باب : صور پھونکے جانے کا بیان

فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ دو نفخوں کے درمیان چالیس کا فاصلہ ہے لوگوں نے عرض کیا اے ابوہریرہ کیا چالیس دن فرمایا میں نہیں کہہ سکتا،کہا چالیس مہینے فرمایا میں نہیں کہ سکتا،کہا چالیس سال فرمایا میں نہیں کچھ کہہ سکتا ۱∞؎پھر اآسمان سے پانی اتارے گا تو لوگ ایسے اگیں گے جیسے ساگ اگتا ہے ۲؎اور نہیں ہے انسان کی کوئی چیز مگر وہ گل جاوے گی سواء ایک ہڈی کے اور وہ ریڑھ کی ہڈی ہے ۳؎اس سے قیامت کے دن مخلوق کی ترکیب دی جاوے گی ۴؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں یوں بھی ہے کہ سارے انسان مٹی کھالے گی سواء ریڑ ھ کی ہڈی کے اس سے پیدا کیا گیا ۵؎اور اس میں ترکیب دیا جاوے گا۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُونَ" قَالُوا: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ! أَرْبَعُونَ يَوْمًا؟ قَالَ: أَبَيْتُ. قَالُوا: أَرْبَعُونَ شَهْرًا؟ قَالَ: أَبَيْتُ. قَالُوا: أَرْبَعُونَ سَنَةً؟ قَالَ: أَبَيْتُ. "ثُمَّ يُنْزِلُ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ الْبَقْلُ" قَالَ: "وَلَيْسَ مِنَ الإِنْسَانِ شَيْءٌ لَا يَبْلَى إِلَّا عَظْمًا وَاحِدًا وَهُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ، وَمِنْهُ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: "كُلُّ ابْنِ آدَمَ يَأْكُلُهُ التُّرَابُ إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ، مِنْهُ خُلِقَ، وَفِيهِ يُرَكَّبُ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5521 ، باب : صور پھونکے جانے کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ الله تعالٰی قیامت کے دن زمین کو سمیٹ لے گا ۱∞؎اور آسمان کو اپنے داہنے ہاتھ پر لپیٹ لے گا ۲؎پھر فرمائے گا کہ میں بادشاہ ہوں زمین کے بادشاہ کہاں ہیں ۳؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَقْبِضُ اللَّهُ الأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الأَرْضِ؟ ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5522 ، باب : صور پھونکے جانے کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ الله تعالٰی قیامت کے دن آسمانوں کو لپیٹ دے گا ۱∞؎پھر انہیں اپنے داہنے ہاتھ میں لے گا پھر فرمائے گا کہ میں بادشا ہوں کہاں ہیں جابر لوگ کہاں ہیں تکبر والے لوگ پھر زمینوں کو اپنے بائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا ۲؎اور ایک روایت میں ہے کہ انہیں اپنے دوسرے ہاتھ میں لے گا ۳؎پھر کہے گا کہ میں بادشاہ ہوں کہاں ہیں جابر لوگ کہاں ہیں تکبر و غرور والے لوگ ۴؎(مسلم)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَطْوِي اللَّهُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟ ثُمَّ يَطْوِي الأَرَضِينَ بِشِمَالِهِ -وَفِي رِوَايَة: يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الأُخْرَى- ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أينَ الجبَّارونَ؟ أينَ المُتَكَبِّرُونَ؟ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5523 ، باب : صور پھونکے جانے کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالله ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ یہود کا ایک بڑا عالم نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں آیا تو بولا اے محمد اقیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر اور زمینوں کو ایک انگلی پر اور پہاڑوں کو درختوں کو ایک انگلی پر اور پانی مٹی کو ایک انگلی پر اور ساری مخلوق کو ایک انگلی پر رکھے گا پھر انہیں ملائے گا ۱∞؎پھر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں میں الله ہوں تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم اس عالم کے قول پر تعجب کرتے ہوئے اس کی تصدیق کرتے ہوئے ہنسے ۲؎پھر آپ نے تلاوت کی کہ ان لوگوں نے الله کی قدرت نہ جانی ۳؎جو اس کا حق ہے اور زمین ساری اس کے قبضہ میں ہے قیامت کے دن اور آسمان لپٹے ہوئے ہیں اس کے داہنے ہاتھ میں،پاک ہے وہ اور برتر ہے اس سے جسے یہ شریک ٹھہراتے ہیں۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: جَاءَ حَبْرٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أُصْبُعٍ، وَالأَرَضِينَ عَلَى أُصْبُعٍ، وَالْجِبَالَ وَالشَّجَرَ عَلَى أُصْبُعٍ، وَالْمَاءَ وَالثَّرَى عَلَى أُصْبُعٍ، وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلَى أُصْبُعٍ، ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ فَيَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَنَا اللَّهُ. فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- تَعَجُّبًا مِمَّا قَالَ الْحَبْرُ تَصْدِيقًا لَهُ. ثُمَّ قَرَأَ: {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ} مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5524 ، باب : صور پھونکے جانے کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے رب تعالٰی کے اس فرمان کے متعلق پوچھا کہ جس دن زمین دوسری زمین سے اور آسمان بدل دیئے جائیں گے ۱∞؎کہ اس دن لوگ کہاں ہوں گے فرمایا پل صراط پر ۲؎(مسلم)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- عَنْ قَوْلِهِ: {يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ} فَأَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ:"عَلَى الصِّرَاطِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5525 ، باب : صور پھونکے جانے کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ سورج و چاند قیامت کے دن سیاہ کردیئے جائیں گے ۱∞؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ مُكَوَّرَانِ يَوْم الْقِيَامَة". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5526 ، باب : صور پھونکے جانے کا بیان

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں کیسے خوشی کروں حالانکہ صور والا فرشتہ ہاتھ میں لیے ہوئے ہے اور اپنے کان لگائے ہوئے ہے ۱∞؎اور اپنی پیشانی جھکائے ہوئے ہے انتظار کر رہا ہے کہ کب پھونکنے کا حکم دیا جاوے ۲؎لوگوں نے عرض کیا یارسول الله ہم کو آپ کیا حکم دیتے ہیں ۳؎فرمایا کہو ہم کو الله کافی ہے اور وہ اچھا کار ساز ہے ۴؎(ترمذی)

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الصُّورِ قَدِ الْتَقَمَهُ، وَأَصْغَى سَمْعَهُ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ، يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ بِالنَّفْخِ". فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ!وَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: "قُولُوا: حَسْبُنَا اللَّهُ ونِعمَ الْوَكِيلُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5527 ، باب : صور پھونکے جانے کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا صور ایک سینگ ہے جس میں پھونکا جاوے گا ۱∞؎(ترمذی، ابوداؤد،دارمی)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "الصُّورُ قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5528 ، باب : صور پھونکے جانے کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرمایا آپ نے رب تعالٰی کے اس قول کی تفسیر میں "فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوۡرِ"فرمایا صور ہے ۱∞؎اورراجفہپہلی بار پھونکنا ہے اوررادفہدوسری پھونک۲؎(بخاری ایک باب کے عنوان میں)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ}: الصُّوْرُ،قَالَ: {الرَّاجِفَةُ}: النَّفْخَةُ الأُولَى، وَ {الرَّادِفَةُ}: الثَّانِيَةُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي تَرْجَمَةِ بَابٍ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5529 ، باب : صور پھونکے جانے کا بیان

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے صور والے کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ ان کی داہنی طرف حضرت جبریل ہیں اور ان کی بائیں طرف جناب میکائیل ۱∞؎

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- صَاحِبَ الصُّوْرِ وَقَالَ: "عَنْ يَمِينِهِ جِبْرِيلُ وَعَنْ يَسَارِهِ مِيكَائِيلُ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5530 ، باب : صور پھونکے جانے کا بیان

روایت ہے حضرت ابو رزین عقیلی سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول الله خدا تعالٰی مخلوق کو کیسے لوٹائے گا اور اس کی خلقت میں اس کی نشانی کیا ہے ۲؎فرمایا کیا تم اپنی قوم کے جنگل میں خشک سالی میں نہیں گزرے تھے وہاں اس وقت نہ گزرے جب سبزہ سے لہلہا رہی ہیں میں نے عرض کیا ہاں فرمایا تو یہ الله کی نشانی ہے اس کی مخلوق ہیں اسی طرح الله مردے زندہ کردے گا ان دونوں کو رزین نے روایت کیا۳؎

وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ يُعِيدُ اللَّهُ الْخَلْقَ؟ وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟ قَالَ: "أَمَا مَرَرْتَ بِوَادِي قَوْمِكَ جَدْبًاثُمَّ مَرَرْتَ بِهِ يَهْتَزُّ خَضِرًا؟ " قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "فَتِلْكَ آيَةُ اللَّهِ فِي خَلْقِهِ {كَذَلِكَ يُحْيِ اللَّهُ الْمَوْتَى} ". رَوَاهُمَا رَزِينٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5531 ، باب : صور پھونکے جانے کا بیان