معاد و حشر کا بیان

معاد و حشر کا بیان

بیشک زمین و آسمان اور جن و اِنس و مَلک سب ایک دن فنا ہونے والے ہیں ، صرف ایک اﷲ تَعَالٰی کے لیے ہمیشگی و بقا ہے۔ [1] دنیا کے فنا ہونے سے پہلے چند نشانیاں ظاہر ہوں گی۔

۱ تین خسف ہوں گے یعنی آدمی زمین میں دھنس جائیں گے، ایک مشرق میں ، دوسرا مغرب میں ، تیسرا جزیرۂ عرب میں۔ [2]

۲ عِلم اُٹھ جائے گا یعنی علما اُٹھالیے جائیں گے، یہ مطلب نہیں کہ علما تو باقی رہیں اور اُن کے دلوں سے علم محو کردیا جائے۔ [3]

۳ جہل کی کثرت ہوگی۔ [4]

۴ زنا کی زیادتی ہوگی[5] اور اِس بے حیائی کے ساتھ زنا ہوگا، جیسے گدھے جُفتی کھاتے ہیں ، بڑے چھوٹے کسی کا لحاظ پاس نہ ہوگا۔ [6]

۵ مرد کم ہوں گے اور عورتیں زیادہ، یہاں تک کہ ایک مرد کی سرپرستی میں پچاس عورتیں ہوں گی۔ [7]

۶ علاوہ اُس بڑے دجّال کے اور تیس دجّال ہوں گے، کہ وہ سب دعویٔ نبوت کریں گے، حالانکہ نبوت ختم ہوچکی۔ [8] جن میں بعض گزرچکے، جیسے مسیلمہ کذّاب، طلیحہ بن خوَیلد، اسود عَنسی، سجاح عورت کہ بعد کو اسلام لے آئی[9]،غلام احمد قادیانی[10] وغیرہم۔ اور جو باقی ہیں ، ضرور ہوں گے۔

۷ مال کی کثرت ہوگی[11]، نہر فرات اپنے خزانے کھول دے گی کہ وہ سونے کے پہاڑ ہوں گے۔ [12]

۸ ملک ِعرب میں کھیتی اور باغ اور نہریں ہوجائیں گی۔ [13]

۹ دین پر قائم رہنا اتنا دشوار ہوگا جیسے مُٹھی میں انگارا لینا [14]، یہاں تک کہ آدمی قبرستان میں جاکر تمنا کرے گاکہ کاش! میں اِس قبر میں ہوتا۔ [15]

۱۰ وقت میں برکت نہ ہوگی، یہاں تک کہ سال مثل مہینے کے اور مہینہ مثل ہفتہ کے اور ہفتہ مثل دن کے اور دن ایسا ہوجائے گا جیسے کسی چیز کو آگ لگی اور جلد بھڑک کر ختم ہوگئی[16]، یعنی بہت جلد جلد وقت گزرے گا۔

۱۱ زکوٰۃ دینا لوگوں پر گراں ہوگا کہ اس کو تاوان سمجھیں گے۔ [17]

۱۲ علمِ دین پڑھیں گے، مگر دین کے لیے نہیں ۔ [18]

۱۳ مرد اپنی عورت کا مُطِیع ہوگا۔[19]

۱۴ ماں باپ کی نافرمانی کرے گا۔ [20]

۱۵ اپنے احباب سے میل جول رکھے گا اور باپ سے جدائی۔ [21]

۱۶ مسجد میں لوگ چِلّائیں گے۔ [22]

۱۷ گانے باجے کی کثرت ہوگی۔ [23]

۱۸ اَگلوں پر لوگ لعنت کریں گے، ان کو بُرا کہیں گے۔ [24]

۱۹ درندے، جانور، آدمی سے کلام کریں گے، کوڑے کی پُھنچی[25]، جُوتے کا تَسْمہ کلام کرے گا، اُس کے بازار جانے کے بعد جو کچھ گھر میں ہوا بتائے گا، بلکہ خود انسان کی ران اُسے خبر دے گی۔[26]

۲۰ ذَلیل لوگ جن کو تَن کا کپڑا، پاؤں کی جوتیاں نصیب نہ تھیں ، بڑے بڑے محلوں میں فخر کریں گے۔ [27]

۲۱ دجّال کا ظاہر ہونا کہ چا۴۰لیس دن میں حرمَیْنِ طیّبین کے سوا تمام روئے زمین کا گشت کرے گا۔ [28] چالیس دن میں ، پہلا دن سال بھر کے برابر ہوگا اور دوسرا دن مہینے بھر کے برابر اور تیسرا دن ہفتہ کے برابر اور باقی دن چوبیس چوبیس گھنٹے کے ہوں گے اور وہ بہت تیزی کے ساتھ سیر کرے گا، جیسے بادل جس کو ہَوا اڑاتی ہو۔ [29] اُس کا فتنہ بہت شدید ہوگا [30]، ایک باغ اور ایک آگ اُس کے ہمراہ ہوں گی، جن کا نام جنت و دوزخ رکھے گا، جہاں جائے گا یہ بھی جائیں گی، مگر وہ جو دیکھنے میں جنت معلوم ہوگی وہ حقیقۃً آگ ہوگی اور جو جہنم دکھائی دے گا، وہ آرام کی جگہ ہوگی[31] اور وہ خدائی کا دعویٰ کرے گا [32]، جو اُس پر ایمان لائے گا اُسے اپنی جنت میں ڈالے گا اور جو انکار کرے گا اُسے جہنم میں داخل کرے گا [33]، مُردے جِلائے [34] گا [35]۔ زمین کو حکم دے گا وہ سبزے اُگائے گی، آسمان سے پانی برسائے گا اور اُن لوگوں کے جانور لمبے چوڑے خوب تیار اور دودھ والے ہوجائیں گے اور ویرانے میں جائے گا تو وہاں کے دفینے شہد کی مکھیوں کی طرح دَل کے دَل [36] اس کے ہمراہ ہوجائیں گے۔[37] اِسی قسم کے بہت سے شُعبدے [38] دکھائے گا اور حقیقت میں یہ سب جادو کے کرشمے ہوں گے اور شیاطین کے تماشے، جن کو واقعیت سے کچھ تعلق نہیں ، اِسی لیے اُس کے وہاں سے جاتے ہی لوگوں کے پاس کچھ نہ رہے گا۔ حرمین شریفین میں جب جانا چاہے گا ملائکہ اس کا منہ پھیردیں گے۔ البتہ مدینہ طیبہ میں تین زلزلے آئیں گے کہ وہاں جو لوگ بظاہر مسلمان بنے ہوں گے اور دل میں کافر ہوں گے اور وہ جو علمِ الٰہی میں دجّال پر ایمان لاکر کافر ہونے والے ہیں ، اُن زلزلوں کے خوف سے شہر سے باہر بھاگیں گے اور اُس کے فتنہ میں مبتلا ہوں گے۔ [39]

دجّال کے ساتھ یہود کی فوجیں ہوں گی [40]، اُس کی پیشانی پر لکھا ہوگا: ’’ک، ف، ر‘‘ یعنی کافر، جس کو ہر مسلمان پڑھے گا [41] اور کافر کو نظر نہ آئے گا۔[42] جب وہ ساری دنیا میں پھِر پھِرا کر ملکِ شام کو جائے گا، اُس وقت حضرت مسیح عَلَیْہِ السَّلَام [43] آسمان سے جامع مسجد دمشق کے شَرقی مینارہ پر نُزُول فرمائیں گے[44]، صبح کا وقت ہوگا، نمازِ فجر کے لیے اِقامت ہو چکی ہوگی، حضرت امام مَہدی کو کہ اُس جماعت میں موجود ہوں گے امامت کا حکم دیں گے، حضرت امام مَہدی رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْہ نماز پڑھائیں گے، وہ لعین دجّال حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی سانس کی خوشبو سے پگھلنا شروع ہوگا، جیسے پانی میں نمک گھلتا ہے اور اُن کی سانس کی خوشبو حدّ ِ بصر[45] تک پہنچے گی، وہ بھاگے گا، یہ تعاقب فرمائیں گے اور اُس کی پیٹھ میں نیزہ ماریں گے، اُس سے وہ جہنم واصل ہوگا۔ [46]

۲۲ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا آسمان سے نُزُوْل فرمانا:

اِس کی مختصر کیفیت اوپر معلوم ہو چکی، آپ کے زمانہ میں مال کی کثرت ہوگی، یہاں تک کہ اگر کوئی شخص دوسرے کو مال دے گا تو وہ قبول نہ کرے گا[47] ، نیز اُس زمانہ میں عداوت و بغض و حسد آپس میں بالکل نہ ہو گا۔ [48] عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام صَلِیْب [49] توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے [50]، تمام اہلِ کتاب جو قتل سے بچیں گے سب اُن پر ایمان لائیں گے۔ تمام جہان میں دین ایک دینِ اسلام ہوگا اور مذہب ایک مذہبِ اہلِ سنّت۔ [51]

بچے سانپ سے کھیلیں گے اور شیر اور بکری ایک ساتھ چَریں گے[52]، چالیس برس تک اِقامت فرمائیں گے، نکاح کریں گے، اولاد بھی ہوگی، بعدِ وفات روضۂ انورمیں دفن ہونگے۔ [53]

۲۳ حضرت امام مَہدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کاظاہر ہونا:

اِس کا اِجمالی واقعہ یہ ہے کہ دنیا میں جب سب جگہ کفر کا تسلط ہوگا اُس وقت تمام اَبدال[54] بلکہ تمام اولیا سب جگہ سے سِمٹ کر حرمین شریفین کو ہجرت کر جائیں گے، صرف وہیں اسلام ہو گا اور ساری زمین کفرستان ہو جائے گی۔ رمضان شریف کا مہینہ ہوگا، اَبدال طوافِ کعبہ میں مصروف ہوں گے اور حضرت امام مَہدی بھی وہاں ہوں گے، اولیاء اُنھیں پہچانیں گے، اُن سے درخواستِ بیعت کریں گے، وہ انکار کریں گے۔

دفعۃ غیب سے ایک آواز آئے گی:

ھٰذَا خَلِیْفَۃُ اللہِ الْمَھْدِيُّ فَاسْمَعُوْا لَـہٗ وَأَطِیْعُوْہُ۔

’’یہ اﷲ عَزَّوَجَل کا خلیفہ مہدی ہے، اس کی بات سُنو اور اس کا حکم مانو۔‘‘

تمام لوگ اُن کے دست ِمبارک پر بیعت کریں گے۔ وہاں سے سب کو اپنے ہمراہ لے کر ملکِ شام کو تشریف لے جائیں گے۔ [55]

بعد قتلِ دجّال حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو حکمِ الٰہی ہوگا کہ مسلمانوں کو کوہِ طور پر لے جاؤ، اس لیے کہ کچھ ایسے لوگ ظاہر کیے جائیں گے، جن سے لڑنے کی کسی کوطاقت نہیں ۔

۲۴ یاجُوج و ماجُوج کا خروج[56] :

مسلمانوں کے کوہِ طور پر جانے کے بعد یاجُوج و ماجُوج ظاہر ہوں گے، یہ اس قدر کثیر ہوں گے کہ ان کی پہلی جماعت بُحَیْرَۂ طَبَرِیَّہ پر جس کا طول دس میل ہو گا [57] جب گزرے گی، اُس کا پانی پی کر اس طرح سُکھادے گی کہ دوسری جماعت بعد والی جب آئے گی تو کہے گی: کہ یہاں کبھی پانی تھا!۔

پھر دنیا میں فساد و قتل و غارت سے جب فرصت پائیں گے تو کہیں گے کہ زمین والوں کو تو قتل کرلیا، آؤ اب آسمان والوں کو قتل کریں ، یہ کہہ کر اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے، خداکی قدرت کہ اُن کے تیر اوپر سے خون آلودہ گریں گے۔

یہ اپنی اِنہیں حرکتوں میں مشغول ہوں گے اور وہاں پہاڑ پر حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام مع اپنے ساتھیوں کے محصور ہوں گے، یہاں تک کہ اُن کے نزدیک گائے کے سر کی وہ وقعت ہوگی جو آج تمہارے نزدیک ۱۰۰سواشرفیوں کی نہیں ، اُس وقت حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام مع اپنے ہمراہیوں کے دُعا فرمائیں گے، اﷲ تَعَالٰی اُن کی گردنوں میں ایک قسم کے کیڑے پیدا کر دے گا کہ ایک دَم میں وہ سب کے سب مر جائیں گے، اُن کے مرنے کے بعد حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پہاڑ سے اُتریں گے، دیکھیں گے کہ تمام زمین اُن کی لاشوں اور بدبُو سے بھری پڑی ہے، ایک بالشت بھی زمین خالی نہیں ۔

اُس وقت حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام مع ہمراہیوں کے پھر دُعا کریں گے، اﷲ تَعَالٰی ایک قسم کے پرند بھیجے گا کہ وہ انکی لاشوں کو جہاں اﷲ عَزَّوَجَل چاہے گا پھینک آئیں گے اور اُن کے تیر و کمان و تَرکش[58] کو مسلمان سا۷ت برس تک جلائیں گے، پھر اُس کے بعد بارش ہو گی کہ زمین کو ہموار کر چھوڑے گی اور زمین کو حکم ہو گا کہ اپنے پھلوں کو اُگا اور اپنی برکتیں اُگل دے اور آسمان کو حکم ہوگا کہ اپنی برکتیں اُنڈیل دے تو یہ حالت ہو گی کہ ایک انار کو ایک جماعت کھائے گی اور اُس کے چھلکے کے سایہ میں د۱۰س آدمی بیٹھیں گے اوردودھ میں یہ برکت ہوگی کہ ایک اونٹنی کا دودھ، جماعت کو کافی ہوگا اور ایک گائے کا دودھ، قبیلہ بھر کو اور ایک بکری کا، خاندان بھر کو کفایت کرے گا۔[59]

۲۵ دُھواں ظاہر ہوگا: جس سے زمین سے آسمان تک اندھیرا ہو جائے گا۔ [60]

۲۶ دابۃُ الارض کا نکلنا[61]: یہ ایک جانور ہے، اِس کے ہاتھ میں عصائے موسیٰ اور انگشتریٔ سلیمان علیہما السلام ہوگی، عصا سے ہر مسلما ن کی پیشانی پر ایک نشان نورانی بنائے گا اور انگشتری سے ہر کافر کی پیشانی پر ایک سخت سیاہ دھبّا، اُس وقت تمام مسلم و کافر علانیہ ظاہر ہوں گے۔ [62] یہ علامت کبھی نہ بدلے گی، جو کافر ہے ہر گز ایمان نہ لائے گا اور جو مسلمان ہے ہمیشہ ایمان پر قائم رہے گا[63]۔

۲۷ آفتاب کا مغرب سے طلو ع ہونا: اِس نشانی کے ظاہر ہوتے ہی توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا،اُس وقت کا اسلام معتبر نہیں ۔[64]

۲۸ وفاتِ سیدنا عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کے ایک زمانہ کے بعد جب قیامِ قیامت [65] کو صرف چالیس برس رہ جائیں گے[66]، ایک خوشبو دار ٹھنڈی ہوا چلے گی، جو لوگوں کی بغلو ں کے نیچے سے گزرے گی، جس کا اثر یہ ہو گا کہ مسلمان کی روح قبض ہو جائے گی اور کافر ہی کافر رہ جائیں گے اور اُنھیں پر قیامت قائم ہوگی۔ [67]

یہ چند نشانیاں بیان کی گئیں ، اِن میں بعض واقع ہوچکیں اور کچھ باقی ہیں ، جب نشانیاں پوری ہو لیں گی اور مسلمانوں کی بغلوں کے نیچے سے وہ خوشبودار ہوا گزرلے گی جس سے تمام مسلمانوں کی وفات ہو جائے گی، اس کے بعدپھر چالیس برس کا زمانہ ایسا گزرے گا کہ اس میں کسی کے اولاد نہ ہو گی، یعنی چالیس برس سے کم عُمر کا کو ئی نہ رہے گا اور دنیا میں کافر ہی کافر ہوں گے[68]، اﷲ کہنے والا کوئی نہ ہوگا [69]، کوئی اپنی دیوار لیستا [70] ہوگا، کوئی کھانا کھاتا ہوگا، غرض لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوں گے[71]

کہ دفعتہ[72] حضرت اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام کو صُور پھو نکنے کا حکم ہوگا، شروع شروع اس کی آواز بہت باریک ہوگی اور رفتہ رفتہ بہت بلند ہو جائے گی، لوگ کان لگا کر اس کی آواز سنیں گے اور بے ہوش ہو کر گِر پڑیں گے اور مر جائیں گے، آسمان، زمین، پہاڑ، یہاں تک کہ صُور اور اسرافیل اور تمام ملائکہ فَنا ہو جائیں گے، اُس وقت سوا اُس واحدِ حقیقی کے کوئی نہ ہوگا، وہ فرمائے گا:

{ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَؕ-}[73]

آج کس کی بادشاہت ہے۔۔۔؟! کہاں ہیں جَبّارین۔۔۔؟! کہاں ہیں متکبرین۔۔۔؟! مگر ہے کون جو جواب دے، پھر خود ہی فرمائے گا:

[لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ(۱۶)][74]

’’صرف اﷲ واحد قہار کی سلطنت ہے۔‘‘

پھر جب اﷲ تَعَالٰی چاہے گا، اسرافیل کو زندہ فرمائے گا اور صور کو پیدا کرکے دوبارہ پھونکھنے کا حکم دے گا، صور پھونکھتے ہی تمام اوّلین و آخرین، ملائکہ و اِنس و جن و حیوانات موجود ہو جائیں گے۔ [75] سب سے پہلے حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ قبر مبارک

سے یوں برآمد ہونگے کہ دَہنے ہاتھ میں صدیقِ اکبر کا ہاتھ، بائیں ہاتھ میں فاروقِ اعظم کا ہاتھ رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْہُما [76]، پھر مکۂ معظمہ ومدینۂ طیبہ کے مقابر میں جتنے مسلمان دفن ہیں ، سب کو اپنے ہمراہ لے کر میدانِ حشر میں تشریف لے جائیں گے۔ [77]

عقیدہ ۱: قیامت بیشک قائم ہو گی، اس کا انکار کرنے والا کافر ہے۔ [78]

عقیدہ ۲: حشر صرف رُوح کا نہیں ، بلکہ روح و جسم دونوں کا ہے، جو کہے صرف روحیں اٹھیں گی جسم زندہ نہ ہوں گے، وہ بھی کافر ہے۔ [79]

عقیدہ ۳: دنیا میں جو رُوح جس جسم کے ساتھ متعلق تھی اُس رُوح کا حشر اُسی جسم میں ہوگا، یہ نہیں کہ کوئی نیا جسم پیدا کرکے اس کے ساتھ روح متعلق کر دی جائے۔[80]

عقیدہ ۴: جسم کے اجزا اگرچہ مرنے کے بعد متفرق ہوگئے اور مختلف جانوروں کی غذا ہوگئے ہوں ، مگر اﷲ تَعَالی ان سب اجزا کو جمع فرماکر قیامت کے دن اٹھائے گا[81]، قیامت کے دن لوگ اپنی اپنی قبروں سے ننگے بدن، ننگے پاؤں ، نَاخَتْنہَ شُدہ اٹھیں گے [82]، کوئی پیدل، کوئی سوار[83] اور ان میں بعض تنہا سوار ہوں گے اور کسی سواری پر دو۲، کسی پر تین۳، کسی پر چار۴، کسی پر د۱۰س ہوں گے۔ [84] کافر منہ کے بل چلتا ہوا میدانِ حشر کو جائے گا [85]، کسی کو ملائکہ گھسیٹ کر لے جائیں گے، کسی کو آگ جمع کرے گی۔ [86] یہ میدانِ حشر ملکِ شام کی زمین پر قائم ہوگا۔ [87] زمین ایسی ہموار ہو گی کہ اِس کنارہ پر رائی کا دانہ گر جائے تو دوسرے کنارے سے دکھائی دے [88]، اُس دن زمین تانبے کی ہوگی[89] اور آفتاب ایک میل کے فاصلہ پر ہوگا۔ راویٔ حدیث نے فرمایا:

’’معلوم نہیں میل سے مراد سُرمہ کی سلائی ہے یا میلِ مُسَافت‘‘[90]، اگر میل مسافت بھی ہو تو کیا بہت فاصلہ ہے۔۔۔؟! کہ اب چار ہزار برس کی راہ کے فاصلہ پر ہے اور اِس طرف آفتاب کی پیٹھ ہے[91] ، پھر بھی جب سر کے مقابل آجاتا ہے، گھر سے باہر نکلنا دشوار ہوجاتا ہے، اُس وقت کہ ایک میل کے فاصلہ پر ہوگا اور اُس کا منہ اِس طرف کو ہوگا، تپش اورگرمی کا کیا پوچھنا۔۔۔؟![92] اور اَب مِٹی کی زمین ہے، مگر گرمیوں کی دھوپ میں زمین پرپاؤں نہیں رکھا جاتا، اُس وقت جب تانبے کی ہوگی اور آفتاب کا اتنا قرب ہوگا، اُس کی تپش کون بیان کرسکے۔۔۔؟! اﷲ عَزَّوَجَل پناہ میں رکھے۔ بھیجے کھولتے ہوں گے [93] اور اس کثرت سے پسینہ نکلے گا کہ ستّر گز زمین میں جذب ہوجائے گا [94]، پھر جو پسینہ زمین نہ پی سکے گی وہ اوپر چڑھے گا، کسی کے ٹخنوں تک ہو گا، کسی کے گھٹنوں تک، کسی کے کمر کمر، کسی کے سینہ، کسی کے گلے تک، اور کافر کے تو منہ تک چڑھ کر مثلِ لگام کے جکڑ جائے گا، جس میں وہ ڈبکیاں کھائے گا۔[95] اس گرمی کی حالت میں پیاس کی جو کیفیت ہوگی محتاجِ بیان نہیں ، زبانیں سُوکھ کر کانٹا ہوجائیں گی، بعضوں کی زبانیں منہ سے باہر نکل آئیں گی، دل اُبل کر گلے کو آجائیں گے، ہر مُبتلا بقدرِ گناہ تکلیف میں مبتلا کیا جائے گا، جس نے چاندی سونے کی زکوٰۃ نہ دی ہو گی اُس مال کو خوب گرم کرکے اُس کی کروٹ اور پیشانی اور پیٹھ پر داغ کریں گے [96]، جس نے جانوروں کی زکوٰۃ نہ دی ہوگی اس کے جانور قیامت کے دن خوب طیار ہو کر آئیں گے اور اس شخص کو وہاں لٹائیں گے اور وہ جانور اپنے سینگوں سے مارتے اور پاؤں سے روندتے اُس پر گزریں گے، جب سب اسی طرح گزر جائیں گے پھر اُدھر سے واپس آکر یوہیں اُس پر گزریں گے، اسی طرح کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ لوگوں کا حساب ختم ہو[97] وعلی ہذا القیاس۔

پھر باوجود ان مصیبتوں کے کوئی کسی کا پُرسانِ حال نہ ہوگا، بھائی سے بھائی بھاگے گا، ماں باپ اولاد سے پیچھا چھڑائیں گے، بی بی بچے الگ جان چُرائیں گے[98]، ہر ایک اپنی اپنی مصیبت میں گرفتار، کون کس کا مدد گار ہوگا۔۔۔! حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو حکم ہو گا، اے آدم! دوزخیوں کی جماعت الگ کر، عر ض کرینگے: کتنے میں سے کتنے؟ ارشاد ہوگا: ہر ہزار سے نو سو ننانوے، یہ وہ وقت ہو گا کہ بچے مارے غم کے بوڑھے ہوجائیں گے، حمل والی کا حمل ساقط ہو جائے گا، لوگ ایسے دکھائی دیں گے کہ نشہ میں ہیں ، حالانکہ نشہ میں نہ ہوں گے، ولیکن اﷲ کا عذاب بہت سخت ہے [99]، غرض کس کس مصیبت کا بیان کیا جائے، ایک ہو، دو۲ ہوں ، ۱۰۰سو ہوں ، ۱۰۰۰ہزار ہوں تو کوئی بیان بھی کرے، ہزارہا مصائب اور وہ بھی ایسے شدید کہ الاماں الاماں ۔۔۔! اور یہ سب تکلیفیں دو چار گھنٹے، دو چار دن، دو چار ماہ کی نہیں ، بلکہ قیامت کا دن کہ پچاس ہزار برس کا ایک دن ہوگا[100]، قریب آدھے کے گزر چکا ہے اور ابھی تک اہلِ محشر اسی حالت میں ہیں ۔ اب آپس میں مشورہ کریں گے کہ کوئی اپنا سفارشی ڈھونڈنا چاہیے کہ ہم کو اِن مصیبتوں سے رہائی دلائے، ابھی تک تو یہی نہیں پتا چلتا ہے کہ آخر کدھر کو جانا ہے، یہ بات مشورے سے قرار پائے گی کہ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام ہم سب کے باپ ہیں ، اﷲ تَعَالٰی نے اِن کو اپنے دستِ قدرت سے بنایا اور جنت میں رہنے کو جگہ دی اور مرتبۂ نبوت سے سرفراز فرمایا، اُنکی خدمت میں حاضر ہونا چاہیے، وہ ہم کو اِس مصیبت سے نجات دلائیں گے۔

غرض اُفتاں و خیزاں [101] کس کس مشکل سے اُن کے پاس حاضر ہو ں گے اور عرض کریں گے: اے آدم! آپ ابو البشر ہیں ، اﷲ عَزَّوَجَل نے آپ کو اپنے دستِ قدرت سے بنایا اور اپنی چُنی ہوئی روح آپ میں ڈالی اور ملائکہ سے آپ کو سجدہ کرایا اور جنت میں آپ کو رکھا، تمام چیزوں کے نام آپ کو سکھائے، آپ کو صفی کیا، آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حالت میں ہیں ۔۔۔؟! آپ ہماریشفاعت کیجیے کہ اﷲ تَعَالٰی ہمیں اس سے نجات دے۔ [102] فرمائیں گے: میرا یہ مر تبہ نہیں ، مجھے آج اپنی جان کی فکر ہے[103]، آج رب عَزَّوَجَل نے ایسا غضب فرمایا ہے کہ نہ پہلے کبھی ایسا غضب فرمایا، نہ آئندہ فرمائے، تم کسی اور کے پاس جاؤ! [104] لوگ عرض کریں گے: آخر کس کے پاس ہم جائیں ۔۔۔؟ فرمائیں گے[105]: نُوح کے پاس جاؤ، کہ وہ پہلے رسول ہیں کہ زمین پر ہدایت کے لیے بھیجے گئے[106]، لوگ اُسی حالت میں حضرت نُوح عَلَیْہِ السَّلَام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور اُن کے فضائل بیان کرکے عرض کریں گے کہ[107]: آپ اپنے ربّ کے حضورہماری شفاعت کیجیے کہ وہ ہمارا فیصلہ کر دے، یہاں سے بھی وہی جواب ملے گا کہ میں اس لائق نہیں ، مجھے اپنی پڑی ہے[108]، تم کسی اور کے پاس جاؤ! [109] عرض کریں گے، کہ آپ ہمیں کس کے پاس بھیجتے ہیں ۔۔۔؟ فرمائیں گے[110]: تم ابراہیم خلیل اﷲ کے پاس جاؤ[111]، کہ اُن کو اﷲ تَعَالٰی نے مرتبۂ خُلّت سے ممتاز فرمایا ہے[112]، لوگ یہاں حاضر ہوں گے، وہ بھی یہی جواب دیں گے کہ میں اِس کے قابل نہیں ، مجھے اپنا اندیشہ ہے۔

مختصر یہ کہ وہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ السَّلَامُ کی خدمت میں بھیجیں گے، وہاں بھی وہی جواب ملے گا،پھر موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ السَّلَامُ کے پاس بھیجیں گے، وہ بھی یہی فرمائیں گے: کہ میرے کرنے کا یہ کام نہیں [113]، آج میرے رب نے وہ غضب فرمایا ہے، کہ ایسا نہ کبھی فرمایا، نہ فرمائے، مجھے اپنی جان کا ڈر ہے، تم کسی دوسرے کے پاس جاؤ[114]، لوگ عرض کریں گے: آپ ہمیں کس کے پاس بھیجتے ہیں ؟ فرمائیں گے: تم اُن کے حضور حاضر ہو، جن کے ہاتھ پر فتح رکھی گئی، جو آج بے خوف ہیں [115]، اور وہ تمام اولادِ آدم کے سردارہیں ، تم محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو، وہ خاتم النبیین ہیں ، وہ آج تمہاری شفاعت فرمائیں گے، اُنھیں کے حضور حاضر ہو، وہ یہاں تشریف فرما ہیں ۔ [116]

اب لوگ پھِرتے پھِراتے، ٹھوکریں کھاتے، روتے چلّاتے، دُہائی دیتے حاضرِ بارگاہِ بے کس پناہ ہو کر عرض کریں گے[117]: اے محمد! [118] اے اﷲ کے نبی! حضور کے ہاتھ پر اﷲ عَزَّوَجَل نے فتحِ باب رکھا ہے، آج حضور مطمئن ہیں [119]، اِن کے علاوہ اور بہت سے فضائل بیان کرکے عرض کریں گے: حضور ملاحظہ تو فرمائیں ہم کس مصیبت میں ہیں ! اور کس حال کو پہنچے! حضور بارگاہِ خداوندی میں ہماری شفاعت فرمائیں اورہم کو اس آفت سے نجات دلوائیں ۔ [120] جواب میں ارشاد فرمائیں گے: أَنَا لَھَا [121] میں اس کام کے لیے ہوں ، أنَا صَاحِبُکُمْ [122] میں ہی وہ ہوں جسے تم تمام جگہ ڈھونڈ آئے، یہ فرماکر بارگاہِ عزّت میں حاضر ہوں گے اور سجدہ کریں گے، ارشاد ہوگا:

یَا مُحَمَّدُ! ارْفَعْ رَأسَکَ وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَہ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ [123]۔

’’اے محمد ! اپنا سر اٹھاؤ اور کہو، تمھاری بات سنی جائے گی اور مانگو جو کچھ مانگو گے ملے گا اور شفاعت کرو، تمہاری شفاعت مقبول ہے۔‘‘ دوسری روایت میں ہے:

وَقُلْ تُطَعْ [124]۔

’’فرماؤ! تمہاری اِطاعت کی جائے۔‘‘

پھر تو شفاعت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا، یہاں تک کہ جس کے دل میں رائی کے دانہ سے کم سے کم بھی ایمان ہوگا، اس کے لیے بھی شفاعت فرماکر اُسے جہنم سے نکالیں گے، یہاں تک کہ جو سچے دل سے مسلمان ہوا اگرچہ اس کے پاس کوئی نیک عمل نہیں ہے، اسے بھی دوزخ سے نکالیں گے۔ [125] اَب تمام انبیا اپنی اُمّت کی شفاعت فرمائیں گے[126]، اولیائے کرام[127]،

شہدا[128]، علما[129]، حُفّاظ [130]، حُجّاج [131]، بلکہ ہر وہ شخص جس کو کوئی منصبِ دینی عنایت ہوا، اپنے اپنے متعلقین کی شفاعت کرے گا۔[132] نابالغ بچے جو مرگئے ہیں ، اپنے ماں باپ کی شفاعت کریں گے[133]، یہاں تک کہ علما کے پاس کچھ لوگ آکرعرض کریں گے: ہم نے آپ کے وضو کے لیے فلاں وقت میں پانی بھر دیا تھا[134]، کوئی کہے گا :کہ میں نے آپ کو استنجے کے لیے ڈھیلا دیا تھا[135]، علما اُن تک کی شفاعت کریں گے۔

عقیدہ ۵: حساب حق ہے، اعمال کا حساب ہونے والا ہے۔[136]

عقیدہ ۶: حساب کا منکر کافر ہے[137]، کسی سے تو اس طرح حساب لیا جائے گا کہ خُفیۃً [138] اُس سے پوچھا جائے

گا: تو نے یہ کیا اور یہ کیا؟ عرض کرے گا: ہاں اے رب! یہاں تک کہ تمام گناہوں کا اقرار لے لے گا، اب یہ اپنے دل میں سمجھے گا کہ اب گئے، فرمائے گا: کہ ہم نے دنیا میں تیرے عیب چھپائے اور اب بخشتے ہیں ۔ [139] اور کسی سے سختی کے ساتھ ایک ایک بات کی باز پرس ہوگی، جس سے یوں سوال ہوا، وہ ہلاک ہوا۔ [140] کسی سے فرمائے گا: اے فلاں ! کیا میں نے تجھے عزت نہ دی۔۔۔؟! تجھے سردار نہ بنایا۔۔۔؟! اور تیرے لیے گھوڑے اور اونٹ وغیرہ کو مُسخّر نہ کیا۔۔۔؟! ان کے علاوہ اور نعمتیں یاد دلائے گا، عر ض کرے گا: ہاں ! تُو نے سب کچھ دیا تھا، پھر فرمائے گا: تو کیا تیراخیال تھا کہ مجھ سے ملنا ہے؟ عرض کرے گا کہ نہیں ، فرمائے گا: تو جیسے تُو نے ہمیں یاد نہ کیا، ہم بھی تجھے عذاب میں چھوڑتے ہیں ۔

بعض کافر ایسے بھی ہوں گے کہ جب نعمتیں یاد دلا کر فرمائے گا کہ تُو نے کیا کیا؟ عرض کرے گا: تجھ پر اور تیری کتاب اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا، نماز پڑھی، روزے رکھے، صدقہ دیااو ر ان کے علاوہ جہاں تک ہوسکے گا، نیک کاموں کا ذکر کر جائے گا۔ ارشاد ہو گا: تو اچھا تُو ٹھہر جا! تجھ پر گواہ پیش کیے جائیں گے، یہ اپنے جی میں سوچے گا: مجھ پر کون گواہی دیگا۔۔۔؟! اس وقت اس کے مونھ پرمُہرکر دی جائے گی اور اَعضا کو حکم ہوگا: بول چلو، اُس وقت اُس کی ران اور ہاتھ پاؤں ، گوشت پوست، ہڈیاں سب گواہی دیں گے کہ یہ تو ایسا تھا ایسا تھا، وہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔[141]

نبی صَلَّی اﷲُ تَعَالی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: میری اُمّت سے ستّر ہزار بے حساب جنت میں داخل ہوں گے اور ان کے طفیل میں ہر ایک کے ساتھ ستّر ہزار اور رب عَزَّوَجَل ان کے ساتھ تین جماعتیں اور دے گا، معلوم نہیں ہر جماعت میں کتنے ہوں گے، اس کا شمار وہی جانے۔[142] تہجد پڑھنے والے بِلا حساب جنت میں جائیں گے۔[143]

اس امت میں وہ شخص بھی ہوگا جس کے ننانوے دفتر گناہوں کے ہوں گے اور ہر دفتر اتنا ہوگا جہاں تک نگاہ پہنچے، وہ سب کھولے جائیں گے، رب عَزَّوَجَل فرمائے گا: ان میں سے کسی امر کا تجھے انکار تو نہیں ہے؟ میرے فرشتوں کراماً کاتبین نے تجھ پر ظلم تو نہیں کیا؟ عرض کرے گا: نہیں اے رب! پھر فرمائے گا: تیرے پاس کوئی عذر ہے؟ عرض کرے گا: نہیں اے رب! فرمائے گا: ہاں تیری ایک نیکی ہمارے حضور میں ہے اور تجھ پر آج ظلم نہ ہوگا، اُس وقت ایک پرچہ جس میں ’’أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِِلَّا اللہُ وَأَشْھَدُ أنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ‘‘ ہو گا نکالا جائے گا اور حکم ہوگا جا تُلوا، عرض کرے گا: اے رب! یہ پرچہ ان دفتروں کے سامنے کیا ہے؟ فرمائے گا: تجھ پر ظلم نہ ہوگا، پھر ایک پلّے پر یہ سب دفتر رکھے جائیں گے اور ایک میں وہ، وہ پرچہ ان دفتروں سے بھاری ہو جائے گا۔ [144] بالجملہ اس کی رحمت کی کوئی انتہا نہیں ، جس پر رحم فرمائے، تھوڑی چیز بھی بہت کثیر ہے۔

عقیدہ ۷: قیامت کے دن ہر شخص کو اُس کانامۂ اعمال دیا جائے گا[145] ، نیکوں کے دہنے ہاتھ میں اور بدوں کے بائیں ہاتھ میں [146]، کافر کا سینہ توڑ کر اُس کا بایاں ہاتھ اس سے پسِ پشت نکال کر پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا۔ [147]

عقیدہ ۸: حوضِ کوثر کہ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مرحمت ہوا، حق ہے۔[148] اِس حوض کی مسافت ایک مہینہ کی راہ ہے[149] ، اس کے کناروں پر موتی کے قُبّے ہیں [150] ، چاروں گوشے برابر یعنی زاویے قائمہ ہیں [151] ، اس کی مٹی نہایت خوشبودار مشک کی ہے[152] ، اس کا پانی دُودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا [153] اور مشک سے زیادہ پاکیزہ [154] اور اس پر برتن ستاروں سے بھی گنتی میں زیادہ[155] جو اس کا پانی پیے گا کبھی پیاسا نہ ہوگا[156] ، اس میں جنت سے دو پر نالے ہر وقت گرتے ہیں ، ایک سونے کا، دوسرا چاندی کا۔ [157]

عقیدہ ۹: میزان حق ہے۔ اس پر لوگوں کے اعمال نیک و بد تولے جائیں گے[158]، نیکی کا پلّہ بھاری ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اوپر اُٹھے، دنیا کا سا معاملہ نہیں کہ جو بھاری ہوتا ہے نیچے کو جھکتا ہے۔ [159]

عقیدہ ۱۰: حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اﷲ عَزَّوَجَل مقامِ محمود عطا فرمائے گا، کہ تمام اوّلین وآخرین حضور صَلَّی اﷲُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی حمد و ستائش کریں گے۔ [160]

عقیدہ ۱۱: حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو ایک جھنڈا مرحمت ہو گا جس کو لواء الحمد کہتے ہیں ، تمام مومنین حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام سے آخر تک سب اُسی کے نیچے ہوں گے۔ [161]

عقیدہ ۱۲: صراط حق ہے ۔یہ ایک پُل ہے کہ پشتِ جہنم پر نصب کیا جائے گا، بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہوگا[162]، جنت میں جانے کا یہی راستہ ہے، سب سے پہلے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ گزر فرمائیں گے، پھر اور انبیا و مرسلین، پھر یہ اُمّت پھر اور اُمتیں گزریں گی[163] اور حسبِ اختلافِ اعمال پُلِ صراط پر لوگ مختلف طرح سے گزریں گے، بعض تو ایسے تیزی کے ساتھ گزریں گے جیسے بجلی کا کوندا کہ ابھی چمکا اور ابھی غائب ہوگیا اور بعض تیز ہواکی طرح، کوئی ایسے جیسے پرند اڑتا ہےاور بعض جیسے گھوڑا دوڑتا ہے اور بعض جیسے آدمی دوڑتا ہے، یہاں تک کہ بعض شخص سُرین پر گھسٹتے ہوئے اور کوئی چیونٹی کی چال جائے گا[164] اور پُل صراط کے دونوں جانب بڑے بڑے آنکڑے اﷲ عَزَّوَجَل ہی جانے کہ وہ کتنے بڑے ہونگے لٹکتے ہوں گے، جس شخص کے بارے میں حکم ہوگا اُسے پکڑلیں گے، مگر بعض تو زخمی ہو کرنجات پا جائیں گے اور بعض کو جہنم میں گرا دیں گے[165] اور یہ ہلاک ہوا۔

یہ تمام اہلِ محشر تو پُل پر سے گزرنے میں مشغول، مگر وہ بے گناہ، گناہگاروں کا شفیع پُل کے کنارے کھڑا ہوا بکمالِ گریہ وزاری اپنی اُمّتِ عاصی کی نجات کی فکر میں اپنے رب سے دُعا کر رہا ہے: رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ [166]، اِلٰہی! ان گناہگاروں کو بچالے بچالے۔ اور ایک اسی جگہ کیا! حضور صَلَّی اﷲُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم اُس دن تمام مواطن میں دورہ فرماتے رہیں گے، کبھی میزان پر تشریف لے جائیں گے، وہاں جس کے حسنات میں کمی دیکھیں گے، اس کی شفاعت فرما کر نجات دلوائیں گے اور فوراً ہی دیکھو تو حوضِ کوثر پر جلوہ فرما ہیں ، پیاسوں کو سیراب فرمارہے ہیں اور وہاں سے پُل پر رونق افروز ہوئے اور گِرتوں کو بچایا۔ [167]

غرض ہر جگہ اُنھیں کی دُوہائی، ہر شخص اُنھیں کو پکارتا، اُنھیں سے فریا دکرتا ہے اور اُن کے سوا کس کوپکارے۔۔۔؟! کہ ہر ایک تو اپنی فکر میں ہے دوسروں کو کیا پوچھے، صرف ایک یہی ہیں جنہیں اپنی کچھ فکر نہیں اور تمام عالم کا بار اِن کے ذمّے۔

’’صَلّی اللہ تعالی علیہ وَعلٰی آلِہٖ وأَصْحَابِہٖ وَبارَکَ وَسَلَّمَ اَللّٰھُمَّ نَجِّنَا مِنْ أَھْوَالِ الْمَحْشَرِ بِجَاہِ ھٰذَا النَّبِيِّ الْکَرِیْمِ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖ وَأَصْحَابِہٖ أَفْضَلُ الصَّلَاۃِ وَالتَّسْلِیْمِ، اٰمِیْنَ ! [168]

یہ قیامت کا دن کہ حقیقۃً قیامت کا دن ہے، جو پچاس ہزار برس کا دن ہوگا[169]، جس کے مصائب بے شمار ہوں گے، مولیٰ عَزَّوَجَل کے جو خاص بندے ہیں ان کے لیے اتنا ہلکا کر دیا جائے گا، کہ معلوم ہوگا اس میں اتنا وقت صَرف ہوا جتنا ایک وقت کی نمازِ فرض میں صَرف ہوتا ہے [170]، بلکہ اس سے بھی کم [171]، یہاں تک کہ بعضوں کے لیے تو پلک جھپکنے میں سارا دن طے ہو جائے گا۔

{ وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُؕ- }[172]

’’قیامت کا معاملہ نہیں مگر جیسے پلک جھپکنا، بلکہ اس سے بھی کم۔‘‘

سب سے اعظم و اعلیٰ جو مسلمانوں کو اس روز نعمت ملے گی وہ اﷲ عَزَّوَجَل کا دیدار ہے، کہ اس نعمت کےبرابر کوئی نعمت نہیں [173] ، جسے ایک بار دیدار میسّر ہوگا ہمیشہ ہمیشہ اس کے ذوق میں مستغرق[174] رہے گا کبھی نہ بھولے گا، اور سب سے پہلے دیدارِ الٰہی حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ہوگا۔ [175]

یہاں تک تو حشرکے اہوال و احوال مختصراً بیان کیے گئے، ان تمام مرحلوں کے بعد اب اسے ہمیشگی کے گھر میں جانا ہے، کسی کو آرام کا گھر ملے گا، جس کی آسائش کی کوئی انتہا نہیں ، اس کو جنت کہتے ہیں ۔یا تکلیف کے گھر میں جانا پڑے جس کی تکلیف کی کوئی حد نہیں ، اسے جہنم کہتے ہیں ۔

عقیدہ ۱۳: جنت ودوزخ حق ہیں [176]، ان کا انکار کرنے والا کافر ہے۔ [177]

عقیدہ ۱۴: جنت ودوزخ کو بنے ہوئے ہزارہا سال ہوئے اور وہ اب موجود ہیں ، یہ نہیں کہ اس وقت تک مخلوق نہ ہوئیں ، قیامت کے دن بنائی جائیں گی۔[178]

عقیدہ ۱۵: قیامت و بعث و حشر و حساب و ثواب و عذاب و جنت و دوزخ سب کے وہی معنی ہیں جو مسلمانوں میں مشہور ہیں ، جو شخص ان چیزوں کو تو حق کہے مگر ان کے نئے معنی گھڑے مثلاً ثواب کے معنی اپنے حسنات کو دیکھ کر خوش ہونا اور عذاب اپنے بُرے اعمال کو دیکھ کر غمگین ہونا، یا حشر فقط روحوں کا ہونا، وہ حقیقۃً ان چیزوں کا منکر ہے اور ایسا شخص کافر ہے۔[179] اب جنت و دوزخ کی مختصر کیفیت بیان کی جاتی ہے۔ (بہار شریعت ،حصہ اول،جلد۱،صفحہ۱۱۶ تا ۱۵۱)


[1] { كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ(۲۶) وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ(۲۷) پ ۲۷، الرحمٰن: ۲۶،۲۷۔

{ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۫-كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗؕ-لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠(۸۸)پ۲۰، القصص: ۸۸۔

في ’’روح المعاني‘‘، پ۲۰، تحت الآیۃ: ۸۸، الجزء العشرون، ص۴۵۱: (أخرج عنہ ابن مردویہ أنّہ قال: لما نزلت { كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ الْمَوْتِ } قیل: یا رسول اللّٰہ: فما بال الملائکۃ؟ فنزلت { كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗؕ-} فبیّن في ہذہ الآیۃ فناء الملائکۃ والثقلین من الجن والإنس وسائر عالم اللّٰہ تعالی وبریتہ من الطیر والوحوش والسباع والأنعام وکل ذي روح أنّہ ہالک میت

[2] عن حذیفۃ بن أسید الغفاري قال: اطلع النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم علینا ونحن نتذاکر، فقال: ((ما تذاکرون؟ قالوا: نذکر الساعۃ، قال: إنّھا لن تقوم حتی ترون قبلھا عشرآیات، فذکر الدخان والدجال والدابۃ وطلوع الشمس من مغربھا ونزول عیسی بن مریم علیہ السلام ویأجوج ومأجوج، وثلاثۃ خسوف: خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف بجزیرۃ العرب))۔ (’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ، باب في الآیات التي۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۲۹۰۱، ص۱۵۵۱)۔

[3] عن عبد اللّٰہ بن عمرو بن العاص قال: سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: ((إنّ اللّٰہ لا یقبض العلم انتزاعاً ینتزعہ من العباد، ولکن یقبض العلم بقبض العلماء حتی إذا لم یبق عالم اتخذ الناس رؤوساً جھّالاً، فسئلوا فأ فتوا بغیر علم فضلّوا وأضلّوا))۔ ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب العلم، باب: کیف یقبض العلم، الحدیث: ۱۰۰، ج۱، ص۵۴۔

[4] عن أنس رضي اللّٰہ عنہ قال: سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: ((إنّ من أشراط الساعۃ أن یرفع العلم ویکثر الجھل))۔ ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب النکاح، باب: یقل الرجال ویکثر النسائ، الحدیث: ۵۲۳۱، ج۳، ص۴۷۲، ملتقطاً۔

[5] ((ویکثر الزنا))۔ ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب النکاح، باب: یقل الرجال ویکثر النساء، الحدیث: ۵۲۳۱، ج۳، ص۴۷۲۔

[6] ((یتہارجون فیھا تھارج الحمر، فعلیھم تقوم الساعۃ))۔ ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال ۔۔۔إلخ، الحدیث: ۲۹۳۷، ص۱۵۷۰۔في ’’شرح النووي علی المسلم‘‘، ج۲، ص۴۰۲، قولہ: صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ’’یتہارجون فیہا تہارج الحمر‘‘ (أي: یجامع الرجال النساء علانیۃ بحضرۃ الناس کما یفعل الحمیر، ولا یکترثون لذلک)۔

[7] ((وتکثر النساء ویقل الرجال حتی یکون لخمسین امرأۃً القیم الواحد))۔ ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب العلم، باب رفع العلم وظہور الجہل، الحدیث: ۸۱، ج۱، ص۴۷۔

[8] عن ثوبان قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((۔۔۔ وإنّہ سیکون في أمتي کذابون ثلاثون، کلہم یزعم أنّہ نبي، وأنا خاتم النبیین لا نبي بعدي))۔ ’’سنن أبي داود‘‘، کتاب الفتن والملاحم، باب ذکر الفتن ودلائلہا، الحدیث: ۴۲۵۲، ج۴، ص۱۳۳۔

وفي روایۃ: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((إنّ الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدي ولا نبي))۔’’سنن الترمذي‘‘، کتاب الرؤیا، باب ذہبت النبوۃ وبقیت المبشرات، الحدیث: ۲۲۷۹، ج۴، ص۱۲۱۔

[9] عن عمارۃ بن بلال الأسدي قال: (ارتد طلیحۃ في حیاۃ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم وادعی النبوۃ) ’’کنز العمال‘‘، کتاب القیامۃ، الحدیث: ۳۹۵۷۶، ج۱۴، ص۲۳۴۔عن ابن الزبیر قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم :((لا تقوم الساعۃ حتی یخرج ثلاثون کذّابا، منھم العنسي مسیلمۃ والمختار))۔ ’’المصنف‘‘ لابن أبي شیبۃ، کتاب الأمرائ، الحدیث: ۵۷، ج۷، ص۲۵۷۔ ’’مسند أبي یعلی‘‘، الحدیث: ۶۷۸۶ ، ج۶، ص۴۵۔

في ’’فتح الباري‘‘، کتاب المناقب، ج۶، ص۵۱۵، تحت الحدیث:۳۶۰۹: (عن عبد اللّٰہ بن الزبیر تسمیۃ بعض الکذابین المذکورین بلفظ: ((لا تقوم الساعۃ حتی یخرج ثلاثون کذاباً منہم مسیلمۃ والعنسي والمختار)) قلت: وقد ظہر مصداق ذلک في آخر زمن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فخرج مسیلمۃ بالیمامۃ، والأسود العنسي بالیمن، ثم خرج في خلافۃ أبي بکر طلیحۃ بن خویلد في بني أسد بن خزیمۃ، وسجاح التمیمیۃ في بني تمیم، وقتل الأسود قبل أن یموت النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم، وقتل مسیلمۃ في خلافۃ أبي بکر، وتاب طلیحۃ ومات علی الإسلام علی الصحیح في خلافۃ عمر، ونقل أنّ سجاح أیضاً تابت ، وأخبار ہؤلاء مشہورۃ عند الأخباریین ملتقطاً

[10] غلام احمد قادیانی کے بارے میں اسی ’’بہار شریعت‘‘ کے صفحہ۱۹۰سے دیکھیں ۔

[11] أنّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:((لا تقوم الساعۃ حتی یکثر المال۔۔۔إلخ))۔’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الزکاۃ، باب الترغیب في الصدقۃ ۔۔۔إلخ، الحدیث: ۱۵۷، ص۵۰۵۔

[12] عن أبي ہریرۃ أنّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ((لا تقوم الساعۃ حتی یحسر الفرات عن جبل من ذھب))۔ ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ، باب لا تقوم الساعۃ حتی۔۔۔إلخ، الحدیث: ۲۸۹۴، ص۱۵۴۷۔

[13] قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((لا تقوم الساعۃ حتی تعود أرض العرب مروجا وأنہارا))۔ ’’المستدرک‘‘، کتاب الفتن، الحدیث: ۸۵۱۹، ج۵، ص۶۷۴۔

[14] عن أنس بن مالک قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((یأتي علی الناس زمان الصابر فیہم علی دینہ کالقابض علی الجمر))۔ ’’سنن الترمذي‘‘، کتاب الفتن، الحدیث: ۲۲۶۷، ج۴، ص۱۱۵۔

[15] عن أبي ھریرۃ أنّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ((لا تقوم الساعۃ حتی یمرّ الرجل بقبر الرجل فیقول: یالیتني مکانہ)) وقال صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((والذي نفسي بیدہ! لا تذہب الدنیا حتی یمرّ الرجل علی القبر، فیتمرغ علیہ، ویقول: یا لیتني کنت مکان صاحب ہذا القبر))۔’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ، الحدیث: ۵۳۔۵۴ (۱۵۷)، ص۱۵۵۵۔

[16] عن أنس بن مالک قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((لا تقوم الساعۃ حتی یتقارب الزمان وتکون السنۃ کالشھر والشھر کالجمعۃ وتکون الجمعۃ کالیوم ویکون الیوم کالساعۃ وتکون الساعۃ کالضرمۃ بالنار))۔ ’’سنن الترمذي‘‘، کتاب الفتن، باب ماجاء في قصر الأمل، الحدیث: ۲۳۳۹، ج۴، ص۱۴۹۔

[17] عن أبي ھریرۃ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((إذا اتخذ الفيء دولاً، والأمانۃ مغنماً، والزکاۃ مغرماً))۔

[18] ((وتعلم لغیرالدین))۔ ’’سنن الترمذي‘‘، کتاب الفتن، باب ما جاء في علامۃ۔۔۔إلخ، الحدیث: ۲۲۱۸، ج۴، ص۹۰۔

[19] یعنی فرمانبردار ہوگا۔ ((وأطاع الرجل امرأتہ))۔ ’’سنن الترمذي‘‘، کتاب الفتن، باب ما جاء في علامۃ۔۔۔إلخ، الحدیث: ۲۲۱۸، ج۴، ص۹۰۔

[20] ((وعق أمہ))۔المرجع السابق۔

[21] ((وأدنی صد یقہ وأقصی أباہ))۔المرجع السابق۔

[22] ((وظھرت الأصوات في المساجد))۔المرجع السابق۔

[23] ((وظھرت القینات والمعازف))۔المرجع السابق۔

[24] ((ولعن آخر ھذہ الأمۃ أوّلھا))۔المرجع السابق۔

[25] چابک کا سرا۔

[26] عن أبي سعید الخدري قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((والذي نفسي بیدہ لا تقوم الساعۃ حتی تکلم السباع الإنس، وحتی یکلم الرجل عذبۃ سوطہ وشراک نعلہ وتخبرہ فخذہ بما أحدث أھلہ بعدہ))۔ ’’سنن الترمذي‘‘، کتاب الفتن، باب ما جاء في کلام السباع، الحدیث: ۲۱۸۸، ج ۴، ص۷۶۔

[27] ((وأن تری الحفاۃ، العراۃ، العالۃ، رعاء الشائ، یتطاولون في البنیان))۔ ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الإیمان، الحدیث:۸،ص۲۱۔ٰ

[28] ((فلا أدع قریۃ إلاّ ھبطتھا في أربعین لیلۃ غیر مکۃ وطیبۃ، فھما محرمتان علي کلتاھما))۔’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الفتن، باب قصۃ الجساسۃ، الحدیث: ۲۹۴۲، ص۱۵۷۶۔

[29] قلنا: یا رسول اللّٰہ! وما لبثہ في الأرض؟ قال: ((أربعون یوماً، یوم کسنۃ، ویوم کشھر، ویوم کجمعۃ، وسائر أیامہ کأیامکم))، قلنا: یا رسول اللّٰہ! فذلک الیوم الذي کسنۃ، أتکفینا فیہ صلاۃ یوم؟ قال: ((لا، اقدروا لہ قدرہ))، قلنا: یا رسول اللّٰہ! وما إسراعہ في الأرض؟ قال:((کالغیث استدبرتہ الریح))۔’’صحیح مسلم‘‘،کتاب الفتن، باب في ذکر الدجال۔۔۔إلخ، الحدیث:۲۹۳۷،ص۱۵۶۹۔

[30] قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّہ لم تکن فتنۃ في الأرض منذ ذرأ اللّٰہ ذریۃ آدم علیہ السلام أعظم من فتنۃ الدجال))۔’’سنن ابن ماجہ‘‘، أبواب الفتن، باب فتنۃ الدجال۔۔۔إلخ، الحدیث: ۴۰۷۷، ج۴، ص۴۰۴۔

[31] عن حذیفۃ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((معہ جنۃ ونار، فنارہ جنۃ وجنتہ نار))۔’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال۔۔۔إلخ، الحدیث:۲۹۳۴، ص۱۵۶۷۔ وفي روایۃ ’’المسند‘‘: ((ومعہ نہران أنا أعلم بہما منہ نہر یقول: الجنۃ ونہر یقول: النار، فمن أدخل الذي یسمیہ الجنۃ فہو النار ومن أدخل الذي یسمیہ النار فہو الجنۃ))۔ ’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۴۹۵۹، ج۵، ص۱۵۶۔۱۵۷۔

[32] ((فیقول للناس: أنا ربکم))’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، ج۵، ص۱۵۶، الحدیث:۱۴۹۵۹۔

[33] في ’’فیض القدیر‘‘، ج۳، ص۷۱۹: (معہ جنۃ ونار فنارہ جنۃ وجنتہ نار) أي: من أدخلہ الدجال نارہ بتکذبیہ إیاہ تکون تلک النار سببا لدخولہ الجنۃ في الآخرۃ ومن أدخلہ جنتہ بتصدیقہ إیاہ تکون تلک الجنۃ سببا لدخولہ النار في الآخرۃ

[34] زندہ کرے۔

[35] عن سمرۃ بن جندب أنّ نبي اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان یقول: ((إنّ الدجال خارج وہو أعور عین الشمال علیہا ظفرۃ غلیظۃ، وإنّہ یبرء الأکمہ والأبرص ویحیی الموتی۔۔۔إلخ))۔ ’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، ج۷، ص۲۶۰، الحدیث: ۲۰۱۷۱۔

[36] ڈھیرکے ڈھیر، جتھے کے جتھے۔

[37] ((فیأمر السماء أن تمطر فتمطر ویأمر الأرض أن تنبت فتنبت فتروح علیہم سارحتہم کأطول ما کانت ذُرًی وأمدّہ خواصر وأدرّہ ضروعا، قال: ثم یأتي الخربۃ فیقول لہا: أخرجي کنوزک فینصرف منہا فتتبعہ کیعاسیب النحل))۔’’سنن الترمذي‘‘، کتاب الفتن، باب ما جاء في فتنۃ الدجال، الحدیث: ۲۲۴۷، ج۴، ص۱۰۴۔

[38] نظر بندی کے کھیل۔

[39] قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((لیس من بلد إلاّ سیطؤہ الدجال، إلاّ مکۃ والمدینۃ، ولیس نقب من أنقابھا إلاّ علیہ الملائکۃ صافین تحرسھا، فینزل بالسبخۃ، فترجف المدینۃ ثلاث رجفات، یخرج إلیہ منھا کلّ کافر ومنافق))۔’’صحیح مسلم‘‘، باب قصۃ الجسّاسۃ، الحدیث: ۲۹۴۳، ص۱۵۷۷۔۱۵۷۸۔

[40] ((الدجال معہ سبعون ألف یھودي))۔ ’’سنن ابن ماجہ‘‘، أبواب الفتن، باب فتنۃ الدجال، الحدیث: ۴۰۷۷، ج۴، ص۴۰۶۔

[41] عن أنس بن مالک قال: قال رسو ل اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((الدجال ممسوح العین، مکتوب بین عینیہ کافر، ثم تھجاھا ک ف ر، یقرأہ کل مسلم))۔ ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال، الحدیث: ۲۹۳۳، ص۱۵۶۷۔

[42] في ’’فتح الباري‘‘،کتاب الفتن ،باب ذکرالدجال،تحت الحدیث ۷۱۳۱ ، ج ۱۳، ص۸۶: قولہ: ’’مکتوب بین عینیہ کافر‘‘: (فھذا یراہ المؤمن بغیر بصرہ وإن کان لا یعرف الکتابۃ، ولا یراہ الکافر ولو کان یعرف الکتابۃ کما یری المؤمن الأدلۃ بعین بصیرتہ ولا یراھا الکافر فیخلق اللّٰہ للمؤمن الإدراک دون تعلّم وفي ’’شرح مسلم‘‘ للنووي، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ، ج۲، ص ۴۰۰: (یظھر اللّٰہ تعالی لکل مسلم کاتب وغیر کاتب ویخفیھا عمن أراد شقاوتہ وفتنتہ

[43] حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔

[44] ((إذ بعث اللّٰہ المسیح ابن مریم، فینزل عند المنارۃ البیضاء شرقي دمشق))۔ ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال، الحدیث: ۲۹۳۷، ص۱۵۶۹۔

[45] نظرکی انتہا۔

[46] قالت أم شریک بنت أبي العکر: یا رسول اللّٰہ فأین العرب یومئذ؟ قال: ((ہم یومئذ قلیل، وجلہم ببیت المقدس، وإمامہم رجل صالح، فبینما إمامہم قد تقدم یصلي بہم الصبح، إذ نزل علیہم عیسی ابن مریم علیہ السلام، فرجع ذلک الإمام ینکص، یمشي القہقری لیتقدم عیسی یصلي بالناس، فیضع عیسی علیہ السلام یدہ بین کتفیہ ثم یقول لہ: تقدم فصلّ، فإنّہا لک أقیمت فیصلي بہم إمامہم فإذا انصرف قال عیسی علیہ السلام: افتحوا الباب، فیفتح ووراء ہ الدجال معہ سبعون ألف یہودي کلہم ذو سیف محلی وساج فإذا نظر إلیہ الدجال ذاب کما یذوب الملح في الماء، وینطلق ہارباً ویقول عیسی علیہ السلام: إنّ لي فیک ضربۃ لن تسبقني بہا فیدرکہ عند باب اللد الشرقي فیقتلہ))۔ ’’سنن ابن ماجہ‘‘، أبواب الفتن، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسی۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۴۰۷۷، ج۴، ص۴۰۶۔

وفي روایۃ: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((ولا یجد ریح نفسہ یعني أحداً إلاّ مات، وریح نفسہ منتہی بصرہ، قال: فیطلبہ حتی یدرکہ بباب لد فیقتلہ))۔ ’’سنن الترمذي‘‘، کتاب الفتن، باب ما جاء في فتنۃ الدجال، الحدیث: ۲۲۴۰، ج۴، ص۱۰۴۔ في’’منح الروض الأزہر‘‘، ص۱۱۲۔

[47] ((ویفیض المال حتی لا یقبلہ أحد))۔ ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب أحادیث الأنبیائ، باب نزول عیسی ابن مریم علیہما السلام، الحدیث: ۳۴۴۸، ج۲، ص ۴۵۹۔

[48] ((ولتذھبن الشحناء والتباغض والتحاسد ولیدعون إلی المال فلا یقبلہ أحد))۔ ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الإیمان، باب نزول عیسی ابن مریم ۔۔۔إلخ، الحدیث: ۲۴۳، ص ۹۲۔

[49] عیسائیوں کا مقدّس نشان۔ (’’ فیروز اللّغات‘‘، ص۹۱۶)۔

[50] قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((والذي نفسي بیدہ لیوشکنّ أن ینزل فیکم ابن مریم حکماً عدلاً فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر))۔ ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب أحادیث الأنبیاء، باب نزول عیسی ابن مریم علیہما السلام، الحدیث: ۳۴۴۸، ج۲، ص۴۵۹۔

[51] ((فیقاتل الناس علی الإسلام فیدق الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویہلک اللّٰہ في زمانہ الملل کلہا إلاّ الإسلام))۔’’سنن أبي داود‘‘، کتاب الملاحم، باب [ذکر] خروج الدجال، الحدیث: ۴۳۲۴، ج۴، ص۱۵۸۔

في ’’تفسیر الطبري‘‘، پ۶، النساء، ج۴، ص۳۵۶۔۳۵۷، تحت الآیۃ ۱۵۹: { وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖۚ-} یعني: بعیسی {قَبْلَ مَوْتِهٖۚ} یعني: قبل موت عیسی، یوجِّہ ذلک إلی أنّ جمیعہم یصدِّقون بہ إذا نزل لقتل الدجّال، فتصیر الملل کلہا واحدۃ، وہي ملۃ الإسلام الحنیفیّۃ، دین إبراہیم صلی اللّٰہ علیہ وسلم

عن أبي مالک في قولہ: { اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖۚ} قال: ذلک عند نزول عیسی ابن مریم، لا یبقی أحدٌ من أہل الکتاب إلاّ لیؤمننّ بہ

[52] ((وتنزع حمۃ کل ذات حمۃ حتی یدخل الولید یدہ في فيّ الحیۃ فلا تضرہ، وتفر الولیدۃ الأسد فلا یضرھا، ویکون الذئب في الغنم کأنّہ کلبھا))۔ ’’سنن ابن ماجہ‘‘، أبواب الفتن، باب فتنۃ الدجال۔۔۔ إلخ، الحدیث:۴۰۷۷، ج۴، ص۴۰۷۔

وعن أبي ھریرۃ رضي اللّٰہ عنہ أ ن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ۔۔۔ وتقع الآمنۃ علی أھل الأرض حتی ترعی الأسود مع الإبل والنمور مع البقر والذئاب مع الغنم ویلعب الصبیان مع الحیات لاتضرھم، فیمکث أربعین سنۃ ثم یتوفی ویصلي علیہ المسلمون))۔ ’’المستدرک‘‘ للحاکم، باب ہبوط عیسی علیہ السلام، الحدیث: ۴۲۱۹، ج۳، ص۴۹۰۔

[53] قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((ینزل عیسی ابن مریم إلی الأرض، فیتزوج، ویولد لہ، ویمکث خمساً وأربعین سنۃ، ثم یموت، فیدفن معي في قبري))۔ ’’مشکاۃ‘‘، کتاب الفتن، باب نزول عیسی علیہ السلام، الحدیث: ۵۵۰۸، ج۲، ص۳۰۶۔

وفي’’مرقاۃ المفاتیح‘‘، تحت الحدیث: ۵۵۰۸، ج۹، ص۴۴۲:( وھذا بظاھرہ یخالف قول من قال:إنّ عیسی رفع بہ إلی السماء وعمرہ ثلاث وثلاثون، ویمکث في الأرض بعد نزولہ سبع سنین، فیکون مجموع العدد أربعین لکن حدیث مکثہ سبعا رواہ مسلم، فیتعین الجمع بماذکر، أو ترجیح ما في الصحیح، ولعل عدد الخمس ساقط من الاعتبار لإلغاء الکسر۔

[54] في ’’مرقاۃ المفاتیح‘‘: (قال الجوہري: الأبدال قوم من الصالحین لا تخلو الدنیا منہم، إذا مات واحد أبدل اللّٰہ مکانہ بآخر۔۔۔وفي ’’القاموس‘‘: الأبدال قوم بہم یقیم اللّٰہ عزوجل الأرض وہم سبعون، أربعون بالشام وثلاثون في غیرہا۔(’’مرقاۃ المفاتیح‘‘: ج۹، ص۳۵۳)۔

[55] لم نعثر علیہ۔

[56] { حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ(۹۶)} پ۱۷، الأنبیاء:۹۶۔

[57] بُحَیْرَۂ طَبَرِیَّہ: في ’’المرقاۃ‘‘، ج۹، ص۳۸۸: (بحیرۃ تصغیر بحرۃ، وہي ماء مجتمع بالشام طولہ عشرۃ أمیال، وطبریۃ بفتحتین اسم موضع، وقال شارح: ہي قصبۃ الأردن بالشام

[58] تیر دان، تیر رکھنے کا خانہ۔

[59] قال: ((فیلبث کذلک ما شاء اللّٰہ؟، قال: ثم یوحي اللّٰہ إلیہ أن حرّز عبادي إلی الطور فإنّي قد أنزلت عباداً لي لَا یَدَانِ لأحد بقتالہم، قال: ویبعث اللّٰہ یأجوج ومأجوج وہم کما قال اللّٰہ: { وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ(۹۶) قال: ویمرّ أولہم ببحیرۃ الطبریۃ فیشرب ما فیہا، ثم یمر بہا آخرہم فیقولون: لقد کان بہذہ مرۃ ماء، ثم یسیرون حتی ینتہوا إلی جبل بیت المقدس، فیقولون: لقد قتلنا من في الأرض فہلم فلنقتل من في السماء، فیرمون بنُشّابہم إلی السماء، فیردّ اللّٰہ علیہم نُشّابہم محمراً دماً، ویحاصر عیسی ابن مریم وأصحابہ حتی یکون رأس الثور یومئذ خیراً لہم من مائۃ دینار لأحدکم الیوم، قال: فیرغب عیسی ابن مریم إلی اللّٰہ وأصحابہ، قال: فیرسل اللّٰہ علیہم النغف في رقابہم فیصبحون فرسي موتی کموت نفس واحدۃ، قال: ویہبط عیسی وأصحابہ فلا یجد موضع شبر إلاّ وقد ملأتہ زہمتہم ونتنہم ودماؤہم، قال: فیرغب عیسی إلی اللّٰہ وأصحابہ قال: فیرسل اللّٰہ علیہم طیراً کأعناق البخت، فتحملہم فتطرحہم بالمہبل ویستوقد المسلمون من قسّیہم ونشّابہم وجعابہم سبع سنین، قال: ویرسل اللّٰہ علیہم مطراً لا یکنّ منہ بیت وبر ولا مدر، قال: فیغسل الأرض فیترکہا کالزلفۃ، قال: ثم یقال للأرض: أخرجی ثمرتک وردّي برکتک، فیومئذ تأکل العصابۃ من الرمانۃ ویستظلّون بقحفہا ویبارک في الرسل حتی أنّ الفئام من الناس الناس لیکتفون باللقحۃ من الإبل، وأنّ القبیلۃ لیکتفون باللقحۃ من البقر، وإنّ الفخذ لیکتفون باللقحۃ من الغنم))۔’’سنن الترمذي‘‘، کتاب الفتن، باب ما جاء في فتنۃ الدجال، الحدیث:۲۲۴۷، ج۴، ص۱۰۴۔۱۰۵۔

[60] { فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ(۱۰) یَّغْشَى النَّاسَؕ-هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۱)پ۲۵، الدخان:۱۰۔۱۱۔

في ’’تفسیر الطبري‘‘، ج ۱۱، ص ۲۲۷، تحت ہذہ الآیۃ:عن ربعي بن حراش، قال: سمعت حذیفۃ بن الیمان یقول: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((أوّل الآیات الدجال، ونزول عیسی بن مریم، ونار تخرج من قعر عدن أبین تسوق الناس إلی المحشر تُقِیْل معہم إذا قالوا، والدخان، قال حذیفۃ: یا رسول اللّٰہ! وما الدخان؟ فتلا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الآیۃ: { یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ(۱۰) یَّغْشَى النَّاسَؕ-هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۱) یملأ ما بین المشرق والمغرب یمکث أربعین یوما ولیلۃ، أمّا المؤمن فیصیبہ منہ کہیئۃ الزکام، وأمّا الکافر فیکون بمنزلۃ السکران یخرج من منخریہ وأذنیہ ودبرہ))۔ج۱۱،ص۲۲۷، الحدیث: ۳۱۰۶۱۔

[61] { وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْۙ-اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠(۸۲)پ۲۰، النمل:۸۲۔

[62] عن أبي ھریرۃ أنّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ((تخرج الدابۃ ومعھا خاتم سلیمان بن داود، وعصا موسی بن عمران علیھما السلام، فتجلو وجہ المؤمن بالعصا وتخطم أنف الکافر بالخاتم حتی أنّ أھل الحِواء لیجتمعون، فیقول ھذا: یا مؤمن، ویقول ھذا: یا کافر))۔ ’’سنن ابن ماجہ‘‘، أبواب الفتن، باب دابۃ الأرض، الحدیث: ۴۰۶۶، ج۴، ص۳۹۳۔۳۹۴۔

[63] لم نعثر علیہ۔

[64] عن صفوان بن عسال قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((إنّ من قبل مغرب الشمس باباً مفتوحاً، عرضہ سبعون سنۃ، فلا یزال ذلک الباب مفتوحاً للتوبۃ حتی تطلع الشمس من نحوہ، فإذا طلعت من نحوہ لم ینفع نفساً إیمانھا لم تکن آمنت من قبل أو کسبت في إیمانھم خیراً))۔ (’’سنن ابن ماجہ‘‘، أبواب الفتن، باب طلوع الشمس من مغربھا، الحدیث: ۴۰۷۰، ج۴، ص۳۹۶)۔

[65] قیامت کے قائم ہونے۔

[66] لم نعثر علیہ۔

[67] ((فبینما ھم کذلک إذ بعث اللہ ریحاً طیبۃ، فتأخذھم تحت آباطھم، فتقبض روح کل مؤمن وکل مسلم ، ویبقی شرار الناس، یتھارجون فیھا تھارج الحمر، فعلیھم تقوم الساعۃ))۔ ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ، باب ذکر الدجال، الحدیث: ۷۳۷۳، ص۱۵۷۰۔

[68] لم نعثر علیہ۔

[69] عن أنس أنّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ((لا تقوم الساعۃ حتی لا یقال في الأرض: اللّٰہ اللّٰہ))۔’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الإیمان، باب ذھاب الإیمان آخر الزمان، الحدیث: ۲۳۴، ص۸۸۔في ’’المرقاۃ‘‘، ج۹، ص ۴۵۰، تحت الحدیث: (معناہ: لا تقوم الساعۃ حتی لا یبقی في الأرض مسلم یحذر الناس من اللّٰہ، وقیل: أي: لا یذکر اللّٰہ فلا یبقی حکمۃ في بقاء الناس

[70] پلستر کرتا۔

[71] عن أبيہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ أنّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:((لا تقوم الساعۃ حتی تطلع الشمس من مغربہا، فإذا طلعت فرآہا الناس آمنوا أجمعون فذلک حین{ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا }الآیۃ، ولتقومن الساعۃ وقد نشر الرجلان ثوبہما بینہما فلا یتبایعانہ ولا یطویانہ، ولتقومن الساعۃ وقد انصرف الرجل بلبن لقحتہ فلا یطعمہ، ولتقومنّ الساعۃ وہو یلیط حوضہ فلا یسقي فیہ، ولتقومن الساعۃ وقد رفع أحدکم أکلتہ إلی فیہ فلا یطعمہا))۔(’’صحیح البخاري‘‘، کتاب الرقاق، الحدیث:۶۵۰۶، ج۴، ص۲۴۹)۔

[72] اچانک۔

[73] پ۲۴، المؤمن: ۱۶

[74] پ۲۴، المؤمن: ۱۶۔

[75] عن ابن عباس في صفۃ القیامۃ، فذکر فیہ صفۃ الصور وعظمہ وعظم إسرافیل ثم قال: فإذا بلغ الوقت الذي یرید اللّٰہ أمر إسرافیل، فینفخ في الصور النفخۃ الأولی، فتھبط النفخۃ من الصور إلی السموات فیصعق سکّان السموات بحذافیرھا، وسکّان البحر بحذافیرھا، ثم تھبط النفخۃ إلی الأرض، فیصعق سکّان الأرض بحذافیرھا، وجمیع عالم اللّٰہ وبریّتہ فیھن من الجن والإنس والھوام والأنعام، قال: وفي الصورمن الکوی بعدد من یذوق الموت من جمیع الخلا ئق، فإذا صعقوا جمیعاً، یقول اللّٰہ عزوجل: یا إسرافیل من بقي؟ فیقول: بقي إسرافیل عبدک الضعیف، فیقول: مت یا إسرافیل فیموت، ثم یقول الجبار تعالی: { لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَؕ- فلا ھمیس ولا حسیس ولا ناطق یتکلم، ولا مجیب یفھم، وقد مات حملۃ العرش وإسرافیل وملک الموت وکل مخلوق، فیرد الجبارعلی نفسہ: { لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ(۱۶)اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْؕ-لَا ظُلْمَ الْیَوْمَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ(۱۷)} [المؤمن: ۱۶۔۱۷]۔ وذلک حین تمت کلمۃ ربک صدقاً وعدلاً لا مبدل لکلماتہ: { وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ(۱۳۷) فیتم کلمتہ بإنفاذ قضائہ علی أھل أرضہ وسمائہ لقولہ تعالی: { كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗؕ-لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠(۸۸)} [القصص:۸۸]۔ فأمّا إسرافیل، فیموت ثم یحیی في طرفۃ عین، وأما حملۃ العرش فیحیون في أسرع من طرفۃ عین، فیأمر اللّٰہ

تعالی إسرافیل بعد النفخۃ الأولی بأربعین وکذلک ھو في التوراۃ بین النفختین أربعون، لا یدری ما ھو، فإذا انقضت الأربعون نظر اللّٰہ إلی أھل السموات وإلی أھل الأرضین، فیقول: وعزتي لأعیدنّکم کما بدأتکم ولأحیینّکم کما أمتکم، ثم یأمر إسرافیل فینفخ النفخۃ الثانیۃ، وقد جمعت الأرواح کلھا في الصور، فإذا نفخ خرج کل روح من کوۃ معلومۃ من کوی الصور، فإذا الأرواح تھوش بین السماء والأرض لھا دوي کدوي النحل، فینادي إسرافیل: یا أیتھا الجلود المتمزقۃ! ویا أیتھا الأعضاء المتھشمۃ! ویا أیتھا العظام البالیۃ! ویا أیتھا الأجساد المتفرقۃ! ویا أیتھا الأشعارالمتمرطۃ! قوموا إلی موقف الحساب والعرض الأکبر فیدخل کل روح في جسدہ قال: ویمطر اللّٰہ طیشا من تحت العرش علی جمیع الموتی، فیحیون کما تحیی الأرض المیتۃ بوابل السماء، فیبعث اللّٰہ الأجساد التي کانت في الدنیا من حیث کانت بعضھا في بطون السباع، وبعضھامن حواصل الطیر وبنیان البحور وبطون الأرض وظھورھا، فیدخل کل روح في جسدہ، فإذا ھم قیام ینظرون، فیبعث اللّٰہ نارا من المشارق، فتحشر الناس إلی المغارب إلی أرض تسمی الساہرۃ من وراء بیت المقدس أرض طاہرۃ لم یعمل علیہا سیئۃ ولا خطیئۃ فذلک قولہ: { فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ(۱۳) فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ(۱۴) وقولہ: { یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ(۶)}،{ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاۚ(۴۷) { وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ(۹۹) وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَىٕذٍ لِّلْكٰفِرِیْنَ عَرْضَاﰳۙ(۱۰۰) الَّذِیْنَ كَانَتْ } الآیۃ’’شعب الإیمان‘‘، باب في حشر الناس۔۔۔ إلخ، فصل في صفۃ یوم القیامۃ، الحدیث: ۳۵۳، ج۱، ص۳۱۲۔۳۱۴۔

76 عن ابن عمر: أنّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خرج ذات یوم فدخل المسجد وأبو بکر وعمر أحدھما عن یمینہ والآخر عن شمالہ وھوآخذ بأیدیھما وقال: ((ھکذا نبعث یوم القیامۃ))۔ ’’سنن الترمذي‘‘، کتاب المناقب، باب قولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لأبي بکر ثم عمر: ((ہکذا نبعث یوم القیامۃ))، الحدیث: ۳۶۸۹، ج۴، ص۳۷۸ ۔

[77] عن ابن عمر قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((أنا أوّل من تنشق عنہ الأرض، ثم أبو بکر، ثم عمر، ثم أتي أھل البقیع فیحشرون معي ثم أنتظر أھل مکۃ حتی أحشر بین الحرمین))۔ ’’سنن الترمذي‘‘، کتاب المناقب، باب أنا أول من تنشق عنہ الأرض، ثم أبو بکر وعمر، الحدیث: ۳۷۱۲، ج۵، ص۳۸۸۔

[78] { وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَاۙ-} پ ۱۷، الحج: ۷۔ في ’’الشفا‘‘، فصل في بیان ما ہو من المقالات، ج۲، ص۲۹۰: (من أنکر الجنۃ أو النار أو البعث أو الحساب أو القیامۃ فھو کافر بإجماع للنص علیہ وإجماع الأمۃ علی صحۃ نقلہ متواتراً وفي ’’منح الروض الأزہر‘‘ للقاریٔ، فصل في المرض والموت والقیامۃ، ص۱۹۵۔

[79] في ’’المعتقد المنتقد‘‘، ہل الروح أیضاً جسم فلا حشر إلاّ جسماني؟، ص۱۸۱: (أکثر المتکلمین علی أنّ الحشر جسماني فقط علی أنّ الروح جسم لطیف۔ والغزالي والماتریدي والراغب والحلیمي علی أنّہ جسماني وروحاني، بناء علی أنّ الروح جوھر مجرد لیس بجسم ولا قوۃ حالۃ في جسم، بل یتعلق بہ تعلق التدبیر والتصرف قال الإمام أحمد رضا في ’’المعتمد المستند‘‘، تحت قولہ: ’’جسماني فقط‘‘: (لا بمعنی إنکار حشر الروح، فإنّہ کفر قطعاً کإنکار حشر الأجساد؛ لأنّ الکل ثابت ضرورۃ من الدین، بل بناء علی أنّ الروح أیضاً عندھم جسم لطیف فحشر الجسد والروح کل ذلک لیس عند ھم إلاّ حشر جسم)۔ ۱۲

[80] { قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْۚ-وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ(۴)} پ۲۶، ق: ۴۔

في ’’تفسیر روح البیان‘‘، ج۹، ص۱۰۴، تحت ہذہ الآیۃ: (قال ابن عطیۃ وحفظ ما تنقص الأرض إنّما ہو لیعود بعینہ یوم القیامۃ وہذا ہو الحق وذہب بعض الأصولیین إلی أنّ الأجساد المبعوثۃ یجوز أن تکون غیر ہذہ، قال ابن عطیۃ: وہذا عندي خلاف لظاہر کتاب اللّٰہ، ولو کانت غیرہا فکیف کانت تشہد الجلود والأیدي والأرجل علی الکفرۃ إلی غیر ذلک مما یقتضي أنّ أجساد الدنیا ہي التي تعود، وسئل شیخ الإسلام ابن حجر: ہل الأجساد إذا بلیت وفنیت وأراد اللّٰہ تعالی إعادتہا کما کانت أوّلاً، ہل تعود الأجسام الأوّل أم یخلق اللّٰہ للناس أجساداً غیر الأجساد الأول؟، فأجاب أنّ الأجساد التي یعیدہا اللّٰہ ہي الأجساد الأول لا غیرہا، قال: وہذا ہو الصحیح بل الصواب، ومن قال غیرہ عندي فقد أخطأ فیہ لمخالفتہ ظاہر القرآن والحدیث، قال أہل الکلام: إنّ اللّٰہ تعالی یجمع الأجزآء الأصلیۃ التي صار الإنسان معہا حال التولد، وہي العناصر الأربعۃ ویعید روحہ إلیہ سوآء سمی ذلک الجمع اعادۃ المعدوم بعینہ أو لم یسم

[81] حدثنا إبراہیم بن الحکم بن أبان، حدثنا أبي، قال: کنت جالساً مع عکرمۃ عند منزل ابن داود ۔ وکان عکرمۃ نازلاً مع ابن داود نحوالساحل۔ فذکروا الذین یغرقون في البحر، فقال عکرمۃ: الحمد للّٰہ! إنّ الذین یغرقون في البحر تتقسم لحومہم الحیتان فلا یبقی منہم شيء إلاّ العظام تلوح، فتقلبہا الأمواج حتی تلقیہا إلی البر، فتمکث العظام حینا حتی تسیرحائلا نخرۃ، فتمر بہا الإبل فتأکلہا ثم تسیر الإبل فتبعر ثم یجيء بعدہم قوم ینزلون منزلاً فیأخذون ذلک البعر فیوقدون ثم تخمد تلک النار

النار فتجيء ریح فتلقی ذلک الرماد علی الأرض، فإذا جاء ت النفخۃ، قال اللّٰہ عز وجل: { فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ(۶۸)} [الزمر:۶۸] فیخرج أولئک وأہل القبور سواء ’’حلیۃ الأولیاء‘‘، عکرمۃ مولی ابن عباس، الحدیث: ۴۳۷۴، ج۳، ص۳۸۹۔وفي ’’البدور السافرۃ في أمور الآخرۃ‘‘، للسیوطي، ص۴۱۔ .

82 عن عائشۃ قالت:سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول:((یحشر الناس یوم القیامۃ حفاۃ عراۃ غرلا))۔’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا وأھلھا، باب فناء الدنیا۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۲۸۶۹، ص۱۵۲۹۔

وفي روایۃ: عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہما عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ((إنّکم محشرون حفاۃ عراۃ غرلا، ثُمَّ قَرَأَ { كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗؕ-وَعْدًا عَلَیْنَاؕ-اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ(۱۰۴)}))۔ ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب أحادیث الأنبیاء، الحدیث: ۳۳۴۹، ج۲، ص۴۲۰۔

[83] عن أبي ہریرۃ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((یحشر الناس یوم القیامۃ ثلاثۃ أصناف: صنفا مشاۃ وصنفا رکبانا وصنفا علی وجوہہم))۔ ’’سنن الترمذي‘‘، کتاب التفسیر، باب: ومن سورۃ النحل، الحدیث: ۳۱۵۳، ج۵، ص۹۶۔

[84] عن أبي ھریرۃ عن البني صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:((یحشر الناس علی ثلاث طرائق: راغبین وراھبین، واثنان علی بعیر، وثلاثۃ علی بعیر، وأربعۃ علی بعیر، وعشرۃ علی بعیر))۔ ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب الرقاق، باب کیف الحشر، الحدیث: ۶۵۲۲، ج۴، ص۲۵۲۔ ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا وأھلھا، باب فناء الدنیا۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۲۸۶۱، ص۱۵۳۰۔

وفي’’المرقاۃ‘‘، کتاب الفتن، تحت الحدیث: ۵۵۳۴، ج۹،ص۴۷۲:(فإن قیل: فلِم لم یذکر من السابقین من یتفرد بفرد مرکب لا یشارکہ فیہ أحد، قلنا: لأنّہ عرف أنّ ذلک مجعول لمن فوقہم في المرتبۃ من أنبیاء اللّٰہ لیقع الامتیاز بین النبیین والصدیقین في المراکب کما وقع في المراتب

[85] حدثنا أنس بن مالک، أنّ رجلاً قال: یا رسول اللّٰہ! کیف یحشر الکافر علی وجھہ یوم القیمۃ؟ قال: ((ألیس الذي أمشاہ علی رجلیہ في الدنیا قادراً علی أن یمشیہ علی وجھہ یوم القیمۃ؟))۔’’صحیح مسلم‘‘، کتاب صفات المنافقین وأحکامھم، یحشر الکافر علی وجھہ، الحدیث: ۲۸۰۶، ص۱۵۰۸، ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب الرقاق، باب کیف الحشر، الحدیث:۶۵۲۳، ج۴، ص۲۵۳۔

[86] عن أبي ذر قال: إنّ الصادق المصدوق صلی اللّٰہ علیہ وسلم حدثني: (( وفوج تسحبھم الملائکۃ علی وجوھھم وتحشرھم النار۔۔۔إلخ))۔ ’’سنن النسائی‘‘، کتاب الجنائز، البعث، الحدیث: ۲۰۸۳، ص۳۵۰۔

[87] قال: ((تحشرون ہاہنا وأومأ بیدہ إلی نحو الشام مشاۃ ورکبانا))۔ وحدثنا یزید، أخبرنا بہز عن أبیہ عن جدہ قال: قلت: یا رسول اللّٰہ، أین تأمرني، قال: ((ہاہنا)) ونحا بیدہ نحو الشام، قال: ((إنّکم محشورون رجالاً ورکباناً وتجرون علی وجوہکم))۔ ’’المسند‘‘، للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۰۰۴۲، ۲۰۰۵۱ ج۷، ص۲۳۵۔۲۳۷۔

[88] ’’ملفوظات اعلٰی حضرت‘‘، حصہ چہارم، ص۴۵۵۔

[89] { یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ } پ۱۳، إبراہیم:۴۸۔

في’’تفسیر الطبري‘‘، تحت الآیۃ: { یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ }:

واختلف في معنی قولہ:{ یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ } فقال بعضہم: معنی ذلک یوم تبدّل الأرض التي علیہا الناس الیوم في دار الدنیا غیر ہذہ الأرض، فتصیر أرضاً بیضاء کالفضۃ۔

عن عبد اللّٰہ أنّہ قال في ہذہ الآیۃ{ یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ } قال: أرض کالفضۃ نقیۃ لم یَسِل فیہا دم، ولم یُعْمَل فیہا خطیئۃ۔وقال آخرون: تبدّل نارا۔ ذکر من قال ذلک۔ عن قیس بن السَّکن قال: قال عبد اللّٰہ: الأرض کلہا نار یوم القیامۃ۔وقال آخرون: بل تبدّل الأرض أرضاً من فضۃ۔ ذکر من قال ذلک۔ عن أبي موسی عمن سمع علیا یقول في ہذہ الآیۃ: { یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ }قال: الأرض من فضۃ، والجنۃ من ذہب۔

وقال آخرون: یبدّلہا خبزۃ۔ ذکر من قال ذلک۔ عن سعید بن جبیر، في قولہ: { یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ } قال: تبدّل خبزۃ بیضاء یأکل المؤمن من تحت قدمیہ۔

وقال آخرون: تبدّل الأرض غیر الأرض ذکر من قال ذلک عن کعب في قولہ: {{ یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ } قال: تصیر السماوات جنانا ویصیر مکان البحر النار قال: وتبدل الأرض غیرہا۔

قال الإمام ابن جریر الطبري رحمہ اللّٰہ تعالی بعد ذلک: (وأولی الأقوال في ذلک بالصواب قول من قال: معناہ: یوم تبدّل الأرض التي نحن علیہا الیوم یوم القیامۃ غیرہا، وکذلک السماوات الیوم تبدّل غیرہا، کما قال جلّ ثناؤہ، وجائز أن تکون المبدلۃ أرضاً أخری من فضۃ، وجائز أن تکون ناراً وجائز أن تکون خبزاً، وجائز أن تکون غیر ذلک، ولا خبر في ذلک عندنا من الوجہ الذي یجب التسلیم لہ أيّ ذلک یکون، فلا قول في ذلک یصحّ إلاّ ما دلّ علیہ ظاہر التنزیل ملتقطاً۔(’’تفسیر الطبري‘‘، ج۷، ص۴۷۹۔۴۸۳)۔

حافظ ابن حجر رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ: ’’زمین کا روٹی ہونا ، غبار والا ہونا، اور آگ بن جانا جو احادیث میں آیا ہے اس میں کوئی منافات نہیں ، بلکہ ان کو اس طرح جمع کیا جاسکتا ہے کہ بعض زمین کے ٹکڑے روٹی، بعض غبار، اور بعض آگ ہوجائیں گے، اور آگ ہونے والا قول سمندر کی زمین کے ساتھ خاص ہے (کہ سمندر کی زمین آگ کی ہوجائے گی) ۔ (’’البدور السافرۃ‘‘ للسیوطي، الحدیث: ۷۴، ص۴۷)۔

’’تفسیر مظہری‘‘ میں ہے کہ: ’’ہوسکتا ہے کہ مومنین کے قدموں کی جگہ روٹی ہوجائے گی اور کفار کے قدموں کی جگہ غبار والی اور آگ والی ہوجائے گی‘‘۔ (’’تفسیر مظہري‘‘، تحت الآیۃ ۴۸، ج۵، ص۳۴۴، مترجم

90 حدثني مقداد بن الأسود قال: سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: ((تُدنی الشمس۔ یوم القیامۃ۔ من الخلق، حتی تکون منہ کمقدار میل))۔ قال سلیم بن عامر: فواللّٰہ! ما أدري ما یعني بالمیل؟ أ مسافۃ الأرض، أم المیل الذي تکتحل بہ العین))۔ ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الجنۃ۔۔۔ إلخ، باب في صفۃ یوم القیامۃ۔۔۔إلخ، الحدیث: ۲۸۶۴، ص۱۵۳۱۔۱۵۳۲۔

[91] في ’’المرقاۃ‘‘، ج۹، ص۶۵۹: (عن ابن عمر علی ما رواہ الدیلمي في ’’مسند الفردوس‘‘ مرفوعاً: ((الشمس والقمر وجوہہما إلی العرش وأقفاؤہما إلی الدنیا)) ففیہ تنبیہ نبیہ علی أنّ وجوہہما لو کانت إلی الدنیا لما أطاق حرّہما أحد من أہل الدنیا

[92] ’’ملفوظات اعلٰی حضرت‘‘، حصہ چہارم، ص۴۵۴۔۴۵۵۔

[93] عن أبي أمامۃ أنّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ((تدنو الشمس یوم القیامۃ علی قدر میل ویزاد في حرہا کذا وکذا یغلي منہا الہوام کما یغلي القدور، یعرقون فیہا علی قدر خطایاہم، منہم من یبلغ إلی کعبیہ ومنہم من یبلغ إلی ساقیہ ومنہم من یبلغ إلی وسطہ ومنہم من یلجمہ العرق))۔ ’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۲۲۴۸، ج۸، ص۲۷۹۔

[94] عن أبي ھریرۃ رضي اللّٰہ عنہ: أنّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ((یعرق الناس یوم القیامۃ حتی یذھب عرقھم في الأرض سبعین ذراعاً))۔ ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب الرقاق، الحدیث: ۶۵۳۲، ج۴، ص۲۵۵۔

[95] عن عقبۃ بن عامر یقول: سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: ((تُدنو الشمس من الأرض فیعرق الناس، فمن الناس من یبلغ عرقہ عقبیہ، ومنھم من یبلغ إلی نصف الساق، ومنھم من یبلغ إلی رکبتیہ، ومنھم من یبلغ العجز، ومنھم من یبلغ الخاصرۃ، ومنھم من یبلغ منکبیہ، ومنھم من یبلغ عنقہ، ومنھم من یبلغ وسط فیہ)) وأشار بیدہ فألجمھا فاہ: رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یشیر ھکذا، ((ومنھم من یغطیہ عرقہ))۔ وضرب بیدہ إشارۃ۔

’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۷۴۴۴، ج۶، ص۱۴۶۔

[96] { وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۙ-فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ(۳۴) یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْؕ-هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ(۳۵)} پ۱۰، التوبۃ:۳۴۔۳۵۔

[97] عن أبي ہریرۃ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((ما من صاحب کنز لا یؤدي زکاتہ إلاّ أحمي علیہ في نار جہنم، فیجعل صفائح، فیکوی بہا جنباہ وجبینہ حتی یحکم اللّٰہ بین عبادہ في یوم کان مقدارہ خمسین ألف سنۃ، ثم یری سبیلہ، إمّا إلی الجنۃ وإمّا إلی النار، وما من صاحب إبل لا یؤدي زکاتہا إلاّ بطح لہا بقاع قرقر کأوفر ما کانت تستن علیہ، کلما مضی علیہ أخراہا ردت علیہ أولاہا حتی یحکم اللّٰہ بین عبادہ في یوم کان مقدارہ خمسین ألف سنۃ، ثم یری سبیلہ إما إلی الجنۃ وإما إلی النار، وما من صاحب غنم لا یؤدي زکاتہا إلاّ بطح لہا بقاع قرقر کأوفر ما کانت، فتطؤہ بأظلافہا وتنطحہ بقرونہا، لیس فیہا عقصاء ولا جلحائ، کلما مضی علیہ أخراہا ردت علیہ أولاہا حتی یحکم اللّٰہ بین عبادہ في یوم کان مقدارہ خمسین ألف سنۃ مما تعدون، ثم یری سبیلہ إما إلی الجنۃ وإما إلی النار))۔ ‘‘صحیح مسلم‘‘ ، کتاب الزکاۃ ، باب إثم مانع الزکاۃ، الحدیث: ۹۸۷، ص۴۹۳۔

[98] { یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷) (پ۳۰، عبس: ۳۴۔۳۷)۔

[99] عن أبي سعید الخدري رضي اللّٰہ عنہ، عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ((یقول اللّٰہ تعالی: یا آدم! فیقول: لبیک، وسعدیک، والخیر في یدیک، فیقول: أخرج بعث النار، قال: وما بعث النار؟ قال: من کل ألف تسعمائۃ وتسعۃ وتسعین، فعندہ یشیب الصغیر { وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲)} [الحج:۲]))۔’’صحیح البخاري‘‘، کتاب أحادیث الأ نبیاء، باب قصۃ یأجوج ومأجوج، الحدیث: ۳۳۴۸، ج۲، ص۴۱۹۔۴۲۰۔

[100] { فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ(۴) پ۲۹، المعارج: ۴۔ في ’’الدرالمنثور‘‘، ج۸، ص۲۷۹، تحت الآیۃ: أخرج ابن أبي حاتم والبیہقي في البعث عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہما في قولہ: ({فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ(۴)}قال: لو قدرتموہ لکان خمسین ألف سنۃ من أیامکم، قال: یعني یوم القیامۃ

[101] گرتے پڑتے ۔

[102] عن أنس رضي اللّٰہ عنہ: أنّ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ((یحبس المؤمنون یوم القیامۃ حتی یھموا بذلک، فیقولون: لو استشفعنا إلی ربنا فیریحنا من مکاننا، فیأتون آدم فیقولون: أنت آدم أبو الناس، خلقک اللّٰہ بیدہ، وأسکنک جنتہ، وأسجد لک ملا ئکتہ، وعلمک أسماء کل شيء لتشفع لنا عند ربک حتی یریحنا من مکاننا ھذا، قال: فیقول: لست ھناکم))۔

’’صحیح البخاري‘‘، کتاب التوحید، باب قول اللّٰہ تعالٰی: { وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ نَّاضِرَةٌۙ(۲۲)۔۔۔ إلخ}، الحدیث: ۷۴۴۰، ج۴، ص۵۵۴۔ وفي روایۃ ’’صحیح البخاري‘‘: قال: ((وتدنو منہم الشمس، فیقول بعض الناس: ألا ترون إلی ما أنتم فیہ؟ إلی ما بلغکم؟ ألا تنظرون إلی من یشفع لکم إلی ربکم؟ فیقول بعض الناس: أبوکم آدم، فیأتونہ، فیقولون: یا آدم، أنت أبو البشر، خلقک اللّٰہ بیدہ ونفخ فیک من روحہ، وأمر الملائکۃ فسجدوا لک، وأسکنک الجنۃ، ألا تشفع لنا إلی ربک، ألا تری ما نحن فیہ وما بلغنا؟))۔ کتاب أحادیث الأ نبیاء، باب قول اللّٰہ تعالی: } اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ ۔۔۔إلخ الحدیث: ۳۳۴۰، ج۲، ص۴۱۵۔

وفي روایۃ ’’المسند‘‘، الحدیث: ۱۵، ج۱،ص۲۱: ((فقالوا: یا آدم أنت أبو البشر، وأنت اصطفاک اللّٰہ ۔عزوجل۔ اشفع لنا إلی ربک))۔

[103] ((فیقول: إني لست ہناکم۔۔۔، وإنّہ لا یہمّني الیوم إلاّ نفسي))، ملتقطاً۔

’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، ج۱، ص۶۰۳، الحدیث: ۲۵۴۶۔

[104] ((فیقول: ربي غضب غضباً لم یغضب قبلہ مثلہ ولا یغضب بعدہ مثلہ، نفسي نفسي، اذہبوا إلی غیري))، ’’صحیح البخاري‘‘،کتاب أحادیث الأ نبیاء، باب قول اللّٰہ تعالی: { اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ ۔۔۔إلخ الحدیث: ۳۳۴۰، ج۲، ص۴۱۵۔

[105] ((فیقولون: إلی من تأمرنا؟ فیقول))۔ ’’الخصائص الکبری‘‘، باب الشفاعۃ،ج۲، ص۳۸۳۔

[106] ((ائتوا نوحاً فإنّہ أوّل رسول بعثہ اللّٰہ إلی أہل الأرض))۔

’’صحیح البخاري‘‘، کتاب التوحید، باب قول اللّٰہ تعالٰی: { لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّؕ- الحدیث: ۷۴۱۰، ج۴، ص۵۴۲۔

[107] ((فیأتون نوحاً فیقولون: یا نوح أنت أوّل الرسل إلی أہل الأرض، وسماک اللّٰہ عبداً شکوراً))۔ ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب أحادیث الأ نبیاء، باب قول اللّٰہ تعالی: { اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ ۔۔۔إلخ الحدیث: ۳۳۴۰، ج۲، ص۴۱۵۔

[108] ((فیقولون: یا نوح، اشفع لنا إلی ربنا فلیقض بیننا، فیقول: إني لست ہناکم۔۔۔، وإنّہ لا یہمّني الیوم إلاّ نفسي))، ملتقطا۔ ’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۵۴۶، ج۱، ص۶۰۳۔

[109] ((اذھبوا إلی غیري))۔ ’’صحیح البخاري‘‘،کتاب التفسیر، باب:{ ذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍؕ-اِنَّهٗ ۔۔۔ إلخ}، الحدیث: ۴۷۱۲، ج۳، ص۲۶۰۔

[110] ((فیقولون: إلی من تأمرنا؟ فیقول))۔’’الخصائص الکبری‘‘، باب الشفاعۃ، ج۲، ص۳۸۳۔

[111] ((لکن ائتوا إبراہیم خلیل اللّٰہ علیہ السلام))۔ ’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۵۴۶، ج۱، ص۶۰۳۔

[112] (( فإن اللّٰہ ۔عزوجل۔ اتخذہ خلیلاً))۔ ’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۵، ج۱، ص۲۱۔

[113] ((فیأتون إبراہیم، فیقول: إني لست ہناکم، وإنّہ لا یہمني الیوم إلاّ نفسي، ولکن ائتوا موسی علیہ السلام، فیقول: إني لست ہناکم، وإنّہ لا یہمني الیوم إلاّ نفسي، ولکن ائتوا عیسی روح اللّٰہ، وکلمتہ فیأتون عیسی، فیقول: إني لست ہناکم، وإنّہ لا یہمني الیوم إلاّ نفسي))، ملتقطاً۔ ’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۵۴۶، ج۱، ص۶۰۳۔۶۰۴۔

[114] ((فیقول عیسی: إنّ ربي قد غضب الیوم غضبا لم یغضب قبلہ مثلہ، ولن یغضب بعدہ مثلہ، نفسي نفسي نفسي، اذھبوا إلی غیري))، ملتقطاً۔

’’صحیح البخاري‘‘، کتاب التفسیر، باب: { ذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍؕ-اِنَّهٗ ۔۔۔ إلخ}، الحدیث: ۴۷۱۲، ج۳، ص۲۶۰۔

[115] ((فیقولون: إلی من تأمرنا؟ فیقول: ائتوا عبداً فتح اللّٰہ علی یدیہ، ویجيء في ہذا الیوم آمنا محمداً))۔

’’الخصائص الکبری‘‘، باب الشفاعۃ، ج۲، ص۳۸۳، ملتقطاً۔

[116] ((لکن انطلقوا إلی سید ولد آدم، انطلقوا إلی محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم فیشفع لکم إلی ربکم عز وجل))، ملتقطاً۔

’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۵، ج۱، ص۲۱۔

وفي روایۃ: ((إنّ محمداً صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم النبیین وقد حضر الیوم))۔

’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل: الحدیث: ۲۵۴۶، ج۱، ص۶۰۴۔

[117] اعلی حضرت امام اہلسنت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن اپنے مخصوص انداز میں ان الفاظ کے ساتھ اس محشر کے دن کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں :’’اب وہ وقت آیا کہ لوگ تھکے ہارے ، مصیبت کے مارے ، ہاتھ پاؤں چھوڑے ، چار طرف سے امیدیں توڑے ، بارگاہِ عرش جاہ، بیکس پناہ، خاتم دورۂ رسالت ، فاتح بابِ شفاعت، محبوب باوجاہت، مطلوب بلند عزت، ملجاء ِعاجزاں ، ماوٰیٔ بیکساں ، مولائے دوجہان، حضور پرنور محمد رسول اللہ شفیع یوم النشور، افضل صَلَوَاتُ اللہ وَاَکْمَل تَسْلِیْمَات اللہ وازکیٰ تحیات اللہ وانمی برکات اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وعیالہ میں حاضر آئے، اور بہزاراں ہزار نالہائے زار ودلِ بیقرار وچشمِ اشکبار یوں عرض کرتے ہیں ۔ ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۳۰، ص۲۲۳۔

[118] (( یا محمد))۔ ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب التفسیر، باب: { ذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا ۔۔۔ إلخ}، الحدیث: ۴۷۱۲، ج۳، ص۲۶۰۔

[119] ((یا نبي اللّٰہ! أنت الذي فتح اللّٰہ بک وجئت في ہذا الیوم آمنا))۔

’’الخصائص الکبری‘‘، باب الشفاعۃ، ج۲، ص۳۸۳، ملتقطاً۔

[120] ((اشفع لنا إلی ربک، ألا تری إلی ما نحن فیہ؟ ألا تری إلی ما قد بلغنا))۔

’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الإیمان، الحدیث: ۳۲۷، ص۱۲۵۔

[121] ((فأقول: أنا لھا))۔ ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب التوحید، باب کلام عزوجل تعالی یوم القیامۃ مع الأنبیاء وغیرھم، الحدیث: ۷۵۱۰، ج۴، ص۵۷۷۔

[122] ((أنا صاحبکم))۔ ’’المعجم الکبیر‘‘ للطبراني، الحدیث: ۶۱۱۷، ج۶، ص۲۴۸۔

[123] ((فأستأذن علی ربي فیؤذن لي ویلہمني محامدَ أحمدہ بہا لا تحضرني الآن، فأحمدہ بتلک المحامد وأخِرّ لہ ساجداً، فیقال: یا محمد، ارفع رأسک وقل یسمع لک، وسل تعط، واشفع تشفع))۔ ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب التوحید، باب کلام الرب عزوجل یوم القیامۃ مع الأنبیاء وغیرھم، الحدیث: ۷۵۱۰، ج۴، ص۵۷۷۔ وفي روایۃ: ((فیقال: یا محمد! ارفع رأسک، قل تسمع، سل تعطہ، اشفع تشفع))۔

’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الإیمان، باب أدنی أھل الجنۃ منزلۃ فیھا، الحدیث: ۳۲۲ (۱۹۳)، ص۱۲۲۔

[124] وفي روایۃ ’’المسند‘‘ للشاشي: ((فیقال: ارفع رأسک، قل تطع، واشفع تشفع))۔ الحدیث: ۱۱۱۵، ج۳، ص۳۵۳۔

[125] ((یا رب أمتي أمتي، فیقول: أنطلق فأخرج من کان في قلبہ أدنی أدنی أدنی مثقال حبۃ خردل من إیمان، فأخرجہ من النار، فأنطلق فأفعل فأقول:یارب ائذن لي فیمن قال: لا إلہ إلاّ اللّٰہ، فیقول: وعزتي وجلالي وکبریائي وعظمتي لأخرجنّ منھا من قال:لا إلہ إلاّ اللّٰہ))، ملتقطاً۔ ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب التوحید، باب کلام الرب عزوجل یوم القیامۃ مع الأنبیاء وغیرھم، الحدیث:۷۵۱۰، ج۴، ص۵۷۷۔۵۷۸۔

[126] عن جابر قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((یفتقد أہل الجنۃ ناساً کانوا یعرفونہم في الدنیا، فیأتون الأ نبیاء، فیذکرونہم، فیشفعون فیہم، فیشفعون، فیقال لہم: الطلقاء، وکلّہم طلقائ، یصب علیہم ماء الحیاۃ))۔ ’’المعجم الأوسط‘‘ للطبراني، الحدیث: ۳۰۴۴، ج۲، ص۲۰۹، و’’مجمع الزوائد‘‘، الحدیث: ۱۸۵۲۹، ج۱۰، ص۶۸۹۔ عن عثمان بن عفان قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((یشفع یوم القیامۃ ثلاثۃ: الأنبیاء ثم العلماء ثم الشھداء))۔ ’’سنن ابن ماجہ‘‘، أبواب الزھد، باب ذکر الشفاعۃ، الحدیث: ۴۳۱۳، ج۴، ص۵۲۶۔

[127] في ’’فتح الباري‘‘، کتاب الرقاق، باب الصراط جسر جہنم، ج۱۱، ص۳۹۰:(ثم یقال: ادعوا الأنبیاء فیشفعون، ثم یقال: ادعوا الصدیقین فیشفعون، ثم یقال: ادعوا الشہداء فیشفعون

[128] قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((یشفع الشہید في سبعین من أہل بیتہ))۔

’’سنن أبيداود‘‘، کتاب الجہاد، باب في الشہید یشفع، الحدیث: ۲۵۲۲، ج۳، ص۲۳۔

[129] عن جابر بن عبد اللّٰہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((یبعث العالم والعابد، فیقال للعابد: ادخل الجنۃ، ویقال للعالم: اثبت حتی تشفع للناس بما أحسنت أدبہم))۔ ’’شعب الإیمان‘‘، باب في طلب العلم، الحدیث: ۱۷۱۷، ج۲، ص۲۶۸۔وفي روایۃ: عن جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہ: ((ویقال للعالم: اشفع في تلامیذک ولو بلغ عددہم نجوم السماء))۔

’’مسند الفردوس‘‘ للدیلمي، الحدیث: ۸۵۱۷، ج۲، ص۵۰۳۔

[130] عن علي بن أبي طالب قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((من قرأ القرآن وحفظہ أدخلہ اللّٰہ الجنۃ وشفعہ في عشرۃ من أھل بیتہ،کلھم قد استوجب النار))۔’’سنن ابن ماجہ‘‘، أبواب السنۃ، باب فضل من تعلم القرآن وعلّمہ، الحدیث: ۲۱۶، ج۱، ص۱۴۱۔

[131] عن أبي موسی الأشعري رضي اللّٰہ عنہ، رفعہ إلی رسو ل اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ((الحاج یشفع في أربع مئۃ أھل بیت))، أو قال: ((من أھل بیتہ))۔ ’’البحر الزخار بمسند البزار‘‘، مسند أبي موسی الأشعري، الحدیث: ۳۱۹۶، ج۸، ص۱۶۹۔

وفي روایۃ: عن أبي موسی الأشعري أنّ رجلا سألہ عن الحاج؟، فقال: ((إنّ الحاج یشفع في أربع مئۃ بیت من قومہ، ویبارک لہ في أربعین من أمہات البعیر الذي حملہ، ویخرج من ذنوبہ کیوم ولدتہ أمہ))۔

’’المصنف‘‘ لعبد الرزاق، باب فضل الحج، الحدیث: ۸۸۳۸، ج۵، ص۵۔

[132] عن أبي سعید أنّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ((إنّّ من أمتي من یشفع للفئام من الناس، ومنہم من یشفع للقبیلۃ، ومنہم من یشفع للعصبۃ، ومنہم من یشفع للرجل حتی یدخلوا الجنۃ))۔

’’سنن الترمذي‘‘، کتاب صفۃ القیامۃ، باب ما جاء في الشفاعۃ۔۔۔ إلخ،