- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- نکاح کا بیان
- باب:مہر کا بیان
باب:مہر کا بیان
نکاح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5
روایت ہے حضرت سہل ابن سعد ۱؎سے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ایک عورت آئی ۲؎بولی یا رسول اﷲمیں نے اپنی جان آپ کو ہبہ کی ۳؎پھر بہت دیر کھڑی رہی ۴؎تو ایک آدمی اٹھ کر بولا یا رسول اﷲاس کا نکاح مجھ سے کر دیجئے اگر حضور کو اس کی ضرورت نہ ہو ۵؎تو حضور نے فرمایا کیا تیرے پاس کچھ ہے جو تو اسے مہر دے ۶؎بولا میرے پاس اس تہبند کے سوا کچھ نہیں فرمایا تلاش تو کر اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہو۷؎اس نے ڈھونڈا مگر کچھ نہ پایا ۸؎تو رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیا تیرے ساتھ کچھ قرآن بھی ہے ۹؎بولا ہاں فلاں فلاں سورۃ چنانچہ حضور نے فرمایا کہ میں نے اس کا نکاح تجھ سے کردیا اس قرآن کی وجہ سے جو تجھے یاد ہے ۱۰؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایا جاؤ میں نے تمہارا نکاح اس سے کردیا لہذا اسے قرآن سکھاؤ ۱۱؎(مسلم،بخاری)
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنِّي وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ، فَقَامَتْ طَوِيلًا، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ فِيهَا حَاجَةٌ، فَقَالَ: "هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا؟ " قَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي هَذَا قَالَ: "فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ" فَالْتَمَسَ فَلَمْ يَجدْ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ" قَالَ: نَعَمْ سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا، فَقَالَ: "قد زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ"وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: "انْطَلِقْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا فَعَلِّمْهَا مِنَ الْقُرْآنِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3202 ، باب:مہر کا بیان
روایت ہے حضرت ابو سلمہ سے فرماتے ہیں میں نے جناب عائشہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا مہر کتنا تھا ۱؎فرمایا آپ کا مہر اپنی بیویوں کے متعلق بارہ اوقیہ اور نش تھا ۲؎بولیں کیا تم جانتے ہو کہ نش کیا ہے میں نے کہا نہیں فرمایا آدا اوقیہ تو یہ پانچ سو درہم ہوئے(مسلم)اور نش پیش سے ہے شرح سنہ اور تمام کتب اصول میں۳؎
وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: كَمْ كَانَ صَدَاقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ: كَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ ثِنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّهً وَنَشٌّ، قَالَتْ: أَتَدْرِي مَا النَّشُّ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَتْ: نِصْفُ أُوقِيَّةٍ فَتِلْكَ خَمْسُ مِئَةِ دِرْهَمٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَ (نَشٌّ) بِالرَّفْعِ فِي "شَرْحِ السُّنَّة" وَفِي "جَمِيع الأُصُول".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3203 ، باب:مہر کا بیان
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرمایا،خبردار عورتوں کے مہر میں زیادتی نہ کیا کرو ۱؎کیونکہ اگر یہ دنیا میں عزت اور اﷲکے نزدیک پرہیزگاری ہوتا تو اس کے زیادہ مستحق نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ہوتے ۲؎مجھے نہیں خبر کے رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی کسی بیوی سے نکاح کیا ہو یا اپنی کسی بیٹی کا نکاح کرایا ہو بارہ اوقیہ سے زیادہ پر ۳؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: أَلَا لَا تُغَالُوا صَدُقَةَ النِّسَاءِ، فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا وَتَقْوَى عِنْدَ اللّٰهِ لَكَانَ أَوْلَاكُمْ بِهَا نَبِيُّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ شَيْئًا مِنْ نِسَائِهِ، وَلَا أَنْكَحَ شَيْئًا مِنْ بَنَاتِهِ عَلَى أَكْثَرَ مِنَ اثْنَتَيْ عشْرَةَ أُوقِيَّهً. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3204 ، باب:مہر کا بیان
روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو اپنی بیوی کے مہر میں لپ بھر ستو یا چھوارے دے دے اس نے اسے حلال کرلیا ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ أَعْطَى فِي صَدَاقِ امْرَأَتِهِ مِلْءَ كَفَّيْهِ سَوِيقًا أَوْ تَمْرًا فَقَدِ اسْتَحَلَّ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3205 ، باب:مہر کا بیان
روایت ہے حضرت عامر ابن ربیعہ سے ۱؎کہ بنی فزارہ کی ایک عورت نے دو جوتوں پر نکاح کیا ۲؎تو اس سے رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیا تم دو جوتوں کے عوض اپنے نفس و مال سے راضی ہوگئیں ۳؎وہ بولیں ہاں تو حضور نے یہ نکاح جائز قرار دیا ۴؎(ترمذی)۵؎
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ: أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي فَزَارَةَ تَزَوَّجَتْ عَلَى نَعْلَيْنِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَرَضِيتِ مِنْ نَفْسِكِ وَمَالِكِ بِنَعْلَيْنِ؟ " قَالَت: نَعَمْ، فَأَجَازَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3206 ، باب:مہر کا بیان
روایت ہے حضرت علقمہ سے وہ حضر ت ابن مسعود سے راوی ۱؎کہ ان سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس کے لیے کچھ مقرر نہ کیا اور نہ اس سے صحبت کی حتی کہ مرگیا ۲؎تو جناب ابن مسعود نے فرمایا کہ اس عورت کے لیے اپنی جیسی عورتوں کا مہر ہے جس میں نہ کمی ہو نہ زیادتی اور اس پر عدت بھی ہے اور اس کے لیے میراث بھی ۳؎تو معقل ابن سنان اشجعی اٹھے ۴؎فرمایا کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے ہمارے قبیلہ کی ایک عورت بروع بنت واشق کے متعلق ایسا ہی فیصلہ فرمایا۵؎جیسا آپ نے فیصلہ کیا تب ابن مسعود اس سے بہت خوش ہوئے۔۶؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،دارمی)۷؎
وَعَنْ عَلْقَمَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا شَيْئًا، وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا حَتَّى مَاتَ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لَهَا مِثْلُ صَدَاقِ نِسَائِهَا، لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ، فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الأَشْجَعِيُّ فَقَالَ: قَضَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشَقٍ امْرَأَةٍ مِنَّا بِمِثْلِ مَا قَضَيْتَ، فَفَرِحَ بِهَا ابْنُ مَسْعُودٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3207 ، باب:مہر کا بیان
روایت ہے حضرت ام حبیبہ سے ۱؎کہ وہ عبداﷲابن جحش کے نکاح میں تھیں۲؎تو وہ زمین حبشہ میں ہی وفات پاگئے ۳؎ان بی بی کا نکاح نجاشی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے کر دیا ۴؎اور حضور کی طرف سے انہیں چار ہزار مہر دیا گیا اور ایک روایت میں ہے چار ہزار درہم مہر دیا انہیں شرحبیل ابن حسنہ کے ساتھ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں بھیج دیا ۵؎(ابوداؤد،نسائی)
عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ: أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ جَحْشٍ،فَمَاتَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ، فَزَوَّجَهَا النَّجَاشِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمْهَرَهَا عَنْهُ أَرْبَعَةَ آلافٍ، وَفِي رِوَايَة: أَرْبَعَة آلافِ دِرْهَمٍ، وَبَعَثَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ شُرَحَبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3208 ، باب:مہر کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ابو طلحہ نے ام سلیم سے نکاح کیا ۱؎تو ان کے درمیان مہر اسلام تھا کہ حضرت ام سلیم ابوطلحہ سے پہلے اسلام لائیں پھر انہیں نے پیغام نکاح دیا۔تو وہ بولیں کہ میں مسلمان ہوچکی ہوں اگر تم بھی مسلمان ہو جاؤ تو تم سے نکاح کرلوں چنانچہ وہ مسلمان ہوگئے پھر یہ ان کے آپس میں مہر ہوا ۲؎(نسائی)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: تَزَوَّجَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ، فَكَانَ صَدَاقُ مَا بَيْنَهُمَا الإِسْلَامُ أَسْلَمَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ قَبْلَ أَبِي طَلْحَةَ، فَخَطَبَهَا فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ، فَإِنْ أَسْلَمْتَ نَكَحْتُكَ، فَأَسْلَمَ، فَكَانَ صَدَاقَ مَا بَيْنَهُمَا. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3209 ، باب:مہر کا بیان