باب :مسافر کا روزہ

روزے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 3

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ حضرت حمزہ ابن عمر اسلمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ کیا میں سفر میں روزہ رکھوں وہ بہت روزے رکھتے تھے ۱؎تو حضور نے فرمایا اگر چاہو روزہ رکھو اگر چاہو افطار کرو ۲؎(مسلم،بخاری)

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الأَسْلَمِيَّ قَالَ لِلنَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: أَصُومُ فِي السَّفَرِ وَكَانَ كَثِيرَ الصِّيَامِ، فَقَالَ: "إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأفْطِرْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2019 ، باب :مسافر کا روزہ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں ہم نے رسولصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا جب کہ ماہ رمضان کے سولہ دن گزر گئے تھے ۱؎تو ہم میں سے بعض نے روزہ رکھا اور بعض وہ تھے جنہوں نے افطار کیا تو نہ روزہ داروں نے بے روزوں کو عیب لگایا اور نہ بے روزوں نے روزہ داروں کو ۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- لَسِتَّ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ،فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِم. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2020 ، باب :مسافر کا روزہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے تو لوگوں کی بھیڑ دیکھی اور ایک شخص کو ملاحظہ کیا جس پر سایہ کیا گیا تھا ۱؎فرمایا یہ کیا ہے لوگوں نے کہا ایک روزہ دار ہے فرمایا سفر میں یوں روزہ رکھنا بھلائی نہیں ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فِي سَفَرٍ فَرَأَى زِحَامًا وَرَجُلًا قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: "مَا هٰذَا؟ " قَالُوا: صَائِمٌ، فَقَالَ: "لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2021 ، باب :مسافر کا روزہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے ہم میں سے بعض روزہ دار تھے بعض بے روزہ ہم گرم دن میں ایک منزل پر اترے روزہ دار تو گر گئے ۱؎اور بے روزہ کھڑے رہے انہوں نے خیمے لگائے اونٹوں کو پانی پلایا ۲؎تب رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج بے روزہ ثواب لے گئے ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فِي السَّفَرِ، فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ، فَسَقَطَ الصَّوَّامُونَ، وَقَامَ الْمُفْطِرُونَ، فَضَرَبُوا الأَبْنِيةَ وَسَقَوا الرِّكَابَ، فقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ اليَوْمَ بِالأَجْرِ ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2022 ، باب :مسافر کا روزہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکہ معظمہ تشریف لے گئے ۱؎تو روزے رکھتے رہے حتی کہ عسفان پہنچ گئے ۲؎پھر پانی منگایا تو اسے اپنے ہاتھ میں اٹھایا ۳؎تاکہ آپ کو لوگ دیکھ لیں۴؎پھر افطار فرماتے رہے حتی کہ مکہ معظمہ آگئے ۵؎اور یہ واقعہ رمضان میں تھا ۶؎چنانچہ حضرت ابن عباس فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ بھی رکھا ہے اور افطار بھی کیا ہے تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے افطارکرے ۷؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَرَفَعَهُ إِلَى يَدِهِ لِيَرَاهُ النَّاسُ فَأَفْطَرَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، وَذٰلِكَ فِي رَمَضَانَ. فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَدْ صَامَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أفْطَرَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2023 ، باب :مسافر کا روزہ

مسلم کی روایت میں حضرت جابر سے یوں ہے کہ آپ نے بعد عصر پانی پیا ۸؎

وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ شَرِبَ بَعْدَ الْعَصْرِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2024 ، باب :مسافر کا روزہ

روایت ہے حضرت انس ابن مالک کعبی سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اللہ تعالٰی نے مسافر سے آدھی نماز معاف فرمادی ۲؎اور روزہ مسافر دودھ پلانے والی اور حاملہ سے ۳؎(ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ)

عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ الْكَعْبِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ اللّٰهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلَاةِ، وَالصَّوْمَ عَنِ الْمُسَافِرِ وَعَنِ الْمُرْضِعِ وَالْحُبْلَى". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2025 ، باب :مسافر کا روزہ

روایت ہے حضرت سلمہ ابن محبق سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے جس کے پاس سواری ہو جو اسے بحالت سیری منزل تک پہنچادے ۲؎وہ رمضان کے روزے رکھے جہاں پائے ۳؎(ابوداؤد)۴؎

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ كَانَ لَهٗ حَمُولَةٌ تَأْوِي إِلَى شِبْعٍ فَلْيَصُمْ رَمَضَانَ حَيْثُ أدْرَكَهُ" رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2026 ، باب :مسافر کا روزہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم فتح کے سال رمضان میں مکہ معظمہ کی طرف روانہ ہوئے ۱؎تو روزے رکھتے رہے حتی کہکراع الغمیمپہنچ گئے ۲؎لوگ بھی روزہ دار رہے پھر حضور نے پانی کا پیالہ منگایا اسے اٹھایا حتی کہ آپ کو لوگوں نے دیکھا پھر پیا ۳؎اس کے بعد حضور سے عرض کیا گیا کہ بعض لوگوں نے روزہ رکھ لیا ۴؎فرمایا یہ لوگ گنہگار ہیں یہ لوگ گنہگار ہیں ۵؎(مسلم)

عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ، فَصَامَ النَّاسُ، ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ فَرَفَعَهُ، حَتَّى نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ، ثُمَّ شَرِبَ، فَقِيلَ لَهٗ بَعْدَ ذَلِكَ: إِنَّ بَعْضَ النَّاسِ قَدْ صَامَ، فَقَالَ: "أُولَئِكَ الْعُصَاةُ، أُولَئِكَ الْعُصَاةُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2027 ، باب :مسافر کا روزہ

روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن عوف سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سفر میں رمضان کے روزے رکھنے والا ایسا ہے جیسے گھر میں افطار کرنے والا ۱؎(ابن ماجہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "صَائِمُ رَمَضَانَ فِي السَّفَرِ كَالْمُفْطِرِ فِي الْحَضَرِ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2028 ، باب :مسافر کا روزہ

روایت ہے حضرت حمزہ ابن عمرو اسلمی سے انہوں نے عرض کیا یارسولمیں اپنے اندر سفر میں روزہ کی طاقت رکھتا ہوں تو کیا مجھ پر گناہ ہے فرمایا وہ توعزوجل کی طرف سے رخصت ہے جو اسے قبول کرے تو اچھا ہے اور جو روزہ رکھنا پسند کرے تو اس پر گناہ نہیں ۱؎(مسلم)

وَعَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الأسْلَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إنِّي أَجِدُ بِي قُوَّةً عَلَى الصِّيَامٍ فِي السَّفَرِ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ؟ قَالَ: "هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللّٰهِ عزَّ وجلَّ، فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فحَسَنٌ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2029 ، باب :مسافر کا روزہ