- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- نماز کا بیان
- باب : اس میں دوفصلیں ہیں
باب : اس میں دوفصلیں ہیں
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1
روایت ہے حضرت ابن عمرسے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بلال رات میں اذان دیتے ہیں تم کھاتے پیتے رہو ۱؎حتی کہ ابن ام مکتوم اذان دیں فرماتے ہیں کہ ابن ام مکتوم نابینا شخص تھے اذان نہ کہتے حتی کہ ان سے کہا جاتاصبح ہوگئی صبح ہوگئی۲؎(مسلم،بخاری)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ بِلَالًا يُنَادِيْ بِلَيْلٍ، فَكُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُوْمٍ"،قَالَ: وَكَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ رَجُلًا أَعْمٰى لَا يُنَادِيْ حَتّٰى يُقَالَ لَهٗ: أَصْبَحْتَ أَصْبَحْتَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 680 ، باب : اس میں دوفصلیں ہیں
روایت ہے سمرہ ابن جندب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تمہیں سحری سے نہ بلال کی اذان روکے اور نہ لمبی فجرلیکن کنارہ آسمان میں پھیلنے والی فجر ۱؎(مسلم)اس کے لفظ ترمذی کے ہیں۔
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَمْنَعَنَّكُمْ مِنْ سُحُوْرِكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ، وَلَا الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيلُ، وَلٰكِنِ الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيرُ فِي الأُفُقِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَلَفْظُهٗ لِلتِّرْمِذِيِّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 681 ، باب : اس میں دوفصلیں ہیں
روایت ہے حضرت مالک بن حویرث سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں اورمیراچچیرا بھائی حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے ۲؎آپ نے فرمایا کہ جب تم دونوں سفرکروتواذان وتکبیرکہو اورتم میں کا بڑا امامت کرے۳؎(بخاری)
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُويْرِثِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَنَا وَابْنُ عَمِّ لِيْ، فَقَالَ: "إِذَا سَافَرْتُمَا فَأَذِّنَا وَأَقِيْمَا وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 682 ، باب : اس میں دوفصلیں ہیں
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ویسے ہی نماز پڑھو جیسے مجھے پڑھتے دیکھا ۱؎جب نماز حاضرہوتو تم میں سے کوئی اذان دے اورتم میں کا بڑا امامت کرے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "صَلُّوْا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّيْ، وَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 683 ، باب : اس میں دوفصلیں ہیں
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ خیبر سے لوٹے ۱؎تو رات بھرچلتے رہے جب آپ کونیند آنے لگی تو آخر رات میں اترے اوربلال سے فرمایا کہ رات میں ہماری حفاظت کرو ۲؎حضرت بلال سے جس قدر ہوسکانماز پڑھتے رہے ۳؎اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ سو گئے پھرجب صبح قریب ہوئی تو حضرت بلال نے مشرق کی طرف منہ کرکے اپنی سواری سے ٹیک لگائی سواری سے ٹیک لگائے ان کی آنکھ لگ گئی ۴؎پھر نہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم بیدارہوئے اور نہ بلال نہ کوئی صحابی حتی کہ انہیں دھوپ لگی ۵؎ان سب سے پہلے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا گئے اور فرمایااے بلال ۶؎تب حضرت بلال بولے کہ میرے نفس کو وہ ہی لے گیا جو آپ کے نفس مبارک کو لے گیا ۷؎فرمایا ہانکو صحابہ نے اپنی سواریاں کچھ ہانکیں ۸؎پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوکیا اورحضرت بلال کو حکم دیا انہوں نے نماز کی تکبیر کہی پھر ان سب کو فجر پڑھائی جب نماز پوری کرچکے تو فرمایا کہ جو نماز بھول جائے تو یاد آنے پر پڑھ لے۔اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ میری یاد پر نماز قائم کرو ۹؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- حِيْنَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ، سَارَ لَيْلَةً حَتّٰى إِذَا أَدْرَكَهُ الْكَرٰى عَرَّسَ، وَقَالَ لِبِلَالٍ: "اِكْلَأ لَنَا اللَّيْلَ". فَصَلّٰى بِلَالٌ مَا قُدِّرَ لَهٗ، وَنَامَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَأَصْحَابُهٗ، فَلَمَّا تَقَارَبَ الْفَجْرُ اسْتَنَدَ بِلَالٌ إِلَى رَاحِلَتِهٖ مُوَجِّهَ الْفَجْرِ، فَغَلَبَتْ بِلَالًا عَيْنَاهُ، وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى رَاحِلَتِهٖ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَلَا بِلَالٌ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهٖ حَتّٰى ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ، فَكَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا، فَفَزِعَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: "أَيْ بِلَالُ"، فَقَالَ بِلَالٌ: أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِيْ أَخَذَ بِنَفْسِكَ،قَالَ: "اقْتَادُوْا" فَاقْتَادُوْا رَوَاحِلَهُمْ شَيْئًا، ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، فَصَلّٰى بِهِمِ الصُّبْحَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: "مَنْ نَسِيَ الصَّلَاةَ فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكرَهَا، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالٰى قَالَ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِيْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 684 ، باب : اس میں دوفصلیں ہیں
روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نمازکی تکبیرکہی جائے تو نہ کھڑے ہو حتی کہ مجھے نکلتے دیکھ لو ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِيْ قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا أُقِيْمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُوْمُوْا حَتّٰى تَرَوْنِيْ قَدْ خَرَجْتُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 685 ، باب : اس میں دوفصلیں ہیں
روایت ہے ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب نمازکی تکبیرکہی جائے تو دوڑتے نہ آؤ بلکہ چلتے ہوئے اطمینان کے ساتھ آؤ ۱؎جوپالو وہ پڑھ لوجورہ جائے پوری کرلو ۲؎(مسلم،بخاری)مسلم کی روایت میں ہے کیونکہ جب کوئی نماز کا ارادہ کرتا ہے تو وہ نمازہی میں ہوتا ہے ۳؎یہ باب دوسری فصل سے خالی ہے۔
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا أُقِيمَت الصَّلَاةُ فَلَا تَأْتُوْهَا تَسْعَوْنَ، وَأْتُوْهَا تَمْشُوْنَ، وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِيْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: "فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ يَعْمِدُ إِلَى الصَّلَاةِ هُوَ فِيْ صَلَاةٍ".وَهَذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الثَّانِيْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 686 ، باب : اس میں دوفصلیں ہیں
روایت ہے حضرت زید ابن اسلم سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکّے کے رستے میں ۲؎نزول فرمایا اورحضرت بلال کو اس لیئے مقرر کیا کہ انہیں نماز کے لیئے جگادیں تب حضرت بلال اورسب حضرات سوگئے ۳؎اورجب جاگے جب کہ ان پرسورج چمک رہا تھاقوم گھبرائی ہوئی جاگی انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ سوارہوجائیں حتی کہ دور اس جنگل سے نکل جائیں اورفرمایا کہ اس جنگل میں شیطان ہے ۴؎لوگ سوار ہوئے حتی کہ اس جنگل سے نکل گئے پھرحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اتریں اور وضوکریں اورحضرت بلال کو حکم دیاکہ نماز کی تکبیریااذان کہیں ۵؎پھرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نمازپڑھائی ۶؎پھر فارغ ہوئے ان کی گھبراہٹ دیکھی تو فرمایا اے لوگو! اللہ نے ہماری روحیں قبض فرمالی تھیں اگرچاہتا اس کے علاوہ اور وقت انہیں واپس کرتا ۷؎جب تم میں سے کوئی نماز سے سوجائے یا اسے بھول جائے پھرگھبرا کر اس کی طرف آئے تو اسے ویسے ہی پڑھے جیسے اس کے وقت میں پڑھتا تھا ۸؎پھرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکرصدیق کی طرف توجہ فرمائی فرمایا کہ شیطان بلال کے پاس آیا جب وہ کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے انہیں لٹادیا ۹؎پھر انہیں تھپکورتا رہا جیسے بچہ تھپکوراجاتاہے حتی کہ وہ سو گئے پھرنبی کریم روف ورحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال کو بلایا تو حضرت بلال نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح خبردی جیسے حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکرصدیق کو خبردی تھی ۱۰؎ابوبکر صدیق بولے میں گواہی دیتا ہوں آپ سچے رسول ہیں ۱۱؎(صلی اللہ علیہ وسلم)۔(مالک)
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: عَرَّسَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- لَيْلَةً بِطَرِيْقِ مَكَّةَ، وَوَكَّلَ بِلَالًا أَنْ يُوْقِظَهُمْ لِلصَّلَاةِ، فَرَقَدَ بِلَالٌ وَرَقَدُوْا، حَتّٰى اسْتَيْقَظُوْا وَقَدْ طَلَعَتْ عَلَيْهِمُ الشَّمْسُ، فَاسْتَيْقَظَ الْقَوْمُ فَقَدْ فَزِعُوْا، فَأَمَرَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَنْ يَرْكَبُوْا حَتّٰى يَخْرُجُوْا مِنْ ذٰلِكَ الْوَادِيْ، وَقَالَ: "إِنَّ هٰذَا وَادٍ بِهٖ شَيْطَانٌ". فَرَكِبُوْا حَتّٰى خَرَجُوْا مِنْ ذٰلِكَ الْوَادِيْ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَنْ يَنْزِلُوْا وَأَنْ يَتَوَضَّؤوْا، وَأَمَرَ بِلَالًا أَنْ يُنَادِيَ لِلصَّلَاةِ أَوْ يُقِيْمَ، فَصَلّٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بِالنَّاسِ،ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ رَأٰى مِنْ فَزَعِهِمْ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ أَرْوَاحَنَا، وَلَوْ شَاءَ لَرَدَّهَا إِلَيْنَا فِيْ حِينٍ غَيْرِ هٰذَا، فَإِذَا رَقَدَ أَحَدُكُمْ عَنِ الصَّلَاةِ أَوْ نَسِيَهَا ثُمَّ فَزِعَ إِلَيْهَا فَلْيُصَلِّهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيْهَا فِيْ وَقْتِهَا". ثُمَّ الْتَفَتَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- إِلٰى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيْقِ فَقَالَ: "إِنَّ الشَّيْطَانَ أَتٰى بِلَالًا وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّيْ فَأَضْجَعَهٗ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُهَدِّئُهٗ كَمَا يُهَدَّأُ الصَّبِيُّ حَتّٰى نَامَ"، ثُمَّ دَعَا رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بِلَالًا فَأَخْبَرَ بِلَالٌ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- مِثْلَ الَّذِيْ أَخْبَرَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُوْلُ اللّٰهِ. رَوَاهُ مَالِكٌ مُرْسَلًا.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 687 ، باب : اس میں دوفصلیں ہیں
روایت ہے حضرت ابن عمرسے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذنوں کی گردنوں میں مسلمانوں کی دو چیزیں لٹکی ہوئی ہیں انکے روزے اورنمازیں ۱؎(ابن ماجہ)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "خَصْلَتَانِ مُعَلَّقَتَانِ فِيْ أَعْنَاقِ الْمُؤَذِّنِيْنَ لِلْمُسْلِمِيْنَ: صِيَامُهُمْ وَصَلَاتُهُمْ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 688 ، باب : اس میں دوفصلیں ہیں