- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- روزے کا بیان
- باب: روزہ کی قضا
باب: روزہ کی قضا
روزے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 3
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں مجھ پر رمضان کے روزے ہوتے تھے ۱؎تو میں سوائے شعبان کے قضا نہ کرسکتی تھی۲؎یحیی ابن سعید نے فرمایا آپ کی مراد حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشغولیت ہے ۳؎(مسلم،بخاری)
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ يَكُونُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَ إِلَّا فِي شَعْبَانَ. قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: تَعْنِي الشُّغْلُ مِنَ النَّبِيِّ، أَوْ بِالنَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2030 ، باب: روزہ کی قضا
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کسی عورت کو نہ تو یہ درست ہے کہ جب اس کا خاوند موجود ہو تو اس کی بغیر اجازت روزہ رکھے ۱؎نہ یہ کہ اس کی بلا اجازت اس کے گھر میں کسی کو آنے دے ۲؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا يَحِلُّ لِلْمَرْأَةِ أنْ تَصُومَ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ،وَلَا تَأْذَنَ فِي بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2031 ، باب: روزہ کی قضا
روایت ہے حضرت معاذہ عدویہ سے کہ انہوں نے حضرت عائشہ سے عرض کیا کہ حائضہ کا کیا حال ہے کہ وہ روزہ تو قضا کرتی اور نماز قضا نہیں کرتی ۱؎حضرت عائشہ نے فرمایا کہ یہ عارضہ ہم کو آتا تھا تو ہم کو روزہ کی قضا کا حکم دیا جاتا تھا اور نماز کی قضا کا حکم نہیں دیاجاتا تھا ۲؎(مسلم)
وَعَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ أَنَّهَا قَالَتْ لِعَائِشَةَ: مَا بَالُ الْحَائِضِ تَقْضِي الصَّوْمَ وَلَا تَقْضِي الصَّلَاةَ؟ قَالَتْ عَائِشَةُ: كَانَ يُصِيبُنَا ذٰلِكَ فَنُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ وَلَا نُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2032 ، باب: روزہ کی قضا
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے جو مرگیا اور اس پر روزے تھے تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزے ادا کرے ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صَوْمٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2033 ، باب: روزہ کی قضا
روایت ہے حضرت نافع سے وہ حضرت ابن عمر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا جو مرجائے اور اس پر ماہ رمضان کے روزے ہوں تو اس کی طرف سے ہر دن کی جگہ ایک مسکین کو کھلا دیا جائے ۱؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ صحیح یہ ہے کہ یہ ابن عمر پر موقوف ہے۲؎
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ فَلْيُطْعَمْ عَنْهُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ مَوْقُوفٌ عَلَى ابْنِ عُمَرَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2034 ، باب: روزہ کی قضا
روایت ہے حضرت مالک سے انہیں روایت پہنچی کہ حضرت عمر سے پوچھا جاتاتھا کہ کیا کوئی کسی کی طرف سے روزہ رکھ دے یا نماز پڑھ دے تو فرماتے تھے کہ نہ کوئی کسی کی طرف سے روزہ رکھے اور نہ کسی کی طرف سے نماز پڑھے ۱؎(مؤطا)
عَنْ مَالِكٍ بَلَغَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُسْأَلُ: هَلْ يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ، أَوْ يُصَلِّي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ؟ فَيَقُولُ: لَا يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ، وَلَا يُصَلِّي أَحَدٌ عَنْ أحَدٍ. رَوَاهُ فِي "الْمُوَطَّأِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2035 ، باب: روزہ کی قضا