Book Name:Ghairat Mand Shohar

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

غیرت مند شوہر([1])

دُرُود شریف کی فضیلت

            دعوتِ اسلامی کے اَشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 55 صَفحات پر مشتمل رسالے ، ’’ کراماتِ فاروقِ اعظم‘‘ میں شیخ طریقت، امیر اہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ درودِ پاک کی فضیلت تحریر فرماتے ہیں کہ وزیر رِسالت ماب، آسمانِ صَحابِیّت کے دَرَخشاں ماہتاب، نِظامِ عَدل کے روشن آفتاب، امیر المومنین حضرتِ سیِّدُنا عُمَربن خطّاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : اِنَّ الدُّعَآءَ مَوْقُوْفٌ بَیْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ لَا یَصْعَدُ مِنْہُ شَیْئٌ حَتّٰی تُصَلِّیَ عَلٰی نَبِیِّكَ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) یعنی بے شک دُعا زمین وآسمان کے درمیان ٹھہری رہتی ہے اور اُس سے کوئی چیز اوپر کی طرف نہیں جاتی (یعنی دُعا قبول نہیں ہوتی) جب تک تم اپنے نبیِٔ اَکرم   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرودِ پاک نہ پڑھ لو ۔ ([2])

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

غیرت مند شوہر

حضرت سیِّدُنا قاضی ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن موسیٰ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ’’رَے ‘‘ (ایران کے موجودہ دارالخلافہ تہران)  کے قاضی حضرت سیِّدُنا موسیٰ بن اِسحاق عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق سے ملنے گیا، اس وقت قاضی صاحب مسندِ قضا پر بیٹھ کر لوگوں کے مسائل حل فرما رہے تھے ۔ میں بھی ان کے پاس بیٹھ گیا ۔ اتنے میں ان کے پاس ایک ایسا ایمان افروز مقدمہ پیش ہوا جس نے وہاں موجود تمام لوگوں کے ایمان کو تازہ کر دیا ۔

ہوا کچھ یوں کہ ایک نقاب پوش عورت حاضر ہوئی جس کے سرپرست کا دعویٰ تھا کہ اس عورت کا نکاح کے وقت پانچ سو دینار مہر مقرر ہوا تھا مگر اس کا شوہر مہر کی رقم ادا نہیں کر رہا اور جب شوہر کو بلا کر پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ مہر کا یہ دعویٰ بے بنیاد ہے ۔ قاضی صاحب نے مدعی سے کہا کہ اپنا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے گواہ پیش کرو جو اس بات کی گواہی دیں کہ واقعی اس مرد نے نکاح کے وقت پانچ سو دینار مہر مقرر کیا تھا ۔ پس جب گواہ عدالت میں حاضر ہوئے اور عورت کو کہا گیا کہ وہ بھی کھڑی ہو جائے اور اپنا نقاب اتار دے تا کہ گواہ اسے پہچان کر اس کے حق میں گواہی دے سکیں کیونکہ جب گواہ مُدَّعِی (دعوی کرنے والا) یا مُدَّعٰی عَلَیْہ (جس پر کسی حق کا دعویٰ کیا جائے ) کی موجودگی میں گواہی دے تو اس پر لازم ہے کہ ان کی طرف اشارہ کر کے واضح طور پر گواہی دے ، وہ عورت حیا والی تھی اس لیے بے نقاب ہونے میں پس و پیش سے کام لینے لگی ۔

اس کے شوہر نے جب دور سے یہ سب کچھ دیکھا تو پوچھا کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟ اسے بتایا گیا کہ یہ گواہ ہیں جو دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس نقاب کے پیچھے واقعی تمہاری زوجہ ہی ہے تا کہ پہچان کر اس کے حق میں گواہی دے سکیں ۔ یہ سن کر غیرتمند شوہر پکار اُٹھا : ’’ انہیں روک دو، میں قاضی صاحب کے سامنے اقرار کرتا ہوں کہ جودعویٰ میری زوجہ نے مجھ پر کیا ہے وہ مجھ پر لازم ہے ، میں پانچ سو دینار ادا کرنے کو تیار ہوں ، خدارا! میری زوجہ کا چہرہ کسی نامحرم پر ظاہر نہ کیا جائے ۔ ‘‘ چنانچہ، گواہوں کو روک دیا گیا اور عورت کو واپس بھیج دیا گیا اور جب اسے یہ بتایا گیا کہ اس کے شوہر نے مہر کی ادائیگی کا اقرار کر لیا ہے تو وہ بڑی حیران ہوئی، پھر جب اسے یہ حقیقت معلوم ہوئی کہ اس کا شوہر اس قدر غیرتمند ہے کہ اس نے محض اپنی بیوی کی حیا کی لاج رکھتے ہوئے اور اسکے بے پردہ ہو جانے کے خوف سے مہر کی ادائیگی کا اقرار کیا ہے تو شوہر کی غیرت تاثیر کا تیر بن کر اس کے دل میں کچھ ایسی پیوست ہوئی کہ اس کے دل کی دنیا ہی بدل گئی اور وہ یوں گویا ہوئی : سب گواہ ہو جاؤ! میں نے اپنا مہر معاف کر دیا اب میں دنیا میں اس کا مطالبہ کروں گی نہ آخرت میں ، یہ مہر میرے غیرتمند شوہر کو مُبَارَک ہو ۔ ([3])

پیارے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ ایک غیرتمند شوہر کی غیرت نے یہ گوارا نہ کیا کہ ا س کے خلاف عدالت میں دعویٰ دائر کرنے والی زوجہ کے چہرے پر کسی غیر مرد کی نظر پڑے ۔ آج کے اس بے پردگی وبے حیائی کے دور میں غیرتمند شوہر کی اس حکایت سے اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کے لیے عبرت کے کئی مدنی پھول حاصل ہو رہے ہیں ، کیونکہ یہ حکایت جہاں اسلامی بھائیوں کے ضمیر کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یہ احساس دلا رہی ہے کہ تمہاری وہ غیرت کہاں گئی جس کے تم امین تھے ؟ اور تمہاری اس شرم و حیا کا کیا ہوا جس کے تم رکھوالے تھے اور جس کی وجہ سے اقوامِ عالم میں تمہارا ایک وقار تھا؟ وہیں اسلامی بہنوں کے لیے بھی درسِ عبرت کا سامان مہیا کر رہی ہے کہ اسلامی بہنوں کی شرم و حیا کا عالم یہ تھاکہ شرعی تقاضا پورا کرنے کے لیے بھی بے پردہ ہونے کے خیال سے چھوئی موئی کی طرح مرجھا جاتیں اور ان کی روح تک کانپ جایا کرتی ۔ مگر ہائے افسوس! صد افسوس! دورِ جدید میں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پھیلائی گئی اس فحاشی و عریانی نے دنیا بھر کے مسلمانوں کی غیرت و حیا کا جنازہ نکال دیا ہے ۔ اس بے حیائی کے سیل رواں میں ہر کوئی خواہی نخواہی (چاہتے اورنہ چاہتے ہوئے ) تنکوں کی طرح اس طرح بہہ رہا ہے کہ سنبھلنے کا نام تک نہیں لیتا ۔ بعض اوقات کسی کو ہوش تو آتا ہے مگر وہ بے حیائی کی اس دلدل میں اس قدر گہرا دھنس چکا ہوتا ہے کہ نکلنے کی کوئی سبیل نہیں پاتا یا یوں کہہ لیجئے کہ ہوش اس وقت آتا ہے جب پانی سر کے اوپر سے گزر چکا ہوتا ہے ۔ چنانچہ بے حیائی کے اس بہتے دھارے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنا تعلق سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن سے جوڑ کر ان کی حیاتِ مبارکہ سے ایسے مدنی پھول حاصل کریں جن کی روشنی میں ہمیں اس گرداب سے چھٹکارے کی کوئی صورت نظر آ جائے ۔ لہٰذا یاد رکھیے کہ مذکورہ واقعے



[1]    مبلغ دعوتِ اسلامی و نگرانِ مرکزی مجلسِ شوریٰ حضرت مولانا حاجی محمد عمران عطاری مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی  نے یہ بیان تبلیغ قران و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ باب المدینہ کراچی میں ہفتہ وارسنتوں بھرے اجتماع میں ۱۸ شعبان المعظم ۱۴۳۲ھ بمطابق 21جولائی 2011ء کو فرمایا ۔ ضروری ترمیم و اضافے کے بعد تحریری صورت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔

[2]    سنن الترمِذی، کتاب الوتر، باب فی فضل الصلاۃ علی النبی، الحدیث : ۴۸۶، ج۲ ، ص۲۸

[3]     عیون الحکایات، الحکایۃ السادسۃ بعد الثلاثمائۃ، ص ۲۷۵



Total Pages: 12

Go To