Book Name:Kafan ki Salamti

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط                                    

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط                                                 

دُرُودِ پاک کی فضیلت

        شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانی ٔدعوت ِاسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادِری رَضَوی ضیائی دَامَت بَرَکاتُہُم العالیہ اپنے رسالے ’’ناچاقیوں کا علاج‘‘میں حدیث پاک نقل فرماتے ہیں کہ سرکارِمدینہ ، سلطانِ باقرینہ، قرارِ قلب وسینہ ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کااِرشادرحمت بنیاد ہے :  ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی خاطرآپس میں محبت رکھنے والے جب باہَم ملیں اورمُصَافَحَہ کریں اورنبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پردُرُودِپاک بھیجیں تو اُن کے جُداہونے سے پہلے دونوں کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔‘‘   

 (مُسنَد ابی یعلٰی، مُسنَدانس بن مالِک  ج ۳ ص۹۵ حدیث۲۹۵۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

 

(1)محمد ا سلم قریشی عطاری علیہ رَحْمَۃُاللہِ الْباری

       محمد اسلم عطاریعلیہ رحمۃ اللہ الباری مقیم (ہیرآباد نزد تکونی مسجد) حیدرآباد2004 ء میں پیٹ کے عارِضہ میں مبتلا ہوئے اور مرض کینسر تشخیص ہوا، حالت اِنتہائی خراب ہونے پر آغا خان ہسپتال میں آپریشن کروایاگیا ۔ مگر کچھ ہی عرصے بعد تکلیف کی شِدّت مزید بڑھ گئی۔ حتّٰی کہ ’’موشن‘‘ شروع ہوگئے اور اس میں خون آنے لگا۔ گھر میں آہ وبُکاہ شروع ہوگئی۔ان کے چھوٹے بھائی کا کہنا ہے کہ اس دوران کسی کے مشورے پراسی حالت میں بذریعہ کاربھائی کو باب المدینہ (کراچی) قبلہ شیخِ طریقت ، امیر اہلسنّت دامت بَرَکاتُہُم العالیہ سے دُعا کیلئے لے جایا گیا، وہاں ملاقات کا سلسلہ جاری تھا اور سینکڑوں اسلامی بھائی زمانے کے ولی کی زیارت و ملاقات کیلئے حاضر تھے ۔ جب محمد اسلم عطاریعلیہ رحمۃ اللہ الباری کو ملاقات کی سعادت ملی اور مرض بتاکر دُعا کیلئے عرض کی تو  امیر اہلسنّت دامت بَرَکاتُہُم العالیہ نے بڑی شفقت کے ساتھ انہیں سینے سے لگایا، محبت سے سر پر ہاتھ پھیرا ، تسلّی دی اور دُعا بھی کی پھر فرمایا :  ’’بیٹا گھبراؤ مت اللہ عَزَّوَجَلَّشفاء عطا فرمانے والا ہے ۔ ان شاء اللہعَزَّوَجَلَّ بہترہوگا۔ ‘‘یہ واپس آئے توبھائیمحمد اسلم عطاریعلیہ رحمۃ اللہ الباری نے حلفیہ بتایا کہ رات مجھے خواب میں دو بُزُرگ نظر آئے ایک کو تو مَیں پہچان گیا وہ امیرِ اَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُم العالیہ خود تھے ۔دوسروں کو مَیں پہچان نہ سکا، دونوں نے سبز عمامہ شریف کا تاج سجا  رکھا تھا۔ مجھے تسلی دینے کے ساتھ دُعا کی اور فرمایا :  بیٹا گھبراومت ان شاءَاللہ عَزَّوَجَلَّطبیعت بہتر ہو جائے گی۔ صبح  محمد اسلم عطاریعلیہ رحمۃ اللہ الباری کی طبیعت کافی بہتر تھی اور آہستہ آہستہ طبیعت کافی سنبھل گئی ۔ امیر اَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُم العالیہ کی شفقت اور دُعاؤں کی برکتوں سے متأثر ہو کر محمد اسلم عطاریعلیہ رحمۃ اللہ الباری سمیت تمام گھر والے پندرہویں صدی کی عظیم علمی و روحانی شخصیت شیخِ طریقت ، امیر اَہلسنّت، بانی ٔدعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادِری رضوی دامت بَرَکاتُہُم العالیہسے مُرید ہوکر’’ عطاری ‘‘بن گئے اور دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت بھی کرنے لگے۔ڈاکٹروں کے مطابق بھائی چند دنوں کے ہی مہمان تھے، مگر  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّکم و بیش ایک سال تک کافی بہتر حالت میں رہے پھر چند دن کے بعد طبیعت زیادہ خراب ہونے پر دوبارہ ہسپتال میں داخِل کردیا گیا۔ 3دسمبر بروز سنیچر کی رات  محمد اسلم عطاری علیہ رحمۃ اللہ الباری کی طبیعت بَہُت خراب ہونے لگی۔ والدہ اور دیگر گھر کے افراد رونے لگے تو ایک ولی ٔکامل کے دامن سے



Total Pages: 12

Go To