sayyiduna siddiq e akbar
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے

خلافت راشدہ کے پہلے خلیفہ  راشد

امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ عَنْہ

طلوع اسلام  کے بعد رحمت دو عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جب تبلیغ دین کا آغاز کیا اقربا و اعزہ کو دین کی دعوت دی ، روسائے مکہ کو باطل کے اندھیروں میں حق کی روشنی کی راہ دکھائی توسب سے پہلے دعوت رسول پر عظمت توحید کا علم بلند کرنے والی ذات،باطل کے کفرستان میں حق کی آواز اٹھانے والی ہستی ،حق کے پرچار میں صدیقت کے اعلی منصب پر فائز ہوکر صدیق اکبر کے لقب سے ملقب ہونے والی شخصیت ،تنقیص شان رسالت  کے پرآشوب ماحول میں عشق رسول کی قندیل روشن کرنے والےعاشق اکبر  ،ہر آزمائش ومصائب کا تن تنہامقابلہ کرنے والے مرد آہن کا مبارک   نام خلیفۃ المسلمین،  امیر المؤمنین خلیفہ راشد  حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  ہے ۔

سرزمین مکہ کے گوہرآبدار، نگاہ رسالت کے حسین شاہکار ،عظمت رسول کی علمبردار،  محبت رسول کے حقیقی پیامبر،پیکر اخلاص ووفا، حق وصداقت کے عظمت نشان، خلیل مصطفی، حبیب مجتبی، رفیق   سید الانبیاء حضرت سیدنا  صدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  کی حیات وخدمات فضائل ومناقب،محاسن وحسنات  بیان کرنےکےلئے دفتر کے دفتر درکا ر ہیں لیکن آپ کی عظمت وشان کے بیان میں  لب ہائے مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے نکلے ہوئے الفاظ ہی آپ کی رفعتِ شان ، عظمتِ پہچان ، بلندی مقام کے لئے کافی ہے۔آیئےسیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  کی اشاعت اسلام کےلئے لازوال قربانیوں کے حسین تذکرے کو الفاظ رسالت کے پیرہن میں دیکھتے ہیں چنانچہ نبی رحمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے مرید صادق  کے بارے میں ارشاد فرمایا:

’’مَا لِأَحَدٍ عِنْدَنَا يَدٌ إِلَّا وَقَدْ كَافَيْنَاهُ مَا خَلَا أَبَابَكْرٍ فَإِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا يَدًا يُكَافِيهِ اللّٰهُ بِهَا يَومَ الْقِيَامَةِ‘‘

ہم پر کسی کا احسان نہیں مگر ہم نے اس کا بدلہ کردیا سوا ابوبکر (رضی اللہ عنہ )کے کہ ہم پر ان کا احسان ہے کہ اللہ انہیں اس کا بدلہ قیامت کے دن دے گا۔(مرآۃ المنا جیح شرح مشکوۃ المصابیح، جلد 8، حدیث:6026)

انفاق فی سبیل اللہ میں اگر کسی کو سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہ عَنْہ کے اخلاص کی گواہی درکار ہو تو  قرآن کے صفحات  شہادتیں دیں گے کہ امت محمدیہ علی صاحبھا الصلوۃ و السلام میں  اللہ کی رضا کے حقیقی طلبگار کا نام ابو بکر رَضِیَ اللہ عَنْہ  ہے ۔سنیئے اللہ کے کلام کو سورۃاللیل آیت نمبر 19 تا 21  میں  خالق ارض و سماء اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حبیب کے بارے میں کیا ارشاد فرمایاہے:

وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤىۙ(۱۹)اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰىۚ(۲۰)وَ لَسَوْفَ یَرْضٰى (اللیل: ۱۹تا ۲۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کسی کا اس پر کچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے ، صرف اپنے رب کی رضا چاہتا جو سب سے بلند ہےاور بے شک قریب ہے کہ وہ راضی ہو گا۔

غزوہ تبوک کی تیاری کامنظر تاریخ کے جھرنکوں میں جھانک کر دیکھیں تو  مقام صدیق اکبر  فناء فی اللہ اور فناء فی رسول اللہ  کے اعلی مقام پر نظر آتا ہے ۔آپ کو وہ شان و منصب عطا ہوا کہ سب صحابہ پیکر اخلاص ومحبت کا اندازہ دلبرانہ دیکھ کر ورطہ حیرت میں پڑھ گئے ، عالم ملکوت کے قدسیوں نے صدیق اکبر کی ادا ئے مستانہ دیکھ  کر تقلید صدیق میں ببول کا لبادہ زیب تن کرلیا ۔رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اپنے یار غار کو دیکھ کرمسکرائے پوچھا کچھ گھر کےلئے بھی چھوڑا ہے ،دل گرفتہ دھیمے دھیمے پروقار اور پراعتماد لہجے میں عرض کی  :’’ بس اللہ اور اس کا رسول ہی کافی ہے‘‘ یہ الفاظ تاریخ نے اپنے اندر سمولئے اور اب قیامت تک ان الفاظ  کی خوشبو سے یقین وتوکل معطر ہوتے رہیں گے۔

پروانے کو چراغ ہے تو بلبل کو پھول بس

صدیق کے لئے ہے خدا کا رسول بس

اور اس موقع پر وہ تاریخی جملے جوسیدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہ عَنْہ  کی زبان حق ترجمان سے نکلے وہ پڑھئے اور مقام صدیق اکبر کی رفعتوں کی اندازہ کیجئے:’’ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ:’’ میں نے کہا میں حضرت ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ عَنْہ  سے کبھی نہیں بڑھ سکتا۔ ‘‘

(شرح العلامۃ الزرقانی،باب غزوۃ تبوک،ج۴،ص۶۹،صحابہ کرام کا عشق رسول،ص 85)

رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مصاحبت اور سنگت میں جس ہستی کو قرب کی لذتیں ملیں ،جن کو بارگاہ رسالت سے خلت فاخرہ کہ نوید سنائی گئی، جسے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ام ت میں افضل البشرہونے  کا خطاب ملا، جس کو رب دوجہاں نے صدیقت کے منصب پر فائز کیا،جن کی دینی حمیت وغیرت اور عظمت رسول کی پہرہ داری کو سورہ مجادلہ کی آیت نمبر 22   لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَه  ترجمۂ کنزالایمان:’’تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی‘‘ میں ذکر کیاگیا، جنہیں یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىٕنَّةُۗۖ(۲۷) ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةً (الفجر: ۲۷ تا۲۸) ترجمۂ کنز الایمان: ’’اے اطمینان والی جان ،اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی‘‘ کے خطاب دلنواز میں شامل کیاگیا ،جن کو ہجرت کی رات سنگت رسول کی بدولت  ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ (التوبۃ:۴۰)ترجمۂ کنزالایمان:’’ صرف دو جان سے جب وہ دونوں غار میں تھے‘‘  دوسرا ہونے کا شرف ملااور جن کوسفر وحضر ،دنیا وآخرت میں قرب نبی کی لازوال دولت ملی وہ حضور علیہ الصلاۃ والتسلیم کے پیارے صحابی سیدناصدیق اکبر رَضِیَ اللہ عَنْہ   ہیں ۔جن کی فضیلت اور مقام کےبارے میں احادیث کی کتب بھری پڑی ہیں ۔فضائل ومناقب صحابہ میں اگرکسی کو سب سے زیادہ اتقیا واصفیا ہونے کا شرف ملا تو حضرت سیدنا صدیق اکبر  خلیفہ اول کی ذات والا ہے۔حضرت سیدناصدیق اکبر کے کمالات اورفضائل کے پیش نظر حضرت عبداللہ بن عمر رضى الله عنهمانے فرمایا: كُنَّا فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَعْدِلُ بِأَبِي بَكْرٍ أَحَدًا (مرآۃ المنا جیح شرح مشکوۃ المصابیح، جلد 8، حدیث:6025) یعنی ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ابوبکر کے برابر کسی کو نہ سمجھتے تھے۔

اہل بیت کے عظیم سپوت جری وبہادر  ابن علی حضرت محمدبن حنفیہ رَضِیَ اللہ عَنْہ  نے اپنے والد ماجد شیر خدا فاتح خیبر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی خدمت میں عرض کی :’’ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‘‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں کون بہتر ہے ،’’ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ ‘‘ فرمایا ابوبکر۔

(مرآۃ المنا جیح شرح مشکوۃ المصابیح، جلد 8، حدیث:6024)

آیئے خیر الناس بعد الانبیاء کے ذکر خیر سے دل وجان کی تسکین کا سامان کرتے ہیں ،برکتوں کے حصول کےلئے جامع القرآن کی حیات جمیلہ کے اوصاف حمیدہ کا تذکرہ کرتے ہیں، دین کے ستون کو قائم کرنے کےلئے مانعین زکوۃ کے سامنے سینہ سپر ہونے والے خلیفۃ المسلمین حضرت سیدنا ابوبکر  رضی اللہ عنہ کی حیات جاوداں کو پڑھتے ہیں۔

امیر المؤمنین خلیفہ اول  سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ایمان کا واقعہ

قبل از اسلام عرب معاشرےکی بگڑی صورت حال میں جن خوش نصیب اصحاب رسول  کو معاشرتی برائیوں سے دور رہنے کا شرف ملا ان میں پہلا نام سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا آتا ہے۔

آپ  کی زندگی کے پاکیزہ ایام کو کبھی سماجی بے راہ وری نے گدلا نہیں کیا،ہر برے رسم ورواج سےالگ ،صدق وسچائی سے جڑے ہوئے ،معاملہ فہم ، معاصرانہ چشمک سے دور،بھائی چارگری سے متصف، ایک ایماندار تاجر کی حیثیت سے اپنی ذات کو لوگوں میں متعار ف کروایا۔خاندانی وجاہت کے ساتھ ا علی عقل وشعور کے مالک ،یاوہ گوئی دریغ گوئی سے دور کا بھی واسطہ نہیں،ہمیشہ لوگوں میں عزت کا مقام پایا۔دل میں سچائی کی لگن ، ذہانت وفطانت ایسی کہ لوگوں کے خاندان کے شجرے زبانی ازبر تھے۔ہر قسم کی اچھائی سےمتصف دل کے ساتھ جب یمن کی طرف کسی کام کے سلسلہ میں رخت سفر باندھا اوردوران سفر کسی راہب نے پیکر صدق ووفا میں علامات خیر دیکھی کچھ سوالات پوچھے  صحیح جواب پاکر  آپ کو اس بوڑھے عالم نے کہا:میں تمہیں حرم میں ایک نبی کےمبعوث ہونے خبر دیتا ہوں اوراس نبی کے مقربین میں ہونے کی وہ تمام علامات جن کو میں پہچانتا ہوں تم ہے بس تم ہدایت کی راہ کو مت چھوڑنا جو نعمت خداوندی تم کو ارزاں ہوئی ہے اس کو کھونا مت ۔بس اس واقعہ نے حضرت سیدنا صدیق اکبر کے دل میں ایمان کے بیج بودیئے۔ کشاں کشاں مکہ کی جانب لوٹے راستے میں روسائے مکہ سےخبر ملی کہ ابو طالب کے بھتیجے نے  نبی ہونے کا دعوی کیا ہے۔دل میں حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   سے ملنے کے ارمان  نے پہلے ہی بے چین کردیا تھا تلاش حضور شروع کردی۔ معلوم ہواکہ آمنہ کا لا ل حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تشریف فرما ہے دوڑے دوڑے آستان محبوب پر پہنچے دستک دی دروازہ کھولا سامنے چہرہ والضحی کو دیکھا بس اتنا استفسار کرنےکی جرأت ہوئی میرے دوست آپ نے اپنے آباء واجداد کا دین کیوں ترک کیا ؟حضورنے فرمایا: ’’میں تمہاری اور تمام لوگوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں، تم بھی اللہ پر ایمان لے آؤ۔ دل پہلے ہی حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سچائی کا قائل تھا، امانت داری پر کامل بھروسہ تھا،صرف اطمینان قلب کےلئے پوچھا دعوی بہت بڑاہے کچھ دل کی تسلی کےلئے ارشاد فرمادیجئے؟حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے یمن کےراستے  میں ملنے والے بوڑھے عالم کا واقعہ جیسے ہی سنایا وہیں ابوبکر نے گواہی دی:’’میں گواہی دیتا ہوں کہ بلاشبہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور بے شک آپ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سچے رسول ہیں۔ ‘‘ اور صدیق کے منصب پر فائز ہوئے اور آزاد مَردوں میں پہلے صحابی رسول بننے کا شرف پایا پھر زندگی بھر رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حمایت اور سنگت میں دن گزارے اور آخرت کےطویل سفر میں بھی قر ب نبی کا شرف ملا ۔

زندگی کا نیا سفر اور رحمت الہی کی برکتیں

دولت ایمان سے مشرف ہونے کے بعد ابو قحافہ عثمان بن عامر کے بیٹے عبد الکعبہ  کی زندگی کا نیا سفر  نئے نام نئی کنیت ابوبکر عبداللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تيم بن مُرّۃ بن کعب کے نام سے شروع ہوتاہے۔ گوری رنگت ،دبلے پتلے جسم،رستے رخسار، گول آنکھیں ابھری ابھری پیشانی کے حسین خدو خال والے ابوقحافہ کا نورنظر  ،روسائے مکہ کا ایک رئیس ،خاندانی وجاہت وعزت کی محدود دیواروں سے نکل کر رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحبت کی برکت سے قیامت تک آنے والےمسلمانوں کا امیر المؤمنین ، خلیفۃ المسلمین اور تمام عاشقان رسول  کاعاشق اکبر حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ تعالی عنہ بن جاتا ہے۔

عتیق وصدیق دو خاص القابات

 حمایت مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں چاروں پہر رہنے والے سیدنا صدیق اکبر کو بارگاہ رسالت سے جو القابات ملےان میں سے ایک لقب عتیق ہے ۔ ام المو منین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے فرماتی ہیں:  میں ایک دن اپنے گھر میں تھی، رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اورصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان صحن میں تشریف فرماتھے، میرے اور ان کے مابین چارپائی رکھی تھی، اچانک میرے والد گرامی امیرالمومنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ تشریف لےآئے توحضور نبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کی طرف دیکھ کراپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا: ’’مَنْ أرَادَ أنْ يَنْظُرَ إلٰى عَتيقٍ مِنَ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ إِلٰی أبي بَكْر یعنی جسے دوزخ سےآزاد شخص کو دیکھنا ہووہ ابوبکر کودیکھ لے۔‘‘اس کے بعدسے آپ عتیق مشہور ہوگئے۔ (المعجم الاوسط،من اسمہ الھیثم، الحدیث: ۹۳۸۴، ج۶،ص۴۵۶، معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم، معرفۃ نسبۃ الصدیق۔۔۔الخ، الرقم:۵۹، ج۱،ص۴۸،فیضان صدیق اکبر، ص ۲۲)

عتیق لقب عالم گیتی میں کبھی کسی اور کےلئے استعمال نہیں ہوا یہ فقط صدیق اکبر کاخاصہ تھا جو صرف انہیں سید الانیباء صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کی بارگاہ سے ملا ۔حضرت عبد اللہ بن زبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ امیرالمومنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا نام’’عبداللہ ‘‘تھا،نبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں فرمایا: ’’اَنْتَ عَتِیْقٌ مِّنَ النَّارِتم جہنم سے آزاد ہو۔‘‘ تب سے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا نام عتیق ہوگیا۔ (صحیح ابن حبان ، کتاب اخبارہ عن مناقب الصحابۃ، ج۹، ص۶، فیضان صدیق اکبر ،ص ۲۱)

لقب صدیق  :

ابو قحافہ عثمان رَضِیَ اللہ عَنْہ کی آنکھوں کے تارے اور والدہ ماجدہ اُمُّ الخیر سلمیٰ بنت صخر بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تيم بن مرۃ بن کعب کے دلارے  سیدنا ابوبکر عبد اللہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک لقب رب العالمین اللہ جل مجدہ کی طرف  سےعنایت کیاگیا اور یہ وہ لقب ہے جس نے ابوبکر کو صدیقت کے اعلی منصب پر فائز کردیا اور اب قیامت تک تمام انبیاء و رسل کے بعد منصب صدیق پر صدیق اکبر کی شوکت واقبال کے پھریرے  اڑتے رہیں گے ۔

المستدرک علی الصحیحین کی ایک روایت حضرت سیدنا نزال بن سبرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہےکہ آپ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ امیر المومنین حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے ساتھ کھڑے تھے اور آپ خوش طبعی فرمارہے تھے ، ہم نے ان سے عرض کیا:’’ اپنے دوستوں کے بارے میں کچھ ارشادفرمائیے؟‘‘فرمایا:’’رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تمام اصحاب میرے دوست ہیں۔‘‘ہم نے عرض کی:’’حضرت سیدناابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں بتائیے؟‘‘ فرمایا: ذَاكَ اِمْرُءٌ سَمَّاهُ اللہُ صِدِّيْقاً عَلٰى لِسَانِ جِبْرِيْل وَمُحَمَّدٍ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِمَا یعنی ان کے تو کیاکہنے !یہ تووہ شخصیت ہیں جن کانام اللہ تعالٰی نے جبریل امین اور پیارے آقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زبان سے صِدِّیْق رکھا ہے۔‘‘

(المستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفۃ الصحابۃ، باب الاحادیث المشعرۃ بتسمیۃ ابی بکر صدیقا، الحدیث: ۴۴۶۲، ج۴،ص،۴، فیضان صدیق اکبر، ص ۲۶)

حضرت سیدتنا نبعہ حبشیہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا  فرماتی ہیں:میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا:’’يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ اللہ قَدْ سَمَّاكَ الصِّدِّيْق‘‘ یعنی اے ابوبکر! بے شک اللہ رب العزت نے تمہارا نام ’’صدیق‘‘ رکھا۔‘‘  (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، حرف النون،ج۸،ص۳۳۲ ، فیضان صدیق اکبر ،ص۲۵)

30 سے زائد آیات کا شان نزول

قرآن پاک کی  30 سے زائد آیات بینات   کا شان نزول مصدق الاسلام،  خطیب الاسلام ،معین الاسلام ،امام الصحابہ ،امیر الحج ، امام المسلمین ، خلیفۃ المسلمین ، جامع القرآن حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہ عَنْہ  کے بارے میں ہے جو  اس بات کا شاہد ہے کہ سیدنا ابوبکر رَضِیَ اللہ عَنْہ کا مقام ومرتبہ  ہر لحاظ سے صحابہ کے درمیان اونچا اور اعلی ہے۔

خلیفہ دوم ،امیر المؤمنین سیدنا فاروق اعظم کا سپاس عقیدت

سیدنا فاروق اعظیم رَضِیَ اللہ عَنْہ شان صدیق اکبر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ أَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا وَخَيْرُنَا وَأَحَبُّنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‘‘

حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہمارے سردار ہیں ،ہم میں سب سےبہتر اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نزدیک ہم میں سب سے زیادہ محبوب ہیں۔‘‘

(سنن الترمذی،کتاب المناقب ، مناقب ابی بکر الصدیق ،الحدیث: ۳۶۷۶، ج۵، ص۳۷۲،فیضان صدیق اکبر،ص ۵۰۳)

شاعر دربار رسالت  حضرت حسان بن ثابت رَضِیَ اللہُ عَنْہ شان ابوبکر کو خوبصورت اشعار میں ڈھال کر رطب اللسان ہوئے:

إِذَا تَذَكَّرْتَ شَجْوًا مِنْ أَخِى ثِقَةٍ  فَاذْكُرْ أَخَاكَ أَبَا بَكْرٍ بِمَا فَعَلاَ

خَيْرُ الْبَرِّيَّةِ اَتْقَاھَا وَاَعْدَلَھَا   بَعْدَ النَّبِیِّ وَ اَوْفَاھَا بِمَا حَمَلَا

ترجمہ:’’جب تجھے سچے دوست کا غم یاد آئے، تواپنے بھائی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے کارناموں کو یاد کر جو نبیٔ کریم رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد ساری مخلوق سے بہتر، سب سے زیادہ تقوی اور عدل والے، اور سب سے زیادہ عہد کو پورا کرنے والےہیں۔‘‘

 (المستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفۃ الصحابۃ، استنشادہ فی مدح الصدیق، الحدیث: ۴۴۷۰، ج۴، ص۷،فیضان صدیق اکبر،ص ۵۰۷)

آسمان صحابہ کا درخشندہ تارہ ،’’ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ ‘‘ کا پہلا ساتھی ، یار غار ، یار قبر، یار جنت ،رسول اللہ کے اقوال وارشادات کا پاسدار،  عترت رسول کی والہانہ محبتوں کا امین ،سب سے ذہین وفطین ، حسب ونسب کا حسین ، پیکرصدق ووفا ، منبع عشق مصطفی ،محسن خیر الوری ، امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خوبصورت اور قابل رشک زندگی کے تعارف پر ایک کتاب کی طرف رہنمائی کرکے الفاظ سمیٹنا پسند کروں گا تاکہ مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’فیضان صدیق اکبر ‘‘کی خوبصورت ابواب بندی سے سیدنا صدیق اکبر کے فضائل و مناقب  مستند حوالے کی روشنی میں پڑھ کر سرخیل صحابہ کی حیات مبارکہ سے ایمان کی تازگی کا سامان کرسکیں۔

’’فیضان صدیق اکبر‘‘ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق   رضی اللہ عنہ کی سیرت وکردار، محاسن وکمالات، حیات وخدمات ،مقام ومراتب پر لکھی گئی وہ مستند کتاب ہے جس میں  12 ابواب پر سیرت صدیق کے مختلف گوشوں کو روایتوں کے حسین امتزاج سے مزین کرکے بیان کیا گیاہے۔ یہ کتاب دعوت اسلامی کے ریسرچ اسکالرز کی وہ کاوش ہےجس میں تعارف صدیق اکبر،،اوصافِ صدیق اکبر،ہجرت ِصدیق اکبر،غزواتِ صدیق اکبر،خلافتِ صدیق اکبر،وصالِ صدیق اکبر،تفسیر واحادیث،خصوصیاتِ صدیق اکبر،اَوّلیات صدیق اکبر،افضیلتِ صدیق اکبر،کراماتِ صدیق اکبر،اَحادیث فضائل   میں قدیم کتابوں کے عمیق مطالعہ کو خوبصورت سہل اور آسان اسلوب تحریرکے ساتھ دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ نے شائع کیا۔

فیضان صدیق اکبر  کتاب کی سب سے بڑی خوبصورتی  یہ ہےکہ اس میں سیرت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مکمل بائیوگرافی  کا انسائیکلوپیڈیا موجود ہے۔

اعلیٰ حضرت رَحْمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ روزِ اَلَسْتُ (یعنی میثاق کے دِن )سے روزِ ولادت اور روزِ وِلادت سے روزِ وفات اور روزِوفات سے اَبَدُ الآباد (یعنی ہمیشہ ہمیشہ)تک سردارِ مسلمین ہیں۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ، ص62)

سردار مسلمین کی مزید شانیں جاننے اور پڑھنے کےلئے مکتبۃ المدینہ کا شائع کردہ 17 صفحات پر مشتمل رسالہ ’’ شان صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ‘‘ کا مطالعہ بھی مفید ہوگا ۔ اس رسالہ کے مطالعہ سے شان صدیق اکبر میں وارد مستند روایتیں آ پ کی عقیدت و محبت  میں مزید اضافے کا باعث بنیں گیں۔

عشق و محبت رسول کی جب باتیں ہوں گی تو سب سے پہلے بوبکر رضی اللہ عنہ  کا نام آئے گا۔آپ عشق مصطفی  میں ڈوبے ہوئے وہ عاشق اکبر رضی اللہ عنہ  ہیں جن کے قلب حزیں پر مفارقت رسول کاایسا اثرہو ا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جدائی کا صدمہ دیر تک برداشت کر ناسکے اور صرف 2 سال اور کچھ ماہ کےبعد ہی داعی اجل کو لبیک کہہ کر اپنے محبو ب  سے جاملے۔

رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے صدیق اکبر  کی الفت ومحبت  اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے والہانہ عقیدت محبت  کا اظہار اگر کسی کتاب  کی شکل میں دیکھنے کی تڑپ ہو تو پیکر اخلاص ، پیکر اطاعت رسول، پیکر سنت رسول امیر اہلسنت مولانا محمد الیاس عطار قادری کا تحریرکردہ رسالہ ’’عاشق اکبر ‘‘ کو پڑھئے۔ اس رسالہ میں سیدنا صدیق اکبر کے عشق کی باتیں بہت ہی نرالے انداز تحریرکے ساتھ نظر آئیں گیں۔سیرت ابو بکر صدیق کی جامعیت کو اگر چند صفحات میں پڑھنا ہوا تو’’ عاشق اکبر رسالہ ‘‘آپ کے ذوق مطالعہ کی تسکین کا سامان ضرور کرے گا۔دعوت اسلامی کی گلوبل ویب سائٹwww.dawateislami.net/bookslibrary

پر کلک کریں آپ کے سامنے اسلامی کتابوں کا ذخیرہ ظاہر ہوگا اس خزانہ کے جس موتی کو اٹھائیں گے اس میں صدیق اکبر کی باتوں کے تذکرے نظر آئیں گے۔ دعوت اسلامی ہر سال 22 جمادی الآخر کو عاشق کااکبر رضی اللہ عنہ    کے عرس کو آپ کی تعلیمات ، آپ کی خدمات،دین اسلام کی ترویج و اشاعت میں آپ کا جذبہ انفاق کو بڑے شان وشوکت کےساتھ بیان کرکے مناتی ہے۔دعوت اسلامی کا مشن بھی راہ صدیقت پر چل کر امت کی دینی وفلاحی اصلاح کرنا ہے اور اس کےلئے دعوت اسلامی عملی میدانوں میں عشق صدیق اکبر  کی شمع فروزاں کرنے کےلئے دن رات   کام کررہی ہے ، سنت رسول کی اشاعت میں طریقہ صدیق کو اپنا کر ہر باطل فرقوں سے منہ موڑ کر فقط محبت رسول کی سوغات بانٹ رہی ہے۔

مَنقَبت سیِّدُنا صدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ

یقینا  مَنبعِ  خوفِ  خدا  صِدّیقِ   اکبر  ہیں

حقیقی عاشقِ خیرُالوریٰ صدّیقِ اکبر ہیں

 

بِلا شک  پیکرِ  صبر و   رِضا صدّیقِ  اکبر ہیں                                             

یقینا مخزنِ صِدق و وفا صدّیقِ اکبر ہیں

 

نہایت مُتقی و  پارسا   صِدّیقِ   اکبر   ہیں

 

تقی ہیں بلکہ شاہِ اَتقیا صِدّیقِ اکبر ہیں

 

جو یارِ   غار  محبوبِ  خدا  صدّیقِ  اکبر ہیں

وُہی یارِ مزارِ مصطفٰے صدّیقِ اکبر ہیں

 

طبیبِ  ہر مریضِ  لادوا  صدّیقِ  اکبر  ہیں

غریبوں بے کسوں کا آسرا صدّیقِ اکبر ہیں

 

امیرالمؤمنیں ہیں   آپ امامُ المسلمیں ہیں آپ     

نبی نے جنّتی جن کو کہا صدّیقِ اکبر ہیں

 

سبھی  اَصحاب سے بڑھ کر مقرَّب ذات ہے انکی                                               

رفیقِ سرورِ اَرض و سما صدیقِ اکبر ہیں

 

عمر سے بھی وہ افضل ہیں وہ عثماں سے بھی اعلیٰ ہیں

یقینا پیشوائے مُرتَضٰی صدّیقِ اکبر ہیں

 

امامِ  احمد و  مالِک،  ا مامِ  بُو حنیفہ  اور

امامِ شافِعی کے پیشوا صدّیقِ اکبر ہیں

 

تمام  اولیاء اللہ       کے   سردار  ہیں جو ا ُس

ہمارے غوث کے بھی پیشوا صدّیقِ اکبر ہیں

 

سبھی عُلَمائے اُمّت کے، امام و پیشوا ہیں آپ

لاشک پیشوائے اَصفیا صدّیق اکبر ہیں

 

خدا ئے پاک کی رحمت سے انسانوں میں ہر اک سے

فُزوں تر بعد از کُل انبیا صدّیقِ اکبر ہیں

 

ہلاکت خیز طُغیانی ہو یا ہوں موجیں طوفانی

کیوں ڈوبے اپنا بیڑا ناخدا صِدّیقِ اکبر ہیں

 

بھٹک سکتے نہیں ہم اپنی منزل ٹھوکروں میں ہے

نبی کا ہے کرم اور رہنما صدّیقِ اکبر ہیں

 

گناہوں کے مرض نے نیم جاں ہے کر دیا مجھ کو

طبیب اب بس مرے تو آپ یاصدّیقِ اکبر ہیں

 

نہ گھبراؤ گنہگار و تمہارے حشر میں حامی

محبِّ  شافِعِ  روزِ  جزا  صِدّیقِ   اکبر  ہیں

 

نہ ڈر عطّارؔ آفت سے خدا کی خاص رحمت سے

نبی  والی ترے، مُشکلکُشا  صدّیقِ  اکبر  ہیں

  صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی افضلیت کا قرآن سے ثبوت

صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی افضلیت کا قرآن سے ثبوت

  حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سیرت کے خوبصورت پہلو

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سیرت کے خوبصورت پہلو