باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب

کتاب ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم روک دیئے گئے تھے تو آپ نے سر شریف منڈادیا تھا اور اپنی بیویوں سے صحبت فرمائی اپنی ہدی قربان کر دی حتی کہ اگلے سال عمرہ کیا ۱؎(بخاری)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدْ أُحْصِرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَلَقَ رَأَسَهٗ وَجَامَعَ نِسَاءَهٗ وَنَحَرَ هَدْيَهٗ حَتّٰى اعْتَمَرَ عَامًا قَابِلًا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2707 ، باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب

روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن عمر سے فرماتے ہیں ہم رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ روانہ ہوئے ۱؎تو کفار قریش بیت اللّٰه شریف سے آڑے آگئے ۲؎تب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اپنی ہدیاں قربانی کردیں اور آپ نے سر منڈادیا اور صحابہ نے بال کٹوادیئے ۳؎(بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَالَ كَفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدَايَاهُ وَحَلَقَ وَقَصَّرَ أَصْحَابَهٗ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2708 ، باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب

روایت ہے حضرت مسور ابن مخرمہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے سر منڈانے سے پہلے ذبح فرمایا اور اپنے صحابہ کو بھی اس کا حکم دیا ہے ۱؎(بخاری)

وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ وَأَمَرَ أَصْحَابَهٗ بِذٰلِكَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2709 ، باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب

روایت ہے حضرت ابن عمر سے آپ نے فرمایا کیا تمہیں رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی سنت کافی نہیں اگر تم میں سے کوئی حج سے روک دیا جائے ۱؎تو بیت اللّٰه اور صفا مروہ کا طواف کرے پھر ہر چیز سے حلال ہوجائے حتی کہ سال آئندہ حج کرے ۲؎تو ہدی لائے یا اگر ہدی میسر نہ ہو تو روزے رکھ لے ۳؎(بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهٗ قَالَ: أَلَيْسَ حَسْبُكُمْ سُنَّةُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ إِنْ حُبِسَ أَحَدُكُمْ عَنِ الْحَجِّ طَافَ بِالبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتّٰى يَحُجَّ عَامًا قَابِلًا فَيُهْدِيَ أَوْ يَصُومَ إِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2710 ، باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم ضباعہ بنت زبیر کے پاس تشریف لے گئے ۱؎تو ان سے فرمایا شاید تم حج کا ارادہ رکھتی ہو۲؎وہ بولیں اللّٰه کی قسم میں تو اپنے کو بیمارپاتی ہوں۳؎حضور نے ان سے فرمایا حج کو چلو اور یوں کہہ لو کہ الٰہی میرے کھلنے کی جگہ وہ ہی ہے جہاں تو مجھے روک دے ۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ. قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ فَقَالَ لَهَا: «لَعَلَّكِ أَرَدْتِ الْحَجَّ؟» قَالَتْ: وَاللّٰهِ مَا أَجِدُنِي إِلَّا وَجِعَةً. فَقَالَ لَهَا: " حُجِّي وَاشْتَرِطِي وَقُولِي: اَللّٰهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2711 ، باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ انہوں نے حدیبیہ کے سال جو قربانیاں دی تھیں ۱؎عمرہ قضا میں ان کے عوض اور دیں۲؎

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَصْحَابَهٗ أَنْ يُبَدِّلُوا الْهَدْيَ الَّذِي نَحَرُوا عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2712 ، باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب

روایت ہے حضرت حجاج ابن عمرو انصاری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جس کا پاؤں ٹوٹ جائے یا لنگڑا ہو جائے تو وہ احرام کھول دے اور اس پر سال آئندہ حج ہے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی) اور ابوداؤد نے یہ زیادہ کیا کہ دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ یا وہ بیمار ہوجائے ۲؎ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے اور مصابیح میں ہے کہ ضعیف ہے۳؎

وَعَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من كُسِرَ أَوْ عُرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دواد وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَزَادَ أَبُوْ دَاوُدَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرٰى : «أَوْ مَرِضَ» .وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ. وَفِي "الْمَصَابِيحِ": ضَعِيفٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2713 ، باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن یعمر دیلی سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ حج عرفہ ہے جو مزدلفہ کی شب فجر طلوع ہونے سے پہلے عرفہ کا قیام پالے اس نے حج پالیا ۲؎منٰی کے دن تین ہیں ۳؎تو جو دو دن میں جلدی کرے تو اس پر گناہ نہیں اور جو دیر سے لوٹے تو اس پر گناہ نہیں ۴؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے صحیح ہے۔

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَالدِّيلِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْحَجُّ عَرَفَةُ مَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ أيَّامُ مِنىً ثَلَاثَةٌ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2714 ، باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب