- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- نکاح کا بیان
- باب:باری کا بیان
باب:باری کا بیان
نکاح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے نو بیویاں چھوڑ کر وفات پائی ۱؎جن میں سے آٹھ کے لیے باریاں مقرر فرماتے تھے ۲؎(مسلم،بخاری)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ - صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ عَنْ تِسْعِ نِسْوَةٍ،وَكَانَ يَقْسِمُ مِنْهُنَّ لِثَمَانٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3229 ، باب:باری کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ بی بی سودہ جب بوڑھی ہوگئیں ۱؎تو بولیں یارسول اﷲمیں نے اپنی باری کا دن حضرت عائشہ کو دے دیا چنانچہ پھر رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم جناب عائشہ کے لیے دو دن دیتے تھے ایک ان کا اپنا دوسرا سودہ کا ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ سَوْدَةَ لَمَّا كَبِرَتْ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! قَدْ جَعَلْتُ يَوْمِي مِنْكَ لِعَائِشَةَ، فَكَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقْسِمُ لِعَائِشَةَ يَوْمَيْنِ: يَوْمَهَا وَيَوْمَ سَوْدَة. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3230 ، باب:باری کا بیان
روایت ہے ان ہی سے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم اپنے اس مرض میں پوچھتے تھے جس میں آپ کی وفات ہوئی کہ ہم کل کہاں رہیں گے ہم کل کہاں رہیں گے ۱؎حضر ت عائشہ کا دن ڈھونڈتے تھے پھر تمام ازواج پاک نے آپ کو اجازت دے دی کہ حضور جہاں چاہیں رہیں۲؎چنانچہ آپ حضرت عائشہ کے مکان میں رہے حتی کہ انہیں کے ہاں وفات پائی ۳؎(بخاری)
وَعَنْهَا: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: "أَيْنَ أَنَا غَدًا؟ أَيْنَ أَنَا غَدًا؟ يُرِيدُ يَوْمَ عَائِشَةَ، فَأَذِنَ لَهُ أَزْوَاجُهُ يَكُونُ حَيْثُ شَاءَ، فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ حَتَّى مَاتَ عِنْدَهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3231 ، باب:باری کا بیان
روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی ازواج پاک کے درمیان قرعہ ڈالتے تھے۱؎پھر ان میں سے جس کا حصہ نکل آیا اسے اپنے ساتھ لیجاتے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَأَيَّتهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3232 ، باب:باری کا بیان
روایت ہے حضرت ابوقلابہ سے ۱؎وہ جناب انس سے راوی فرماتے ہیں کہ سنت سے ہے ۲؎یہ کہ جب کوئی شخص بیوہ پر کنواری سے نکاح کرے تو اس کے پاس سات دن رہے اور باری مقرر کرے اور جب بیوہ سے نکاح کرے تو اس کے پاس تین دن رہے پھر باری مقرر کرے ۳؎ابوقلابہ نے فرمایا کہ اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ جناب انس نے یہ حدیث نبی کریم صلي الله عليه وسلم تک مرفوع کی ۴؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ أَقَامَ عِنْدهَا سَبْعًا وَقَسَمَ، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ قَسَمَ، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: وَلَو شِئْتُ لَقُلْتُ: إِنَّ أَنَسًا رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3233 ، باب:باری کا بیان
روایت ہے حضرت ابوبکر ابن عبدالرحمن سے ۱؎کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے جب ام سلمہ سے نکاح کیا اور وہ آپ کے پاس رہیں تو فرمایا کہ تمہاری وجہ سے تمہارے قبیلہ والوں کی حقارت نہیں ۲؎اگر تم چاہو تو تمہارے پاس سات دن قیام کروں اور باقی بیویوں کے پاس بھی سات دن قیام کروں ۳؎اور اگر تم چاہو تو تمہارے تین دن قیام کروں پھر دورہ کروں ۴؎وہ بولیں کہ تین دن قیام فرمائیں ۵؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ کنواری کے لیے سات دن ہیں اور بیوہ کے لیے تین دن ۶؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ وَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ قَالَ لَهَا: "لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ عِنْدَكِ وَسَبَّعْتُ عِنْدَهُنَّ، وَإِنْ شِئْتِ ثَلَّثْتُ عِنْدَكِ وَدُرْتُ". قَالَتْ: ثَلِّثْ، وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهُ قَالَ لَهَا: "لِلْبِكْرِ سَبْعٌ وَلِلثَّيِّبِ ثَلَاثٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3234 ، باب:باری کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اپنی ازواج پاک کے درمیان باری مقرر فرماتے تھے بہت انصاف فرماتے تھے ۱؎اور فرماتے تھے الہٰی یہ میری تقسیم ہے اس میں جس کا مالک ہوں پس تو مجھے اس میں عتاب نہ فرما جس کا تو مالک ہے میں مالک نہیں ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)
عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ فَيَعْدِلُ، وَيَقُولُ: "اللَّهُمَّ هَذَا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ، فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3235 ، باب:باری کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ جب کسی کے پاس دو بیویاں ہوں پھر ان میں انصاف نہ کرے تو وہ قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کی ایک کروٹ ٹیڑھی ہوگی ۱؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا كَانَتْ عِنْدَ الرَّجُلِ امْرَأَتَانِ فَلَمْ يَعْدِلْ بَيْنَهُمَا، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ سَاقِطٌ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3236 ، باب:باری کا بیان
روایت ہے حضرت عطاء ۱؎سے فرماتے ہیں کہ ہم جناب ابن عباس کے ساتھ بی بی میمونہ کے جنازہ میں مقام سرف میں ۲؎حاضر ہوئے آپ نے فرمایا یہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کی بیوی پاک ہیں تو جب تم ان کا جنازہ اٹھاؤ تو نہ انہیں ہلاؤ نہ جھٹکادو۳؎ان پر بہت نرمی کرو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس نو بیویاں تھیں جن میں سے آٹھ کے لیے باری مقرر فرماتے تھے اور ایک کے لیے باری مقرر نہ کرتے تھے ۴؎حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ہم کو اطلاع پہنچی ہے کہ جن کے لیے رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم باری مقرر نہ فرماتے تھے وہ بی بی صفیہ تھیں۵؎انہیں کی وفات سب سے آخر میں ہوئی جو مدینہ پاک میں فوت ہوئیں ۶؎(بخاری مسلم)اور رزین فرماتے ہیں کہ عطاء کے علاوہ دیگر علماء نے فرمایا کہ وہ سودہ تھیں یہ ہی زیادہ صحیح ہے انہوں نے اپنا دن بی بی عائشہ کو دے دیا تھا جب رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں طلاق دینا چاہا تو آپ بولیں مجھے رکھیئے میں اپنا دن بی بی عائشہ کو دیتی ہوں تاکہ میں جنت میں آپ کی ازواج میں سے ہوں ۷؎
عَنْ عَطَاءَ قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيْ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ بِسَرِفَ فَقَالَ: هَذِهِ زَوْجَةُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلَا تُزَعْزِعُوهَا وَلَا تُزَلْزِلُوهَا وَارْفُقُوا بِهَا، فَإِنَّهُ كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعُ نِسْوَةٍ كَانَ يَقْسِمُ مِنْهُنَّ لِثَمَانٍ، وَلَا يَقْسِمُ لِوَاحِدَةٍ، قَالَ عَطَاءٌ: الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْسِمُ لَهَا بَلَغَنَا.أَنَّهَا صَفِيَّةُ، وَكَانَتْ آخِرَهُنَّ مَوتًا، مَاتَتْ بِالْمَدِينَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَقَالَ رَزِينٌ: قَالَ غَيْرُ عَطَاءٍ: هِيَ سَوْدَةُ وَهُوَ أصَحُّ، وَهَبَتْ يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ حِينَ أَرَادَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَاقَهَا فَقَالَتْ لَهُ: أَمْسِكْنِي قَدْ وَهَبْتُ يَومِي لعَائِشَةَ لَعَليِّ ... أَكُونُ مِنْ نِسَائِكَ فِي الْجَنَّةِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3237 ، باب:باری کا بیان