Book Name:Kalay Bicho Ka Khof

عَزَّوَجَلَّ میں نے سر پر سبز     سبز عمامہ شریف کا نورانی تاج سجالیا۔ میں بالکل بدل گیا لڑنے جھگڑنے کی عادت ختم ہوگئی۔ لوگوں کا ادب و احترام کرنے والا بن گیا۔ گھر اور محلے والے قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔ اسلامی بھائیوں کی انفرادی کوششوں سے 63دن کا مدنی تربیتی کورس کرنے کا ذہن بنا۔ میں نے تربیتی کورس میں داخلہ لے لیا۔ کورس مکمل کرنے کے بعد اس وقت12ماہ کے مدنی قافلوں میں سفر کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!                          صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(14)نگاہِ ولایت کی بہار

          باب المدینہ (کراچی) کے علاقے اورنگی ٹاؤن کے سیکٹر 15/ B میں رہائش پذیر اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ میں ایک دینی مدرسے میں پڑھتا تھا۔ مدرسے سے فراغت کے بعد دنیوی تعلیم کے لیے اسکول و کالج کا راستہ اپنایا وہاں برے دوستوں کی صحبت نے اپنا رنگ دکھایا۔ اسکول و کالج کے بگڑے ماحول نے مجھے گناہوں پر دلیر کردیا اور میں انتہائی درجہ کا فیشن پرست ہوگیا حتی کہ مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ داڑھی شریف جیسی پیاری سنّت سے بھی محروم ہوگیا۔ ایک دن میں نے امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ کا رسالہ ’’میں سدھرنا چاہتا ہوں ‘‘ پڑھا۔ ولیٔ کامل کی پر تاثیر تحریر کا ایک ایک لفظ میرے جگر میں تاثیر کا تیر بن کر اترتا چلا گیا۔میں چونکہ امیرِ اہلسنّت کا مرید بن چکا تھا ایک ولیٔ کامل کی نسبت کام آئی اور ان کی نگاہِ کرم سے گناہوں سے نفرت ہونے لگی۔ سدھرنے کا جذبہ بیدار ہو گیا۔ امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ کے دیدار اور پھر ملاقات کی ترکیب بن گئی۔ دیدار امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ کی برکت سے میرے دل میں مزید مدنی انقلاب برپا ہوا اور میں نے گناہوں بھری زندگی سے توبہ کی اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تادم تحریراس وقت اپنے علاقے کی مسجد میں ذیلی حلقہ مشاورت کے خادم (نگران) کی حیثیت سے مدنی کاموں کی دھومیں مچانے میں مصروفِ عمل ہوں۔

نگاہ ولی میں وہ تاثیر دیکھی

بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی

اللہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!                      صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(15)بدمذہبیت سے چُھٹکارا مل گیا

          باب المدینہ (کراچی) کے علاقے رنچھوڑ لائن میں مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ ہمارے علاقے کے ایک اسلامی بھائی جوکہ مدنی ماحول سے وابستگی سے پہلے ماڈرن نوجوان تھے۔ نیکیوں کی طرف کوئی رحجان نہ تھا۔ ان کا پورا گھرانہ بدعملی اور بدمذہبیت کا شکار تھا۔ تبلیغ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کے ایک ذمہ دار اسلامی بھائی نے ان پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ کا ایک رسالہ انہیں تحفے میں پیش کیا، انہوں نے اس رسالہ کو پڑھا تو امیرِاہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ کی پر اثر تحریر ان کے دل میں تاثیر کا تیر بن کر پیوست ہوگئی، اور ان کے دل میں مدنی انقلاب برپا ہوگیا اور اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ انہوں نے پیارے مصطفی صَلَّی اللہ تَعالٰی علیہ واٰلہٖ وَ سلَّم کی پیاری پیاری سنّت داڑھی شریف سجالی اور گھر والوں کی مخالفت کے باوجود دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگئے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ یہ بیان دیتے وقت وہ ذیلی حلقہ مشاورت میں مدنی انعامات کے ذمہ دار کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کا مدنی کام کر



Total Pages: 12

Go To