- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- باب: عذاب قبر کا ثبوت
باب: عذاب قبر کا ثبوت
ایمان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے ۱؎وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا مسلمان سے جب قبر میں پوچھ گچھ ہوتی ہے تو وہ گواہی دے اٹھتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں محمد اللہ کے رسول ہیں ۲؎تو یہ ہی رب کا فرمان ہے کہ اللہ مؤمنوں کو مضبوط بات پر قائم رکھتا ہے دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں ۳؎اورحضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک روایت یہ ہے کہ فرمایا کہ یہ آیت عذابِ قبر کے متعلق نازل ہوئی ۴؎مردے سے کہا جاتا ہے کہ تیرا رب کون تو وہ کہتا ہے میرا رب اللہ اور میرے نبی محمد ہیں ۵؎(مسلم و بخاری)
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "الْمُسْلِمُ إِذَا سُئِلَ فِي الْقَبْرِ، يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فَذٰلِكَ قَوْلُهٗ: يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ آمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَفِيْ رِوَايَةٍ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"{يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِت ِنَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ، يُقَالُ لَهٗ: مَنْ رَبُّكَ فَيَقُوْلُ: رَبِّيَ اللّٰهُ ، وَنَبِيِّيْ مُحَمَّدٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 125 ، باب: عذاب قبر کا ثبوت
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب بندے کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے ۱؎اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اسے بٹھاتے ہیں ۲؎پھر کہتے ہیں کہ تو ان صاحب کے متعلق کیا کہتا تھا یعنی محمد ۳؎تو مؤمن کہہ دیتا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۴؎تب اس سے کہا جاتا ہے کہ اپنا دوزخ کا ٹھکانا دیکھ جسے اللہ نے جنت کے ٹھکانے سے بدل دیا ۵؎تو وہ ان دونوں کو دیکھتا ہے ۶؎لیکن منافق اور کافر اس سے کہا جاتا ہے کہ ان صاحب کے بارے میں كيا کہتا تھا ؟ ۷؎وہ کہتا ہے میں نہیں جانتا جو لوگ کہتے تھے وہی میں کہتا تھا ۸؎تو اس سے کہا جاتا ہے کہ تو نے نہ پہچانا قرآن نہ پڑھا ۹؎اور لوہے کے ہتھوڑوں سے مار ماری جاتی ہے جس سے وہ ایسی چیخیں مارتا ہے کہ سواء جن و انس تمام قریبی چیزیں سنتی ہیں ۱۰؎(مسلم وبخاری)الفاظ بخاری کے ہیں۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضعَ فِي قَبْرِهٖ وَتَوَلّٰى عَنْهُ أَصْحَابُهٗ إِنَّهٗ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ،أَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهٖ، فَيَقُولَانِ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هٰذَا الرَّجُلِ لِمُحَمَّدٍ؟ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُوْلُ: أَشْهَدُ أَنَّهٗ عَبْدُ اللّٰهِ وَرَسُولُهٗ، فَيُقَالُ لَهٗ: اُنْظُرْ إِلٰى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللّٰهُ بِهٖ مَقْعَدًا مِنَ الْجنَّة، فَيَرَاهُمَا جَمِيْعًا، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ وَالْكَافِرُ، فَيُقَالُ لَهٗ: مَا كُنْتَ تَقُوْلُ فِيْ هٰذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُوْلُ: لَا أَدْرِيْ، كُنْتُ أَقُوْلُ: مَا يَقُوْلُ النَّاسُ، فَيُقَالُ: لَا دَرَيْتَ لَا تَلَيْتَ وَيُضْرَبُ بِمَطَارِقَ مِنْ حَدِيْدٍ ضَرْبَةً، فَيَصِيْحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيْهِ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ" مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَلَفْظُهٗ لِلْبُخَارِيِّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 126 ، باب: عذاب قبر کا ثبوت
روایت ہے عبد الله ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے جب کوئی مرجاتا ہے تو صبح شام اس پر اس کا ٹھکانا پیش کیا جاتا رہتا ہے ۱؎اگر جنتی ہے تو جنت کا ٹھکانہ اور اگر دوزخیوں میں سے ہے تو دوزخ کا ٹھکانہ ۲؎پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ تیرا ٹھکانہ ہے تاآنکہ قیامت کے دن الله تجھے ادھربھیجے گا ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهٗ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَيُقَالُ: هَذَا مَقْعَدُكَ حَتّٰى يَبْعَثَكَ اللّٰهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" مُتَّفقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 127 ، باب: عذاب قبر کا ثبوت
روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ ایک یہودی عورت ان کی خدمت میں حاضرہوئی ۱؎اور اس نے عذاب قبر کا ذکر کیا۲؎اور آپ سے عرض کیااللہ تمہیں عذاب قبر سے بچائے تب حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عذابِ قبر کے متعلق پوچھا۳؎آپ نے فرمایا ہاں عذاب قبر حق ہے۴؎حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اس کے بعد میں نے کبھی نہ دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز پڑھی ہو اور عذاب قبر سے رب کی پناہ نہ مانگی ہو۵؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ -رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا: أَنَّ يَهُوْدِيَّةً دَخَلَتْ عَلَيْهَا، فَذَكَرَتْ عَذَابَ الْقَبْرِ، فَقَالَتْ لَهَا: أَعَاذَكِ اللّٰهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَقَالَ: "نَعَمْ عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ"، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰه ِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ صَلّٰى صَلَاةً إِلَّا تَعَوَّذَ بِاللّٰهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 128 ، باب: عذاب قبر کا ثبوت
روایت ہے حضرت زیدابن ثابت سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم بنی نجار کے باغ میں اپنے خچر پرسوار تھے۲؎اور ہم حضور کے ساتھ تھے کہ اچانک آپ کا خچر بدکا ۳؎قریب تھا کہ آپ کو گرادیتا ناگاہ وہاں پانچ چھ قبریں تھیں حضور نے فرمایا کہ ان قبروں کو کوئی پہچانتا ہے ؟۴؎ایک شخص نے عرض کیا کہ میں حضور نے فرمایا یہ کب مرے عرض کیا زمانہ شرک میں ۵؎تب حضور نے فرمایا کہ یہ گروہ ۶؎اپنی قبروں میں عذاب دیئے جاتے ہیں ۷؎اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ تم دفن کرنا چھوڑو گے تو میں الله سے دعاکرتا کہ اس عذاب سے کچھ تمہیں بھی سنا دے جو میں سن رہا ہوں۸؎پھر ہماری طرف چہرہ کرکے فرمایا کہ دوزخ کے عذاب سے الله کی پناہ مانگو سب نے کہا ہم دوزخ کے عذاب سے الله کی پناہ مانگتے ہیں فرمایا عذاب قبر سےالله کی پناہ مانگو سب بولے ہم عذاب قبرسے الله کی پناہ مانگتے ہیں ۹؎فرمایا کھلے چھپے فتنوں سےالله کی پناہ مانگو سب بولے ہم کھلے چھپےفتنوں سےالله کی پناہ مانگتے ہیں ۱۰؎فرمایا دجال کے فتنہ سےالله کی پناہ مانگو سب بولے کہ ہم دجال کے فتنہ سے الله کی پناہ مانگتے ہیں ۱۱؎(مسلم)
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ عَلٰى بَغْلَةٍ لَهٗ، وَنَحْنُ مَعَهٗ إِذْ حَادَتْ بِهٖ فَكَادَتْ تُلْقِيهِ، وَإِذَا أَقْبُرٌ سِتَّةٌ أَو خَمْسَةٌ، فَقَالَ: "مَنْ يَعْرِفُ أَصْحَابَ هٰذِهِ الأقْبُرِ؟ "، قَالَ رَجُلٌ: أَنا، قَالَ"فَمَتٰى مَاتُوا؟ " قَالَ: فِي الشِّرْكِ، فَقَالَ: "إِنَّ هَذِهِ الأُمَّةَ تُبْتَلٰى فِيْ قُبُوْرِهَا، فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوْا لَدَعَوْتُ اللّٰهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِيْ أَسْمَعُ مِنْهُ"، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهٖ، فَقَالَ: "تَعَوَّذُوْا بِاللّٰهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ"، قَالُوْا: نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، قَالَ: "تَعَوَّذُوْا بِاللّٰهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ"، قَالُوْا: نَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَ: "تَعَوَّذُوْا بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ"، قَالُوْا: نَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، قَالَ: "تَعَوَّذُوْا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ"، قَالُوْا: نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 129 ، باب: عذاب قبر کا ثبوت
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میت دفن کی جاتی ہے ۱؎تو اس کے پاس دو سیاہ رنگ نیلی آنکھوں والے فرشتے آتے ہیں ۲؎ایک کو منکر دوسرے کو نکیر کہا جاتا ہے ۳؎وہ کہتے ہیں کہ تو ان صاحب کے بارے میں کیا کہتا تھا؟۴؎تو میت کہتا ہے یہ الله کے بندے ہیں اور اس کے رسول میں گواہی دیتا ہوں کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں اور یقینًا محمد الله کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۵؎تب وہ کہتے ہیں ہم تو جانتے تھے کہ تو یہ کہے گا ۶؎پھر
اس کی قبر میں فراخی دی جاتی ہے ستر ۷۰ گز میں ۷؎پھر اس کے لیے وہاں روشنی کردی جاتی ہے ۸؎پھر اسے کہا جاتا ہے سو جا وہ کہتا ہے میں اپنے گھر جاؤں تاکہ انہیں یہ خبر دوں ۹؎تو وہ کہتے ہیں دلہن کی طرح سوجا جسے اس کے پیارے خاوند کے سوا گھر کا کوئی نہیں جگاتا۱۰؎تا آنکہ الله اسے اس کی خواب گاہ سے اٹھائے گا اور اگر مردہ منافق ہو تو کہتا ہے کہ میں نے لوگوں سے کچھ کہتے سنا تھا اسی طرح میں بھی کہہ دیتا تھا میں نہیں پہچانتا۱۱؎تب وہ کہتے ہیں کہ ہم تو جانتے تھے کہ تو یہ کہے گا۱۲؎پھر زمین سے کہا جاتا ہے کہ اس پر تنگ ہو جاؤ اس قدر تنگ ہو جاتی ہے کہ مردے کی پسلیاں ادھر ادھر ہو جاتی ہیں ۱۳؎پھر وہ قبر کے عذاب میں ہی رہتا ہے تاآنکہ الله اسے اس ٹھکانے سے اٹھائے ۱۴؎(ترمذی)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا أُقْبِرَ الْمَيِّتُ أَتَاهُ مَلَكَانِ أَسْوَدَانِ أَزْرَقَانِ، يُقَالُ لِأَحَدِهِمَا: الْمُنْكَرُ، وَللآخَرِ: النَّكَيرُفَيَقُوْلَانِ: مَا كُنْتَ تَقُوْلُ فِي هٰذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُوْلُ:هٰذَا عَبْدُ اللّٰهِ وَرَسُوْلُهٗ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُولُهٗ، فَيَقُوْلَانِ: قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُوْلُ هٰذَا، ثُمَّ يُفْسَحُ لَهٗ فِيْ قَبْرِهٖ سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فِيْ سَبْعِيْنَ، ثُمَّ يُنَوَّرُ لَهٗ فِيْهِ، ثُمَّ يُقَالُ لَهٗ: نَمْ، فَيَقُولُ: أَرْجِعُ إِلٰى أَهْلِيْ فَأُخْبِرُهُمْ، فَيَقُولَانِ: نَمْ كَنَوْمَةِ الْعَرُوسِ الَّذِي لَا يُوقِظُهٗ إِلَّا أَحَبُّ أَهْلِهٖ إِلَيْهِ،حَتّٰى يَبْعَثَهُ اللّٰهُ مِنْ مَضْجَعِهٖ ذٰلِكَ، وَإِنْ كَانَ مُنَافِقًا قَالَ: سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُوْلُوْنَ قَوْلًا فَقُلْتُ مِثْلَهٗ لَا أَدْرِيْ، فَيَقُوْلَانِ: قَدْ كنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُوْلُ ذٰلِكَ، فَيُقَالُ لِلأَرْضِ: الْتَئِمِيْ عَلَيْهِ، فَتَلْتَئِمُ عَلَيْهِ، فَتَخْتَلِفُ أَضْلَاعُهٗ، فَلَا يَزَالُ فِيْهَا مُعَذَّبًا حَتّٰى يَبْعَثَهُ اللّٰهُ مِنْ مَضْجَعِهٖ ذٰلِكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 130 ، باب: عذاب قبر کا ثبوت
روایت ہے براءابن عازب سے وہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ مردے کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اسے بٹھاتے ہیں ۱؎پھر اس سے کہتے ہیں تیرا رب کون؟وہ کہتا ہے میرا رب الله ہے پھر کہتے ہیں تیرا دین کیا وہ کہتا ہے میرا دین اسلام ہے۲؎پھر وہ کہتے ہیں یہ کون صاحب ہیں جو تم میں بھیجے گئے تو وہ کہتا ہے وہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ہیں فرشتے کہتے ہیں۔تجھے یہ کیسے معلوم ہوا ۳؎وہ کہتا ہے میں نے الله کی کتاب پڑھی اس پر ایمان لایا،اسے سچا جانا۴؎یہ ہی اس آیت کی تفسیر ہے "یُثَبِّتُ اللهُ"الایہ۔فرمایاحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے پھر آسمان سے پکارنے والا پکارتا ہے کہ میرا بندہ سچا ہے ۵؎لہذا اس کے لیے جنت کا بستر بچھاؤ اسے جنت کا لباس پہناؤاور اس کے لیے جنت کی طرف دروازہ کھول دو پس کھول دیا جاتا ہے فرماتے ہیں کہ اس تک جنت کی ہوا اور وہاں کی خوشبو آتی ہے ۶؎اور تاحد نظر قبر میں فراخی کردی جاتی ہے ۷؎رہا کافرحضور نے اس کی موت کا ذکر فرمایا ۸؎فرمایا کہ اس کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں پھر وہ اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں تیرا رب کون ہے؟وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا ۹؎پھر اس سےپوچھتے ہیں تیرا دین کیا؟وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا۱۰؎پھر وہ کہتے ہیں کہ یہ کون صاحب ہیں جو تم میں بھیجے گئے ۱۱؎وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا۱۲؎تب پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے کہ یہ جھوٹا ہے ۱۳؎لہذا اس کے لیے آگ کا بچھونا بچھاؤآگ کا لباس پہناؤ اور اس کے لیے آگ کی طرف دروازہ کھول دو فرمایا پھر اس تک وہاں کی گرمی اور لو آتی ہے۱۴؎فرمایا اس پر اس کی قبر تنگ ہوجاتی ہے۔حتی کہ وہاں اس کی پسلیاں ادھر کی ادھر ہوجاتی ہیں۱۵؎پھر اس پر اندھے بہرے فرشتے مسلط ہوتے ہیں۱۶؎جن کے پاس لوہے کے ہتھوڑے ہوتے ہیں اگر ان سے پہاڑ کو مارا جائے تو وہ بھی مٹی ہوجائے اس سے اسے مارتے ہیں ایسی مار جس سے جن و انس کے سوا پورب پچھم کی مخلوق سنتی ہے ۱۷؎جس سے وہ مٹی ہوجاتا ہے پھر اس میں روح لوٹائی جاتی ہے ۱۸؎(احمد، ابوداؤد)
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "يَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهٖ فَيَقُولَانِ لَهٗ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللّٰهُ ، فَيَقُولَانِ لَهٗ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُوْلُ: دِينِيَ الْإِسْلَامُ، فَيَقُوْلَانِ لَهٗ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِيْ بُعِثَ فِيْكُمْ؟ فَيَقُوْلُ: هُوَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُوْلَانِ لَهٗ: وَمَا يُدْرِيكَ؟ فَيَقُولُ: قَرَأْتُ كِتَابَ اللّٰهِ فَآمَنْتُ بِهٖ وَصَدَّقْتُ؛ فَذٰلِكَ قَولُهٗ: {يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ} الآيَةَ قَالَ: فَيُنَادِيْ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ صَدَق عَبدِي فَأفْرِشُوْهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَأَلْبِسُوْهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَافْتَحُوْا لَهٗ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ فيُفْتَحُ، قَالَ: فَيَأتِيْهِ مِنْ رَوْحِهَا وَطِيْبِهَا، وَيُفْسَحُ لَهٗ فِيهَا مَدَّ بَصَرِهٖ، وَأَمَّا الكَافِرُ فَذَكَرَ مَوْتَهٗ، قَالَ: وَيُعَادُ رُوْحُهٗ فِيْ جَسَدِهٖ وَيَأْتِيْهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهٖ، فَيَقُوْلَانِ لَهٗ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِيْ، فَيَقُوْلَانِ لَهٗ: مَا دِيْنُكَ؟ فَيَقُوْلُ: هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِيْ، فَيَقُوْلَانِ: مَا هٰذَا الرَّجُلُ الَّذِيْ بُعِثَ فِيْكُمْ؟ فَيَقُوْلُ: هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِيْ، فَيُنَادِيْ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ كَذَبَ فَأَفْرِشُوْهُ مِنَ النَّارِ، وَأَلْبِسُوْهُ مِنَ النَّارِ، وَافْتَحُوْا لَهٗ بَابًا إِلَى النَّارِ، قَالَ: فَيَأْتِيْهِ مِنْ حَرِّهَا وَسَمُوْمِهَا، قَالَ: وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهٗ حَتّٰى يَخْتَلِفَ فِيْهِ أَضْلَاعُهٗ، ثُمَّ يُقَيَّضُ لَهٗ أعْمَى أَصَمُّ مَعَهٗ مَرْزَبَةٌ مِنْ حَدِيْدٍ، لَوْ ضُرِبَ بِهَا جَبَلٌ لَصَارَ تُرَابًا، فَيَضْرِبُهٗ بِهَا ضَرْبَةً يَسْمَعُهَا مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمغْرب إِلَّا الثَّقَلَيْنِ،فَيَصِيْرُ تُرَابًا، ثُمَّ يُعَادُ فِيْهِ الرُّوْحُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 131 ، باب: عذاب قبر کا ثبوت
روایت ہے حضرت عثمان سے کہ آپ جب کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو اتنا روتے کہ آپ کی داڑھی تر ہوجاتی ۱؎عرض کیا گیا کہ آپ جنت دوزخ کا ذکر کرتے ہیں تو نہیں روتے اس سے روتے ہیں تو فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قبر آخرت کی منزلوں سے پہلی منزل ہے اگر اس سے نجات پاگیا تو بعد والی منزلیں اس سے آسان تر ہیں ۲؎اور اگر اس سے ہی نجات نہ پائی تو بعد والی منزلیں اس سے سخت ہیں ۳؎فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں نے کوئی منظر نہ دیکھا مگر قبر اس سے زیادہ وحشت ناک ہے۴؎اسے ترمذی و ابن ماجہ نے روایت کیا اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنْ عُثْمَانَ أَنَّهٗ كَانَ إِذَا وَقَفَ عَلٰى قَبْرٍ بَكٰى، حَتّٰى يَبُلَّ لِحْيَتَهٗ، فَقِيلَ لَهٗ: تُذْكَرُ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَلَا تَبْكِيْ، وَتَبْكِيْ مِنْ هٰذَا؟ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِنَّ الْقَبْرَ أَوَّلُ مَنْزِلٍ مِنْ مَنَازِلِ الآخِرَةِ، فَإِنْ نَجَا مِنْهُ فَمَا بَعْدَهٗ أَيْسَرُ مِنْهُ، وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهٗ أَشَدُّ مِنْهُ"، قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا رَأَيْتُ مَنْظرًا قَطُّ إِلَّا وَالْقَبْرُ أَفْظَعُ مِنْهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 132 ، باب: عذاب قبر کا ثبوت
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میت کے دفن سے فارغ ہوتے تو وہاں کچھ ٹھہرتے اور فرماتے اپنے بھائی کے لیے دعائے مغفرت کرو پھر اس کے لیے ثابت قدم رہنے کی دعا کرو ۱؎کہ اس سے اب سوالات ہورہے ہیں ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ الْمَيِّتِ وَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ: «اِسْتَغْفِرُوا لِأَخِيْكُمْ ثُمَّ سَلُوا لَهٗ بِالتَّثَبُّتِ فَإِنَّهُ الْآنَ يُسْأَلُ».رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 133 ، باب: عذاب قبر کا ثبوت
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کافر پر اس کی قبر میں ننانوے۹۹ سانپ مسلط کیے جاتے ہیں ۱؎جو اسے قیامت تک نوچتے اور ڈستے رہیں گے ۲؎اگر ان میں سے ایک سانپ زمین پر پھونک مار دے تو کبھی سبزہ نہ اگائے ۳؎اسے دارمی نے روایت کیا اور ترمذی نے بھی اسی کی مثل روایت کی انہوں نے ننانوے کی بجائے ستر فرمائے ۴؎
وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَيُسَلَّطُ عَلَى الْكَافِرِ فِيْ قَبْرِهٖ تِسْعَةٌ وَتِسْعُوْنَ تِنِّيْنًا تَنْهَسُهٗ وَتَلْدَغُهٗ حَتّٰى تَقُوْمَ السَّاعَةُ لَوْ أَنَّ تِنِّيْنًا مِنْهَا نَفَخَ بالأَرْضِ مَا أَنْبَتَتْ خَضِرًا". رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ، وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحْوَهٗ، وَقَالَ: "سَبْعُوْنَ" بَدَلَ "تِسْعَةً وَتسْعُوْنَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 134 ، باب: عذاب قبر کا ثبوت
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں جب حضرت سعد ابن معاذ ۱؎نے وفات پائی تو ہم حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی طرف گئے جب حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر نماز پڑھ لی اور وہ اپنی قبر میں رکھے گئے اور ان پر مٹی برابر کردی گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت دراز تسبیح پڑھی ہم نے بھی تسبیح پڑھی پھر تکبیر کہی ہم نے بھی تکبیر کہی ۲؎عرض کیا گیا یارسول اللہ اولًا تسبیح پھر تکبیر کیوں کہی ؟ فرمایا اس نیک بندے پر ان کی قبر تنگ ہوگئی تھی حتی کہ اللہ نے کشادہ کردی۳؎(اسے احمدنے روایت کیا)
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ آلِهٖ وَسَلَّمَ إِلٰى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ حِينَ تُوُفِّيَ، فَلَمَّا صَلّٰى عَلَيْهِ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُضِعَ فِيْ قَبْرِهٖ وَسُوِّيَ عَلَيْهِ، سَبَّحَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَّحْنَا طَوِيْلًا،ثُمَّ كَبَّرَ فَكَبَّرْنَا، فَقِيْلَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ لِمَ سَبَّحْتَ ثُمَّ كَبَّرْتَ؟ قَالَ: "لَقَدْ تَضَايَقَ عَلَى هٰذَا العَبْدِ الصَّالِحِ قَبْرُهٗ، حَتّٰى فَرَّجَهُ اللّٰهُ عَنهُ". رَوَاهُ أحمَدُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 135 ، باب: عذاب قبر کا ثبوت
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یہ وہ ہیں جن کے لیئے عرش ہل گیا،اور ان کے لیئے آسمان کے دروازے کھولے گئے ۱؎اور ان پر ستر ہزار فرشتے حاضر ہوئے ۲؎بے شک چپٹائے گئے چپٹایاجاتا پھراللہ نے ان کے لیے آسانی کردی۳؎(نسائی)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هٰذَا الَّذِيْ تَحَرَّكَ لَهُ الْعَرْشُ،وَفُتِحَتْ لَهٗ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَشَهِدَهٗ سَبْعُوْنَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ، لَقَدْ ضُمَّ ضَمَّةً ثُمَّ فُرِّجَ عَنْهُ". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 136 ، باب: عذاب قبر کا ثبوت
روایت ہے اسماء بنت ابوبکر سے ۱؎فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وعظ کے لیے کھڑے ہوئے ۲؎تو آپ نے فتنۂ قبر کا ذکر فرمایاجس میں انسان مبتلا ہوتا ہے۳؎تو جب یہ ذکر کیا تو مسلمانوں نے چیخ ماری۴؎بخاری نے اسی طرح روایت کی نسائی نے یہ اور زیادہ کیا کہ ان کے درمیان چیخ حائل ہوگئی کہ میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سمجھ سکوں جب شورتھما تو میں نے اپنے نزدیکی آدمی سے کہا کہ اللہ تجھے برکتیں دے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر کلام شریف میں کیا فرمایا؟۵؎وہ بولے کہ حضور نے یہ فرمایا کہ مجھے وحی ہوئی ہے کہ تم اپنی قبروں میں فتنۂ دجال کے قریب فتنہ میں مبتلا کیے جاؤ گے۶؎
وَعَن أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِيْ بَكْرٍ قَالَتْ: قَامَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيْبًا فَذَكَرَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ الَّتِيْ يُفتَنُ فِيْهَا الْمَرْءُ، فَلَمَّا ذَكَرَ ذٰلِكَ ضَجَّ الْمُسْلِمُوْنَ ضَجَّةً، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ هٰكَذَا، وَزَادَ النَّسَائِيُّ. حَالَتْ بَيْنِيْ وَبَيْنَ أَنْ أَفْهَمَ كَلَامَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَكَنَتْ ضَجَّتُهُمْ، قُلْتُ لِرَجُلٍ قَرِيْبٍ مِنِّيْ: أَيْ بَارَكَ اللّٰهُ فِيْكَ مَاذَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ آخِرِ قَوْلِهٖ؟ قَالَ: قَالَ"قَدْ أُوْحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُوْنَ فِي الْقُبُوْرِ قَرِيْبًا مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 137 ، باب: عذاب قبر کا ثبوت
روایت ہے حضرت جابررضی اللہ عنہ سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ جب میت قبر میں داخل کی جاتی ہے تو اسے سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتاہے ۱؎تو وہ آنکھیں ملتا ہوا بیٹھتا ہے اور کہتا ہے مجھے چھوڑو میں نماز پڑھ لوں ۲؎(ابن ماجہ)
وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا أُدْخِلَ الْمَيِّتُ الْقَبْرَ مُثِّلَتْ لَهُ الشَّمْسُ عِنْدَ غُرُوْبِهَا فَيَجْلِسُ، يَمْسَحُ عَيْنَيْهِ وَيَقُوْلُ: دَعُوْنِي أُصَلِّيْ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 138 ، باب: عذاب قبر کا ثبوت
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ مردہ قبر میں پہنچتا ہے پھر اپنی قبر میں بٹھایا جاتا ہے نہ گھبرایا ہوا نہ پریشان ۱؎پھر اس سے کہا جاتا ہے تو کس دین میں تھا ؟وہ کہتا ہے اسلام میں تھا۲؎پھر کہا جاتا ہے یہ کون صاحب ہیں؟وہ کہتاہے محمدرسول اللہ ہیں جو ہمارے پاس رب کی طرف سے نشانیاں لائے ہم نے ان کی تصدیق کی۳؎تب کہا جاتا ہے کیا تو نے اللہ کو دیکھا ہے ؟۴؎وہ کہتا ہے کوئی خدا کو نہیں دیکھ سکتا۵؎پھر دوزخ کی طرف کھڑکی کھولی جاتی ہے وہ ادھر دیکھتا ہے کہ بعض بعض کو کچل رہی ہے ۶؎پھر اس سے کہاجاتا ہے کہ ادھر دیکھ جس سے تجھے اللہ نے بچالیا ۷؎پھر جنت کی طرف کھڑکی کھولی جاتی ہے تو وہ اس کی ترو تازگی کی طرف اور جو اس میں ہے دیکھتا ہے ۸؎پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ تیرا ٹھکانہ ہے تو یقین پر تھا اسی پر مرا اوران شاءاللهاسی پر اٹھے گا ۹؎برا آدمی اپنی قبر میں بٹھالا جاتا ہے حیران پریشان ۱۰؎اس سے کہا جاتا ہے تو کس دین میں تھا؟وہ کہتا ہے مجھے نہیں خبر پھرکہا جاتا ہے یہ صاحب کون ہیں؟وہ کہتا ہے میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا وہ میں نے بھی کہا تھا ۱۱؎تب اس کے سامنے جنت کی طرف کھڑکی کھولی جاتی ہے وہ وہاں کی ترو تازگی اور جو کچھ اس میں ہے دیکھتا ہے پھر اس سے کہا جاتا ہے وہ دیکھ جو اللہ نے تجھ سے پھیر دیا پھر دوزخ کی طرف کھڑکی کھولی جاتی ہے دیکھتا ہے کہ بعض بعض کو کچل رہا ہے پھر کہا جاتا ہے یہ ہے تیرا ٹھکانہ ۱۲؎تو شک پر تھا اس پر مرا اسی پران شاء اللهاٹھے گا ۱۳؎(ابن ماجہ)
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ الْمَيِّتَ يَصِيْرُ إِلَى الْقَبْرِ، فَيُجْلَسُ الرَّجُلُ فِي قَبْرِهٖ غَيْرَ فَزَعٍ وَلَا مَشْغُوْبٍ، ثُمَّ يُقَالُ: فِيْمَ كُنْتَ؟ فَيَقُوْلُ: كُنْتُ فِي الْإِسْلَامِ، فَيُقَالُ: مَا هٰذَا الرَّجُلُ؟ فَيَقُوْلُ: مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰهِ، جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ فَصَدَّقْنَاهُ، فَيُقَالُ لَهٗ: هَلْ رَأَيْتَ اللّٰهَ؟ فَيَقُوْلُ: مَا يَنْبَغِيْ لأَحَدٍ أَنْ يَرَى اللَّهَاللهَ، فَيُفَرَّجُ لَهٗ فُرْجَةً قِبَلَ النَّارِ، فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يُحَطِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، فَيُقَالُ لَهٗ: اُنْظُرْ إِلٰى مَا وَقَاكَ اللّٰهُ ثُمَّ يُفَرَّجُ لَہٗ فُرْجَةً قِبَلَ الْجَنَّةِ، فَيَنْظُرُ إِلٰى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيهَا، فَيُقَال لَهٗ: هٰذَا مَقْعَدُكَ، عَلَى الْيَقِيْنِ كُنْتَ، وَعَلَيْهِ مِتَّ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ ، وَيُجْلَسُ الرَّجُلُ السُّوءُ فِيْ قَبْرِهٖ فَزِعًا مَشْغُوْبًا، فَيُقَالُ لَهٗ: فِيْمَ كُنْتَ؟ فَيَقُوْلُ: لَا أَدْرِيْ، فَيُقَالُ لَهٗ: مَا هٰذَا الرَّجُلُ؟ فَيَقُوْلُ: سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُوْلُوْنَ قَوْلًا فَقُلْتُهٗ، فَيُفَرَّجُ لَهٗ فُرْجَةً قِبَلَ الْجَنَّةِ، فَيَنْظُرُ إِلٰى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيْهَا، فَيُقَالُ لَهٗ: اُنْظُرْ إِلٰى مَا صَرَفَ اللّٰهُ عَنْكَ، ثُمَّ يُفَرَّجُ لَهٗ فُرْجَةً إِلَى النَّارِ، فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يُحَطِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، فَيُقَالُ لَهٗ: هٰذَا مَقْعَدُكَ، عَلَى الشَّكِّ كُنْتَ، وَعَلَيْهِ مِتَّ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰى". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 139 ، باب: عذاب قبر کا ثبوت