Book Name:Akhbar kay baray main Sawal Jawab

بارے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ پارہ22سُوْرَۃُ الْاَحْزَابآیت 57 میں ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا (۵۷)

ترجَمۂ کنزالایمان: بیشک جو ایذا دیتے ہیں اللہ ( عَزَّوَجَلَّ) اور اس کے رسول کو ان پر اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ (عَزَّوَجَلَّ) نے ان کے کئے ذلّت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔  وَاللہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔

گناہ بے عدد اور جُرم بھی ہیں لاتعداد

کرعَفو سہ نہ سکوں گا کوئی سزا یاربّ

 (وسائلِ بخشش ص۹۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

دہشت گردی کی وارِدات کی خبر چھاپنے کے نقصانات

سُوال: دَہشت گردی کی وارِداتوں کی خَبریں چھاپنے کے مُتَعلِّق آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب : اگر میری ذاتی رائے معلوم کرنا مقصود ہے تو عَرْض ہے کہ دہشت گردی کی وارِداتوں کی خبریں چھاپنے میں کوئی بھلائی نہیں ، اُلٹا مُتَعَدَّد نقصانات ہیں مَثَلاً اِس سے خواہ مخواہ خوف و ہِراس پھیلتا ہے، نیز جذباتی اور مُجرِمانہ ذِہنیَّت کے کئی نادان انسان مار دھاڑ پر اُتر آتے ،خوب اَسْلَحَہ چلاتے،گولیاں برساتے، مکانوں ا ور دُکانوں ، بسوں اور کاروں وغیرہ کی توڑ پھوڑ مچاتے، گاڑیاں جلاتے، لوٹ مار مچاتے اور اپنے وطنِ عزیز کی اِملاک نَذْرِ آتَش کرکے درحقیقت اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑے چلاتے ہیں اوریوں دَہشت گردوں کی مَیلی مُرادیں بر آتی ہیں کہ اکثر دہشت گردی کے ذَرِیعے ان کا مقصد ہی بداَمْنی پھیلانا ہوتا ہے اورستم ظریفی یہ ہے کہ بعض ذرائِعِ اِبلاغ خوب مِرْچ مسالے لگا کر تخریب کاریوں کی خبریں چمکا کر اِس مُعامَلے میں دہشت گردوں کے خواہی نخواہی مُعاوِن ثابِت ہوتے بلکہ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر گویا مددگار بنتے ہیں اورقرائِن سے ایسا لگتا ہے کہ دو چارعام افراد کی ہَلاکتوں پرمَبنی خبر ان کے نزدیک خاص قابلِ توجُّہ ہی نہیں ہوتی!  کوئی اہم لیڈر مارا جائے ،ڈھیروں لاشیں گریں ، غیر معمولی نقصان ہو، خوب ہنگامے ہوں ،جگہ بہ جگہ گاڑیاں جلائی جا رہی ہوں ،شہر بند پڑاہوجبھیخوب سنسنی خیز سُرخیاں  (Headings)  لگتیں اور ٹھیک ٹھاک اَخبار بکتے ہیں ۔

وَاللہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔

یاد رکھو!  وُہی بے عَقل ہے اَحمق ہے جو

کثرتِ مال کی چاہت میں مَرا جاتا ہے

 (وسائلِ بخشش ص۱۲۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

دہشت گردی کی خبر اخبار کی جان ہوتی ہے

سُوال: دہشت گردی کی خبر تو اخبار کی جان ہوتی ہے،آج کل اخبار بِکتا ہی اس طرح کی خبروں سے ہے۔ کیادہشت گردی کی خبر دینا جائز ہی نہیں ؟

جواب : میں نے جواز و عَدَمِ جواز (یعنی جائز اورناجائز ہونے ) کی بات نہیں کی،اپنی ذاتی رائے کے مطابِق اِس طرح کی خبروں کے اُن مَنفی اثرات  (Side Effects)  کی جانب توجُّہ دلانے کی سعی کی ہے، جن کا عام مُشاہَدَہ ہے،اور ہر ذِی شُعُور مسلمان اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھ سے اتِّفاق کریگا۔ میرے



Total Pages: 24

Go To