باب: امان کا بیان

جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت ام ہانی بنت ابی طالب سے ۱؎فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں فتح کے سال گئی ۲؎تو میں نے آپ کو غسل کرتے پایا اور آپ کی بیٹی فاطمہ آپ پر کپڑے سے آڑ کیے تھیں۳؎تو میں نے سلام کیا ۴؎فرمایا یہ کون ہیں میں نے کہا ام ہانی بنت ابو طالب،فرمایا ام ہانی خوب آئیں ۵؎پھر جب اپنے غسل سے فارغ ہوگئے تو کھڑے ہوئے ایک کپڑے میں لپیٹے ہوئے آٹھ رکعتیں پڑھیں ۶؎پھر فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ میرے ماں جائے علی کہتے ہیں ۷؎کہ وہ اس شخص کو قتل کریں گے جسے میں امان دے چکی ہوں ھبیرہ کا بیٹا فلاں ۸؎تو رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے ام ہانی جسے تم نے امان دے دی اسے ہم نے بھی امان دے دی ۹؎ام ہانی فرماتی ہیں کہ یہ چاشت کا وقت تھا۔(مسلم،بخاری) اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ فرماتی ہیں میں نے اپنے دیوروں میں سے دوشخصوں کو امان دے دی تھی۱۰؎تو رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ہم نے اسے امان دے دی جسے تم نے امان دے دی۔

عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ قَالَتْ: ذَهَبْتُ إِلَى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَوَجَدْتُهٗ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنتُهٗ تَسْتُرُهٗ بِثَوْبٍ، فَسَلَّمْتُ فَقَالَ: "مَنْ هٰذِهٖ؟ " فَقُلْتُ: أَنَا أُمُّ هَانِئٍ بنْتُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: "مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ"، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهٖ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيٌّ أَنَّهٗ قَاتِلٌ رَجُلًا أَجَزتُهٗ فُلَانَ ابنَ هُبَيرَةَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ". قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ:وَذٰلِكَ ضُحًى. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلتِّرْمِذِيِّ: قَالَتْ: أَجَرْتُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَحْمَائِي فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَدْ أمَّنَّا مَنْ أمَّنْتِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3977 ، باب: امان کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ عورت پوری قوم کے لیے امان دے سکتی ہے ۱؎یعنی مسلمان پر امان دے سکتی ہے ۲؎(ترمذی)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ الْمَرأَةَ لَتَأْخُذُ لِلْقَوْمِ" يَعْنِي: تُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3978 ، باب: امان کا بیان

روایت ہے حضرت عمرو ب ان حمق سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا جو کسی شخص کو اس کی جان پر امان دے دے پھر اسے قتل کردے اسے قیامت کے دن غداری(بد عہدی)کا جھنڈا دیا جائے گا ۲؎(شرح سنہ)

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "مَنْ أَمَّنَ رَجُلًا عَلٰى نَفْسِهٖ فَقَتَلَهٗ، أُعْطِيَ لِوَاءَ الْغَدْرِ يَوْمَ الْقَيَامَةِ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3979 ، باب: امان کا بیان

روایت ہے حضرت سلیم ابن عامر سے ۱؎فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ اور روم کے درمیان معاہدہ تھا ۲؎اور جناب معاویہ ان کے شہروں کی طرف چل دیئے تاکہ جب معاہدہ پورا ہو جائے تو فورًا ان پر حملہ کردیں۳؎تو ایک شخص ترکی یا عربی گھوڑے پر سوار یہ کہتا ہوا آیا۴؎اﷲ اکبر اﷲ اکبروفا عہد ہو بدعہدی نہ ہو ۵؎لوگوں نے غور کیا تو وہ حضرت عمرو ابن عبسہ تھے ۶؎تو اس کے متعلق ان سے حضرت معاویہ نے پوچھا ۷؎تو فرمایا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جس کا کسی قوم سے عہد ہو تو وہ نہ تو عہد کھولے نہ اسے بدلے ۸؎حتی کہ اس کی مدت گزر جائے ۹؎یا انہیں برابری پر خبر دے دے ۱۰؎فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ لوگوں کو واپس لے گئے ۱۱؎(ترمذی،ابوداؤد)

وَعَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: كَانَ بَيْنَ مُعَاوِيَةَ وَبَيْنَ الرُّوْمِ عَهْدٌ وَكَانَ يَسِيرُ نَحْوَ بِلَادِهِمْ،حتّٰى إِذَا انْقَضَى الْعَهْدُ، أَغَارَ عَلَيْهِمْ، فَجَاءَ رَجُلٌ عَلٰى فَرَسٍ أَوْ بِرْذَوْنٍ، وَهُوَ يَقُوْلُ: اَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُ وَفَاءٌ لَا غَدْرٌ، فَنَظَرَ فَإِذَا هُوَ عَمْرُو بنُ عَبَسَةَ، فَسَأَلَهٗ مُعَاوِيَةُ عَنْ ذٰلِكَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "مَنْ كَانَ بَيْنَهٗ وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ فَلَا يَحُلَّنَّ عَهْدًا وَلَا يَشُدَّنَّهٗ،حتّٰى يَمْضِيَ أَمَدُهٗ أَوْ يَنْبِذَ إِلَيْهِمْ عَلٰى سَوَاءٍ". قَالَ: فَرَجَعَ مُعَاوِيَةُ بِالنَّاسِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3980 ، باب: امان کا بیان

روایت ہے حضرت ابو رافع سے ۱؎فرماتے ہیں مجھے قریش نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں بھیجا ۲؎تو جب میں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام ڈال دیا گیا۳؎تو میں نے عرض کیا یارسولخدا کی قسم میں تو اب ان کی طرف کبھی نہ لوٹوں گا۴؎تو فرمایا کہ ہم نہ تو عہد توڑتے ہیں اور نہ قاصدوں کو روکتے ہیں ۵؎لیکن تم ابھی واپس جاؤ پھر اگر تمہارے دل میں وہ رہے جو اب ہے تو واپس آجانا۶؎فرماتے ہیں کہ میں چلا گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا مسلمان ہوگیا ۷؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: بعثَني قُرَيْشٌ إِلَى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُلقِيَ فِي قَلْبِيَ الإِسْلَامُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنِّي وَاللّٰهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ أَبَدًا. قَالَ: "إِنِّي لَا أَخِيسُ بِالْعَهْدِ وَلَا أَحْبِسُ الْبُرُدَ،وَلٰكِنِ ارْجِعْ فَإِنْ كَانَ فِي نَفْسِكَ الَّذِي فِي نَفْسِكَ الآنَ فَارْجِعْ". قَالَ: فَذَهَبْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمْتُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3981 ، باب: امان کا بیان

روایت ہے حضرت نعیم ابن مسعود سے ۱؎کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے ان دو شخصوں سے فرمایا جو مسیلمہ کے پاس سے آئے تھے ۲؎کہ اگر یہ قانون نہ ہوتا کہ قاصد قتل نہیں کیے جاتے تو میں تمہاری گردنیں مار دیتا(احمد،ابوداؤد)

وَعَنْ نُعَيْمِ بْنِ مَسْعُوْدٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلَيْنِ جَاءَا مِنْ عِنْدِ مُسَيْلِمَةَ: "أَمَا وَاللّٰهِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3982 ، باب: امان کا بیان

روایت ہے حضرت عمر و ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ دور جاہلیت کے معاہدے پورے کردو کیونکہ اسلام ان کی پختگی ہی بڑھاتا ہے ۱؎اسلام میں بنا حلف نہ کرو ۲؎اور حضرت علی کی حدیث"الْمُسْلِمُوْنَ تَتَكَافَا"،"كِتَابُ الْقِصَاصِ"میں ذکر کی گئی۔

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خُطْبَتِهٖ: "أَوْفُوْا بِحِلْفِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِنَّهٗ لَا يَزِيدُهٗ -يَعْنِي الإِسْلَامَ- إِلَّا شِدَّةً، وَلَا تُحْدِثُوْا حِلْفًا فِي الإِسْلَامِ". رَوَاهُ . وَذَكَرَ حَدِيثَ عليٍّ: "الْمُسْلِمُوْنَ تَتَكَافَأُ" فِي "كِتَابِ الْقِصَاصِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3983 ، باب: امان کا بیان

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ ابن نواحہ اور ابن اثال مسیلمہ کذاب کے قاصد نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئے ۱؎تو حضور نے ان سے فرمایا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میںکا رسول ہوں ۲؎تو وہ بولے کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہکا رسول ہے۳؎تب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میںاوراس کے رسول پر ایمان لایا۴؎اور اگر میں قاصد کو قتل کرتا ہوتا تو تم کو قتل کردیتا ۵؎عبدکہتے ہیں کہ پھر طریقہ جاری ہوگیا کہ قاصد کو قتل نہ کیا جائے ۶؎(احمد)

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: جَاءَ ابْنُ النَّوَّاحَةِ وَابْنُ أُثَالٍ رَسُوْلا مُسَيْلِمَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمَا: "أَتَشْهَدَانِ أَنِّي رَسُوْلُ اللّٰهِ؟ " فَقَالَا: نَشْهَدُ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُوْلُ اللّٰهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "آمَنْتُ بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ، وَلَوْ كُنْتُ قَاتِلًا رَسُوْلًا لَقَتَلْتُكُمَا". قَالَ عَبْدُ اللّٰهِ: فَمَضَتِ السُّنَّةُ أَنَّ الرَّسُوْلَ لَا يُقْتَلُ. رَوَاهُ أَحْمدُ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3984 ، باب: امان کا بیان