Book Name:Akhbar kay baray main Sawal Jawab

دوسروں کو فارْوَرْڈ کرتے ( یعنی آگے بڑھاتے)  رہتے ہیں ۔ حالانکہ ان میں کئی احادیث  ’’  اُصولِ حدیث ‘‘  سے مُتصادِم اور مُوضوع یعنی مَن گھڑت ہوتی ہیں !  لہٰذا ان حدیثوں کو اوراِسی طرح اخبارات وغیرہ میں شائع کردہ اَحادیث کو بھی عُلماءِ کرام کے مشورے کے بِغیر نہ بیان کریں نہ ہی کسی کو s.m.s. کریں کیوں کہ غیرمُحتاط تَرجَموں کی بھر مار اور بے احتیاطی کا دَور دَورہ ہے۔ وَاللہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔

لب حمد میں کُھلے، تری رَہ میں قدم چلے

یارب !  ترے ہی واسِطے میرا قلم چلے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

تردیدی بیان کا طریقہ

سُوال: اگر کسی اخبار میں کسی کے نام سے کوئی قابلِ تردید مضمون یا بیان شائِع ہو اہو تو اُس کی تردید کا کیا طریقہ ہونا چاہئے؟

جواب: تردید میں فُلاں شخص نے یہ کہا ہے یا بیان دیا ہے وغیرہ نہ چھاپا جائے بلکہ صِرْف اُس اخبار کے نام پر اکتِفا کیا جائے کہ ’’  فُلاں اخباریا  ہفت روزے یا ماہنامے نے ایسا لکھا ہے۔ ‘‘  مضمون نگار یا جس کی طرف بیان منسوب ہے اُس کی ذات پر ہرگز حملہ نہ کیاجائے، کیوں کہ اخبار یا ماہنامے وغیرہ میں کسی کانام شائِع ہوجانا ’’  شَرْعی دلیل ‘‘  نہیں ۔ مجھے (سگِ مدینہ عفی عنہ کو)  خود تجرِبہ ہے کہ بعض اَوقات میری طرف سے ایسی باتیں اخبار میں آجاتی ہیں جن کا مجھے پتا تک نہیں ہوتا! ایک بار میں نے کسی عالم صاحِب سے اُن کی طرف منسوب غیر ذمّے دار انہ اخباری بیان کے مُتَعَلِّق اِستِفسار کیا تو کچھ اس طرح جواب مِلا:  ’’  میں نے اس طرح نہیں کہا تھا، صَحافی نے فون کیا تھا اور اپنی مَرضی سے فُلاں جُملہ بڑھا دیا ۔ ‘‘  بسا اَوقات کسی کی طرف منسوب کر کے اُس کی مرضی کے خلاف ایسابیان چھاپ دیا جاتا ہے جس کی تردید کرنے میں فتنے کا اندیشہ ہوتا ہے اور یوں وہ خوب آزمائش میں آ جاتا ہے۔ مَثَلاً کسی مُلک کا غیر مسلم صدر مَر گیا، کسی کی طرف سے تعزیتی بیان ڈالدیاگیا اوراُس میں مَرنے والے کو ’’  مرحوم ‘‘  لکھ دیا یا اُس کیلئے   ’’ دُعا ئے مغفِرت کرنا ‘‘  منسوب کر دیا تو تردید کا مرحلہ بڑا نازُک ہے۔یہاں یہ مسئلہ بھی سمجھ لیجئے کہ کسی غیر مسلم یا مُرتَدکو مرنے کے بعدمرحوم کہنے والے یا اُس کیلئے دعائے مغفِرت کرنے والے یا اُسے جنّتی کہنے والے پر حکمِ کفر ہے۔ (ماخوذاً بہارِ شریعت ج اول ص ۱۸۵)  صد کروڑ افسوس!  کئی اخبارات میں اِس طرح کے کفریات بلا تکلُّف چھاپ دیئے جاتے ہیں !  اِسی طرح کوئی ناپسندیدہ شخص اِقتِدار پر آ گیا اور کسی کی طرف سے خوامخواہ مبارکباد کا پیغام اور دعائیہ کلمات چھاپ دیئے گئے ، بے چارہ تردید کیسے کریگا؟  بَہَر حال !  اخباروالوں کو ناپ تول کر لکھنا اور عُلمائے کرام کی رہنمائی کے ساتھ چلنا ضَروری ہے ورنہ کُفْریات لکھ دینے سے ایمان کے لالے پڑ سکتے ہیں ۔ کسی نے بیان نہ دیا ہو اس کی طرف سے قصداً جھوٹا بیان چھاپ دینا بھی گناہ اوراگر بیان دیا ہو مگر اُس میں اپنی طرف سے ایسی غیر واجِبی ترمیم کر دینا جو جھوٹ مانی جائے وہ بھی گناہ ہے۔

مجھ کو حکمت کا خزانہ یاالٰہی کر عطا

اور چلانے میں قلم کردے تُو محفوظ از خطا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اِڈیٹر کو کیسا ہونا چاہئے؟

سُوال: اخبار اور ٹی وی چینل کے مالِک و مُدیر  (Editor) اور ڈائریکٹرکو کیسا ہونا چاہئے؟

 



Total Pages: 24

Go To