Book Name:Akhbar kay baray main Sawal Jawab

(وسائلِ بخشش ص۹۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مُلزَم کا نام چھاپنا کیسا؟

سُوال: جو مُلزَم پکڑے جاتے ہیں اُن کے نام مَع پہچان اخبار میں چھاپے جا سکتے ہیں یا نہیں ؟

جواب: یہاں غیبت کے جوازکی عُمومی شرائط کے ساتھ دو باتیں اورہیں ،اَوَّلاً یہ کہ محض الزام نہ ہو بلکہ ثُبُوت ِشَرْعی ہو یعنی اس کا مجرِم ہونا قانوناً ثابِت ہوچکا ہو، دوسرا یہ کہ جُرم ایسا ہو کہ اس کی تَشْہِیر سے عوامُ النّاس کو فائدہ ہو ،یعنی جیسے بعض اوقات محض ذاتی مُعامَلات ہوتے ہیں اور ان پر گرفتاری ہوجاتی ہے ، اِن مُعامَلات کا عوام کے ساتھ کوئی تعلُّق نہیں ہوتا تو ان کی تشہیر کی ہرگز اجازت نہیں ۔ مذکورہ بالا تفصیل سے واضِح ہوگیا کہ بعض صورتوں میں اخبار میں نام مع پہچان دینے کی اجازت ہے اور بعض میں نہیں کیونکہ اس سے ان کو اور ان کے خاندان والوں کو سخت اَذِیَّت ہو گی۔ کسی کی گرفتاری اگرظُلماً محض خانہ پُری یا کسی انتِقامی کاروائی کے ضِمْن میں کی گئی ہو تب تو گرفتاری بھی سخت گناہ و حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔اور گرفتاری کاحُکم جاری کرنے والا،گرفتار کرنے والا وغیرہ جو بھی اُس مظلوم کی گرفتاری میں جان بوجھ کر شریک ہوئے سبھی گنہگار اور عذابِ نار کے حقدار ہیں ۔ نیز  ضابِطۂ تعزیراتِ پاکستان کی دَفْعات 499 سے502کے تَحْت  ’’ یہ لوگ خود قابلِ گرفتاری مجرِم ‘‘  ٹھہرتے ہیں ۔

مسلمان کی بے عزَّتی کبیرہ گناہ ہے

         دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبعہ 504 صَفْحات پر مشتمل کتاب ،  ’’ غیبت کی تباہ کاریاں  ‘‘  صَفْحَہ58تا59کا ایک لرزہ خیز اِقتِباس مُلاحَظہ ہو جو کہ خوفِ خدا رکھنے والوں کیلئے نہایت ہی عبرت انگیز ہے چُنانچِہ رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لالصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ عالیشان ہے: بے شک کسی مسلمان کی ناحق بے عزَّتی کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ ( ابوداوٗد  ج۴ ص۳۵۳حدیث۴۸۷۷)

خدا و مصطَفٰے کو ایذا دینے والا

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  حقیقت یہ ہے کہ ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی عزّت کامُحافِظ ہے مگر افسوس!  ایسا نازُک دَور آ گیا ہے کہ اب اکثر مسلمان ہی دوسرے مسلمان بھائی کی عزّت کے پیچھے پڑا ہوا ہے جی بھر کر غیبتیں کررہا ہے اور چُغلیاں کھا رہا ہے ، بِلا تکلُّف تہمتیں لگا رہا ہے ، بِلا وجہ دل دُکھا رہا ہے، دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کے مطبوعہ رسالے،  ’’  ظلم کا انجام ‘‘  صَفْحَہ19تا20پر ہے: حُقُوقُ الْعِباد کامُعامَلہ بڑا نازُک ہے مگر آہ!  آج کل بے باکی کا دَور دَورہ ہے، عوام توکُجا خواص کہلانے والے بھی عُمُوماً اِس کی طرف سے غافِل رہتے ہیں ۔غصّے کا مَرَض عام ہے اِس کی وجہ سے اکثر ’’  خواص ‘‘  بھی (بلا اجازتِ شَرْعی)  لوگوں  (کوایک دم جھاڑ دیتے اور ان)   کی دل آزاری کر بیٹھتے ہیں او ر اِس کی طرف ان کی بالکل توجُّہ نہیں ہوتی کہ کسی مسلمان کی بِلاوجہِ شَرعی دل آزاری گناہ وحرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفتاوٰی رضویہ شریف جلد 24 صَفْحَہ 342 پر طَبَرانِی شریف کے حوالے سے نَقْل کرتے ہیں : سلطانِ دو جہانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ عبرت نشان ہے: مَنْ  اٰذٰی مُسْلِمًا فَقَدْ  اٰذَانِیْ  وَمَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اٰذَی اللہ۔ (یعنی)  جس نے  (بِلاوَجہِ شَرْعی )  کسی مسلمان کو اِیذا دی اُس نے مجھے اِیذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اُس نےاللہ عَزَّوَجَلَّکو ایذا دی۔  (اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَطج۲ ص۳۸۷ حدیث ۳۶۰۷) اللہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ایذا دینے والوں کے



Total Pages: 24

Go To