- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- پاکی کی کتاب
- باب : مسواک کا باب
باب : مسواک کا باب
پاکی کی کتاب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر یہ نہ ہوتا کہ اپنی امت پر دشواری کروں گا تو انہیں عشاء میں دیر کا اور ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا ۱؎(مسلم بخاری)
عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلٰى أُمَّتِيْ لَأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيْرِ الْعِشَاءِ وَبِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 376 ، باب : مسواک کا باب
روایت ہے شریح ابن ہانی سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر میں تشریف لاتے تو پہلے کیا کام کیا کرتے تھے؟ فرمایا مسواک ۲؎(مسلم)
وَعَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِيْ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهٗ؟ قَالَتْ: بِالسِّوَاكِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 377 ، باب : مسواک کا باب
روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب تہجد کے لیئے رات میں اٹھتے تو اپنا منہ شریف مسواک سے ملتے ۱؎(بخاری و مسلم)
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ لِلتَّهَجُّدِ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوْصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 378 ، باب : مسواک کا باب
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دس چیزیں نبیوں کی سنت سے ہیں ۱؎مونچھ کٹانا ۲؎داڑھی بڑھانا۳؎مسواک،ناک میں پانی لینا،ناخن کٹانا ۴؎پورے دھونا ۵؎بغل کے بال اکھیڑنا۶؎زیر ناف کے بال مونڈنا۷؎پانی خرچ کرنا یعنی استنجاءکرنا ۸؎راوی کہتے ہیں کہ میں دسویں بات بھول گیا ممکن ہے کلی ہو ۹؎(مسلم)اور ایک روایت میں داڑھی بڑھانے کی بجائے ختنہ ہے۱۰؎میں نے یہ روایت نہ تو صحیحین میں پائی ہے اور نہ کتاب حمیدی میں لیکن اسے جامع و الے نے اور یوں ہی خطابی نے "معالم السنن
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَالسِّوَاكُ، وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ، وَقَصُّ الأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ". يَعْنِي الاسْتِنْجَاءَ، قَالَ الرَّاوِي: وَنَسِيْتُ الْعَاشِرَ إِلَّا أَنْ تَكُوْنَ الْمَضْمَضَةُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ: "الْخِتَانُ" بَدْلَ "إِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ" لَمْ أَجِدْ هٰذِهِ الرِّوَايَةَ فِي "الصَّحِيْحَيْنِ" وَلَا فِي كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ ، وَلَكِنْ ذَكَرَهَا صَاحِبُ "الْجَامِعِ" وَكَذَا الْخطابِيُّ فِي "مَعَالِمِ السُّنَنِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 379 ، باب : مسواک کا باب
بروایت ابوداؤد وعمار ابن یاسر سے روایت کیا ۱؎
عَنْ أَبِيْ دَاوُدَ بِرِوَايَة عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 380 ، باب : مسواک کا باب
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مسواک منہ صاف کرنے والی ہے۔اللہ کی رضا کا سبب ہے ۱؎اسے شافعی و احمد دارمی و نسائی نے روایت کیا اور بخاری نے اپنی صحیح میں بغیر اسناد روایت کیا۔
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "السِّوَاكُ مُطَهِّرَةٌ لِلْفَمِ مِرْضَاةٌ لِلرَّبِّ". رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَالنَّسَائِيُّ، وَرَوَی البُخَارِيُّ فِي "صَحِيْحِهٖ" بِلَا إِسْنَادٍ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 381 ، باب : مسواک کا باب
روایت ہے حضرت ابوایوب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ چار چیزیں پیغمبروں کی سنتوں سے ہیں ۱؎شرم۔ ایک روایت میں ہے ختنہ ۲؎عطر ملنا،مسواک اور نکاح ۳؎( ترمذی)
وَعَنْ أَبِيْ أَيُّوْبَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبَعٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِيْنَ: اَلْحَيَاءُ وَيُرْوَى الْخِتَانُ وَالتَّعَطُّرُ وَالسِّوَاكُ وَالنِّكَاحُ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 382 ، باب : مسواک کا باب
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات و دن میں جب بھی سو کر اٹھتے تو وضو سے پہلے مسواک کرتے تھے ۱؎(احمد،ابوداؤد)
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْقُدُ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ فَيَسْتَيْقِظُ إِلَّا يَتَسَوَّكُ قَبْلَ أَنْ يَتَوَضَّأَ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 383 ، باب : مسواک کا باب
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرکے مجھے دھونے کے لیئے دیتے تھے تو میں پہلے اس سے مسواک کرلیتی تھی پھر دھوکر آپ کو دیتی تھی ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ فَيُعْطِيْنِي السِّوَاكَ لِأَغْسِلَهٗ فَأَبْدَأُ بِهٖ فَأَسْتَاكُ ثُمَّ أَغْسِلُهٗ وَأَدْفَعُهٗ إِلَيْهِ رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 384 ، باب : مسواک کا باب
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مسواک کررہا ہوں میرے پاس دو شخص آئے جن میں سے ایک دوسرے سے بڑا ہے،میں نے مسواک چھوٹے کو دی تو مجھ سے کہا گیا کہ بڑے کو دیجئے لہذا میں نے بڑے کو دیدی ۱؎(مسلم بخاری)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُرَانِيْ فِي الْمَنَامِ أَتَسَوَّكُ بِسِوَاكٍ فَجَاءَنِيْ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْاٰخَرِ فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الْأَصْغَرَ مِنْهُمَا فَقِيْلَ لِيْ: كَبِّرْ فَدَفَعْتُهٗ إِلَى الْأَكْبَرِ مِنْهُمَا "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 385 ، باب : مسواک کا باب
روایت ہے حضرت ابوامامہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس جبرئیل علیہ السلام جب بھی آئے ۱؎تو مجھ سے مسواک کرنے کو کہا میں ڈرا کہ کہیں اپنے منہ کے اگلے حصہ کو چھیل ڈالوں۲؎۔(احمد)
وَعَنْ أَبِيْ أُمَامَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا جَاءَنِيْ جِبْرَائِيْلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَطُّ إِلَّا أَمَرَنِيْ بِالسِّوَاكِ لَقَدْ خَشِيْتُ أَنْ أُحْفِيَ مُقَدَّمَ فِيَّ» رَوَاهُ أَحْمَدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 386 ، باب : مسواک کا باب
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں نے تم سے مسواک کے متعلق بہت کہا ۱؎
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ أَكْثَرْتُ عَلَيْكُمْ فِي السِّوَاكَ» رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 387 ، باب : مسواک کا باب
روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کررہے تھے اور آپ کے پاس دو شخص تھے جن میں ایک دوسرے سے بڑا تھا تو آپ کو بچی مسواک کے متعلق وحی کی گئی بڑے کا لحاظ کیجئے یعنی بڑے کو مسواک دیجئے۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَنُّ وَعِنْدَهٗ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْاٰخَرِ فَأُوْحِيَ إِلَيْهِ فِيْ فَضْلِ السِّوَاكِ أَنْ كَبِّرْ أَعْطِ السِّوَاكَ أَكْبَرُهُمَا رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 388 ، باب : مسواک کا باب
روایت ان ہی سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس نماز کے لیئے مسواک کی جائے وہ اس نماز پر ستر گنا زیادہ ہے جس کے لیئے مسواک نہ کی جائے ۱؎اسے بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا۔
وَعَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَفْضُلُ الصَّلٰوةُ الَّتِيْ يُسْتَاكُ لَهَا عَلَى الصَّلٰوةِ الَّتِيْ لَا يُسْتَاكُ لَهَا سَبْعِيْنَ ضِعْفًا» رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِيْ شُعْبِ الْإِيمَانِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 389 ، باب : مسواک کا باب
روایت ہے ابو سلمہ سے ۱؎وہ زید ابن خالد جہنی سے ۲؎راوی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اگر میں اپنی امت پر بھاری نہ جانتا تو انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا اورنمازعشاءکو تہائی رات تک پیچھے ہٹا دیتا ۳؎فرماتے ہیں کہ زید ابن خالد مسجد میں نماز کے لیئے یوں آتے تھے کہ ان کی مسواک ان کے کان پر ہوتی۔جیسے منشی کے کان میں قلم جب بھی نماز کو کھڑے ہوتے تو مسواک کرلیتے پھر وہاں ہی مسواک رکھ لیتے۴؎اسے ترمذی و ابوداؤد نے روایت کیا مگر ابوداؤد نےلَاَخَّرْتُکا ذکر نہ کیا ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
وَعَنْ أَبِيْ سَلَمَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلٰى أُمَّتِيْ لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلَأَخَّرْتُ صَلٰوةَ الْعِشَاءِ إِلٰى ثُلُثِ اللَّيْلِ» قَالَ فَكَانَ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ يَشْهَدُ الصَّلَوَاتِ فِي الْمَسْجِدِ وَسِوَاكُهٗ عَلٰى أُذُنِهٖ مَوْضِعَ الْقَلَمِ مِنْ أُذُنِ الْكَاتِبِ لَا يَقُوْمُ إِلَى الصَّلٰوةَ إِلَّا اسْتَنَّ ثُمَّ رَدَّهٗ إِلٰى مَوْضِعِهٖ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: «وَلَأَخَّرْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلٰى ثُلُثِ اللَّيْلِ» وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 390 ، باب : مسواک کا باب