Book Name:Main Hayadar kesay bani?

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

دُرُود شریف کی فضیلت

          شیخِ طریقت،  امیرِاہلسنّت،  بانیٔ دعوت ِاسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابوبلال محمدالیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُم العَالِیَہ اپنی مایہ ناز تالیف  ’’ غیبت کی تباہ کاریاں  ‘‘  میں دُرُوْدِپاک کی فضیلت نقل فرماتے ہیں کہ حضرت علامہ مَجدُالدین فیروز آبادی رَحمَۃُاللّٰہ تعالٰی علیہ سے منقول ہے: جب کسی مجلس میں  (یعنی لوگوں میں )  بیٹھو اور کہو: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحیم وَ صَلَّی اللّٰہ علٰی مُحَمَّد تو اللّٰہ عزَّوَجَلَّتم پر ایک فرشتہ مقرر فرما دے گا جو تمہیں غیبت سے باز رکھے گااور جب مجلس سے اٹھوتو کہو: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحیم وَصَلَّی اللّٰہ عَلٰی مُحَمَّد تو فِرِشتہ لوگوں کو تمہاری غیبت کرنے سے بازرکھے گا۔  (القول البدیع ص۲۷۸مؤسسۃ الریان بیروت)

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!                                            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

{1}میں حیادار کیسے بنی؟

            ایک اسلامی بہن کے تحریری بیان کا لُبِّ لُباب ہے: دعوتِ اسلامی کے پاکیزہ مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میں ایک فیشن ایبل لڑکی تھی۔ نت نئے فیشن اپنانا،  کالج میں بے پردہ جانا،  نیز کوچنگ سینٹر میں لڑکوں کے ساتھ بے تکلفی سے پیش آنا میرے نزدیک معیوب نہ تھا۔ مگر جب سے دعوتِ اسلامی کا پاکیزہ ماحول ملا میری زندگی تمام خرافات سے پاک ہوگئی اور میں نیکیوں بھری زندگی بسر کرنے لگی۔ میری زندگی میں مدنی انقلاب برپا ہونے کے احوال کچھ یوں ہیں کہ ہمارے علاقے میں دعوتِ اسلامی کے تحت  ’’ مدرسۃ المدینہ برائے بالغات ‘‘  کا آغاز ہوا تو دعوتِ اسلامی کی ایک ذمہ دارہ اسلامی بہن نے بڑی محبت سے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے تجوید کے ساتھ قراٰنِ پاک پڑھنے کے فضائل اور بلاتجوید قراٰن پاک پڑھنے کی وعیدیں سناتے ہوئے صحیح تلفظ کے ساتھ قراٰنِ پاک پڑھنے کی دعوت دی۔ اسلامی بہن کا انداز ایسا متأثر کن تھا کہ مجھ سے انکار نہ ہو سکا اور میں نے  ’’ مدرسۃ المدینہ برائے بالغات ‘‘  میں شرکت کی ہامی بھر لی۔ پہلے روز جب میں مدرسے گئی تو وہاں کی تعلیم و تربیت کا نرالا انداز دیکھ کر دل کو وہ فرحت و مسرت حاصل ہوئی جسے الفاظ میں ڈھالنا میرے بس میں نہیں ۔ مدرسے میں ایک چھوٹی سی لائبریری بھی قائم کی گئی تھی جس میں شیخِ طریقت،  امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُم العَالِیَہ کی تالیفات،  رسائل اور بیانات کی کیسٹیں موجود تھیں ۔ میں نے مُعلِّمہ اسلامی بہن کی اجازت سے چند رسائل لیے اور گھر جا کر ان کا مطالعہ شروع کر دیا۔ سب سے پہلے ایک رسالہ بنام  ’’ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُم العَالِیَہ کے آپریشن کی جھلکیاں  ‘‘  پڑھا جس میں آپریشن کے وقت آپ کے خوفِ خدا،  عشقِ مصطفی،  ایمان کی سلامتی کی فکر اور اپنے مریدین،  متعلقین اور اُمتِ مصطفیٰ کے لئے مغفرت کی دعاؤں کی معلومات نیز ایسی نازک حالت میں بھی قوانینِ شریعت کی مکمل پاسداری کے واقعات میرے دل کی دنیا کو تہہ وبالا کرنے کے لئے کافی تھے،  میرا ایمان تازہ ہو گیا۔ میں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُم العَالِیَہ کی معتقد اور آپ کی بنائی ہوئی پیاری پیاری تحریک دعوتِ اسلامی سے بیحد متأثر ہوئی۔ اس کے بعد میں نے اسلامی بہنوں کے ساتھ ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کو اپنا معمول بنا لیا۔ ایک مرتبہ اجتماع میں سنّتوں بھرے بیان کے بعد اعلان ہوا کہ اب اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بیعت کروائی جائے گی۔ وکیلِ عطارؔ جو کہ کسی دوسرے مقام پر تھے انھوں نے لاؤڈاسپیکر کے ذریعے بیعت سے پہلے توبہ کروائی جس میں یہ الفاظ بھی شامل تھے  ’’ ماں باپ کی نافرمانی،  جھوٹ،  غیبت،  چغلی،  حسد،  تکبر،  وعدہ خلافی،  گالی گلوچ،  فلمیں ڈرامے،  گانے باجے،  بے پردگی وغیرہ وغیرہ گناہوں سے بچتی رہوں گی ‘‘  یہ الفاظ ادا کرتے وقت میرے دل کی دنیا زیر و زَبر ہوگئی۔ گھر واپس آنے کے بعد بھی نجانے کتنی دیر تک میرے کانوں میں انہی الفاظ کی گونج برقرار رہی۔ میں دل ہی دل میں خود کو سابقہ گناہوں پر ملامت کرتی رہی۔جب دل میں احساسِ ندامت پیدا ہوا تو آنکھوں سے برستے آنسوؤں سے اس کا اظہار ہوگیا۔ ہاتھ بارگاہِ خداوندی میں اُٹھا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور والدین سے بھی اپنی کوتاہیوں پر معذرت کی۔ دعوتِ اسلامی نے مجھے ایک پاکیزہ زندگی عطا کر دی۔ کل تک میں بے پردہ اور فیشن پرست تھی مگر دعوتِ اسلامی نے مجھے حیا کی چادر عطا کردی اور مجھے سنّتوں کا عادی بنا دیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریر میں علاقائی مشاورت کی ذمہ دارہ کی حیثیت سے سنّتوں کی خدمت کیلئے کوشاں ہوں ۔

اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!                                            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

{2}دیدارِ مدینہ کی سعادت

          باب المدینہ  (کراچی)  کے علاقے کورنگی میں مقیم ایک اسلامی بہن کے بیان کا خلاصہ ہے کہ ایک مرتبہ بعد نمازِ ظہر سرکار صلَّی اللّٰہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں شیخِ طریقت،  امیرِ اہلسنّت،  بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکاتُہُم العَالِیَہ کی مقبولیت کے واقعات اور ایمان افروز بشارتوں پر مشتمل مکتبۃ المدینہ کا مطبوعہ رسالہ  ’’ سرکار کا پیغام عطّاؔر کے نام ‘‘  کا مطالعہ کیا۔ رسالے کو پڑھ کر بڑی فرحت محسوس ہوئی۔ مجھے اپنی قسمت پرر شک آ رہا تھا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل و کرم سے  کیسے برگُزیدہ اور ولیٔ کامل کا دامن نصیب ہوا ہے۔ بالخصوص اس رسالہ میں مدینہ شریف زَادَھا اللّٰہُ شَرَفاً وَّ تَعظِیماً حاضر ہونے والے اسلامی بھائی کے ذریعے سرکار صلَّی اللّٰہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طرف سے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُم العَالِیَہ کے نام یہ پیغام  ’’ میرے عطّار اس بار مدینے کیوں نہیں آئے! انہیں میرا سلام کہنا اور کہنا وہ مدینے آئیں چاہے کچھ لمحات کے لیے ہی



Total Pages: 8

Go To