروں کے لیے ہیں ، مثلاً میل جول، شادی بیاہ، نمازِ جنازہ، کفن دفن، جب اس نے کفر کیا تو فرض ہے کہ ہم اسے کافر ہی جانیں اور خاتمہ کا حال علمِ الٰہی پر چھوڑیں ، جس طرح جو ظاہراً مسلمان ہو اور اُس سے کوئی قول و فعل خلافِ ایمان نہ ہو، فرض ہے کہ ہم اسے مسلمان ہی مانیں ، اگرچہ ہمیں اس کے خاتمہ کا بھی حال معلوم نہیں ۔

اِس زمانہ میں بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ’’ میاں ۔۔۔! جتنی دیر اسے کافر کہو گے، اُتنی دیر اﷲ اﷲ کروکہ یہ ثواب کی بات ہے۔‘‘ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم کب کہتے ہیں کہ کافرکافر کا وظیفہ کرلو۔۔۔؟! مقصود یہ ہے کہ اُسے کافر جانو اور پوچھا جائے تو قطعاً کافر کہو،نہ یہ کہ اپنی صُلحِ کل سے[50] اس کے کُفر پر پردہ ڈالو۔

تنبیہ ضروری: حدیث میں ہے:

((سَتَفْتَرِقُ أُمَّتِيْ ثَلٰثاً وَّسَبْعِیْنَ فِرْقَۃً کُلُّھُمْ فِيْ النَّارِ إلَّاوَاحِدَۃً))

’’یہ امت تہتّر فرقے ہو جائے گی، ایک فرقہ جنتی ہوگا باقی سب جہنمی۔‘‘

صحابہ نے عرض کی:

’’مَنْ ھُمْ یَا رَسُوْلَ اللہِ؟‘‘

’’وہ ناجی[51] فرقہ کون ہے یا رسول اﷲ ؟‘‘

فرمایا:

((مَا أَنَا عَلَیْہِ وَأَصْحَابِيْ۔))[52]

’’وہ جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں ‘‘، یعنی سنّت کے پیرو۔

دوسری روایت میں ہے، فرمایا:

((ھُمُ الْجَمَاعَۃُ۔))[53]

’’وہ جماعت ہے۔‘‘

یعنی مسلمانوں کا بڑا گروہ ہے جسے سوادِ اعظم فرمایا اور فرمایا: جو اس سے الگ ہوا، جہنم میں الگ ہوا۔ [54] اسی وجہ سے اس ’’ناجی فرقہ‘‘ کا نام ’’اہلِ سنت و جماعت‘‘ ہوا۔[55] اُن گمراہ فرقوں میں بہت سے پیدا ہو کر ختم ہو گئے، بعض ہندوستان میں نہیں ،

ان فرقوں کے ذکر کی ہمیں کیا حاجت کہ نہ وہ ہیں ، نہ اُن کا فتنہ، پھر ان کے تذکرہ سے کیا مطلب؟!۔

جو اِس ہندوستان میں ہیں مختصراً ان کے عقائدکا ذکر کیا جاتا ہے، کہ ہمارے عوام بھائی ان کے فریب میں نہ آئیں کہ حدیث میں اِرشاد فرمایا:

((إِ یَّاکُمْ وَإِ یَّاھُمْ لَا یُضِلُّوْنَکُمْ وَلَا یَفْتِنُوْنَکُمْ)) [56]

’’اپنے کو اُن سے دُور رکھو اور اُنھیں اپنے سے دور کرو، کہیں وہ تمھیں گمراہ نہ کر دیں ، کہیں وہ تمھیں فتنہ میں نہ ڈال دیں ۔‘‘

(۱) قادیانی: کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو ہیں ، اس شخص نے اپنی نبوت کا دعویٰ کیا اور انبیائے کرام علیہم السلام کی شان میں نہایت بیباکی کے ساتھ گستاخیاں کیں ، خصوصاً حضرت عیسیٰ روح اللہ وکلمۃاﷲ عَلَیْہِ الصَّلاَۃُ وَالسَّلَام اور ان کی والدہ ماجدہ طیِّبہ طاہرہ صدیقہ مریم کی شانِ جلیل میں تو وہ بیہودہ کلمات استعمال کیے، جن کے ذکر سے مسلمانوں کے دل ہِل جاتے ہیں ، مگر ضرورتِ زمانہ مجبور کر رہی ہے کہ لوگوں کے سامنے اُن میں کے چندبطور نمونہ ذکر کیے جائیں ، خود مدّعیٔ نبوت بننا کافر ہونے اور ابد الآباد جہنم میں رہنے کے لیے کافی تھا، کہ قرآنِ مجید کا انکار اور حضور خاتم النبیین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکو خاتم النبیین نہ ماننا ہے، مگر اُس نے اتنی ہی بات پر اکتفا نہ کیا بلکہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلاَۃُ وَالسَّلاَم کی تکذیب و توہین کا وبال بھی اپنے سَر لیا اور یہ صدہا کفر کا مجموعہ ہے، کہ ہر نبی کی تکذیب مستقلاً کفر ہے، اگرچہ باقی انبیا و دیگر ضروریات کا قائل بنتا ہو، بلکہ کسی ایک نبی کی تکذیب سب کی تکذیب ہے [57]، چنانچہ آیۂ : [كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ ﹰالْمُرْسَلِیْنَۚۖ(۱۰۵)][58]

وغیرہ اس کی شاہد ہیں اور اُس نے تو صدہا کی تکذیب کی اور اپنے کو نبی سے بہتر بتایا۔ ایسے شخص اور اس کے متّبِعین کے کافر ہونے میں مسلمانوں کو ہرگز شک نہیں ہوسکتا، بلکہ ایسے کی تکفیر میں اس کے اقوال پر مطلع ہو کر جو شک کرے خود کافر۔ [59]

اب اُس کے اقوال سُنیے[60] :

’’اِزالۂ اَوہام‘‘ صفحہ ۵۳۳: (خدا تعالٰی نے ’’براہین احمدیہ‘‘ میں اس عاجز کا نام امّتی بھی رکھا اور نبی بھی)۔ [61]

’’انجام آتھم‘‘ صفحہ ۵۲ میں ہے: (اے احمد! تیرا نام پورا ہو جائے گا قبل اس کے جو میرا نام پورا ہو)۔ [62]

صفحہ ۵۵ میں ہے: (تجھے خوشخبری ہو اے احمد! تو میری مراد ہے اور میرے ساتھ ہے)۔ [63]

رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکی شانِ اقدس میں جو آیتیں تھیں انہیں اپنے اوپر جَما لیا۔

’’انجام‘‘ صفحہ ۷۸ میں کہتا ہے: [وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷)][64]

’’تجھ کو تمام جہان کی رحمت کے واسطے روانہ کیا۔‘‘ [65]

نیز یہ آیۂ کریمہ { وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُؕ- }[66] سے اپنی ذات مراد لیتا ہے۔ [67]

’’دافع البلاء‘‘ صفحہ ۶ میں ہے: مجھ کو اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے:

(أَنْتَ مِنِّيْ بِمَنْزِلَۃِ أَوْلاَدِيْ أَنْتَ مِنِّي وَأنَا مِنْکَ

(یعنی اے غلام احمد! تو میری اولاد کی جگہ ہے تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں [68]

’’اِزالۂ اَوہام‘‘ صفحہ ۶۸۸ میں ہے:

(حضرت رسُولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکے اِلہام و وحی غلط نکلی تھیں [69]

صفحہ ۸ میں ہے:

(حضرت مُوسیٰ کی پیش گوئیاں بھی اُس صورت پر ظہور پذیر نہیں ہوئیں ، جس صورت پر حضرت مُوسیٰ نے اپنے دل میں اُمید باندھی تھی، غایت ما فی الباب[70] یہ ہے کہ حضرت مسیح کی پیش گوئیاں زیادہ غلط نکلیں [71]

’’اِزالۂ اَوہام‘‘ صفحہ ۷۵۰ میں ہے:

(سورۂ بقر میں جو ایک قتل کا ذکر ہے کہ گائے کی بوٹیاں نعش پر مارنے سے وہ مقتول زندہ ہوگیا تھا اور اپنے قاتل کا پتا دے دیا تھا، یہ محض موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی دھمکی تھی اور علمِ مِسمریزم[72] تھا)۔ [73]

اُسی کے صفحہ ۷۵۳ میں لکھتا ہے:

(حضرت اِبراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا چار پرندے کے معجزے کا ذکر جو قرآن شریف میں ہے، وہ بھی اُن کا مِسمریزم کا عمل تھا)۔ [74]

صفحہ ۶۲۹ میں ہے:

(ایک بادشاہ کے وقت میں چار سو نبی نے اُس کی فتح کے بارے میں پیشگوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے، اور بادشاہ کو شکست ہوئی، بلکہ وہ اسی میدان میں مر گیا)۔ [75]

اُسی کے صفحہ ۲۸، ۲۶ میں لکھتا ہے:

(قرآن شریف میں گندی گالیاں بھری ہیں اور قرآنِ عظیم سخت زبانی کے طریق کو استعمال کر رہا ہے)۔ [76]

اور اپنی ’’براہینِ احمدیہ‘‘ کی نسبت ’’اِزالہ‘‘ صفحہ ۵۳۳ میں لکھتا ہے:

(براہینِ احمدیہ خدا کا کلام ہے)۔ [77]’’اَربعین‘‘ نمبر ۲ صفحہ ۱۳ پر لکھا:

(کامل مہدی نہ موسیٰ تھا نہ عیسیٰ)۔[78] اِن اُولو العزم مرسَلین کا ہادی ہونا درکنار، پورے راہ یافتہ بھی نہ مانا۔

اب خاص حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلاَۃُ وَالسَّلَام کی شان میں جو گستاخیاں کیں ، اُن میں سے چند یہ ہیں ۔

’’معیار‘‘ صفحہ ۱۳:

(اے عیسائی مِشنریو! اب ربّنا المسیح مت کہو اور دیکھو کہ آج تم میں ایک ہے، جو اُس مسیح سے بڑھ کر ہے)۔ [79]

صفحہ ۱۳ و ۱۴ میں ہے:

(خدا نے اِس امت میں سے مسیح موعود بھیجا، جو اُس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا، تایہ اِشارہ ہو کہ عیسائیوں کا مسیح کیسا خدا ہے جو احمد کے ادنیٰ غلام سے بھی مقابلہ نہیں کرسکتا یعنی وہ کیسا مسیح ہے، جو اپنے قرب اور شفاعت کے مرتبہ میں احمد کے غلام سے بھی کمتر ہے)۔ [80]

’’کشتی‘‘ صفحہ ۱۳ میں ہے:

(مثیلِ موسیٰ، موسیٰ سے بڑھ کر اور مثیلِ ابنِ مریم، ابنِ مریم سے بڑھ کر)۔ [81]

نیز صفحہ ۱۶ میں ہے:

(خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ مسیحِ محمدی، مسیحِ مُوسوِی سے افضل ہے)۔ [82]

’’دافع البلاء‘‘ صفحہ ۲۰ :

(اب خدا بتلاتا ہے کہ دیکھو! میں اس کا ثانی پیدا کروں گا جو اُس سے بھی بہتر ہے، جو غلام احمد ہے یعنی احمد کا غلام ؎

ابنِ مریم کے ذکر کو چھوڑو

اُس سے بہتر غلام احمد ہے

یہ باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقعی ہیں اور اگر تجربہ کی رو سے خدا کی تائید مسیح ابن مریم سے بڑھ کر میرے ساتھ نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں [83] ’’دافع البلاء‘‘ ص ۱۵:

(خدا تو، بہ پابندی اپنے وعدوں کے ہر چیز پر قادر ہے، لیکن ایسے شخص کو دوبارہ کسی طرح دنیا میں نہیں لاسکتا، جس کے پہلے فتنہ نے ہی دنیا کو تباہ کر دیا ہے)۔ [84]

’’انجام آتھم‘‘ ص ۴۱ میں لکھتا ہے:

(مریم کا بیٹا کُشلیا کے بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا)۔ [85]

’’کشتی‘‘ ص ۵۶ میں ہے:

(مجھے قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، کہ اگر مسیح ابنِ مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کلام جو میں کر سکتا ہوں ، وہ ہر گز نہ کرسکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں ، وہ ہر گز دِکھلا نہ سکتا)۔ [86]

’’اعجاز احمدی‘‘ ص ۱۳:

(یہود تو حضرت عیسیٰ کے معاملہ میں اور ان کی پیشگوئیوں کے بارے میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی جواب میں حیران ہیں ، بغیر اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ’’ ضرور عیسیٰ نبی ہے، کیونکہ قرآن نے اُس کو نبی قرار دیا ہے اور کوئی دلیل اُن کی نبوت پر قائم نہیں ہوسکتی، بلکہ ابطالِ نبوت پر کئی دلائل قائم ہیں [87]

اس کلام میں یہودیوں کے اعتراض، صحیح ہونا بتایا اور قرآن عظیم پر بھی ساتھ لگے یہ اعتراض جما دیا کہ قرآن ایسی بات کی تعلیم دے رہا ہے جس کے بُطلان پر دلیلیں قائم ہیں ۔

ص ۱۴ میں ہے:

(عیسائی تو اُن کی خدائی کو روتے ہیں ، مگر یہاں نبوت بھی اُن کی ثابت نہیں [88]

اُسی کتاب کے ص ۲۴ پر لکھا :

(کبھی آپ کو شیطانی اِلہام بھی ہوتے تھے)۔ [89]

مسلمانو! تمھیں معلوم ہے کہ شیطانی اِلہام کس کو ہوتا ہے؟ قرآن فرماتا ہے:

{ تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ(۲۲۲)}[90]

’’بڑے بہتان والے سخت گنہگار پر شیطان اُترتے ہیں ۔‘‘

اُسی صفحہ میں لکھا: ( اُن کی اکثر پیش گوئیاں غلطی سے پُر ہیں [91]

صفحہ ۱۳ میں ہے:

(افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اُن کی پیش گوئیوں پر یہود کے سخت اعتراض ہیں ، جو ہم کسی طرح اُن کو دفع نہیں کرسکتے)۔[92]

صفحہ ۱۴: (ہائے! کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں ، کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں)۔[93]

اس سے ان کی نبوت کا انکار ہے، چنانچہ اپنی کتاب ’’کشتی نوح‘‘ ص ۵ میں لکھتا ہے:

(ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں [94]

اور ’’دافع الوساوس‘‘ ص ۳ و ’’ضمیمۂ انجام آتھم‘‘ ص ۲۷ پر اِس کو سب رُسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی اور ذلت کہتا ہے۔[95]

’’دافع البلاء‘‘ ٹائٹل پیج صفحہ ۳ پر لکھتا ہے:

(ہم مسیح کو بیشک ایک راست باز آدمی جانتے ہیں کہ اپنے زمانہ کے اکثر لوگوں سے البتہ اچھا تھا واللہ تَعَالٰی اعلم، مگر وہ حقیقی منجی نہ تھا، حقیقی منجی وہ ہے جو حجاز میں پیدا ہوا تھا اور اب بھی آیا، مگر بُروز کے طور پر۔ خاکسار غلام احمد از قادیان۔[96] آگے چل کر راست بازی کا بھی فیصلہ کر دیا، کہتا ہے:

(یہ ہمارا بیان نیک ظنّی کے طور پر ہے، ورنہ ممکن ہے کہ عیسیٰ کے وقت میں بعض راست باز اپنی راست بازی میں عیسیٰ سے بھی اعلیٰ ہوں [97]

اسی کے صفحہ ۴ میں لکھا:

(مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی، بلکہ یحییٰ کو اُس پر ایک فضیلت ہے، کیونکہ وہ (یحییٰ) شراب نہ پیتا تھا اور کبھی نہ سنا کہ کسی فاحشہ عورت نے اپنی کمائی کے مال سے اُس کے سر پر عِطر مَلا تھا، یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اُس کے بدن کو چُھوا تھا، یا کوئی بے تعلق جوان عورت اُس کی خدمت کرتی تھی، اسی وجہ

سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام ’’حصور‘‘ رکھا، مگر مسیح کا نہ رکھا، کیونکہ ایسے قصّے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے)۔ [98]

’’ضمیمۂ اَنجام آتھم‘‘ ص ۷ میں لکھا:

(آپ کا کنجریوں سے مَیلان اور صحبت بھی شاید اِسی وجہ سے ہو کہ جَدّی مناسبت درمیان ہے، ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اُس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زناکاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر مَلے اور اپنے بالوں کو اُس کے پیروں پر مَلے، سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے)۔ [99]

نیز اس رسالہ میں اُس مقدّس و برگزیدہ رسول پر اور نہایت سخت سخت حملے کیے، مثلاً شریر، مکار، بدعقل، فحش گو، بدزبان، جھوٹا، چور، خللِ دماغ والا، بد قسمت، نِرا فریبی، پیرو شیطان[100] ، حد یہ کہ صفحہ ۷ پر لکھا: (آپ کا خاندان بھی نہایت پاک ومطہّر ہے، تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اورکسبی عورتیں تھیں ، جن کے خون سے آپ کا وجود ہوا)۔ [101]

ہر شخص جانتا ہے کہ دادی باپ کی ماں کو کہتے ہیں تو اس نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے لیے باپ کا ہونا بیان کیا، جو قرآن کے خلاف ہے۔

اور دوسری جگہ یعنی ’’کشتی نوح‘‘ صفحہ ۱۶ میں تصریح کر دی:

(یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں ، یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں ، یعنی یوسف اور مریم کی اولاد تھے)۔ [102]

حضرت مسیح عَلَیْہِ الصَّلاَۃُ وَالسَّلَام کے معجزات سے ایک دم صاف انکار کر بیٹھا:

’’انجامِ آتھم‘‘ صفحہ ۶ میں لکھتا ہے: (حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہ ہوا)۔ [103]

صفحہ ۷ پر لکھا: (اُس زمانہ میں ایک تالاب سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے، آپ سے کوئی معجزہ ہوا بھی تو وہ آپ کا نہیں ، اُس تالاب کا ہے، آپ کے ہاتھ میں سِوا مکروفریب کے کچھ نہ تھا)۔ [104]

’’اِزالہ‘‘ کے صفحہ ۴ میں ہے:

(ما سِوائے اِس کے اگر مسیح کے اصلی کاموں کو اُن حواشی سے الگ کرکے دیکھا جائے جو محض افتراء یا غلط فہمی سے گڑھے ہیں تو کوئی اعجوبہ نظر نہیں آتا، بلکہ مسیح کے معجزات پر جس قدر اعتراض ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خَوارق [105] پرایسے شبہات ہوں ، کیا تالاب کا قصّہ مسیحی معجزات کی رونق نہیں دُور کرتا)۔ [106]

کہیں اُن کے معجزہ کو کَلْ[107] کا کھلونا بتاتا ہے[108]، کہیں مسمریزم بتا کر کہتا ہے:

(اگر یہ عاجز اِس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو اِن اعجوبہ نمائیوں میں ابنِ مریم سے کم نہ رہتا)۔ [109]

اور مسمریزم کا خاصہ یہ بتایا :

(کہ جو اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے، وہ رُوحانی تاثیروں میں جو روحانی بیماریوں کو دور کرتی ہیں ، بہت ضعیف اور نکمّا ہوجاتاہے، یہی وجہ ہے کہ گو مسیح جسمانی بیماریوں کو اِس عمل کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے، مگر ہدایت و توحید اور دینی استقامتوں کے دِلوں میں قائم کرنے میں اُن کا نمبر ایسا کم رہا کہ قریب قریب ناکام رہے)۔ [110]

غرض اِس دجّال قادیانی کے مُزَخرفات [111] کہاں تک گنائے جائیں ، اِس کے لیے دفتر چاہیے، مسلمان اِن چند خرافات سے اُس کے حالات بخوبی سمجھ سکتے ہیں ، کہ اُس نبی اُولو العزم کے فضائل جو قرآن میں مذکور ہیں ، اُن پر یہ کیسے گندے حملے کر رہا ہے۔۔۔! تعجب ہے اُن سادہ لوحوں پر کہ ایسے دجّال کے متبع ہو رہے ہیں ، یا کم از کم مسلمان جانتے ہیں ۔۔۔! اور سب سے زیادہ تعجب اُن پڑھے لکھے کٹ بگڑوں سے کہ جان بوجھ کر اس کے ساتھ جہنم کے گڑھوں میں گر رہے ہیں ۔۔۔! کیا ایسے شخص کے کافر، مرتد، بے دین ہونے میں کسی مسلمان کو شک ہوسکتا ہے۔ حَاشَ للہ!

’’مَنْ شَکَّ فيْ عَذَابِہ وَکُفْرِہ فَقَدْ کَفَرَ۔‘‘[112]

’’جو اِن خباثتوں پر مطلع ہو کر اُس کے عذاب و کفر میں شک کرے، خود کافر ہے۔‘‘

(۲) رافضی: اِن کے مذہب کی کچھ تفصیل اگر کوئی دیکھنا چاہے تو ’’تحفۂ اِثنا عشریہ‘‘[113] دیکھے، چند مختصرباتیں یہاں گزارش کرتا ہوں ۔

صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہم کی شان میں یہ فرقہ نہایت گستاخ ہے، یہاں تک کہ اُن پر سبّ و شتم [114] ان کا عام شیوہ ہے [115]، بلکہ باستثنا ئے چند سب کو معاذ اللہ کافر و منافق قرار دیتا ہے۔[116] حضرات خلفائے ثلٰثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہم کی ’’خلافتِ راشدہ‘‘ کو خلافت ِغاصبہ کہتا ہے اور مولیٰ علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جو اُن حضرات کی خلافتیں تسلیم کیں اور اُن کے مَدائح و فضائل بیان کیے، اُس کو تقیّہ وبُزدلی پر محمول کرتا ہے۔ [117] کیا مَعَاذَاﷲ! منافقین و کافرین کے ہاتھ پر بیعت کرنا اور عمر بھر اُن کی مدح و ستائش سے رطب اللسان رہنا شیرِ خدا کی شان ہو سکتی ہے۔۔۔؟! سب سے بڑھ کر یہ کہ قرآنِ مجید اُن کو ایسے جلیل و مقدّس خطابات سے یاد فرماتا ہے، وہ تو وہ، اُن کے اتباع کرنے والوں کی نسبت فرماتا ہے: کہ اللہ اُن سے راضی، وہ اللہ سے راضی۔ [118] کیا کافروں ، منافقوں کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ایسے ارشادات ہوسکتے ہیں ۔۔۔؟! پھر نہایت شرم کی بات ہے کہ مولیٰ علی کرّم اللہ تعالی وجہہ الکریم تو اپنی صاحبزادی فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نکاح میں دیں [119] اور یہ فرقہ کہے: تقیۃً ایسا کیا۔ کیا جان بوجھ کر کوئی مسلمان اپنی بیٹی کافر کو دے سکتا ہے۔۔۔؟! نہ کہ وہ مقدس حضرات جنھوں نے اسلام کے لیے اپنی جانیں وقف کر دیں اور حق گوئی اور اتباع حق میں { لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآىٕمٍؕ-}[120] کے سچے مصداق تھے۔ [121] پھر خود حضور سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی دو شاہزادیاں یکے بعد دیگرے حضرت عثمٰن ذی النورین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نکاح میں آئیں [122] اور صدیق و فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہما کی صاحبزادیاں شرفِ زوجیت سے مشرف ہوئیں ۔[123] کیا حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ) کے ایسے تعلقات جن سے ہوں ، اُن کی نسبت وہ ملعون الفاظ کوئی ادنیٰ عقل والا ایک لمحہ کے لیے جائز رکھ سکتا ہے۔۔۔؟! ہرگز نہیں !، ہرگز نہیں

اِس فرقہ کا ایک عقیدہ یہ ہے کہ ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر اَصلح واجب ہے[124] یعنی جو کام بندے کے حق میں نافع ہو، اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر واجب ہے کہ وہی کرے، اُسے کرنا پڑے گا۔‘‘

ایک عقیدہ یہ ہے کہ ’’ائمۂ اَطہار رَضِیَ ا ﷲُ تَعَالٰی عَنْہُم، انبیا عَلَیْہِمُ السَّلَامُ سے افضل ہیں ۔‘‘ [125] اور یہ بالاجماع کفر ہے، کہ غیرِ نبی کو نبی سے افضل کہنا ہے۔ [126]

ایک عقیدہ یہ ہے کہ ’’قرآن مجید محفوظ نہیں ، بلکہ اُس میں سے کچھ پارے یا سورتیں یا آیتیں یا الفاظ امیر المؤمنین عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یا دیگر صحابہ رضوان اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِم نے نکال دیے۔‘‘ [127] مگر تعجب ہے کہ مولیٰ علی کرّم اللہ تَعَالٰی وجہہ نے بھی اُسے ناقص ہی چھوڑا۔۔۔؟! اور یہ عقیدہ بھی بالاِجماع کفر ہے، کہ قرآن مجید کا اِنکار ہے۔[128]

ایک عقیدہ یہ ہے کہ ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کوئی حکم دیتا ہے پھر یہ معلوم کر کے کہ مصلحت اس کے غیر میں ہے، پچتاتا ہے۔‘‘[129]

اور یہ بھی یقینی کفر ہے، کہ خدا کو جاہل بتانا ہے۔[130]

ایک عقیدہ یہ ہے کہ ’’نیکیوں کا خالق اللہ ہے اور برائیوں کے خالق یہ خود ہیں ۔‘‘[131]

مجوس[132]نے دو ہی خالق مانے تھے: یَزدان خالقِ خیر، اَہرمَن خالقِ شر۔[133] اِن کے خالقوں کی گنتی ہی نہ رہی، اربوں ، سنکھوں خالق ہیں ۔

(۳) وہابی: یہ ایک نیا فرقہ ہے جو ۱۲۰۹ھ؁ میں پیدا ہوا، اِس مذہب کا بانی محمد بن عبدالوہاب نجدی[134] تھا، جس نے تمام عرب، خصوصاً حرمین شریفین میں بہت شدید فتنے پھیلائے، علما کو قتل کیا[135]، صحابۂ کرام و ائمہ و علما و شہدا کی قبریں کھود ڈالیں ، روضۂ انور کا نام معاذاللہ ’’صنمِ اکبر‘‘ رکھا تھا[136] یعنی بڑا بت، اور طرح طرح کے ظلم کیے جیسا کہ صحیح حدیث میں حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَنے خبر دی تھی کہ’’ نجد سے فتنے اٹھیں گے اور شیطان کا گروہ نکلے گا‘‘[137] وہ گروہ بارہ سو برس بعدیہ ظاہر ہوا۔ علامہ شامی رَحِمَہُاللہ تَعَالٰی نے اِسے خارجی بتایا۔[138] اِس عبدالوہاب کے بیٹے نے ایک کتاب لکھی جس کا نام’’کتاب التوحید‘‘[139]رکھا ، اُس کا ترجمہ ہندوستان میں ’’اسماعیل دہلوی‘‘[140] نے کیا، جس کا نام’’تقویۃ الایمان‘‘ رکھا اور ہندوستان میں اسی نے وہابیت پھیلائی۔

اِن وہابیہ کا ایک بہت بڑا عقیدہ یہ ہے کہ جو اِن کے مذہب پر نہ ہو، وہ کافر مشرک ہے۔ [141] یہی وجہ ہے کہ بات بات پر محض بلاوجہ مسلمانوں پر حکمِ شرک و کفرلگایا کرتے اور تمام دنیا کو مشرک بتاتے ہیں ۔ چنانچہ ’’تقویۃ الایمان‘‘ صفحہ ۴۵ میں وہ حدیث لکھ کر کہ ’’آخر زمانہ میں اللہ تَعَالٰی ایک ہوا بھیجے گا جو ساری دنیا سے مسلمانوں کو اٹھا لے گی۔‘‘ [142] اِس کے بعد صاف لکھ دیا: ’’سو پیغمبرِ خدا کے فرمانے کے موافق ہوا‘‘[143]، یعنی وہ ہوا چل گئی اور کوئی مسلمان روئے زمین پر نہ رہا ، مگر یہ نہ سمجھا کہ اس صورت میں خود بھی تو کافر ہوگیا۔

اِس مذہب کا رکنِ اعظم، اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کی توہین اور محبوبانِ خدا کی تذلیل ہے، ہر امر میں وہی پہلو اختیار کریں گے جس سے منقصت نکلتی ہو۔ [144] اس مذہب کے سرگروہوں کے بعض اقوال نقل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے، کہ ہمارے عوام بھائی ان کی قلبی خباثتوں پر مطلع ہوں اور ان کے دامِ تزویر [145] سے بچیں اور ان کے جبّہ و دستار پر نہ جائیں ۔ برادرانِ اسلام بغور سُنیں اور میزانِ ایمان میں تولیں کہ ایمان سے زیادہ عزیز مسلمان کے نزدیک کوئی چیز نہیں اور ایمان، اللہ و رسول (عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ) کی محبت و تعظیم ہی کا نام ہے۔ ایمان کے ساتھ جس میں جتنے فضائل پائے جائیں وہ اُسی قدر زیادہ فضیلت رکھتا ہے، اور ایمان نہیں تو مسلمانوں کے نزدیک وہ کچھ وقعت نہیں رکھتا اگرچہ کتنا ہی بڑا عالم و زاہد و تارک الدنیا وغیرہ بنتا ہو، مقصود یہ ہے کہ اُن کے مولوی اور عالم فاضل ہونے کی وجہ سے اُنھیں تم اپنا پیشوا نہ سمجھو، جب کہ وہ اللہ و رسول (عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ) کے دشمن ہیں ، کیا یہود ونصاریٰ بلکہ ہنود میں بھی اُن کے مذاہب کے عالم یا تارک الدنیا نہیں ہوتے۔۔۔؟! کیا تم اُن کو اپنا پیشوا تسلیم کرسکتے ہو۔۔۔؟! ہرگز نہیں ! اِسی طرح یہ لامذہب و بد مذہب تمھارے کسی طرح مقتدا نہیں ہوسکتے۔

’’اِیضاح الحق‘‘ صفحہ ۳۵ و صفحہ ۳۶ مطبع فاروقی میں ہے[146] : (’’تنزیہ اُو تعالٰی از زمان و مکان و جہت و اثباتِ رویت بلاجہت و محاذاتِ ہمہ از قبیل بدعاتِ حقیقیہ است، اگر صاحبِ آں اعتقاداتِ مذکورہ را از جنسِ عقائدِ دینیہ مے شمارد‘‘) . [147]

اس میں صاف تصریح ہے کہ اللہ تَعَالٰی کو زمان و مکان و جہت سے پاک جاننا اور اس کا دیدار بلا کیف ماننا، بدعت و گمراہی ہے، حالانکہ یہ تمام اہلِ سنت کا عقیدہ ہے۔[148] تو اِس قائل نے تمام پیشوایانِ اہلسنت کو گمراہ و بدعتی بتایا، ’’بحر الرائق‘‘ و ’’دُرّ ِمختار‘‘

و’’عالمگیری‘‘ میں ہے :کہ اللہتَعَالٰی کے لیے جو مکان ثابت کرے، کافر ہے۔[149]

’’تقویۃ الایمان‘‘ صفحہ ۶۰ میں یہ حدیث:

((أَرأَیْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِيْ أَ کُنْتَ تَسْجُدُ لَہٗ۔))[150]

نقل کر کے ترجمہ کیا کہ ’’بھلا خیال تو کر جو تُو گزرے میری قبر پر، کیا سجدہ کرے تو اُس کو‘‘، اُس کے بعد (ف) لکھ کر فائدہ یہ جَڑ دیا: ( یعنی میں بھی ایک دن مر کر مٹی میں ملنے والا ہوں ۔) [151] حالانکہ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَفرماتے ہیں :

((إِنَّ اللہَ حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أنْ تَأْکُلَ أجْسَادَ الْأَنْبِیَاءِ۔))[152]

’’اللہ تَعَالٰی نے اپنے انبیا علیہم السلام کے اَجسام کھانا، زمین پر حرام کر دیا ہے۔‘‘

((فَنَبِيُّ اللہِ حَيٌّ یُّرْزَقُ۔)) [153]

’’تو اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کے نبی زندہ ہیں ، روزی دیے جاتے ہیں ۔‘‘

اِسی ’’تقویۃ الایمان‘‘ صفحہ ۱۹ میں ہے: ’’ہمارا جب خالق اللہ ہے اور اس نے ہم کو پیدا کیا توہم کو بھی چاہیے کہ اپنے ہر کاموں پر اُسی کو پکاریں اور کسی سے ہم کو کیا کام؟ جیسے جو کوئی ایک بادشاہ کا غلام ہوچکا تو وہ اپنے ہر کام کا علاقہ اُسی سے رکھتا ہے، دوسرے بادشاہ سے بھی نہیں رکھتا اور کسی چوہڑے چمار کا تو کیا ذکر۔‘‘ [154] انبیائے کرام و اولیائے عِظام کی شان میں ایسے ملعون الفاظ استعمال کرنا، کیا مسلمان کی شان ہو سکتی ہے۔۔۔؟!

’’صراطِ مستقیم‘‘ صفحہ ۹۵: ’بمقتضائے { ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍؕ- } [155] از وسوسۂ زنا، خیالِ مجامعتِ زوجہ خود بہتراست، و صرفِ ہمت بسوئے شیخ و اَمثالِ آں از معظمین گو جنابِ رسالت مآب باشند بچندیں مرتبہ بد تر از استغراق درصورتِ گاؤ و خرِ خود ست۔‘‘ [156]

مسلمانو ! یہ ہیں اِمام الو ہابیہ کے کلماتِ خبیثات! او ر کس کی شان میں ؟ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکی شان میں ! جس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہے، وہ ضروریہ کہے گا کہ اِس قول میں گستاخی ضرور ہے۔

’’تقویۃ الایمان‘‘ صفحہ ۱۰:

’’روزی کی کشائش اور تنگی کرنی اور تندرست و بیمار کر دینا، اِقبال و اِدبار [157] دینا، حاجتیں بر لانی، بلائیں ٹالنی، مشکل میں دستگیری کرنی، یہ سب اللہ ہی کی شان ہے اور کسی انبیا، اولیا، بھوت، پری کی یہ شان نہیں ، جو کسی کو ایسا تصرّف ثابت کرے اور اس سے مرادیں مانگے اور مصیبت کے وقت اُس کو پکارے، سو وہ مشرک ہو جاتا ہے، پھر خواہ یوں سمجھے کہ اِن کاموں کی طاقت اُن کو خود بخود ہے، خواہ یوں سمجھے کہ اللہ نے اُن کو قدرت بخشی ہے، ہر طرح شرک ہے۔ ‘‘[158]

’’قرآن مجید‘‘ میں ہے:

{ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖۚ- }[159]

’’اُن کو اللہ و رسول اللہ نے غنی کر دیا اپنے فضل سے۔‘‘

قرآن تو کہتا ہے کہ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَنے دولت مند کر دیا اور یہ کہتا ہے: ’’جو کسی کو ایسا تصرّف ثابت کرے مشرک ہے۔‘‘ تو اِس کے طور پر قرآنِ مجید شرک کی تعلیم دیتا ہے۔۔۔! قرآن عظیم میں ارشاد ہے:

{ وَ تُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْۚ-}[160]

’’اے عیسیٰ! تُو میرے حکم سے مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو اچھا کر دیتا ہے۔‘‘

اور دوسری جگہ ہے:

{ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِۚ-}[161]

’’عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلاَۃُ وَالسَّلَام فرماتے ہیں : میں اچھا کرتا ہوں مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو اورمُردوں کو جِلا دیتا ہوں اللہ کے حکم سے۔‘‘

اب قرآن کا تو یہ حکم ہے اور وہابیہ یہ کہتے ہیں کہ تندرست کرنا اللہ (عَزَّوَجَلَّ) ہی کی شان ہے، جو کسی کو ایسا تصرّف ثابت کرے مشرک ہے۔ اب وہابی بتائیں کہ اللہ تَعَالٰی نے ایسا تصرّف حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے لیے ثابت کیا تو اُس پر کیا حکم لگاتے ہیں ۔۔۔؟! اور لُطف یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اگر اُن کو قدرت بخشی ہے، جب بھی شرک ہے تو معلوم نہیں کہ اِن کے یہاں اِسلام کس چیز کا نام ہے؟

’’تقویۃ الایمان‘‘ صفحہ ۱۱:

’’گِرد و پیش کے جنگل کا ادب کرنا، یعنی وہاں شکار نہ کرنا، درخت نہ کاٹنا، یہ کام اللہ نے اپنی عبادت کے لیے بتائے ہیں ، پھر جو کوئی کسی پیغمبر یا بھوت کے مکانوں کے گِرد و پیش کے جنگل کا ادب کرے، اُس پر شرک ثابت ہے، خواہ یوں سمجھے کہ یہ آپ ہی اِس تعظیم کے لائق ہے، یا یوں کہ اُن کی اِس تعظیم سے اللہ خوش ہوتا ہے، ہر طرح شرک ہے۔‘‘ [162]

متعدد صحیح حدیثوں میں ارشاد فرمایا: کہ ’’ابراہیم نے مکہ کو حرم بنایا اور میں نے مدینے کو حرم کیا، اِس کے ببول کے درخت نہ کاٹے جائیں اور اِس کا شکار نہ کیا جائے۔‘‘ [163]

مسلمانو! ایمان سے دیکھنا کہ اس شرک فروش کا شرک کہاں تک پہنچتا ہے! تم نے دیکھا اِس گستاخ نے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَپر کیا حکم جَڑا۔۔۔؟!

’’تقویۃ الایمان‘‘ صفحہ ۸:

’’پیغمبرِ خدا کے وقت میں کافر بھی اپنے بتوں کو اللہ کے برابر نہیں جانتے تھے، بلکہ اُسی کا مخلوق اور اس کا بندہ سمجھتے تھے اور اُن کو اُس کے مقابل کی طاقت ثابت نہیں کرتے تھے، مگر یہی پکارنا اور منتیں ماننی اور نذر و نیاز کرنی اور ان کو اپنا وکیل و سفارشی سمجھنا، یہی اُن کا کفر و شرک تھا، سو جو کوئی کسی سے یہ معاملہ کرے، گو کہ اُس کو اللہ کا بندہ ومخلوق ہی سمجھے، سو ابوجہل اور وہ شرک میں برابر ہے۔‘‘ [164]

یعنی جو نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکی شفاعت مانے، کہ حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دربار میں ہماری سفارش فرمائیں گے تو معاذ اللہ اس کے نزدیک وہ ابو جہل کے برابر مشرک ہے، مسئلۂ شفاعت کا صرف انکار ہی نہیں بلکہ اس کو شرک ثابت کیا اور تمام مسلمانوں صحابہ و تابعین و ائمۂ دین و اولیا و صالحین سب کو مشرک و ابو جہل بنا دیا۔

’’تقویۃ الایمان‘‘ صفحہ ۵۸:

’’کوئی شخص کہے: فُلانے درخت میں کتنے پتے ہیں ؟ یا آسمان میں کتنے تارے ہیں ؟ تو اس کے جواب میں یہ نہ کہے، کہ

اللہ و رسول ہی جانے، کیونکہ غیب کی بات اللہ ہی جانتا ہے، رسول کو کیا خبر۔‘‘ [165]

سبحان اللہ ۔۔۔! خدائی اسی کا نام رہ گیا کہ کسی پیڑ کے پتے کی تعداد جان لی جائے۔

’’تقویۃ الایمان‘‘ صفحہ۷:

’’اللہ صاحب نے کسی کو عالم میں تصرّف کرنے کی قدرت نہیں دی۔‘‘ [166]

اِس میں انبیائے کِرام کے معجزات اور اولیا عظام کی کرامت کا صاف انکار ہے۔

اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے:

{ فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاۘ(۵)}[167]

’’قسم فرشتوں کی جو کاموں کی تدبیر کرتے ہیں ۔‘‘

تو یہ قرآن کریم کو صاف رد کر رہا ہے۔

صفحہ ۲۲: ’’جس کا نام محمد یا علی ہے، وہ کسی چیز کا مختار نہیں ۔‘‘ [168]

تعجب ہے کہ وہابی صاحب تو اپنے گھر کی تمام چیزوں کا اختیار رکھیں اور مالکِ ہر دو سَرا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکسی چیز کے مختار نہیں ۔۔۔!

اِس گروہ کا ایک مشہور عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تَعَالٰی جھوٹ بول سکتا ہے۔ [169] بلکہ اُن کے ایک سرغَنہ نے تو اپنے ایک فتوے میں لکھ دیا کہ: ’’وقوعِ کذب کے معنی درست ہوگئے، جو یہ کہے کہ اللہ تَعَالٰی جھوٹ بول چکا، ایسے کو تضلیل و تفسیق سے مامون کرنا چاہیے‘‘ ۔[170]

سبحان اللہ ۔۔۔! خدا کو جھوٹا مانا، پھر بھی اسلام و سنّیت و صلاح کسی بات میں فرق نہ آیا، معلوم نہیں ان لوگوں نے کس چیز کو خدا ٹھہرا لیا ہے! ۔

ایک عقیدہ ان کا یہ ہے کہ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکو خاتم النبیین بمعنی آخر الانبیاء نہیں مانتے۔[171] اور یہ صریح کفر ہے۔[172]

چنانچہ ’’تحذیر الناس‘‘ ص ۲ میں ہے:

’’عوام کے خیال میں تورسول اللہ صلعم[173]؎ [174] کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیائے سابق کے بعد اور آپ سب میں آخر نبی ہیں ، مگر اہلِ فہم پر روشن ہو گا کہ تقدّم یا تاخّر میں بالذات کچھ فضیلت نہیں ، پھر مقامِ مدح میں { وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-}[175] فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہوسکتا ہے۔ ہاں ! اگر اِس وصف کو اَوصافِ مدح میں سے نہ کہیے اور اِس مقام کو مقامِ مدح نہ قرار دیجیے تو البتہ خاتمیت باعتبارِ تاخّرِ زمانی صحیح ہوسکتی ہے۔‘‘ [176]

پہلے تو اس قائل نے خاتم النبیین کے معنی تمام انبیا سے زماناً متاخّر ہونے کو خیالِ عوام کہا اور یہ کہا کہ اہلِ فہم پر روشن ہے کہ اس میں بالذات کچھ فضیلت نہیں ۔ حالانکہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَنے خاتم النبیین کے یہی معنی بکثرت احادیث میں ارشاد فرمائے [177] تو معاذ اللہ اس قائل نے حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ) کو عوام میں داخل کیا اور اہلِ فہم سے خارج کیا، پھر اس نے ختمِ زمانی کو مطلقاً [178]؎ فضیلت سے خارج کیا، حالانکہ اسی تاخّرِ زمانی کو حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ) نے مقامِ مدح میں ذکر فرمایا۔

پھر صفحہ ۴ پر لکھا: ’’آپ موصوف بوصفِ نبوت بالذات ہیں اور سِوا آپ کے اور نبی موصوف بوصفِ نبوت بالعرض۔‘‘[179]

صفحہ ۱۶: ’’بلکہ بالفرض آپ کے زمانہ میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو، جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے۔‘‘ [180]

صفحہ ۳۳: ’’بلکہ اگر بالفرض بعد زمانۂ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہو تو بھی خاتمیت ِمحمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا، چہ جائیکہ آپ کے مُعاصِر[181] کسی اور زمین میں ، یا فرض کیجیے اسی زمین میں کوئی اور نبی تجویز کیا جائے۔‘‘ [182]

لطف یہ کہ اِس قائل نے اِن تمام خرافات کا ایجادِ بندہ ہونا خود تسلیم کرلیا:

صفحہ ۳۴ پر ہے: ’’اگر بوجہِ کم اِلتفاتی بڑوں کا فہم کسی مضمون تک نہ پہنچا تو اُن کی شان میں کیا نقصان آگیا اور کسی طفلِ نادان [183] نے کوئی ٹھکانے کی بات کہہ دی توکیا اتنی بات سے وہ عظیم الشان ہو گیا ؎

گاہِ باشد کہ کو دکِ ناداں

بغلط برہدف زنَد تِیرے[184]

ہاں بعد وضوحِ حق [185] اگر فقط اس وجہ سے کہ یہ بات میں نے کہی اور وہ اَگلے کہہ گئے تھے، میری نہ مانیں اور وہ پرانی بات گائے

جائیں تو قطع نظر اِس کے کہ قانونِ محبتِ نبوی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَسے یہ بات بہت بعید ہے، ویسے بھی اپنی عقل و فہم کی خوبی پر گواہی دیتی ہے۔‘‘ [186]

یہیں سے ظاہر ہو گیا جو معنی اس نے تراشے سلف میں کہیں اُس کاپتا نہیں ، اور نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکے زمانہ سے آج تک جو سب سمجھے ہوئے تھے اُس کو خیالِ عوام بتا کر رد کر دیا کہ اِس میں کچھ فضیلت نہیں ، اِس قائل پر علمائے حرمین طیبین نے جو فتویٰ دیا وہ ’’ حُسامُ الحرمَین‘‘[187] کے مطالعہ سے ظاہر۔

اور اُس نے خود بھی اسی کتاب کے صفحہ ۴۶ میں اپنا اسلام برائے نام تسلیم کیا۔ [188]

ع مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری

اِن نام کے مسلمانوں سے اللہ (عزوجل) بچائے۔

اسی کتاب کے صفحہ ۵ پر ہے: ’’کہ انبیا اپنی امّت سے ممتاز ہوتے ہیں تو علوم ہی میں ممتاز ہوتے ہیں ، باقی رہا عمل، اس میں بسا اوقات بظاہر امّتی مساوی ہو جاتے ہیں ، بلکہ بڑھ جاتے ہیں ۔‘‘ [189]

اور سنیے! اِن قائل صاحب نے حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ) کی نبوت کو قدیم اور دیگر انبیا کی نبوت کو حادث بتایا:

صفحہ ۷ میں ہے: ’’کیونکہ فرق قِدمِ نبوت اور حُدوثِ نبوت باوجود اتحادِ نوعی خوب جب ہی چسپاں ہوسکتا ہے۔‘‘ [190]

کیا ذات و صفات کے سوا مسلمانوں کے نزدیک کوئی اور چیز بھی قدیم ہے۔۔۔؟! نبوت صفت ہے اور صفت کا وجود بے موصوف محال، جب حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکی نبوت قدیم غیر حادث ہوئی تو ضرور نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَبھی حادث نہ ہوئے بلکہ ازلی ٹھہرے اور جو اللہ (عَزَّوَجَلَّ) و صفاتِ الٓہیہ کے سوا کسی کو قدیم مانے باجماعِ مسلمین کافر ہے۔[191]

اِس گروہ کا یہ عام شیوہ ہے کہ جس امر میں محبوبانِ خدا کی فضیلت ظاہر ہو، طرح طرح کی جھوٹی تاویلات سے اسے باطل کرنا چاہیں گے اور وہ امر ثابت کریں گے جس میں تنقیص[192] ہو، مثلاً ’’بَراہینِ قاطعہ‘‘ صفحہ ۵۱ میں لکھ دیاکہ:

’’نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکو دیوار کے پیچھے کا بھی علم نہیں ۔‘‘ [193]

اور اُس کو شیخ محدّثِ دہلوی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہِ کی طرف غلط منسوب کر دیا، بلکہ اُسی صفحہ پر وسعتِ علمِ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکی بابت یہاں تک لکھ دیا کہ:

’’الحاصل غور کرنا چاہیے کہ شیطان و ملک الموت کا حال دیکھ کر علمِ محیطِ زمین کا فخرِ عالَم کو خلافِ نصوصِ قطعیہ کے بِلادلیل محض قیاسِ فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کون سا ایمان کا حصہ ہے کہ شیطان وملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی، فخرِ عالم کی وسعتِ علم کی کونسی نصِ قطعی ہے کہ جس سے تمام نُصوص کو رد کر کے ایک شرک ثابت کرتا ہے۔‘‘ [194]

جس وسعتِ علم کو شیطان کے لیے ثابت کرتا اور اُس پر نص ہونا بیان کرتا ہے، اُسی کو نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکے لیے شرک بتاتا ہے تو شیطان کو خدا کا شریک مانا اور اُسے آیت وحدیث سے ثابت جانا۔ بے شک شیطان کے بندے شیطان کو مستقل خدا نہیں تو خدا کا شریک کہنے سے بھی گئے گزرے، ہر مسلمان اپنے ایمان کی آنکھوں سے دیکھے کہ اِس قائل نے ابلیسِ لعین کے علم کو

نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکے علم سے زائد بتایا یا نہیں ؟ ضرور زائد بتایا! اور شیطان کو خدا کا شریک مانا یا نہیں ؟ ضرور مانا! اور پھر اس شرک کو نص سے ثابت کیا، یہ تینوں امر صریح کفر اور قائل یقینی کافر ہے، کون مسلمان اس کے کافر ہونے میں شک کرے گا۔۔۔؟! ۔

’’حفظ الایمان‘‘ صفحہ ۷ میں حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ) کے علم کی نسبت یہ تقریر کی:

’’آپ کی ذاتِ مقدّسہ پر علمِ غیب کا حکم کیا جانا اگر بقولِ زید صحیح ہو تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کُل غیب، اگر بعض علومِ غیبیہ مراد ہیں تو اِس میں حضور کی کیا تخصیص ہے، ایسا علمِ غیب تو زید وعَمرو، بلکہ ہر صبی ومجنون، بلکہ جمیع حیوانات و بَہائم کے لیے بھی حاصل ہے۔‘‘ [195]

مسلمانو! غور کرو کہ اِس شخص نے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکی شان میں کیسی صریح گستاخی کی، کہ حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ) جیسا علم زید و عَمرو تو زید و عَمرو، ہر بچے اور پاگل، بلکہ تمام جانوروں اور چوپایوں کے لیے حاصل ہونا کہا، کیا ایمانی قلب ایسے شخص کے کافر ہونے میں شک کرسکتے ہیں ۔۔۔؟ ہر گز نہیں ۔

اس قوم کا یہ عام طریقہ ہے کہ جس چیز کو اللہ و رسول (عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ) نے منع نہیں کیا، بلکہ قرآن و حدیث سے اس کا جواز ثابت، اُس کو ممنوع کہنا تو درکنار، اُس پر شرک و بدعت کا حکم لگا دیتے ہیں ، مثلاً مجلسِ میلاد شریف اور قیام و ایصالِ ثواب و زیارتِ قبور و حاضریٔ بارگاہِ بیکس پناہ سرکارِ مدینہ طیبہ، و عُرسِ بزرگانِ دین و فاتحۂ سوم و چہلم، و استمداد باَرواحِ انبیا و اولیا [196]اور مصیبت کے وقت انبیا و اولیا کو پکارنا وغیرہا، بلکہ میلاد شریف کی نسبت تو ’’براہینِ قاطعہ‘‘ صفحہ ۴۸ ۱ میں یہ ناپاک لفظ لکھے:

’’پس یہ ہر روز اِعادہ ولادت کا تو مثلِ ہنود کے، کہ سانگ کَنہیا[197] کی ولادت کا ہر سال کرتے ہیں ، یا مثلِ روافض کے، کہ نقلِ شہادتِ اہلبیت ہر سال بناتے ہیں ، معاذ اللہ سانگ [198] آپ کی ولادت کا ٹھہرا اور خود حرکتِ قبیحہ[199]قابلِ لَوم[200] وحرام و فسق ہے، بلکہ یہ لوگ اُس قوم سے بڑھ کر ہوئے، وہ تو تاریخِ معیّن پر کرتے ہیں ، اِن کے یہاں کوئی قید ہی نہیں ، جب چاہیں یہ خرافاتِ فرضی بتاتے ہیں ۔‘‘ [201]

(۴) غیر مقلدین: یہ بھی وہابیت ہی کی ایک شاخ ہے، وہ چند باتیں جو حال میں وہابیہ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَکی شان میں بکی ہیں ، غیر مقلدین سے ثابت نہیں ، باقی تمام عقائد میں دونوں شریک ہیں اور اِن حال کے اشد دیو بندی کفروں میں بھی وہ یوں شریک ہیں کہ ان پر اُن قائلوں کو کافر نہیں جانتے اور اُن کی نسبت حکم ہے کہ جو اُن کے کفر میں شک کرے، وہ بھی کافر ہے۔ ایک نمبر اِن کا زائد یہ ہے کہ چاروں مذہبوں سے جدا، تمام مسلمانوں سے الگ انھوں نے ایک راہ نکالی، کہ تقلید کو حرام و بدعت کہتے اور ائمۂ دین کو سبّ و شتم سے یاد کرتے ہیں ، مگر حقیقۃً تقلید سے خالی نہیں ، ائمۂ دین کی تقلید تو نہیں کرتے، مگر شیطانِ لعین کے ضرور مقلّد ہیں ۔ یہ لوگ قیاس کے منکِر ہیں اور قیاس کا مطلقاً اِنکار کفر،[202] تقلید کے منکر ہیں اور تقلید کا مطلقاً انکار کفر۔[203]

مسئلہ: مطلق تقلید فرض ہے [204] اور تقلیدِ شخصی واجب۔[205]

ضروری تنبیہ: وہابیوں کے یہاں بدعت کا بہت خرچ ہے، جس چیز کو دیکھیے بدعت ہے، لہٰذا بدعت کسے کہتے ہیں اِسے بیان کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ بدعتِ مذمومہ و قبیحہ وہ ہے جو کسی سنّت کے مخالف ومزاحم ہو،[206] اور یہ مکروہ یا حرام ہے۔ اور مطلق بدعت تو مستحب، بلکہ سنّت، بلکہ واجب تک ہوتی ہے۔[207]

حضرت امیر المؤمنین عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تراویح کی نسبت فرماتے ہیں :

((نِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہٖ۔))[208]

’’یہ اچھی بدعت ہے۔‘‘

حالانکہ تراویح سنّتِ مؤکدہ ہے[209]، جس امر کی اصل شرع شریف سے ثابت ہو وہ ہرگز بدعتِ قبیحہ نہیں ہوسکتا، ورنہ خود وہابیہ کے مدارس اور اُن کے وعظ کے جلسے، اس ہیأتِ خاصہ کے ساتھ ضرور بدعت ہوں گے۔ پھر انھیں کیوں نہیں موقوف کرتے۔۔۔؟ مگر ان کے یہاں تو یہ ٹھہری ہے کہ محبوبانِ خدا کی عظمت کے جتنے اُمور ہیں ، سب بدعت اور جس میں اِن کا مطلب ہو، وہ حلال و سنت۔

وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّابِاللہِ۔ (بہارِشریعت ،حصہ اول ،جلد۱۔صفحہ۱۷۲تا۲۳۶)


[1] في ’’شرح العقائد النسفیۃ‘‘: (إنّ الإیمان في الشرع ھو التصدیق بما جاء بہ من عند اللّٰہ تعالی، أي: تصدیق النبي بالقلب في جمیع ما علم بالضرورۃ مجیئہ بہ من عند اللّٰہ تعالی ’’شرح العقائد النسفیۃ‘‘، مبحث الإیمان، ص۱۲۰۔

في ’’المسامرۃ‘‘ و’’المسایرۃ‘‘، الکلام فيمتعلق الإیمان، ص۳۳۰: (الإیمان (ھو التصدیق بالقلب فقط أي: قبول القلب وإذعانہ لما علم بالضرورۃ أنّہ من دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم بحیث تعلمہ العامۃ من غیر افتقار إلی نظر ولا استدلال کالوحدانیۃ والنبوۃ والبعث والجزاء ووجوب الصلاۃ والزکاۃ وحرمۃ الخمر ونحوہا، ویکفي الإجمال فیما یلاحظ إجمالاً کالإیمان بالملا ئکۃ والکتب والرسل، ویشترط التفصیل فیما یلاحظ تفصیلا کجبریل ومیکائیل وموسی وعیسی والتوراۃ والإنجیل، حتی إنّ من لم یصدق بواحد معین منہا کافر (و) القول بأن مسمی الإیمان ہذا التصدیق فقط (ہو المختار عند جمہور الأشاعرۃ) وبہ قال الماتریدي

’’الأشباہ والنظائر‘‘، الفن الثاني، کتاب السیر، ص۱۵۹۔

’’البحر الرائق‘‘، کتاب السیر، باب أحکام المرتدین، ج۵، ص ۲۰۲۔

’’الدر المختار‘‘ کتاب الجھاد، باب المرتد، ج۶، ص۳۴۲۔

[2] في ’’الہندیۃ‘‘، کتاب السیر، الباب في أحکام المرتدین، ج۲، ص۲۶۳: (إذا لم یعرف الرجل أنّ محمداً صلی اللّٰہ علیہ وسلم آخر الأنبیاء علیہم وعلی نبینا السلام فلیس بمسلم؛ لأنّہ من الضروریات’’الأشباہ والنظائر‘‘، الفن الثاني، کتاب السیر، ص۱۶۱۔

[3] وفسرت الضروریات بما یشترک في علمہ الخواص والعوام، أقول: المراد العوام الذین لہم شغل بالدین واختلاط بعلمائہ۔۔۔ إلخ۔ ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، کتاب الطھارۃ، باب الوضوء، ج۱، ص۱۸۱۔

[4] یعنی کم آباد اور چھوٹا گاؤں ، جسے کوئی نہ جانتا ہواور نہ ہی وہاں تعلیم کا کوئی سلسلہ ہو۔

[5] في’’المسایرۃ‘‘: (ھو التصدیق بالقلب فقط

’’فتاوی رضویہ‘‘ ، جلد ۱۴، ص ۱۲۴ پر ہے: (ایمان تصدیق قلبی کا نام ہے)۔

[6] في’’ شرح العقائد النسفیۃ ‘‘، مبحث الإیمان: ص۱۲۰۔۱۲۴: (أنّ الأعمال غیر داخلۃ في الإیمان لما مرّ من أنّ حقیقۃ الإیمان ھو التصدیق

في ’’الحدیقۃ الندیۃ ‘‘، ج۱، ص۲۸۲: (والأعمال بالجوارح خارجۃ عن حقیقتہ أي: حقیقۃ الإیمان

[7] اللہ تَعَالٰی کے نزدیک۔

[8] في ’’شرح العقائد النسفیۃ‘‘، وشرحہ ’’النبراس‘‘، ص۲۵۰:((إنّما الإقرار شرط لإجراء الأحکام في الدنیا) من حرمۃ الدم والمال وصلاۃ الجنازۃ علیہ ودفنہ في مقابر المسلمین وہہنا مذ ہب ثالث وہو أنّ الإقرار لیس برکن إلاّ عند الطلب فمن طلب منہ الإ قرار فسکت من غیر عذر فہو کافر عند اللّٰہ سبحانہ (لما أنّ التصد یق بالقلب أمر باطن لا بد لہ من علامۃ فمن صدق بقلبہ ولم یقر بلسانہ فھو مؤمن عند اللّٰہ سبحانہ وإن لم یکن مؤمناً في أحکام الدنیا) وھذا إذا لم یکن مباشراً لعلامات التکذیب وإلاّ فھو کافر عند اللّٰہ أیضاً خلافاً لبعضھم وفي ’’الدر المختار‘‘: والإقرار شرط لإجراء الأحکام الدنیویۃ بعد الاتفاق علی أنّہ یعتقد متی طولب بہ أتی بہ، فإن طولب بہ فلم یقر فھو کفر عناد ’’الدرالمختار‘‘، کتاب الجھاد، باب المرتد، ج۶، ص۳۴۲۔

[9] وفي ’’الدر المختار‘‘: (من ہزل بلفظ کفر ارتد، وإن لم یعتقدہ للاستخفاف فہو ککفر العناد)۔

وفي شرحہ ’’رد المحتار‘‘: قولہ: (من ہزل بلفظ کفر) أي تکلم بہ باختیارہ غیر قاصد معناہ، وہذا لا ینافي ما مرّ من أنّ الإیمان ہو التصدیق فقط أو مع الإقرار؛ لأنّ التصدیق وإن کان موجوداً حقیقۃ لکنّہ زائل حکماً؛ لأنّ الشارع جعل بعض المعاصي أمارۃ علی عدم وجودہ کالہزل المذکور، وکما لو سجد لصنم أو وضع مصحفاً في قاذورۃ فإنّہ یکفر وإن کان مصدّقاً؛ لأنّ ذلک في حکم التکذیب کما أفادہ في ’’شرح العقائد‘‘، وأشار إلی ذلک بقولہ: (للاستخفاف) فإن فعل ذلک استخفافاً واستہانۃ بالدین فہو أمارۃ عدم التصدیق، ولذا قال في ’’المسایرۃ‘‘: وبالجملۃ فقد ضم إلی التصدیق بالقلب، أو بالقلب واللسان في تحقیق الإیمان أمور، الإخلال بہا إخلال بالإیمان اتفاقاً کترک السجود لصنم وقتل نبي والاستخفاف بہ، وبالمصحف والکعبۃ، وکذا مخالفۃ أو إنکار ما أجمع علیہ بعد العلم بہ؛ لأنّ ذلک دلیل علی أنّ التصدیق مفقود، ثم حقّق أنّ عدم الإخلال بہذہ الأمور أحد أجزاء مفہوم الإیمان، فہو حینئذ التصدیق والإقرار وعدم الإخلال بما ذکر، بدلیل أنّ بعض ہذہ الأمور تکون مع تحقّق التصدیق والإقرار۔ ’’رد المحتار‘‘، ج۶، ص۳۴۳۔

في ’’الخانیۃ‘‘: (رجل کفر بلسانہ طائعاً، وقلبہ علی الإیمان یکون کافراً ولا یکون عند اللّٰہ تعالی مؤمناً)۔

’’فتاوی قاضی خان‘‘، کتاب السیر، ج۲، ص۴۶۷۔ انظر للتفصیل ’’المسایرۃ‘‘، ص۳۳۷۔۳۵۷۔

10 بغیر شرعی مجبوری کے۔

[11] في’’شرح العقائد النسفیۃ ‘‘، ص۱۲۱: (إنّ التصدیق رکن لا یحتمل السقوط أصلاً

انظر ’’النبراس‘‘، أنّ الإیمان في الشرع ھو التصدیق، ص۲۴۹۔۲۵۰۔

’’فتاوی رضویہ‘‘ میں ہے : (بلا اکراہ کلمۂ کفر بولنا خود کفر، اگرچہ دل میں اس پر اعتقاد نہ رکھتا ہو ، اور عامۂ علماء فرماتے ہیں کہ: اِس سے نہ صرف مخلوق کے آگے بلکہ عند اللہ بھی کافر ہوجائے گا کہ ُاس نے دین کو معاذ اللہ کھیل بنایا اور اُس کی عظمت خیال میں نہ لایا) ۔

’’فتاوی رضویہ‘‘ ، ج۱۴، ص۳۹۳ ۔ و ج۲۷، ص۱۲۵۔

اسی میں ہے: (جو بلا اکراہ کلمۂ کفر بکے بلا فرقِ نیت مطلقا ًقطعاً یقینا اِجماعاً کافر ہے )۔ ’’فتاوی رضویہ‘‘ ، ج۱۴، ص۶۰۰ ۔

[12] في ’’رد المحتار‘‘، کتاب الجھاد، باب المرتد، ج۶، ص۳۴۶: ((ومکرہ علیھا) أي: علی الردۃ، والمراد الإکراہ بملجیء من قتل أو قطع عضو أو ضرب مبرّح فإنّہ یرخص لہ أن یظھر ما أمر بہ علی لسانہ وقلبہ مطمئن بالإیمان

وفي ’’التنویر‘‘ و’’الدر المختار‘‘: (و) إن أکرہ (علی الکفر) باللّٰہ تعالی أو سبّ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم ’’مجمع‘‘ و’’قدروي‘‘۔ (بقطع أو قتل رخص لہ أن یظہر ما أمر بہ) علی لسانہ ویوري (وقلبہ مطمئن بالإیمان) ثم إن وری لا یکفر وبانت امرأتہ قضاء لا دیانۃ، وإن خطر ببالہ التوریۃ ولم یور کفر وبانت دیانۃ وقضاء ’’نوازل‘‘ و’’جلالیۃ‘‘ (ویؤجر لو صبر)۔

وفي شرحہ ’’رد المحتار‘‘: قولہ: (ویؤجر لو صبر) أي: یؤجر أجر الشہداء لما روي أنّ خبیباً وعماراً ابتلیا بذلک فصبر خبیب حتی قتل، فسماہ النبي صلی اللہ علیہ وسلم سید الشہداء وأظہر عمار وکان قلبہ مطمئناً بالإیمان، فقال النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((فإن عادوا فعُد))، أي: إن عاد الکفار إلی الإکراہ فعد أنت إلی مثل ما أتیت بہ أولاً من إجراء کلمۃ الکفر علی اللسان وقلبک مطمئن بالإیمان، ابن کمال وقصتہما شہیرۃ ’’رد المحتار‘‘، کتاب الإکراہ،ج۹، ص۲۲۶۔۲۲۸۔

وفي ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الإکراہ، الباب الثاني۔۔۔ إلخ، ج۵، ص۳۸: (وإن أکرہ علی الکفر باللّٰہ تعالی أو سبّ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم بقتل أو قطع، رخص لہ إظھار کلمۃ الکفر والسبّ فإن أظھر ذلک وقلبہ مطمئن بالإیمان فلا یأثم وإن صبر حتی قتل کان مثابا

13 اعضاء کے عمل۔

[14] قد سبق تخریج ہذہ المسألۃ في العقیدۃ الأولی، ص۱۷۳۔

[15] في ’’شرح العقائد النسفیۃ‘‘: ص۱۰۹ ۔ ۱۱۰ :(إنّ حقیقۃ الإیمان ہوالتصدیق القلبي فلا یخرج المؤمن عن الاتصاف بہ إلاّ بما ینافیہ، ومجرد الإقدام علی الکبیرۃ لغلبۃ شہوۃ أوحمیّۃ أو أنفۃ أوکسل خصوصاً إذا اقترن بہ خوف العقاب ورجاء العفو والعزم علی التوبۃ لاینافیہ نعم إذا کان بطریق الاستحلال والاستخفاف کان کفراً لکونہ علامۃ للتکذیب ولا نزاع في أنّ من المعاصي ما جعلہ الشارع أمارۃ للتکذیب وعلم کونہ کذلک بالأدلۃ الشرعیۃ کسجود الصنم وإلقاء المصحف في القاذورات والتلفظ بکلمات الکفر ونحو ذلک مما تثبت بالأدلۃ أنّہ کفر

وفي ’’المسامرۃ‘‘ و’’المسایرۃ‘‘، ص۳۵۴ :(یکفر من استخفّ بنبي أو بالمصحف أو بالکعبۃ، وہو مقتضٍ لاعتبار تعظیم کلّ منہا ؛ لأنّ اللّٰہ جعلہ في رتبۃ علیا من التعظیم غیر أنّ الحنفیۃ اعتبروا من التعظیم المنافي للاستخفاف بما عظمہ اللّٰہ تعالی ما لم یعتبرہ غیرہم، (ولاعتبار التعظیم المنافي للاستخفاف) المذکور (کفّر الحنفیۃ) أي: حکموا بالکفر (بألفاظ کثیرۃ وأفعال تصدر من المتہتکین) الذین یجترؤن بہتک حرمات دینیۃ (لدلالتہا) أي: لدلالۃ تلک الألفاظ والأفعال (علی الاستخفاف بالدین، کالصلاۃ بلا وضوء عمداً، بل) قد حکموا بالکفر (بالمواظبۃ علی ترک سنۃ استخفافاً بہا بسبب أنّہا إنّما فعلہا النبي زیادۃ، أو استقباحہا) بالجر عطفاً علی المواظبۃ: أي: بل قد کفّر الحنفیۃ من استقبح سنۃ (کمن استقبح من) إنسان (آخر جعل بعض العمامۃ تحت حلقہ أو) استقبح منہ (إخفاء شاربہ

وانظر ’’منح الروض الأزہر‘‘، ص۱۵۲، و’’رد المحتار‘‘، کتاب الجھاد، باب المرتد، ج۶، ص۳۴۳۔

16 وہ دھاگہ یا ڈوری جو ہندو گلے سے بغل کے نیچے تک ڈالتے ہیں ، اور عیسائی ، مجوسی اور یہودی کمر میں باندھتے ہیں ۔

’’اردو لغت تاریخی اصول پر‘‘ ، ج۱۱، ص۱۶۲۔

[17] وہ چند بال جو بچے کے سر پر منت مان کر ہندو رکھتے ہیں ۔ ’’فرہنگ آصفیہ‘‘، ج۱، ص۱۰۴۔

[18] پیشانی پر صندل یا زعفران کے دو نشانات، ٹیکا، تلک جو ہندو ماتھے پر لگاتے ہیں ۔ ’’اردو لغت تاریخی اصول پر‘‘ ، ج۱۴، ص۲۵۴۔

[19] في ’’منح الروض الأ زہر‘‘ للقاریٔ، فصل في الکفر صریحا وکنایۃ، ص۱۸۵: (ولو شد الزنار علی وسطہ أو وضع الغل علی کتفہ فقدکفر، أي: إذا لم یکن مکرہاً في فعلہ، وفي ’’الخلاصۃ‘‘: ولو شد الزنار قال أبو جعفر الأستروشني: إن فعل لتخلیص الأساری لا یکفر، وإلاّ کفر

’’فتاوی رضویہ‘‘ میں ہے: ’’اگر وہ وضع اُن کفار کا مذہبی دینی شعار ہے جیسے زنار ، قشقہ، چُٹیا، چلیپا، تو علماء نے اس صورت میں بھی حکم کفر دیا کما سمعت آنفاً‘‘۔ (’’فتاوی رضویہ‘‘ ، جلد۲۴، ص ۵۳۲) ۔

’’فتاوی رضویہ‘‘ میں ہے :’’ماتھے پر قشقہ تِلک لگانا یاکندھے پر صلیب رکھنا کفر ہے ‘‘۔ (’’فتاوی رضویہ ‘‘، جلد۲۴، ص ۵۴۹) ۔

’’فتاوی رضویہ‘‘ میں ہے : ’’ قشقہ ضرور شعارِ کفر ومنافیِ اسلام ہے جیسے زُنار، بلکہ اس سے زائد کہ وہ جسم سے جدا ایک ڈورا ہے جو اکثر کپڑوں کے نیچے چھپا رہتا ہے اور یہ خاص بدن پر اور بدن میں بھی کہاں چہرے پر ، اور چہرے میں کس جگہ ماتھے پر جو ہر وقت چمکے اور دور سے کھلے حرفوں میں منہ پر لکھا دکھائے کہ ہذا من الکافرین ‘‘۔ (’’فتاوی رضویہ‘‘ ، ج۱۴، ص۳۹۳) ۔

[20] في ’’العقود الدریۃ‘‘، باب الردۃ والتعزیر، ج۱، ص۱۰۱: (وقال في ’’البزازیۃ‘‘: ولو ارتد ۔والعیاذ باللّٰہ تعالی۔ تحرم امرأتہ ویجدّد النکاح بعد إسلامہ ویعید الحج۔۔۔ إلخ)۔

[21] جس چیزکا حلال ہونا ایسی صریح واضح اور یقینی دلیل سے ہو جس میں تاویل وتوجیہ کی کوئی گنجائش ہی نہ ہو ۔

[22] في ’’منح الروض الأزہر‘‘، استحلال المعصیۃ، ص۱۵۲: (إذا اعتقد الحرام حلالًا، فإن کان حرمتہ لعینہ وقد ثبت بدلیل قطعي یکفر وإلاّ فلا بأن تکون حرمتہ لغیرہ أو ثبت بدلیل ظنيّ، وبعضہم لم یفرّق بین الحرام لعینہ ولغیرہ، فقال: من استحلّ حراماً وقد علم في دین النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم تحریمہ کنکاح ذوي المحارم أو شرب الخمر أو أکل میتۃ أو دم أو لحم خنزیر من غیر ضرورۃ فکافر

فیہ في فصل في الکفر صریحا وکنایۃ، ص۱۸۸: (ومن استحلّ حراماً وقد علم تحریمہ في الدین: أي: ضرورۃ کنکاح المحارم أو شرب الخمر أو أکل المیتۃ والدم ولحم الخنزیر أي: في غیر حال الاضطرار ومن غیر إکراہ بقتل أو ضرب فظیع لا یحتملہ، وعن محمد رحمہ اللّٰہ بدون الاستحلال ممن ارتکب کفر، أي: في روایۃ شاذۃ عنہ ولعلّھا محمولۃ علی مرتکب نکاح المحارم فإنّ سیاق الحال یدلّ علی الاستحلال لبقیۃ المحرمات، واللّٰہ أعلم بالأحوال، قال: والفتوی علی التردید إن استعمل مستحلاً کفر وإلاّ، لا في ’’تفسیر الخازن‘‘، ج۱، ص۴۶۸: (وقیل: إنّ من أحل ما حرم اللّٰہ أو حرم ما أحل اللّٰہ أو جحد بشیء مما أنزل اللّٰہ فقد کفر باللّٰہ وحبط عملہ المتقدم’’فتاوی رضویہ‘‘ میں ہے : ’’کتب عقائد میں تصریح ہے کہ تحلیل حرام وتحریم حلال دونوں کفرہیں یعنی جو شے مباح ہو جسے اللہ ورسول نے منع نہ فرمایا اسے ممنوع جاننے والا کافر ہے جبکہ اس کی اباحت وحلت ضروریاتِ دین سے ہو یا کم از کم حنفیہ کے طور پر قطعی ہو ورنہ اس میں شک نہیں کہ بے منع خدا و رسول منع کرنے والا شریعت ِمطہرہ پر افتراء کرتاہے اور اللہ عزوجل پر بہتان اٹھاتاہے اور اس کا ادنی درجہ فسق شدید وکبیرہ وخبیثہ ہے ۔

قال اللّٰہ تعالٰی: { وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ(۱۱۶)}۔ اور جو کچھ تمھاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں (اس کے متعلق یہ نہ کہا کرو کہ )یہ حلال او ریہ حرام ہے تاکہ تم اللہ تَعَالٰی پر جھوٹ باندھو (یاد رکھو) جو لوگ اللہ تَعَالٰی پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوتے۔ (ت) وقال اﷲ تعالٰی (نیز اللہ تَعَالٰی نے ارشاد فرمایا۔ ت): { اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ }۔

اللہ تَعَالٰی کے ذمے وہی لوگ جھوٹا الزام لگاتے ہیں (جو درحقیقت) ایمان نہیں رکھتے (ت)۔ (’’الفتاوی الرضویۃ ‘‘، ج۲۱، ص۱۷۵) ۔

[23] وہ علم جو دلیل کا محتاج ہو۔

[24] في ’’تفسیر روح البیان‘‘، پ۱۷، الأ نبیاء، تحت الآیۃ: ۵۳۔۵۴، ج۵، ص۴۹۱: { قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ(۵۳)قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(۵۴)} واعلم أنّ التقلید قبول قول الغیر بلا دلیل وہو جائز في الفروع والعملیات ولا یجوزیجوز في أصول الدین والاعتقادیات بل لا بدّ من النظر والاستدلال لکن إیمان المقلد صحیح عند الحنفیۃ والظاہریۃ وہو الذی اعتقد جمیع ما وجب علیہ من حدوث العالم ووجود الصانع وصفاتہ وإرسال الرسل وما جاؤوا بہ حقاً من غیر دلیل؛ لأنّ النبي علیہ السلام قبل إیمان الأعراب والصبیان والنسوان والعبید والإماء من غیر تعلیم الدلیل ولکنّہ یأثم بترک النظر والاستدلال لوجوبہ علیہوفي ’’تفسیر روح البیان‘‘، پ۲۵، الزخرف، تحت الآیۃ: ۲۲: { بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ(۲۲)} ج۸، ص۳۶۱: وفیہ ذم للتقلید وہو قبول قول الغیر بلا دلیل وہو جائز في الفروع والعملیات ولا یجوز في أصول الدین والاعتقادیات بل لا بد من النظر والاستدلال لکن إیمان المقلد صحیح عند الحنفیۃ والظاہریۃ وہو الذي اعتقد جمیع ما وجب علیہ من حدوث العالم ووجود الصانع وصفاتہ وإرسال الرسل وما جاؤا بہ حقاً من غیر دلیل؛ لأنّ النبي علیہ السلام قبل إیمان الأعراب والصبیان والنسوان والعبید والإماء من غیر تعلیم الدلیل ولکنّ المقلد یأثم بترک النظر والاستدلال لوجوبہ علیہ، والمقصود من الاستدلال ہو الانتقال من الأثر إلی المؤثر ومن المصنوع إلی الصانع تعالی بأي وجہ کان، لا ملاحظۃ الصغری والکبری وترتیب المقدمات للإنتاج علی قاعدۃ المعقول فمن نشأ في بلاد المسلمین وسبح اللہ عند رؤیۃ صنائعہ فہو خارج عن حد التقلید کما في فصل الخطاب والعلم الضروري أعلی من النظري؛ إذ لا یزول بحال وہو مقدمۃ الکشف والعیان وعند الوصول إلی الشہود لا یبقی الاحتیاج إلی الواسطۃ۔

’’فتاوی رضویہ‘‘، ج۲۹، ص۲۱۵ میں ہے: ’’جس طرح فقہ میں چار اصول ہیں کتاب، سنت، اجماع، قیاس، عقائدمیں چار اصول ہیں کتاب، سنت ، سواد اعظم، عقل صحیح، تو جو اِن میں ایک کے ذریعہ سے کسی مسئلہ عقائد کو جانتا ہے دلیل سے جانتا ہے نہ کہ بے دلیل محض تقلیداً، اہل سنت ہی سواد اعظم اسلام ہیں ،تو ان پر حوالہ دلیل پر حوالہ ہے نہ کہ تقلید۔ یوں ہی اقوالِ آئمہ سے استناد اسی معنیٰ پر ہے کہ یہ اہلسنت کا مذہب ہے ولہذا ایک دو دس بیس علماء کبا ر ہی سہی اگر جمہور و سواد اعظم کے خلاف لکھیں گے اس وقت ان کے اقوال پر نہ اعتماد جائز نہ استناد کہ اب یہ تقلید ہوگی اور وہ عقائد میں جائز نہیں ،اس دلیل اعنی سواد اعظم کی طرف ہدایت اﷲو رسول جل و عَلَا وَصَلَّی اﷲُتَعَالی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی کمال رحمت ہے،ہر شخص کہاں قادر تھا کہ عقیدہ کتاب و سنت سے ثابت کرے عقل تو خود ہی سمعیات میں کافی نہیں ناچار عوام کو عقائد میں تقلید کرنی ہوتی،لہذا یہ واضح روشن دلیل عطا فرمائی کہ سوادِ اعظم مسلمین جس عقیدہ پر ہو وہ حق ہے اس کی پہچان کچھ دشوار نہیں ،صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم کے وقت میں تو کوئی بدمذہب تھا ہی نہیں اور بعد کو اگرچہ پیدا ہوئے مگر دنیا بھر کے سب بدمذہب ملا کر کبھی اہلسنت کی گنتی کو نہیں پہنچ سکےﷲالحمد۔

فقہ میں جس طرح اجماع اقوی الاَدِلّہ ہے کہ اجماع کے خلاف کا مجتہد کو بھی اختیار نہیں اگرچہ وہ اپنی رائے میں کتاب و سنت سے اس کا خلاف پاتا ہو یقیناً سمجھا جائے گا کہ یا فہم کی خطا ہے یا یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے اگرچہ مجتہد کو اس کا ناسخ نہ معلوم ہویونہی اجماع امت تو شے عظیم ہے سواد اعظم یعنی اہلسنت کا کسی مسئلہ عقائد پر اتفاق یہاں اقوی الادلہ ہے کتاب و سنت سے اس کا خلاف سمجھ میں آئے تو فہم کی غلطی ہے حق سوادِ اعظم کے ساتھ ہے اور ایک معنی پر یہاں اقوی الادلہ عقل ہے کہ اور دلائل کی حجیت بھی اسی سے ظاہر ہوئی ہے مگر محال ہے کہ سواد اعظم کا اتفاق کسی برہان صحیح عقلی کے کے خلاف ہویہ گنتی کے جملے ہیں مگر بحمدہ تعالی بہت نافع و سود مند، فعضوا علیہا بالنواجذ ( پس ان کو مضبوطی سے داڑھوں کے ساتھ پکڑلو ۔ت) واﷲتعالیٰ اعلم‘‘۔

[25] آپ علیہ الرحمۃ کا نام ابو منصور محمد بن محمد بن محمود ماتریدی سمرقندی حنفی ہے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ’’ امام المتکلمین‘‘ اور ’’امام الھدی‘‘ کے لقب سے مشہور ہیں ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے عقائدِ مسلمین کی وضاحت اور باطل عقیدہ والوں کی تردید میں کئی کتب تصنیف فرمائیں جن میں سے بعض کتابوں کے نام یہ ہیں : ’’ کتاب التوحید‘‘، ’’کتاب المقالات‘‘ ، ’’ کتاب ردّ دلائل الکعبی‘‘ اور ’’کتاب تاویلات القرآن‘‘ ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اور آپ کے ساتھیوں کو ’’سمرقند‘‘کے ایک محلہ ’’ماتُرید‘‘ کی طرف نسبت کی وجہ سے ’’ماتریدی‘‘ کہا جاتا ہے، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا وصال ۳۳۳ ہجری میں ہوا ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا مزار سمرقند میں ہے ۔ ( ’’الفوائد البھیۃ‘‘ ، ص ۲۵۵ ، ’’ہدیۃ العارفین‘‘، ج۲، ۳۶۔۳۷، ’’معجم المؤلفین ‘‘، ج ۳ ، ص ۶۹۲)۔

[26] آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا نام ابو الحسن علی بن اسماعیل بن اسحاق بن اسماعیل بن عبداللہ بن بلال ہے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا سلسلہ نسب صحابی ٔرسول حضرت ابو موسی اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عنہ سے جا ملتا ہے، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اکثر متکلمینِ اہل سنت کے رئیس ہیں ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے اصحاب کو ’’اشاعرہ‘‘ کہا جاتا ہے، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بھی کئی کتب تصنیف فرمائی جن میں سے چند کے نام یہ ہیں : ’’الفصول فی الرد علی الملحدین والخارجین عن الملۃ‘‘ ،’’الرد علی المجسمۃ‘‘ ، ’’ کتاب مقالات الاسلامیین واختلاف المصلین‘‘، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا وصال ۳۲۴ ہجری میں بغداد میں ہوا۔ (’’النبراس‘‘، ص۲۰، ’’سیر أعلام النبلاء‘‘، ج۱۱، ص۵۴۱ ’’معجم المؤلفین‘‘، ج۲، ص۴۰۵، ’’الأعلام‘‘ للزرکلي، ج۴، ص۲۶۳)۔

[27] في ’’البریقۃ المحمودیۃ‘‘، الباب الأول، النوع الثاني، ج۱، ص۲۰۰: (عن عبد اللّٰہ بن عمر رضي اللّٰہ تعالی عنہما قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((لیأتین علی أمتي ما أتی علی بني إسرائیل حذو النعل بالنعل حتی إن کان منہم من أتی أمہ علانیۃ لکان في أمتي من یصنع ذلک وإنّ بني إسرائیل تفرقت علی ثنتین وسبعین ملۃ وتفترق أمتي علی ثلاث وسبعین ملۃ کلہم في النار إلاّ ملۃ واحدۃ)) قالوا: ومن ہي یا رسول اللّٰہ قال: ((ما أنا علیہ وأصحابي)) وہي أہل السنۃ والجماعۃ من الماتریدیۃ والأشاعرۃ، فإن قیل: کل فرقۃ تدعي أنّہا أہل السنۃ والجماعۃ، قلنا: ذلک لا یکون بالدعوی بل بتطبیق القول والفعل وذلک بالنسبۃ إلی زماننا إنّما یمکن بمطابقۃ صحاح الأحادیث ککتب الشیخین وغیرہما من الکتب التي أجمع علی وثاقتہا کما في ’’المناوي‘‘، فإن قیل: فما حال الاختلاف بین الأشاعرۃ والماتریدیۃ؟ قلنا: لاتحاد أصولہما لم یعد مخالفۃ معتدۃ؛ إذ خلاف کل فرقۃ لا یوجب تضلیل الأخری ولا تفسیقہا فعدتا ملۃ واحدۃ، وأمّا الخلاف في الفرعیات وإن کان کثرۃ اختلاف صورۃ لکن مجتمعۃ في عدم مخالفۃ الکل کتاباً نصاً ولا سنۃ قائمۃً ولا إجماعاً ولا قیاساً صحیحاً عندہ وأنّ الکل صارف غایۃَ جہدِہ وکمالَ وسعِہ في إصابۃ السنّۃ وإن أخطأ بعضٌ لقوّۃ خفاء الدلیل، ولہذا یعذر ویُعفی بل یؤجر، قال المناوي في ’’شرح الجامع‘‘: عدّ ہذا الحدیث المؤلّف من المتواتر

في ’’شرح المقاصد‘‘، الفصل الثالث: في الأسماء والأحکام، المبحث الثامن حکم المؤمن والکافر والفاسق، ج۳، ص۴۶۴۔۴۶۵: (والمشہور من أہل السنۃ في دیار ’’خراسان‘‘ و’’العراق‘‘ و’’الشام‘‘ وأکثر الأقطار ہم الأشاعرۃ أصحاب أبي الحسن، علي بن إسماعیل بن إسحٰق بن سالم بن إسماعیل بن عبد اللّٰہ بن بلال بن أبي بردۃ بن أبي موسی الأشعري صاحب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أول مَن خالف أبا علي الجبائي، ورجع عن مذہبہ إلی السنّۃ، أي: طریقۃ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم والجماعۃ أي: طریقۃ الصحابۃ۔ وفي دیار ’’ما وراء النہر‘‘ الماتریدیۃ أصحاب أبي منصور الماتریدي تلمیذ أبي نصر العیاض، تلمیذ أبي بکر الجوزجاني صاحب أبي سلیمان الجوزجاني، تلمیذ محمد بن الحسن الشیباني رحمہ اللّٰہ و’’ماترید‘‘ من قری ’’سمرقند‘‘، وقد دخل الآن فیہا بین الطائفتین اختلاف في بعض الأصول، کمسألۃ التکوین، ومسألۃ الاستثناء في الإیمان، ومسألۃ إیمان المقلد وغیر ذلک۔ والمحققون من الفریقین لا ینسبون أحدہما إلی البدعۃ والضلالۃ خلافاً للمبطلین المتعصبین انظر’’مجموعۃ حواشي البھیۃ‘‘، ’’حاشیہ المحقق مولانا عصام الدین علی شرح العقائد النسفیہ‘‘، ج۲، ص ۳۱۔

وانظر ’’حاشیۃ العلامۃ مولانا ولي الدین علی حاشیہ المحقق مولانا عصام الدین، ج۲، ص۳۱، و’’النبراس‘‘، بیان اختلاف الأشعریۃ والماتریدیۃ، ص۲۲، و’’رد المحتار‘‘، المقدمۃ، مطلب: یجوز تقلید المفضول مع وجود الأفضل، ج۱، ص۱۱۹۔

28 یعنی گمراہ اور فاسق نہیں کہہ سکتا۔

[29] تصدیق، اعتماد ویقین کی ایک کیفیت کا نام ہے۔

[30] في ’’شرح العقائد النسفیہ‘‘، ص۱۲۵۔۱۲۷: (إنّ حقیقۃ الإیمان لا تزید ولا تنقص لما مرّ من أنّہا التصدیق القلبي الذي بلغ حد الجزم والإذعان وہذا لا یتصور فیہ زیادۃ ولا نقصان حتی إنّ من حصل لہ حقیقۃ التصدیق فسواء أتی بالطاعات أو ارتکب المعاصي فتصدیقہ باق علی حالہ لا تغیر فیہ أصلاً والآیات الدالۃ علی زیادۃ الإیمان محمولۃ علی ما ذکرہ أبو حنیفۃ أنّہم کانوا آمنوا في الجملۃ ثم یأتي فرض بعد فرض وکانوا یؤمنون بکل فرض خاص وحاصلہ أنّہ کان یزید بزیادۃ ما یجب بہ

الإیمان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقال بعض المحققین: لا نسلم أنّ حقیقۃ التصدیق لا تقبل الزیادۃ والنقصان بل تتفاوت قوۃ وضعفاً وانظر للتفصیل ’’ النبراس‘‘، والإیمان لا یزید ولا ینقص، ص۲۵۷۔ وانظر رسالۃ إمام أہل السنۃ رحمہ اللّٰہ تعالی ’’الزلال الأنقی من بحر سبقۃ الأتقی‘‘، ج۲۸، ص۵۹۸۔۵۹۹۔

31 ((عن ھزیل بن شرحبیل، قال: قال عمر بن الخطاب رضي اللّٰہ عنہ : لو وزن إیمان أبي بکر بإیمان أھل الأرض لرجح بھم))۔ (’’شعب الإیمان‘‘، باب القول في زیادۃ الإیمان ونقصانہ۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۳۶، ج۱، ص۶۹)۔

[32] قال الإمام الرازي تحت ہذہ الآیۃ: { اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًاؕ-}۔۔۔ إلخ في ’’التفسیر الکبیر‘‘، ج۶، ص۲۰۶: (احتج أصحابنا بہذہ الآیۃ علی أنّہ لا واسطۃ بین أن یکون المکلف مؤمناً وبین أن یکون کافراً ، لأنّہ تعالی اقتصر في ہذہ الآیۃ علی ذکر ہذین القسمین في’’ تفسیر البیضاوی‘‘، پ۶، النساء: ۱۵۰، ج ۲، ص۲۷۳۔۲۷۴: { اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ } بأن یؤمنوا باللہ ویکفروا برسلہ{ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍۙ- } نؤمن ببعض الأنبیاء ونکفر ببعضہم، { وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًاۙ(۱۵۰)} طریقاً وسطاً بین الإِیمان والکفر، لا واسطۃ؛ إذ الحق لا یختلف فإنّ الإیمان باللّٰہ سبحانہ وتعالی لا یتمّ إلاّ بالإِیمان برسلہ وتصدیقہم فیما بلغوا عنہ تفصیلاً أو إجمالاً، فالکافر ببعض ذلک کالکافر بالکل في الضلال کما قال اللّٰہ تعالی: { فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ۚۖ-}۔

وفي ’’تفسیر النسفي‘‘، ص۲۶۲، تحت الآیۃ: { وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًاۙ(۱۵۰)} (أي: دیناً وسطاً بین الإیمان والکفر ولا واسطۃ بینہما

اعلی حضرت امام اہلسنت مجدد دین وملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ’’فتاوی رضویہ‘‘ شریف میں فرماتے ہیں :

(اقول وباللہ التوفیق: توضیح اس دلیل کی علی حسب مرامھم (ان کے مقاصد کے مطابق ۔ت) یہ ہے کہ کافر نہیں مگر وہ جس کادین کفر ہے اور کوئی آدمی دین سے خالی نہیں ، نہ ایک شخص کے ایک وقت میں دو دین ہو سکیں ، فإنّ الکفر والإسلام علی طرفي النقیض بالنسبۃ إلی الإنسان لا یجتعمان أبداً ولا یرتفعان، قال تعالی: { اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا(۳)} [پ۲۹، الدھر: ۳]، وقال تعالی: { مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖۚ-} [پ۲۱، الأحزاب: ۴]۔ ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۶، ص۷۱۲۔

[33] ہاں یہ ممکن ہے کہ ہم بوجہ شبہ کے کسی کو نہ مسلمان کہیں نہ کافر جیسے یزید پلیدواسمٰعیل دہلوی۔ ۱۲ منہ

[34] في ’’تفسیر الخازن‘‘، ج۱، ص۲۶: (وکفر نفاق، وہو أن یقرّ بلسانہ ولا یعتقد صحۃ ذلک بقلبہ

وفي ’’تفسیر النسفي‘‘، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۸، ص۲۴: (ثم ثلث بالمنافقین الذین آمنوا بأفواھھم ولم تؤمن قلوبھم وھم أخبث الکفرۃ؛ لأنّھم خلطوا بالکفر استھزاء وخداعا

[35] { اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ(۱۴۵)} ( پ۵، النسآء: ۱۴۵)۔

[36] { وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ ﳍ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ ﳌ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ-لَا تَعْلَمُهُمْؕ-نَحْنُ نَعْلَمُهُمْؕ-سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ(۱۰۱)} (پ۱۱، التوبۃ: ۱۰۱)۔

[37] عن ابن عباس، في قولہ: { وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ ﳍ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ ﳌ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ-لَا تَعْلَمُهُمْؕ-نَحْنُ نَعْلَمُهُمْؕ-سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ(۱۰۱)}[التوبۃ: ۱۰۱]، قال: قام رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یوم جمعۃ خطیباً، فقال: ((قم یا فلا ن فاخرج ؛ فإنّک منافق، اخرج یا فلا ن فإنّک منافق))، فأخرجھم بأسمائھم ففضحھم، ولم یکن عمر بن الخطاب شھد تلک الجمعۃ کانت لہ، فلقیھم عمر وھم یخرجون من المسجد فاختبأ منھم استحیاء أنّہ لم یشھد الجمعۃ، وظنّ أنّ الناس قد انصرفوا، واختبؤا ھم من عمر، وظنّوا أنّہ قد علم بأمرھم، فدخل عمر المسجد فإذا الناس لم ینصرفوا۔ فقال لہ رجل: أبشر یا عمر فقد فضح اللّٰہ المنافقین الیوم، فھذا العذ اب الأول، والعذ اب الثاني عذ اب القبر))۔

(’’ المعجم الأوسط‘‘، من اسمہ أحمد، الحدیث: ۷۹۲، ج۱، ص۲۳۱)۔

[38] یعنی یقین۔

[39] في ’’شرح العقائد النسفیۃ‘‘، مبحث الأفعال کلھا بخلق اللّٰہ تعالٰی، ص۷۸: (الإشتراک ھو إثبات الشریک في الألوھیۃ بمعنی وجوب الوجود کما للمجوس أو بمعنی استحقاق العبادۃ کما لعبدۃ الأصنام

وانظر ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۲۱، ص۱۳۱۔

[40] { اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُؕ-وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ۪-وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ٘-وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ }(پ۶، المائدۃ: ۵)۔ وفي ’’تفسیر الخازن‘‘، المائدۃ: ۵، ج۱، ص۴۶۷۔۴۶۸: ({وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ۪- } یعني: وذبائح أھل الکتاب حلّ لکم وہم الیہود والنصاری ومن دخل في دینہم من سائر الأمم قبل مبعث النبيصلی اللّٰہ علیہ وسلم، فأمّا من دخل في دینہم بعد مبعث النبيصلی اللّٰہ علیہ وسلم وہو متنصر والعرب من بنيتغلب فلا تحل ذبیحتہ روي عن علي بن أبي طالب قال: لا تأکل من ذبائح نصاری العرب بني تغلب فإنّہم لم یتمسکوا بشيء من النصرانیۃ إلاّ بشرب الخمر، وبہ قال ابن مسعود،۔۔۔۔۔۔۔ وأجمعوا علی تحریم ذبائح المجوس وسائر أہل الشرک من مشرکي العرب وعبدۃ الأصنام ومن لا کتاب لہ۔وقولہ تعالٰی: { وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ } یعني: وأحلّ لکم المحصنات من أھل الکتاب الیہود والنصاری قال ابن عباس: یعني: الحرائرمن أھل الکتاب

انظر التفصیل لہذہ المسألۃ في رسالۃ الإمام أحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن المسماۃ بـ’’إعلام الأعلام بأنّ ہندوستان دار السلام‘‘، ’’الفتاوی الرضویۃ، ج۱۴، من ص۱۱۶إلی۱۲۲۔

{ وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى یُؤْمِنَّؕ- } (پ۲، البقرۃ: ۲۲۱)۔

وفي ’’تفسیر الخازن‘‘، البقرۃ: ۲۲۱، ج۱، ص۱۶۰: (ومعنی الآیۃ ولا تنکحوا أیہا المؤمنون المشرکات حتی یؤمن أي: یصدقن باللّٰہ ورسولہ وہو الإقرار بالشہادتین والتزام أحکام المسلمین

انظر ’’الدرالمختار‘‘ و’’رد المحتار‘‘،کتاب النکاح، فصل في المحرمات، مطلب: مھم في وطء السراري اللاتي۔۔۔ إلخ، ج۴، ص۱۳۲تا۱۳۴۔ وانظر ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱۵، ص۶۲۱،۶۲۲۔

[41] اسلامی حکومت میں اہلِ کتاب یعنی عیسائیوں اور یہودیوں سے سالانہ ٹیکس۔

[42] في ’’تفسیر الخازن‘‘، تحت الآیۃ: { قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ } التوبۃ: ۲۹، ج۲، ص۲۳۰: (فذہب الشافعي إلی أنّ الجزیۃ علی الأدیان لا علی الأنساب فتؤخذ من أہل الکتاب عرباً کانوا أو عجماً ولا تؤخذ من عبدۃ الأوثان و’’الہدایۃ‘‘، کتاب السیر، باب الجزیۃ، الجزء الثاني، ج۱، ص۴۰۱۔

و’’فتح القدیر‘‘، کتاب السیر، باب الجزیۃ، ج ۵، ص۲۹۱۔۲۹۲۔

و’’البنایۃ في شرح الہدایۃ‘‘، کتاب السیر، باب الجزیۃ، ج۹، ص۳۴۶۔۳۴۷۔

[43] { اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ}، ( پ۵، النسآء : ۴۸)۔

[44] { وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ- } (پ۵، النسآئ: ۴۸)۔

في ’’تفسیر روح البیان‘‘، ج۲، ص۲۱۸: ({اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ} أي: لا یغفر الکفر ممن اتصف بہ بلا توبۃ وإیمان؛ لأنّ الحکمۃ التشریعیۃ مقتضیۃ لسدّ باب الکفر وجواز مغفرتہ بلا إیمان مما یؤدي إلی فتحہ ولأنّ ظلمات الکفر والمعاصي إنّما یسترہا نور الإیمان فمن لم یکن لہ إیمان لم یغفر لہ شيء من الکفر والمعاصی{ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ- } أي: ویغفر ما دون الشرک في القبح من المعاصي صغیرۃ کانت أو کبیرۃ تفضلاً من لدنہ وإحساناً من غیر توبۃ عنہا لکن لا لکل أحد بل { لِمَنْ یَّشَآءُۚ- } أن یغفر لہ ممن اتصف بہ فقط أي: لا بما فوقہ

وفي ’’روح المعاني‘‘، الجزء الخامس، ص۶۸: (والشرک یکون بمعنی اعتقاد أنّ للّٰہ تعالی شأنہ شریکاً إمّا في الألوہیۃ أو في الربوبیۃ ، وبمعنی الکفر ۔مطلقاً وہو المراد ہنا۔)۔

في ’’شرح العقائد النسفیۃ‘‘، ص۱۰۷۔۱۰۸: (الکبیرۃ وقد اختلف الروایات فیھا فروی ابن عمر أنّہا تسعۃ: الشرک باللّٰہ۔۔۔إلخ

وفي ’’مجموعۃ الحواشي البہیۃ‘‘، ’’حاشیۃ عصام الدین‘‘ تحت ہذہ العبارۃ، ج۲، ص۲۱۸: (المراد مطلق الکفر وإلاّ لورد أنواع الکفر غیرہ

في ’’عمدۃ القاریٔ شرح صحیح البخاري‘‘،ج۱، ص۳۰۵: (المراد بالشرک في ہذہ الآیۃ الکفر؛ لأنّ من جحد نبوۃ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم مثلاً کان کافراً ولو لم یجعل مع اللّٰہ إلھاً آخر والمغفرۃ منتفیۃ عنہ بلا خلاف وقد یرد الشرک ویراد بہ ما ہو أخص من الکفر کما فی قولہ تعالی: { لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ }

وانظر ’’الحدیقۃ الندیۃ‘‘، ج۱، ص۲۷۶۔۲۷۷۔

[45] في ’’العقائد‘‘ لعمر النسفي، ص۲۲۱: (والکبیرۃ لا تخرج العبد المؤمن من الإیمان ولا تدخلہ في الکفر، واللّٰہ تعالی

لایغفر أن یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء من الصغائر والکبائر

في ’’شرح العقائد النسفیۃ‘‘، ص۱۱۲: (إنّ مرتکب الکبیرۃ لیس بکافر والإجماع المنعقد علی ذلک علی ما مرّ

’’فتاویٰ رضویہ‘‘، ج ۲۱، ص۱۳۱ پر ہے: ’’اہلسنت کا اجماع ہے کہ مومن کسی کبیرہ کے سبب اسلام سے خارج نہیں ہوتا ‘‘۔(’’ الفتاوی الرضویۃ ‘‘، ج۵، ص۱۰۱) ۔

[46] في ’’العقائد‘‘ لعمر النسفي، ص۲۲۱: (وأھل الکبائر من المؤمنین لا یخلدون في النار

في ’’شرح العقائد النسفیۃ‘‘، ص۱۱۷: (وأھل الکبائر من ا لمؤمنین لا یخلدون في النار وإن ماتوا من غیر توبۃ لقولہ تعالٰی: { فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷)}۔۔۔ إلخ۔ وفي ’’عمدۃ القاري‘‘، ج۱، ص۳۰۵: (مذھب أھل الحق علی أنّ من مات موحداً لا یخلد في النار وإن ارتکب من الکبائر غیر الشرک ما ارتکب وقد جاء ت بہ الأحادیث الصحیحۃ منہا قولہ علیہ السلام: ((وإن زنی وإن سرق))۔ وانظر ’’الحدیقۃ الندیۃ‘‘، ج۱، ص۲۷۶۔

[47] … جنّتی۔

[48] في ’’البحر الرائق‘‘، ج ۱، ص۵۷۶: (لا یجوز الدعاء بالمغفرۃ للمشرک، ولقد بالغ القرافي المالکي کما نقلہ في شرح ’’منیۃ المصلي‘‘ بأن قال: إنّ الدعاء بالمغفرۃ للکافر کفرٌ لطلبہ تکذیب اللّٰہ تعالی فیما أخبر بہ)۔ ’’فتاوی رضویہ‘‘ میں ہے: ( کافر کے لیے دعائے مغفرت و فاتحہ خوانی کفر خالص وتکذیبِ قرآن عظیم ہے کما فی ’’العالمگیریہ‘‘ و غیرھا )۔(’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۲۱، ص۲۲۸)۔ انظر ’’فضائل دعا‘‘، ص۲۰۳، والتفصیل في ’’جد الممتار‘‘، کتاب الصلاۃ ، فصل إذا أراد الشروع، ص۲۲۴ تا ۲۳۱۔

[49] … جو کسی منکرِ ضروریات دین کو کافر نہ کہے آپ کافر ہے ، امام علامہ قاضی عیاض قدس سرہ ’’ شفا شریف‘‘ میں فرماتے ہیں : الإجماع علی کفر من لم یکفر أحداً من النصاری والیہود و کلّ من فارق دین المسلمین أو وقف في تکفیرھم أو شک، قال القاضي أبو بکر: لأنّ التوقیف والإجماع اتفقا علی کفرھم فمن وقف في ذلک فقد کذب النص والتوقیف أو شک فیہ، والتکذیب والشک فیہ لا یقع إلاّ من کافر۔یعنی اجماع ہے اس کے کفر پر جو یہود ونصاری یا مسلمانوں کے دین سے جدا ہونیوالے کو کافر نہ کہے یا اس کے کافر کہنے میں توقف کرے یا شک لائے، امام قاضی ابوبکر باقلانی نے اس کی وجہ یہ فرمائی کہ نصوص شرعیہ و اجماعِ امت ان لوگوں کے کفر پر متفق ہیں تو جو ان کے کفر میں توقف کرتا ہے وہ نص وشریعت کی تکذیب کرتا ہے یا اس میں شک رکھتا ہے اور یہ امر کافر ہی سے صادر ہوتا ہے۔

اسی میں ہے : کفر من لم یکفر من دان بغیر ملۃ الإسلام أو وقف فیھم أو شک أو صحح مذھبھم وإن أظھر الإسلام واعتقد إبطال کل مذھب سواہ فھو کافر بإظھار ما أظھر من خلاف ذلک، اھ ملخصاً۔یعنی کافر ہے جو کافر نہ کہے ان لوگوں کو کہ غیر ملت اسلام کا اعتقاد رکھتے ہیں یا ان کے کفر میں شک لائے یا ان کے مذہب کو ٹھیک بتائے اگرچہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا اور مذہب اسلام کی حقانیت اور اس کے سواسب مذہبوں کے بطلان کا اعتقاد ظاہر کرتاہوکہ اس نے بعض منکر ضروریات دین کو جب کہ کافر نہ جانا تواپنے اس اظہار کے خلاف اظہار کر چکا ا ھ ملخصا ۔ ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱۵، ص۴۴۳۔۴۴۴۔وانظر ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱۱، ص۳۷۸۔’’ فتاوی رضویہ‘‘ میں ہے : ( اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کافر کو کافر کہنے کا حکم دیا: { قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ(۱)} [پ۳۰، الکافرون: ۱] (اے نبی فرمادیجئے اے کافرو!) ہاں کافر ذمی کہ سلطنت اِسلام میں مطیع الاسلام ہوکر رہتا ہے اسے کافر کہہ کر پکارنا منع ہے اگر اسے ناگوار ہو۔

’’در مختار‘‘ میں ہے : (شتم مسلم ذمیاً عزر، وفي ’’القنیۃ‘‘: قال لیہودي أو مجوسي: یا کافر یأثم إن شق علیہ)۔

کسی مسلمان نے کسی ذمی کافر کو گالی دی تو اس پر تعزیر جاری کی جائے گی،’’قنیہ‘‘ میں ہے کسی یہودی یا آتش پرست کو’’اے کافر‘‘ کہا تو کہنے والا گنہگار ہوگا اگر اسے ناگوار گزرا، (ت)۔ (’’ الدر المختار‘‘، کتاب الحدود، باب التعزیر، ج۶، ص۱۲۳، ملتقطاً یوں ہی غیر سلطنت اسلام میں جبکہ کافر کو ’’او کافر‘‘کہہ کر پکارنے میں مقدمہ چلتاہو۔فإنّہ لا یحل لمسلم أن یذل نفسہ إلاّ بضرورۃ شرعیۃ۔تو کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے مگر جبکہ کوئی شرعی مجبوری ہو۔ (ت)۔ مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ کافر کو کافرنہ جانے یہ خود کفر ہے۔ من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر۔ جس نے ان کے عذاب اور کفرمیں شک کیا تو وہ بلاشبہ کافر ہوگیا۔(ت)

(’’الدر المختار‘‘، کتاب الجہاد، باب المرتد، ج۶، ص۳۵۶۔۳۵۷)۔

اسی طرح جب کسی کافر کی نسبت پوچھا جائے کہ وہ کیسا ہے اس وقت اس کا حکم واقعی بتانا واجب ہے، حدیث میں ہے:

((أترعون من ذکر الفاجر متی یعرفہ الناس اذکروا الفاجر بما فیہ یحذرہ الناس))۔

کیا تم بدکارکا ذکر کرنے سے گھبراتے اور خوف رکھتے ہو تو پھر لوگ اسے کب پہچانیں گے لہذا بدکار کا ان برائیوں سے ذکر کرو جو اس میں موجود ہیں تاکہ لوگ اس سے بچیں اور ہوشیار رہیں ۔ (ت)’’نوادر الأصول‘‘ للترمذي، الأصل السادس والستون والمائۃ، ص۲۱۳۔

یہ کافر کہنابطور دُشنام نہیں ہوتا بلکہ حکم شرعی کا بیان، شرع مطہر میں کافر ہر غیر مسلم کا نام ہے۔

قال اﷲ تعالٰی: { هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّ مِنْكُمْ مُّؤْمِنٌؕ-}۔۲۸، التغابن: ۲]۔

اللہ تَعَالٰی نے ارشاد فرمایا: اللہ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا فرمایا پھر کچھ تمھارے اند ر کافر ہیں اور کچھ تمھارے اندر مومن ہیں (ت)۔ سوالِ حکم کے وقت حکم کو چھپانا اگر یوں ہے کہ اسے یقینا کافر جانتاہے او راسے کافر کہنا معیوب نہیں جانتا مگر اپنی مصلحت کے سبب بچتاہے تو صرف گنہگار ہے جبکہ وہ مصلحت صحیحہ تاحد ضرورت شرعیہ نہ ہو، اور اگر واقعی کافر کوکافر کہنا معیوب وخلاف تہذیب جانتاہے تو قرآن عظیم کو عیب لگاتاہے اور قرآن عظیم کو عیب لگانا کفر ہے اور اسے کافر جانتاہی نہیں تو خود اس کے کافر ہونے میں کیا کلام ہے کہ اس نے کفر کو کفر نہ جانا تو ضرور کفر کو اسلام جانا لعدم الواسطۃ (کیونکہ کفر اوراسلام کے درمیان کوئی واسطہ نہیں ) تواسلام کو کفر جانا لأنّ ماکان کفراً فضدہ الإسلام فإذا جعلہ إسلاماً فقد جعل ضدہ کفراً؛ لأنّ الإسلام لا یضادہ إلاّ الکفر والعیاذ باﷲ تعالٰی۔اس لئے کہ جو کچھ کفر ہو تو اس کی ضد اسلام ہے، پھر جب کفر کو اسلام ٹھرایا تو پھر اس کی ضد کفر ہوگی (یعنی اسلام کفر اور کفر اسلام ہوجائے گا)کیونکہ اسلام کے مخالف صرف کفر ہے اور اللہ تَعَالٰی کی پناہ (ت)۔ (’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۲۱، ص۲۸۵۔۲۸۶)۔

50… کل مذاہب کا ایک مآل سمجھ کر مختلف مذاہب کے لوگوں سے خصومت نہ کرنا اور دوست و دشمن سے یکساں برتاؤ رکھنا ۔

(’’فرہنگ آصفیہ‘‘، ج ۲ ، ص ۲۲۴)۔

[51] … جہنم سے نجات پانے والا۔

[52] ’’سنن الترمذي‘‘، کتاب الإیمان، باب ما جاء في افتراق ھذہ الأمۃ، الحدیث: ۲۶۵۰، ج۴، ص۲۹۲۔

و’’سنن ابن ماجہ‘‘، کتاب الفتن، باب افتراق الأمم، الحدیث: ۳۹۹۳، ج۴، ص۳۵۳۔

[53] ’’السنۃ‘‘ لابن أبي عاصم، باب فیما أخبر بہ النبي علیہ السلام أنّ أمتہ ستفترق علی۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۶۳، ص۲۲۔

[54] عن ابن عمر: أنّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ((إنّ اللّٰہ لا یجمع أمتي)) أو قال: ((أمۃ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم علی ضلالۃ، وید اللّٰہ علی الجماعۃ، ومن شذ شذ إلی النار))۔

’’سنن الترمذي ‘‘، کتاب الفتن، باب ما جاء في لزوم الجماعۃ، الحدیث: ۲۱۷۳، ج۴، ص۶۸۔

قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((اتبعوا السواد الأعظم، فإنّہ من شذ شذ في النار))۔

’’مشکاۃ المصابیح‘‘، کتاب الإیمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، الفصل الثاني، الحدیث: ۱۷۴، ج۱، ص۵۵۔

وفي ’’المرقاۃ‘‘، ج۱، ص۴۲۱، تحت الحدیث: ۱۷۳ : (’’ومن شذ‘‘: أي: انفرد عن الجماعۃ باعتقاد أو قول أو فعل لم یکونوا علیہ شذ في النار، أي: انفرد فیہا، ومعناہ انفرد عن أصحابہ الذین ہم أھل الجنۃ وألقي في النار)۔

[55] قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((وتفترق أمتي علی ثلاث وسبعین ملۃ کلّہم في النار إلاّ ملۃ واحدۃ)) قالوا: من ھي؟ یا رسول اللّٰہ، قال: ((ما أنا علیہ وأصحابي))۔

’’المشکاۃ‘‘، کتاب الإیمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، الفصل الثاني، الحدیث: ۱۷۱، ج۱، ص۵۴۔

وفي ’’المرقاۃ‘‘ ج۱، ص۴۱۹، تحت ہذا الحدیث: (ھنا المراد ھم المھتدون المتمسّکون بسنّتي وسنۃ الخلفاء الراشدین من بعدي، فلا شکّ ولا ریب أنّھم ھم أھل السنۃ والجماعۃ ملتقطاً۔

’’التوضیح‘‘، ج۲، ص۵۲۸: (والمراد بالأمّۃ المطلقۃ أہل السنۃ والجماعۃ وہم الذین طریقتہم طریقۃ الرسول والصحابۃ دون أہل البدع۔۔۔ إلخ۔

في’’حاشیۃ الطحطاوي‘‘، ج۴، ص۱۵۳۔۱۵۴: (وقال تعالی:{ وَ  اعْتَصِمُوْا  بِحَبْلِ  اللّٰهِ  جَمِیْعًا  وَّ  لَا  تَفَرَّقُوْا۪-{قال بعض المفسرین المراد من{ بِحَبْلِ  اللّٰهِ  }: الجماعۃ؛ لأنّہ عقبہ بقولہ: { وَّ  لَا  تَفَرَّقُوْا }، والمراد من الجماعۃ عند أہل العلم أہل الفقہ والعلم ومن فارقہم قدر شبر وقع في الضلالۃ وخرج عن نصرۃ اللّٰہ تعالی ودخل في النار؛ لأنّ أہل الفقہ والعلم ہم المہتدون المتمسّکوں بسنّۃ محمّد علیہ الصلاۃ والسلام وسنۃ الخلفاء الراشدین بعدہ، ومن شذّ عن جمہور أہل الفقہ والعلم والسواد الأعظم فقد شذّ فیما یدخلہ في النار، فعلیکم معشر المؤمنین باتباع الفرقۃ الناجیۃ المسمّاۃ بـ ’’أہل السنۃ والجماعۃ‘‘؛ فإنّ نصرۃ اللّٰہ وحفظہ وتوفیقہ في موافقتہم، وخذلانہ وسخطہ و مقتہ في مخالفتھم، وہذہ الطائفۃ الناجیۃ قد اجتمعت الیوم في مذاہب أربعۃ وہم الحنفیون والمالکیون والشافعیون والحنبلیون رحمہم اللّٰہ، ومن کان خارجاً عن ہذہ الأربعۃ في ہذا الزمان فہو من أہل البدعۃ والنار (’’حاشیۃ الطحطاوي علی الدر‘‘، کتاب الذبائح، ج۴، ص۱۵۲۔۱۵۳)۔

56 ’’صحیح مسلم‘‘، مقدمۃ الکتاب للإمام مسلم، باب النھي عن الروایۃ عن الضعفاء۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۷، ص۹

[57] في ’’تفسیر النسفي‘‘، پ۱۹، الشعرآء، ص۸۲۵، تحت الآیۃ: ({كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ ﹰالْمُرْسَلِیْنَۚۖ(۱۰۵)} کانوا ینکرون بعث الرسل أصلاً، فلذا جمع، أو لأنّ من کذ ب واحداً منھم فقدکذب الکل؛ لأنّ کل رسول یدعو الناس إلی الإیمان بجمیع الرسل

وفي ’’تفسیر البیضاوي‘‘، ج۲، ص۲۷۳۔۲۷۴، تحت الآیۃ: ({اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ } بأن یؤمنوا باللّٰہ ویکفروا برسلہ { وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍۙ-} نؤمن ببعض الأنبیاء ونکفر ببعضہم { وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًاۙ(۱۵۰)} طریقاً وسطاً بین الإِیمان والکفر لا واسطۃ، إذ الحق لا یختلف فإنّ الإِیمان باللّٰہ سبحانہ وتعالی لا یتم إلاّ بالإِیمان برسلہ وتصدیقہم فیما بلغوا عنہ تفصیلاً أو إجمالاً، فالکافر ببعض ذلک کالکافر بالکلّ في الضلال کما قال اللّٰہ تعالی: { فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ۚۖ- }۔ و’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱۵، ص۶۲۶۔

[58] پ۱۹، الشعرآء: ۱۰۵۔

[59] في’’ الد رالمختار‘‘ ، کتاب الجھاد ، باب المرتد ، ج۶، ص۳۵۶ ۔ ۳۵۷ : ( ومن شک في عذ ابہ وکفرہ کفر

وانظر للتفصیل رسائل إمام أہل السنۃ رحمہ اللّٰہ تعالی: ’’السوء والعقاب علی المسیح الکذّاب‘‘، ج۱۵، ص۵۷۱۔

و’’قہر الدیان علی مرتد بقادیان‘‘، ج۱۵، ص۵۹۵، و’’الجراز الدیاني علی المرتد القادیاني‘‘، ج۱۵، ص۶۱۱۔

[60] نوٹ: قادیانی شیطان کی تقریباً اَ۸۰ سّی سے زائد کتابیں ہیں ، جن میں سے بعض کے نام یہ ہیں : ’’ انجامِ آتھم‘‘، ’’ضمیمہ اَنجامِ آتھم‘‘ ، ’’کشتیٔ نوح‘‘ ، ’’اِزالۂ اَوہام‘‘، ’’ دافع البلاء ومعیار اہل الاصطفاء‘‘، ’’اربعین‘‘ اور ’’براہین اَحمدیہ‘‘ وغیرہا ، ’’روحانی خزائن ‘‘ نامی کتاب میں ان کتابوں کو ۲۳ تیئس حصوں میں جمع کیا گیا ہے ۔ نیز اس شیطان کے کئی اشتہارات ہیں جو تین۳ حصوں میں جمع کئے گئے ہیں ، اور مغلظات بھی ہیں ، جنہیں دس حصوں میں ’’ملفوظات‘‘ کے نام سے جمع کیا گیا ہے ۔

[61] … ’’اِزالۂ اَوہام‘‘ صفحہ ۵۳۳، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۳، ص ۳۸۶۔

[62] … ’’انجام آتھم‘‘ صفحہ ۵۲ ، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۱، ص۵۲:

[63] ’’انجام آتھم‘‘ صفحہ ۵۵ ، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۱، ص۵۵:_

[64] پ۱۷، الانبیآء : ۱۰۷۔

[65] ''انجام آتھم'' صفحہ ۷۸ ، بحوالہ ''روحانی خزائن''، ج ۱۱، ص۷۸۔

[66] پ۲۸، الصف : ۶۔

[67] ’’روحاني خزائن‘‘، ج۱۱، ص۷۸۔ و’’توضیح المرام‘‘، ص۱۶۳، مطبوعہ ریاض الہند امرتسر۔

[68] … ’’دافع البلاء‘‘ صفحہ ۶، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۸، ص۲۲۷۔

[69] … ’’اِزالۂ اَوہام‘‘ صفحہ ۶۸۸، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۳، ص۴۷۱:

[70] … اس بارے میں نتیجہ اور انتہاء۔

[71] … ’’اِزالۂ اَوہام‘‘ صفحہ ۸، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۳، ص۱۰۶:

[72] … مِسمِریزم: ڈاکٹر مسمر باشندہ آسٹریا کا ایجاد کیا ہوا ایک علم جس میں تصور یا خیال کا اثر دوسرے کے دل پر ڈال کر پوشیدہ اور آئندہ کے حالات پوچھے جاتے ہیں ۔ ’’فیروز اللغات‘‘، ص۱۲۴۷۔

[73] … ’’اِزالۂ اَوہام‘‘ صفحہ ۷۵۰، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۳، ص۵۰۴:

[74] … ’’اِزالۂ اَوہام‘‘ صفحہ ۷۵۳، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۳، ص۵۰۶:

[75] … ’’اِزالۂ اَوہام‘‘، ۶۲۹، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج۳، ص ۴۳۹:

[76] … ’’اِزالۂ اَوہام‘‘، ۲۶۔۲۸، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج۳، ص ۱۱۵۔۱۱۶:

[77] … ’’اِزالۂ اَوہام‘‘ صفحہ ۵۳۳، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۳، ص ۳۸۶:

[78] … ’’اَربعین‘‘ نمبر ۲ ص۱۳ ، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۷، ص ۳۶۰:_

[79] … ’’معیار‘‘ ص۱۳ ، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۸، ص۲۳۳:

[80] … ’’معیار‘‘ ص۱۳ ، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۸، ص۲۳۳۔ ۲۳۴:

[81] … ’’کشتیٔ نوح‘‘ ص۱۳ ، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۹، ص۱۴:

[82] … ’’کشتیٔ نوح‘‘ ص۱۶ ، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۹، ص۱۷:

[83] … ’’دافع البلاء‘‘ صفحہ ۲۰، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۸، ص۲۴۰۔۲۴۱:

[84] … ’’دافع البلاء‘‘ صفحہ ۱۵، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۸، ص۲۳۵:

[85] … ’’اَنجام آتھم‘‘، صفحہ ۱۵، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۱، ص۴۱:

[86] … ’’کشتیٔ نوح‘‘ ص۵۶ ، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۹، ص۶۰:

[87] … ’’اِعجاز احمدی‘‘ ص۱۳، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۹، ص۱۲۰:

[88] … ’’اِعجاز احمدی‘‘ ص۱۳، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۹، ص۱۲۱:

[89] … ’’اِعجاز احمدی‘‘ ص۲۴، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۹، ص۱۳۳:

[90] پ۱۹، الشعرآء: ۲۲۲۔

[91] … ’’اِعجاز احمدی‘‘ ص۲۴، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۹، ص۱۳۳:

[92] … ’’اِعجاز احمدی‘‘ ص۱۳، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۹، ص۱۲۱:

[93] … ’’اِعجاز احمدی‘‘ ص۱۴، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۹، ص۱۲۱:

[94] … ’’کشتی نوح‘‘ ص۵، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۹، ص۵:

[95] … ’’ضمیمۂ انجام آتھم‘ ص۲۷، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۱، ص۳۱۱۔

[96] … ’’دافع البلاء‘‘، ٹائٹل ص۳، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۸، ص۲۱۹۔۲۲۰:

[97] … ’’دافع البلاء‘‘، ٹائٹل ص۳، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۸، ص۲۱۹:

[98] … ’’دافع البلاء‘‘، ٹائٹل ص۴، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۸، ص۲۲۰:

[99] … ’’ضمیمۂ انجام آتھم‘ ص۲۷، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۱، ص۲۹۱:

[100] … ’’ضمیمۂ انجام آتھم‘ ص۶۔۷، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۱، ص۲۹۱۔۲۹۲:

[101] … ’’ضمیمۂ انجام آتھم‘ ص۷، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۱، ص۲۹۱:

[102] … ’’کشتی نوح‘‘ ص۱۶، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۹، ص۱۸:

[103] … ’’انجام آتھم‘ ‘، ص۶، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۱، ص۲۹۰:

[104] … ’’انجام آتھم‘ ‘، ص۶، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۱۱، ص۲۹۱:

[105] … نبی کے معجزات۔

[106] … ’’اِزالۂ اَوھام‘‘، ص۴، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۳، ص۱۰۵۔۱۰۶:

[107] … چابی۔

[108] … ’’اِزالۂ اَوھام‘‘، ص۳۰۳، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۳، ص۲۵۴:

[109] … ’’اِزالۂ اَوھام‘‘، ص۳۱۰، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۳، ص۲۵۸:

[110] … ’’اِزالۂ اَوہام‘‘، ص۳۱۰۔۳۱۱، بحوالہ ’’روحانی خزائن‘‘، ج ۳، ص۲۵۸:

[111] … جھوٹی اور بیہودہ باتیں ۔

[112] ’’الدر المختار‘‘، کتاب الجہاد، باب المرتد، ج۶، ص۳۵۶۔۳۵۷۔

و’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۲۱، ص۲۷۹

[113] … اس کتاب کے مصنّف حضرت شاہ عبدالعزیز محدثِ دہلوی رحمۃ اللہ تَعَالٰی علیہ ہیں ، اور یہ کتاب اپنے موضوع میں لاجواب و بے نظیر ہے۔

[114] … لعن طعن۔

[115] … شیعوں کا عالم ملا باقر مجلسی اپنی کتاب’’ حق الیقین‘‘ میں لکھتا ہے: (واز حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام منقولستکہ جہنم را ہفت در است، ازیک درفرعون وہامان وقارون کہ کنایہ از ابوبکر وعمر وعثمان است داخل مے شوند، وازیک دردیگربنوامیہ داخل شوند کہ مخصوص ایشا نست

یعنی: حضرت امام جعفر صادق عَلَیْہِ السَّلَام سے منقول ہے کہ جہنم کے سات دروازے ہیں ایک دروازے سے داخل ہونے والے فرعون ہامان اور قارون ہیں یہ ابوبکر عمر اور عثمان سے کنایہ ہے، اور دوسرے دروازے سے بنو امیہ داخل ہوں گے جو ان کے ساتھ مخصوص ہے۔

ایک جگہ لکھا: (واعتقاد مادر برائت آنستکہ بیزاری جو یند از بت ہائے چہار گانہ یعنی ابوبکر وعمر وعثمان ومعاویہ، وزنان چہار گانہ یعنی عائشہ وحفصہ وہند وام الحکم، وازجمیع اشیاع واتباع ایشان وآنکہ ایشان… بدترین خلق خدا یند وآنکہ تمام نمیشود اقرار بخدا ورسول وآئمہ مگر بہ بیزاری از دشمنان ایشان

یعنی: برأت میں ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ ان چار بتوں سے بیزاری طلب کرتے ہیں یعنی ابوبکر ، عمر ، عثمان اور معاویہ سے، اور چار عورتوں سے یعنی عائشہ، حفصہ، ہند اور ام الحکم سے، اور ان کے معتقدوں اور پیروکاروں سے، اور یہ لوگ اللہ کی مخلوق میں سب سے بدتر ہیں اور اللہ ، رسول اور آئمہ سے کیا ہوا عہد اس وقت تک پورا نہیں ہوگا جب تک کہ ان کے دشمنوں سے بیزاری کا اظہار نہ کیا جائے۔

ایک جگہ لکھا: (در تقریب المعارف روایت کردہ کہ آزاد کردۂ حضرت علی بن الحسین عَلَیْہِ السَّلَام از آنحضرت پر سید کہ مرا بر تو حق خدمتی ہست، مرا خبردہ از حال ابوبکر وعمر ،حضرت فرمود ہر دو کافر بودند دہر کہ ایشا نرا دوست دارد کافر است

یعنی: تقریب المعارف میں روایت ہے کہ حضرت علی بن الحسین عَلَیْہِ السَّلَام کے آزاد کردہ شخص نے حضرت سے پوچھا: آپ کی خدمت کرنے کی وجہ سے میرا آپ پر حق ہے، مجھے ابوبکر اور عمر کے حال کے متعلق بتائیے ،آپ نے فرمایا: وہ دونوں کافر ہیں اور جو ان کو دوست رکھتا ہے وہ بھی کافر ہے۔ایک جگہ لکھا: (درعلل الشرائع روایت کردہ است از حضرت امام محمد باقر عَلَیْہِ السَّلَام کہ چوں قائم ما ظاہر شود عائشہ رازندہ کند تا بر او حد بزند وانتقام فاطمہ را از او بکشد)

یعنی: علل الشرائع میں حضرت امام محمدباقر عَلَیْہِ السَّلَام سے روایت ہے کہ جب امام مہدی کا ظہور ہوگا تو وہ حضرت عائشہ کو زندہ کرکے ان پر حد جاری کریں گے اور ان سے فاطمہ کا انتقام لیں گے۔

’’حق الیقین‘‘ لملّا باقر مجلسی، ص ۵۰۰۔ ۵۱۹۔ ۵۲۲۔ ۳۴۷، مطبوعہ کتاب فروشے اسلامیہ تہران ایران، ۱۳۵۷ھ۔

’’حیات القلوب‘‘، لملّا باقر مجلسی، ج۲، ص۶۱۰۔۶۱۱۔مطبوعہ کتاب فروشے اسلامیہ تہران۔

ایک جگہ لکھا: (امام مہدی ہر دو (ابوبکر و عمر ) کو قبر سے باہر نکالیں گے وہ اپنی اسی صورت پر تروتازہ بدن کے ساتھ باہر نکالے جائیں گے پھر فرمائیں گے کہ ان کا کفن اتارو، ان کا کفن حلق سے اتارا جائے گا، ان کو اللہ کی قدرت سے زندہ کریں گے اور تمام مخلوق کو جمع ہونے کا حکم دیں گے پھر ابتداء عالم سے لے کر اخیر عالم تک جتنے ظلم اور کفر ہوئے ہیں ان سب کا گناہ ابوبکر وعمر پر لازم کردیں گے، اور وہ اس کا اعتراف کریں گے کہ اگر وہ پہلے دن خلیفہ برحق کا حق غصب نہ کرتے تو یہ گناہ نہ ہوتے ،پھر ان کو درخت پر چڑھانے کا حکم دیں گے اور آگ کو حکم دیں گے کہ زمین سے باہر آئے اور ان کو درخت کے ساتھ جلادے، اور ہوا کو حکم دیں گے کہ ان کی راکھ کو اڑا کر دریاؤں میں گرادے۔

’’حق الیقین‘‘ لملّا باقر مجلسی، ص ۳۶۱۔۳۶۲، مطبوعہ کتاب فروشي اسلامیہ تہران ایران، ۱۳۵۷ھ۔

116 (عن أبي جعفرقال:کان الناس أھل الردۃ بعد النبي إلاّ ثلثۃ، فقلت: ومن الثلاثۃ؟ فقال: المقداد بن الأسود، أبو ذر الغفاري، سلمان الفارسي

یعنی: ابو جعفر عَلَیْہِ السَّلَام بیان کرتے ہیں : کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے وصال کے بعد تین شخصوں کے سوا سب مرتد ہوگئے تھے، میں نے پوچھا: وہ تین کون ہیں ؟ انہوں نے کہا : مقداد بن اسود، ابو ذر غفاری اور سلمان فارسی۔

’’رجال الکشي‘‘، ص۱۲، مطبوعہ مؤسسۃ الأعلمي للمطبوعات کربلا إیران، (۲) ’’تہذیب المتین في تأریخ أمیر المؤمنین‘‘، ذکر مصیبت عظمی والکبرٰی (۳) ’’احتجاج طبرسي‘‘، جلد أول، ص۱۱۳، مطبوعہ نجف أشرف طبع جدید۔

وفي ’’الروضۃ من الکافي‘‘ (’’فروع کافي‘‘): عن عبد الرحیم القصیر قال: (قلت لأبي جعفر علیہ السلام: إنّ الناس یفزعون إذا قلنا: إنّ الناس ارتدوا، فقال: یا عبد الرحیم إنّ الناس عادوا بعد ما قبض رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أہل الجاھلیۃ

یعنی : عبد الرحیم قصیر بیان کرتے ہیں : کہ میں نے ابوجعفر عَلَیْہِ السَّلَام سے کہا: جب ہم لوگوں سے یہ کہتے ہیں کہ سب لوگ مرتد ہوگئے تھے تو لوگ گھبرا جاتے ہیں ، انہوں نے کہا: اے عبد الرحیم ! رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی وفات کے بعد سب لوگ دوبارہ جاہلیت کی طرف پلٹ گئے تھے۔’’الروضۃ من الکافي‘‘ (’’فروع کافي‘‘)، لشیخ أبو جعفر محمد بن یعقوب کلینی متوفی ۳۲۸ھ، ج۸، ص۲۹۶، مطبوعہ دار الکتب الإسلامیۃ تہران، طبع رابع۔

وفي ’’حیاۃ القلوب‘‘: ( عیاشی بسند معتبر ازحضرت امام محمد باقر روایت کردہ است کہ چوں حضرت رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم از دنیا رحلت نمود مردم ہمہ مرتد شوند بغیرچہار نفر،علي ابن ابي طالب، ومقداد، وسلمان، وابو ذر)۔ یعنی: عیاشی نے سند معتبر کے ساتھ حضرت امام محمد باقر سے روایت کیا ہے :کہ جب حضرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو چار کے سوا تمام لوگ مرتد ہوگئے ، علی بن ابی طالب، مقداد، سلمان اور ابوذر۔

’’حیاۃ القلوب‘‘، باب پنجاہ وہشتم درفضائل بعض از اکابرصحابہ ،ج۲، ص۱۰۸۳، مطبوعہ نامی نولکشور۔ وج۲، ص۶۲۷، مطبوعہ کتاب فروشے اسلامیہ تہران۔

[117] انظر التفصیل: ’’نفس الرحمان في فضائل سلمان‘‘، باب۱۱۔

’’أنوار نعمانیۃ‘‘، طبع قدیم، ص۳۴، طبع جدید جلد اول، ص۱۰۴۔

’’احتجاج طبرسی‘‘، طبع قدیم، ص۵۳۔۵۶، طبع جدید ص۱۰۷۔۱۱۵۔

’’جلاء العیون‘‘، طبع جدید، ج۱، ص۲۱۶، مطبوعہ تہران۔

’’حق القین‘‘، باب پنجم، ص۱۱۵، مطبوعہ تہران۔

’’تہذیب المتین في تأریخ أمیر المؤمنین‘‘، ج۱، ص۲۷۶،