Book Name:Kalay Bicho Ka Khof

تھے۔ ان کا روزانہ کا معمول تھا کہ تراویح وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد نمازیوں سے ملاقات کے دوران اُنھیں دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت دیتے، مجھ پر اُن کی بڑی شفقتیں تھیں ، بسا اَوقات تو دیر تک مجھے اپنے پاس بٹھا کر فکرِ آخرت کا درس دیتے اور گناہوں سے باز رہنے کی تلقین کرتے۔ انہی کی انفرادی کوشش کے نتیجے میں دوران اعتکاف مجھے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی  دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ کی مایہ ناز تالیف ’’فیضانِ سنّت‘‘ کے مختلف صفحات کامطالعہ کرنے کی سعادت بھی ملی۔ یہ کتاب مجھے اس قدر بھاگئی کہ بطورِ خاص میں نے اپنے لئے ایک نئی فیضانِ سُنّت منگوالی اور روزانہ اس کے کچھ نہ کچھ صفحات پڑھنے لگا علاوہ ازیں اُن حافظِ قراٰن اسلامی بھائی کے سامنے اپنی نیت کا اظہار بھی کیا کہ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اعتکاف کے بعد دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں بھی شرکت کروں گا۔ لہٰذا اعتکاف کے بعد ہفتہ وار اجتماع میں شریک ہوگیا۔ اجتماع میں اسلامی بھائیوں کی انوکھی محبت اور والہانہ اندازِ مُلاقات دیکھنے کو ملا۔ ہر اسلامی بھائی اتنی اپنائیت سے مِلتا جیسے میرا برسوں کا شناسا ہو۔ ایسے میں میرا دعوتِ اسلامی والوں کا ہوکر رہ جانا کوئی اچَنبھے (تعجب) کی بات نہ تھی چنانچہ تھوڑے ہی عرصے میں شمعِ رسول کے ان پروانوں اور سُنَنِ سرکار (یعنی سرکارصَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ و سلَّمکی سُنّتوں ) کے مَتوالوں کی طرح میں بھی سر پر سبزسبزعمامہ شریف کاتاج اورچہرے پر سنّت کے مطابق ایک مٹھی داڑھی شریف سجا کر سفید لباس میں ملبوس رہنے لگا اَورتو اور شیخِ طریقتامیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ  کے ذریعے سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ میں بھی  داخل ہو گیا۔ مدنی ماحول تو کیا اپنایا گویا مجھ پر حوصلہ شِکن آزمائشوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ جب میں سنتوں پر عمل کرتا تو طرح طرح سے میرا مذاق اُڑایا جاتا، مختلف جملے کسے جاتے۔ افسوس صد افسوس ! ایک آدھ مرتبہ تو میرے اپنوں ہی نے مَعَاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ میرے سر سے عمامہ شریف اتار کر زمین پر پٹخ دیا۔ مگر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل و کرم اور میرے مُرشدِ کریم دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ کے فیضانِ نظر سے ایسے کَسمَپُرسی کے حالات میں بھی میرے پائے ثُبات میں کوئی جُنبش نہ آئی۔ بالآخر انفرادی کوشش کے ذریعے آہستہ آہستہ جب مجھے اپنے گھر میں مدنی ماحول قائم کرنے میں کامیابی حاصل ہو گئی تو میرے لئے سُنّتوں پر عمل اور مدنی کام کرنے کی راہیں خود بخود ہموار ہوتی چلی گئیں۔ اُسی سال دعوتِ اسلامی کے تحت مدینۃُالاؤلیاء (ملتان شریف) میں ہونے والے سالانہ بین الاقوامی تین روزہ سنتوں بھرے اجتماع کے اختتام پر میں مدنی قافلہ کورس کے لئے باب المدینہ (کراچی) روانہ ہوگیا۔ یہ بیان دیتے وقت نہ صرف میں دعوتِ اسلامی کی علاقائی مشاورت کے رکن کی حیثیت سے مدنی کاموں کی دھومیں مچا رہا ہوں بلکہ اس وقت  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ 30 روزہ تربیتی اعتکاف میں دعوت اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ (کراچی) میں اپنے پیر و مُرشِد شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت  دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ کے قُرب کی بَرَکتیں لوٹنے میں مصروف ہوں۔

اللہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!                                 صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(2)پُر تاثیر اَوراق

          لطیف آباد نمبر 12 (حیدرآباد، باب الاسلام، سندھ) میں رہائش پذیر اسلامی بھائی اپنی اصلاح کاواقعہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں :  خوش قسمتی سے میری ہمشیرہ کو دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول میسر تھا۔ وہ اکثر و بیشتر گھر میں شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی  دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ کے رسائل لے آیا کرتی تھیں اور گھر کے دیگر افراد کے ساتھ ساتھ مجھے بھی



Total Pages: 12

Go To