- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- جہاد کا بیان
- باب:فئ کا بیان
باب:فئ کا بیان
جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5
روایت ہے حضرت مالک ابن اوس ابن حدثان سے ۱؎فرماتے ہیں حضرت عمر ابن خطاب نے فرمایا کہﷲتعالٰی نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اس فئ میں سے ایسی چیز سے خاص فرمایا جو ان کے سوا کسی کو نہ دی۲؎پھر یہ آیت تلاوت کیوَ مَاۤ اَفَآءَ اللہُ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ،قَدِیۡرٌتک۳؎پس یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے خاص رہا کہ آپ اپنے گھر والوں کو اس مال سے سال بھر کا خرچ دیتے تھے ۴؎پھر جو بچتا تھا تو اسے لیتے اللہ کے مال کے مصرف میں خرچ فرماتے ۵؎(مسلم،بخاری)
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بنِ الْحَدَثانِ قَالَ:قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّ اللّٰهَ قَدْ خَصَّ رَسُوْلَهٗ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هٰذَا الْفَيْءِ بِشَيْءٍ لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا غَيْرَهٗ. ثُمَّ قَرَأَ وَمَا أَفَاءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ إِلَى قَولِهٖ: قَدِيرٌ فَكَانَتْ هٰذِهٖ خَالِصَةً لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُنْفِقُ عَلٰى أَهْلِهٖ نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ مِنْ هٰذَا الْمَالِ، ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ فَيَجْعَلُهٗ مَجْعَلَ مَالِ اللّٰهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4055 ، باب:فئ کا بیان
روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں کہ بنی نضیر کے مال ان میں سے تھے جو اللہ تعالٰی نے اپنے رسول پر فئ فرمائے جن پر مسلمانوں نے گھوڑے دوڑائےنہ اونٹ چنانچہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیئے خاص طور پر رہے کہ آپ اپنے گھر والوں کو ایک سال کا خرچ دےدیتے تھے پھرجو باقی بچتا اسے اللہ کی راہ میں ہتھیاروں جانوروں میں خرچ کرتےتھے ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِمَّا لَمْ يُوْجِفِ الْمُسْلِمُوْنَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ،فَكَانَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً، يُنْفِقُ عَلٰى أَهْلِهٖ نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ، ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللّٰهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4056 ، باب:فئ کا بیان
روایت ہے حضرت عوف ابن مالک سے ۱؎کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس جب فئ آتا تھا اسی دن تقسیم فرما دیتے تھے اس طرح کہ گھر بار والے کو دو حصے اور(چھڑے)اکیلے کو ایک حصہ دیتے ۲؎چنانچہ میں بلایا گیا تو مجھے دو حصے دیئے میرے گھر والے تھے پھر میرے بعد عمار ابن یاسر کو بلایا گیا تو انہیں ایک حصہ عطا فرمایا ۳؎(ابوداؤد)
عَنْ عَوفِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَتَاهُ الْفَيْءُ قَسَمَهٗ فِي يَوْمِهٖ، فَأَعْطَى الآهِلَ حَظَّيْنِ وَأَعْطَى الأَعْزَبَ حَظًّا، فَدُعِيتُ فَأَعْطَانِي حَظَّيْنِ،وَكَانَ لِي أَهْل ثُمَّ دُعِيَ بَعْدِي عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَأُعْطِيَ حَظًّا وَاحِدًا. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4057 ، باب:فئ کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب پہلے کوئی چیز آتی تو آزاد شدگان سے شروع فرماتے ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَا جَاءَهٗ شيءٌ بَدَأَ بِالْمُحَرَّرِينَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4058 ، باب:فئ کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تھیلی لائی گئی جس میں منکے تھے تو اسے آزاد لونڈی میں تقسیم فرمایا ۱؎حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میرے والد آزاد و غلام میں تقسیم فرماتے تھے ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِظَبْيَةٍ فِيهَا خَرَزٌ، فَقَسَمَهَا لِلْحُرَّةِ وَالأَمَةِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: كَانَ أَبِي يَقْسِمُ لِلْحُرِّ وَالْعَبْدِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4059 ، باب:فئ کا بیان
روایت ہے حضرت مالک بن اوس حدثان سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ابن خطاب نے ایک دن فئ کا ذکر فرمایا تو فرمایا کہ اس فئ کا نہ تو میں تم سے زیادہ حقدار ہوں ۱؎نہ ہم میں سے کوئی اس کا زیادہ حق دار ہے ۲؎مگر ہم میں سے ہر ایک کتاب اللہ سے اپنے درجہ پر ہے حضور کی تقسیم پر لہذا مرد کو دیا جائے گا اس کے قدیم الاسلام ہونے پر ۳؎اور مرد اس کی مشقت پر ۴؎اور مرد اس کے با ل بچوں پر اور مرد اس کی ضروریات پر ۵؎(ابوداؤد)
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بن الْحَدَثانِ قَالَ: ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَوْمًا الْفَيْءَ فَقَالَ: مَا أَنَا أَحَقُّ بِهٰذَا الْفَيْءِ مِنْكُمْ،وَمَا أَحَدٌ مِنَّا بِأَحَقَّ بِهٖ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا أَنَّا عَلٰى مَنَازِلِنَا مِنْ كِتَابِ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَسْمِ رَسُوْلِهٖ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَالرَّجُلُ وَقِدَمُهٗ، وَالرَّجُلُ وَبَلَاؤُهٗ، وَالرَّجُلُ وَعِيَالُهٗ، وَالرَّجُلُ وَحَاجَتُهٗ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4060 ، باب:فئ کا بیان
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ابن خطاب نے یہ آیت تلاوت کی کہ صدقے فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں حتی کہعلیم حکیمتک پہنچے پھر فرمایا کہ یہ ان لوگوں کے لیے ہیں ۱؎پھر تلاوت کی جان لو جو چیز تم غنیمت لو اس کا پانچواں حصہ اللہ رسول کا ہے حتی کہ پہنچےابن سبیلتک پھر فرمایا یہ ان لوگوں کے لیے ہے ۲؎پھر تلاوت کی جو بستی والے اللہ اور اپنے رسول پر فئ کریں حتی کہللفقراءتک پہنچے ۳؎پھر تلاوت کی وہ جو آئے ان کے بعد پھر فرمایا کہ اس آیت نے سارے مسلمانوں کو گھیرلیا ۴؎اگر میں زندہ رہا تو چرواہا آئے گا جوبسر اور حمیر کا ہوگا ۵؎اس کاحصہ بھی اس سے ہوگا کہ جس میں اس کی پیشانی پسینہ والی نہ ہوئی ۶؎(شرح سنہ)
وَعَنْهُ قَالَ: قَرَأَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ : إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ حتّٰى بَلَغَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ، فَقَالَ: هٰذِهٖ لِهَؤُلَاءِ. ثُمَّ قَرَأَ وَاعْلَمُوْا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ للّٰهِ خُمُسَهٗ وَلِلرَّسُوْلِ حتّٰى بَلَغَ وَابْنِ السَّبِيلِ ، ثُمَّ قَالَ: هٰذِهٖ لِهَؤُلَاءِ. ثُمَّ قَرَأَ مَا أَفَاءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى حتّٰى بَلَغَ لِلْفُقَرَاءِ ، ثم قَرأَ وَالَّذِينَ جَاءُوْا مِنْ بَعْدِهِمْ، ثُمَّ قَالَ: هٰذِهِ اسْتَوْعَبَتِ الْمُسْلِمِينَ عَامَّةً، فَلَئِنْ عِشْتُ فَلَيَأْتِيَنَّ الرَّاعِيَ وَهُوَ بِسَرْوِ حِمْيَرَ نَصِيبُهٗ مِنْهَا، لَمْ يَعْرَقْ فِيهَا جَبِينُهٗ. رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4061 ، باب:فئ کا بیان
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ جن سے حضرت عمر نے دلیل پکڑی ان میں یہ تھا کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی تین چیزیں پسند کی ہوئی تھیں ۱؎بنی نضیر،خیبر اور فدک ۲؎تو بنی نضیر یہ تو آپ کی حاجات کے لیے مخصوص تھا۳؎لیکن فدک تو وہ مسافروں کے لیے مخصوص موقوف تھا ۴؎لیکن خیبر تو اسے رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے تین حصوں پر تقسیم فرمادیا ۵؎دو حصوں کو مسلمانوں کے درمیان اور ایک حصہ اپنے گھر والوں کا خرچہ پھر اپنے گھر کے خرچ سے جو بچا اسے فقراء مہاجرین کے درمیان تقسیم کردیا ۶؎(ابوداؤد)
وَعنهُ قَالَ: كَانَ فِيمَا احْتَجَّ فِيهِ عُمَرُ أَنْ قَالَ: كَانَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثُ صَفَايَا: بَنُو النَّضِيرِ وخيبرُ وفَدَكُ، فَأَمَّا بَنُو النَّضِيرِ فَكَانَتْ حُبْسًا لِنَوَائِبِهٖ، وَأَمَّا فَدَكُ فَكَانَتْ حُبْسًا لِأَبْنَاءِ السَّبِيلِ، وَأَمَّا خَيْبَرُ فَجَزَّأَهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ: جُزأَيْنِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَجُزءًا نَفَقَةً لِأَهْلِهٖ، فَمَا فَضُلَ عَنْ نَفَقَةِ أَهْلِهٖ جَعَلَهٗ بَيْنَ فُقَراءِ الْمُهَاجِرِينَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4062 ، باب:فئ کا بیان
روایت ہے حضرت مغیرہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ابن عبدالعزیز نے مروان کی اولاد کو جمع فرمایا ۲؎جب آپ خلیفہ ہوئے پھر فرمایا کہ فدک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا تھا جس سے آپ خرچ فرماتے تھے اور اس سے بنی ہاشم کے بچوں پر لوٹاتے تھے اسی میں سے اور اسی سے ان کی بیوگان کا نکاح کرتے تھے۳؎اور حضرت فاطمہ نے آپ سے سوال کیا تھا کہ یہ انہیں دے دیں تو انکار فرمادیا تھا ۴؎پھر وہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی شریف میں اسی طرح رہا حتی کہ حضور اپنی راہ تشریف لے گئے پھر جب ابوبکر صدیق خلیفہ بنائے گئے تو آپ نے اس میں وہ ہی عمل کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنی زندگی شریف میں کرتے تھے حتی کہ آپ بھی اپنی راہ گئے پھر جب حضرت عمر ابن خطاب خلیفہ بنائے گئے تو انہوں نے اس میں وہ ہی کام کیے جو ان دونوں بزرگوں نے کیے تھے ۵؎حتی کہ وہ بھی اپنی راہ گئے پھر اسے مروان نے بانٹ لیا ۶؎پھر وہ عمر ابن عبدالعزیز کے پاس پہنچا تو میں سمجھتا ہوں کہ جس چیز کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب فاطمہ کو نہ دیا اس میں میرا حق نہیں کہ تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں اسے اسی حال کی طرف لوٹاتا ہوں جہاں پر وہ تھا یعنی حضور اور ابوبکروعمر کے زمانہ میں ۷؎(ابوداؤد)
عَنِ الْمُغِيْرَةِ قَالَ: إِنَّ عمَرَ بْنَ عَبدِ العَزِيزِ جَمَعَ بَنِي مَرْوَانَ حِينَ اسْتُخْلِفَ فَقَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهٗ فَدَكُ فَكَانَ يُنْفِقُ مِنْهَا، وَيَعُوْدُ مِنْهَا عَلٰى صَغِيرِ بَنِي هَاشِمِ، وَيُزَوِّجُ مِنْهَا أَيِّمَهُمْ، وَإِنَّ فَاطِمَةَ سَأَلَتْهُ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهَا فَأَبَى، فَكَانَتْ كَذٰلِكَ فِي حَيَاةَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَيَاتِهٖ، حتّٰى مَضَى لِسَبِيلِهٖ، فَلَمَّا أَنْ وُلّيَ أَبُوْ بكرٍ عَمِلَ فِيهَا بِمَا عَمِلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَيَاتِهٖ حتّٰى مَضَى لِسَبِيلِهٖ، فَلَمَّا أَنْ وُلِّيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَمِلَ فِيهَا بِمِثْلِ مَا عَمِلَا حتّٰى مَضَى لِسَبِيلِهٖ، ثُمَّ أَقْطَعَهَا مَرْوَانُ، ثُمَّ صَارَتْ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَرَأَيْتُ أَمْرًا مَنَعَهٗ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ لَيْسَ لِي بِحَقِّ، وَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي رَدَدْتُهَا عَلٰى مَا كَانَتْ. يَعْنِي: عَلٰى عَهْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4063 ، باب:فئ کا بیان