- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت مختار ابن فلفل سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک سے عصر کے بعد کے نفلوں کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ حضرت عمر بعد عصر نماز پڑھنے پر لوگوں کے ہاتھوں پر مارتے تھے ۲؎حالانکہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں آفتاب ڈوبنے کے بعد مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے ۳؎تو میں نے ان سے کہا کہ کیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم بھی یہ پڑھتے تھے تو فرمایا کہ ہمیں پڑھتے دیکھتے تھے تو نہ ہمیں حکم کرتے تھے اور نہ منع کرتے تھے ۴؎(مسلم)
وَعَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ التَّطَوُّعِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَ: كَانَ عُمَرُ يَضْرِبُ الْأَيْدِيَ عَلیٰ صَلَاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ وَكُنَّا نُصْلِي عَلیٰ عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ فَقُلْتُ لَهٗ : أَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا؟ قَالَ: كَانَ يَرَانَا نُصَلِّيهِمَا فَلَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1179 ، باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ میں تھے تو جب مؤذن نماز مغرب کی اذان دیتا تو لوگ ستونوں کی طرف بھاگتے پھر دو رکعتیں پڑھتے حتی کہ اجنبی آدمی مسجد میں آتا تو سمجھتا کہ نماز پڑھ لی گئی ان پڑھنے والوں کے ہجوم کی وجہ سے ۱؎(مسلم)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنَّا بِالْمَدِينَةِ فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ لِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ ابْتَدَرُوا السَّوَارِيَ فَرَكَعُوا رَكْعَتَيْنِ حَتّٰى إِنَّ الرَّجُلَ الْغَرِيبَ لَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ فَيَحْسِبُ أَنَّ الصَّلَاةَ قَدْ صُلِّيَتْ مِنْ كَثْرَةِ مَنْ يُصَلِّيهمَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1180 ، باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
روایت ہے حضرت مرثد ابن عبد الله سے فرماتے ہیں کہ میں عقبہ جہنی کے پاس حاضر ہوا ۱؎میں نے عرض کیا کہ کیا میں ابوتمیم کی عجیب بات آپ کو نہ سناؤں وہ تو مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے ۲؎تو عقبہ بولے کہ یہ تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں ہم بھی کرتے تھے میں نے عرض کیا کہ اب آپ کو کون شئے مانع ہے فرمایا مشغولیت ۳؎(بخاری)
وَعَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: أَتَيْتُ عُقْبَةَ الْجُهَنِيَّ فَقُلْتُ: أَلَا أُعَجِّبُكَ مِنْ أَبِي تَمِيمٍ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ؟ فَقَالَ عُقْبَةُ: إِنَّا كُنَّا نَفْعَلُهٗ عَلیٰ عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قُلْتُ: فَمَا يَمْنَعُكَ الْآنَ؟ قَالَ: الشُّغُلُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1181 ، باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
روایت ہے حضرت کعب ابن عجرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم بنی عبدالاشہل کی مسجد میں تشریف لے گئے ۱؎تو وہاں مغرب پڑھی جب لوگ اپنی نماز پڑھ چکے تو حضور نے انہیں اس کے بعد نفل پڑھتے دیکھا تو فرمایا کہ یہ گھروں کی نماز ہے ۲؎(ابوداؤد) ترمذی اور نسائی کی روایت میں ہے کہ کچھ لوگ نفل پڑھنے کھڑے ہوئے تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ نماز گھروں میں پڑھنی چاہیئے ۳؎
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتٰی مَسْجِدَ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فَصَلّٰى فِيهِ الْمَغْرِبَ فَلَمَّا قَضَوْا صَلَاتَهُمْ رَآهُمْ يُسَبِّحُونَ بَعْدَهَا فَقَالَ: «هٰذِهٖ صَلَاةُ الْبُيُوتِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيْ وَالنَّسَائِيِّ قَامَ نَاسٌ يَتَنَفَّلُونَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «عَلَيْكُمْ بِهٰذِهِ الصَّلَاةِ فِي الْبُيُوتِ »
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1182 ، باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم بعد مغرب دو رکعتوں میں لمبی قرأت کرتے تھے حتی کہ مسجد والے متفرق ہوجاتے ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطِيلُ الْقِرَاءَةَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ حَتّٰى يَتَفَرَّقَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1183 ، باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
روایت ہے حضرت مکحول سے ۱؎انہیں خبر پہنچی کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی مغرب کے بعد بات کرنے سے پہلے دو رکعتیں اور ایک روایت میں ہے چار رکعتیں پڑھ لے ۲؎تو اس کی نماز علیین میں اٹھائی جاتی ہے۳؎(مرسلًا)
وَعَنْ مَكْحُولٍ يَبْلُغُ بِهٖ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«مَنْ صَلّٰى بَعْدَ الْمَغْرِبِ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ وَفِي رِوَايَةٍ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ رُفِعَتْ صَلَاتُهٗ فِي عِلِّيِّينَ» . مُرْسَلًا
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1184 ، باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
اور حضرت حذیفہ سے اسی کی مثل ہے اور زیادہ کیا کہ کہتے تھے کہ مغرب کےبعد دو رکعتیں جلدی پڑھو کیونکہ وہ دونوں فرضوں کے ساتھ اٹھائی جاتی ہیں ۱؎ان دونوں حدیثوں کو رزین نے روایت کیا اور بیہقی نے انہی سے زیادتی کو شعب الایمان میں اس کی مثل۔
وَعَنْ حُذَيْفَة نَحْوَهٗ وَزَادَ فَكَانَ يَقُولُ: «عَجِّلُوا الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فَإِنَّهٗ مَا تُرْفَعَانِ مَعَ الْمَكْتُوبَةِ» رَوَاهُمَا رَزِينٌ وَرَوَى البَيْهَقِيُّ الزِّيَادَةَ عَنْهُ نَحْوَهَا فِيْ شُعَبِ الْإِيْمَانِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1185 ، باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
روایت ہے حضرت عمرو بن عطاء سے فرماتے ہیں کہ نافع ابن جبیر نے انہیں حضرت سائب کے پاس اس چیز کے پوچھنے کے لیئے بھیجا جو امیر معاویہ نے ان سے نماز میں دیکھی ہو ۱؎انہوں نے فرمایا ہاں میں نے امیر معاویہ کے ساتھ مقصورے میں جمعہ پڑھا ۲؎جب امام نے سلام پھیرا تو میں اسی جگہ کھڑا ہوگیا۔۳؎جب وہ چلا گیا تو مجھے بلایا اور فرمایا کہ یہ کام آئندہ نہ کرنا جب تم جمعہ پڑھو تو اسے اور نماز سے نہ ملاؤ یہاں تک کہ کوئی بات کرلو یا ہٹ جاؤ۴؎کیونکہ ہم کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا کہ بغیر کلام یا بغیر ہٹے نماز کو نماز سے نہ ملائیں ۵؎(مسلم)
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ: إِنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَرْسَلَهُ الى السَّائِبِ يَسْأَلُهٗ عَنْ شَيْءٍ رَآهُ مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ: نَعَمْ صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ فَلَمَّا سَلَّمَ الْإِمَامُ قُمْتُ فِي مَقَامِي فَصَلَّيْتُ فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَقَالَ: لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتّٰى تُكَلِّمَ أَوْتَخْرُجَ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِذٰلِكَ أَنْ لَا نُوصِلَ بِصَلَاةٍ حَتّٰى نَتَكَلَّمَ أَوْنَخْرُجَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1186 ، باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
روایت ہے حضرت عطاء سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر جب مکہ میں جمعہ پڑھتے تو آگے بڑھتے پھر دو رکعتیں پڑھتے پھر آگے بڑھتے تو چار پڑھتے ۱؎اور جب مدینہ میں ہوتے اور جمعہ پڑھتے تو اپنے گھر لوٹ جاتے دو رکعتیں پڑھتے اور مسجد میں نہ پڑھتے ان سے پوچھا گیا توکہا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ایسے ہی کرتے تھے ۲؎(ابوداؤد)اور ترمذی کی روایت میں ہے فرمایا کہ میں نے حضرت ابن عمر کو دیکھا کہ آپ نے جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھیں پھر اس کے بعد چار پڑھیں۔
وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا صَلّٰى الْجُمُعَةَ بِمَكَّةَ تَقَدَّمَ فَصَلّٰى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيُصَلِّي أَرْبَعًا وَإِذَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ صَلّٰى الْجُمُعَةَ ثُمَّ رَجَعَ إِلٰى بَيْتِهٖ فَصَلّٰى رَكْعَتَيْنِ وَلَمْ يُصَلِّ فِي الْمَسْجِدِ فَقِيلَ لَهٗ . فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهٗ)رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيْ قَالَ: (رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ صَلّٰى بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ ثمَّ صَلّٰى بَعْدَذٰلِكَ أَرْبعًا)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1187 ، باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- 1
- 2