باب:صحبت کرنے کا بیان

نکاح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں یہود کہتے تھے کہ جب مرد اپنی بیوی کے پیچھے کی طرف سے اس کی فرج میں صحبت کرے تو بچہ بھینگا ہوتا ہے ۱؎تب یہ آیت نازل ہوئی کہ تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں تو اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو جاؤ ۲؎(مسلم،بخاری)

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَتِ الْيَهُودُ تَقُولُ: إِذَا أَتَى الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ مِنْ دُبُرِهَا فِي قُبُلِهَا كَانَ الْوَلَدُ أَحْوَلَ، فَنَزَلَتْ: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3183 ، باب:صحبت کرنے کا بیان

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ ہم عزل کرتے تھے اور قرآن اتررہا تھا۔(مسلم،بخاری) مسلم نے یہ زیادہ کیا کہ یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو پہنچی تو ہم کو منع نہ فرمایا ۱؎

وَعنهُ قَالَ: كُنَّا نَعْزِلُ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ. مُتَّفَقٌ عَلَيهِ.وَزَادَ مُسْلِمٌ: فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَنْهَنَا.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3184 ، باب:صحبت کرنے کا بیان

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا بولا کہ میری ایک لونڈی ہے جو ہماری خدمت گار ہے ۱؎اور میں اس کے پاس جاتا ہوں ۲؎اور یہ ناپسند کرتا ہوں کہ وہ حاملہ ہوجائے ۳؎تو فرمایا اگر تو چاہے تو اس سے عزل کر مگر اس پر گزرے گا وہی جو اس کے مقدر میں ہے ۴؎پھر وہ شخص کچھ ٹھہرا پھر حاضر خدمت ہوکر بولا کہ لونڈی تو حاملہ ہوگئی ۵؎تب فرمایا کہ ہم نے تو تمہیں پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ جو اس کے مقدر میں ہے وہ اسے پہنچے گا ۶؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقَالَ: إِن لي جَارِيَةً هِيَ خَادِمَتُنَا، وَأَنَا أَطُوفُ عَلَيْهَا، وَأَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ فَقَالَ: "اعْزِلْ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ، فَإِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا" فَلَبِثَ الرَّجُلُ، ثمَّ أَتَاهُ فَقَالَ: إِنَّ الْجَارِيَةَ قَدْ حَبِلَتْ فَقَالَ: "قَدْ أَخْبَرْتُكَ أَنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3185 ، باب:صحبت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ غزوہ بنی مصطلق میں گئے ۱؎تو ہم نے عرب کے قیدیوں میں سے کچھ قیدی پائے ۲؎ہم کو عورتوں کی رغبت تھی اور ہم پر بغیر بیوی رہنا دشوار ہو ا ہم نے عزل کو پسند کیا چنانچہ ہم نے عزل کرنے کی ٹھانی ۳؎مگر ہم نے سوچا کہ کیا ہم عزل کریں حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے درمیان ہیں ان سے دریافت کرنے سے پہلے ۴؎تو ہم نے آپ سے اس کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ تم پر عزل کرنے میں کوئی حرج نہیں ۵؎ہے کوئی روح جو قیامت تک آنے والی ہو مگر وہ آکر رہے گی ۶؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَأَصَبْنَا سَبْيًا مِنْ سَبْي الْعَرَبِ، فَاشْتَهَينَا النِّسَاءَ،وَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ، وَأَحْبَبْنَا الْعَزْلَ فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ، وَقُلْنَا: نَعْزِلُ وَرَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ؟ فَسَأَلْنَاهُ عَن ذَلِك فَقَالَ: "مَا عَلَيْكُمْ أَلَّا تَفْعَلُوا، مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا وَهِيَ كَائِنةٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3186 ، باب:صحبت کرنے کا بیان

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے عزل کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ ہر منی سے بچہ پیدا نہیں ہوتا ۱؎اور اللہ تعالٰی جب کوئی چیز پیدا کرنا چاہتا ہے تو اسے کوئی چیز روک نہیں سکتی ۲؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ: "مَا مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ،وَإِذَا أَرَادَ اللّٰهُ خَلْقَ شَيْءٍ لَمْ يَمْنَعْهُ شَيْءٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3187 ، باب:صحبت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت سعد ا بن ابی وقاص سے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کیا کہ میں اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں ۱؎اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تو یہ کیوں کرتا ہے وہ بولا کہ اس کے بچے پر خوف کرتا ہوں ۲؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر یہ کام مضر ہوتا تو فارسیوں اور رومیوں کو نقصان دیتا ۳؎(مسلم)

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أَعْزِلُ عَنِ امْرَأَتي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لِمَ تَفْعَلُ ذَلِكَ؟ " فَقَالَ الرَّجُلُ: أُشْفِقُ عَلَى وَلَدِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَوْ كَانَ ذَلِكَ ضارًّا ضَرَّ فَارِسَ وَالرُّومَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3188 ، باب:صحبت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت جذامہ بنت وہب سے ۱؎فرماتی ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں کچھ لوگوں کے ساتھ آئی ۲؎حضور فرمارہے تھے کہ میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں غیلہ سے منع کردوں ۳؎مگر میں نے فارسیوں اور رومیوں میں غور کیا تو وہ لوگ اپنی اولاد کا غیلہ کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو یہ عمل کچھ بھی نقصان نہیں دیتا۴؎پھر لوگوں نے حضور سے عزل کے متعلق پوچھا تو فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ یہ خفیہ زندہ درگور کرنا ہے ۵؎اور یہ زندہ درگور کرنا اس آیت میں ہے کہ جب زندہ دابی ہوئی بچی سے سوال کیا جائے گا ۶؎(مسلم)

وَعَنْ جُذَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ قَالَتْ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ وَهُوَ يَقُولُ:"لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ، فَنَظَرْتُ فِي الرُّومِ وَفَارِسَ فَإِذَا هُمْ يُغِيلُونَ أَوْلَادَهُمْ، فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ ذَلِكَ شَيْئًا"ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ - صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَلِكَ الْوَأْدُ الْخَفِيُّ وَهِي وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3189 ، باب:صحبت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سب سے بڑی امانت اللہ کے نزدیک قیامت کے دن،ایک اور روایت میں یوں ہے کہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک بدترین درجہ والا وہ شخص ہوگا ۱؎جو اپنی بیوی کے پاس جائے اور بیوی اس کے پاس آئے اور پھر اس کا راز ظاہر کرے ۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ أَعْظَمَ الأَمَانَةِ عِنْدَ اللّٰهِ يَوْمَ القِيَامَةِ -وَفِي رِوَايَةٍ: إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللّٰهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ- الرَّجُلُ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ وَتُفضِي إِلَيْهِ ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا". رَوَاهُ مُسلمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3190 ، باب:صحبت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف آیتنساؤکم حرث لکموحی کی گئی ۱؎لہذا تم اپنی کھیتیوں میں آؤ آگے سے آؤ اور پیچھے سے مگر دبر اور حیض سے بچو ۲؎(ترمذی)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ الآية "أَقْبِلْ وَأَدْبِرْ، وَاتَّقِ الدُّبُرَ وَالْحِيْضَةَ". رَوَاهُ التِّرمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3191 ، باب:صحبت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت خزیمہ ابن ثابت سے ۱؎کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی حق سے شرم نہیں فرماتا ۲؎عورتوں کے پاس ان کی دبروں میں نہ جاؤ ۳؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)

وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ اللّٰهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ". رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدَّارمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3192 ، باب:صحبت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لعنتی ہے وہ جو اپنی بیوی کے پاس اس کی دبر میں جائے ۱؎(احمد، ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَلْعُونٌ مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا"رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3193 ، باب:صحبت کرنے کا بیان

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو شخص اپنی بیوی کے پاس اس کی دبر میں جائے تو اللہ اس کی طرف نظر رحمت نہ کرے گا۱؎(شرح سنہ)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ في دبرِهَا لَا يَنْظُرُ اللّٰهُ إِلَيْهِ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ"

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3194 ، باب:صحبت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اللہ تعالٰی اسے نظر رحمت سے نہ دیکھے گا جو لڑکے کے پاس یا عورت کے پاس دبر میں جائے ۱؎(ترمذی)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا يَنْظُرُ اللّٰهُ إِلَى رَجُلٍ أَتَى رَجُلًا أَوِ امْرَأَةً فِي الدُّبُرِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3195 ، باب:صحبت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید سے ۱؎فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ اپنی اولاد کو خفیہ طور پر نہ قتل کرو کیونکہ غیل سوار کو پہنچتا ہے تو اسے گھو ڑے سے گرا دیتا ہے ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ سِرًّا، فَإِنَّ الْغَيْلَ يُدْرِكُ الْفَارِسَ فَيُدَعْثِرُهُ عَنْ فَرَسِهِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3196 ، باب:صحبت کرنے کا بیان

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمایا کہ آزاد عورت سے اس کی بغیر اجازت عزل کیا جائے ۱؎(ابن ماجہ)

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن يعْزل عَن الْحرَّة إِلَّا بِإِذْنِهَا. رَوَاهُ ابْن مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3197 ، باب:صحبت کرنے کا بیان