$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

بے تَحاشا صَرف کرتے ہیں وہ رِضائے الہٰیعَزَّوَجَلَّ  کیلئے بھوکوں ، حاجتمندوں اور غریبوں کو دے دیجئے ۔ مُتّقی خلیفہ کی انفِرادی کوشِش نے سِپَہ سالار ِ لشکرکے دل پر گہرا اثر ڈالا اور اُس نے عہد کر لیاکہ آیَندہ کھانے میں سادَگی اپناؤں گا اور کم خَرچ سے کام چلاؤں گا ۔ ( مغنی الواعظین ص ۱۹۴)    

          اِس حِکایت کو نَقل کرنے کے بعد امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں :

 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہم نَفس کو جس قَدَر لذیذ غذائیں کِھلائیں گے اُسی قَدَر وہ بہتر سے بہتر طَلَب کرتا رہے گا ۔ آج ہماری اکثریت بے بَرَکتی کی شاکی ہے نیز تنگدستی اور پھر اُوپر سے کمر توڑ مہنگائی کا رونا روتی ہے اور آج تقریباً ہر ایک کہتا سنائی دیتا ہے ’’پورا نہیں ہوتا !‘‘ یقین مانئے ، مہنگائی، بے بَرَکتی اور تنگدستی کا فی زمانہ ایک بَہُت بڑا سبب غیر ضَروری اَخراجات بھی ہیں ۔ ظاہر ہے جب فُضُول خرچیوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے نیز اعلیٰ کھانوں ، عمدہ مکانوں ، پھر ان کے اندر سجاوٹوں کے بیش قیمت سامانوں ، مہنگے مہنگے فینسی لباسوں سے دل لگائے رہیں گے ، تو ان کاموں کیلئے خطِیر رقموں کی ضَرورت رہے گی اور پھر ’’ بے بَرَکتی ‘‘ اور ’’پورا نہیں ہوتا ‘‘ کی راگنیاں بھی جاری ہی رہیں گی ۔ حضرتِ سیِّدُنا امام جعفرِ صادِق علیہ رحمۃُ الرّازِق کا فرمانِ ہدایت نشان ہے ، جس نے اپنا مال فُضُول خرچیوں میں کھو دیا، اب کہتا ہے اے ربّ! مجھے اور دے ۔  اللّٰہ تعالیٰ ( ایسے شخص سے ) فرماتا ہے ، کیا میں نے تجھے مِیانہ روی کا  حُکم نہ دیا تھا ؟ کیا تُو نے میرا (یہ) اِرشاد نہ سنا تھا؟وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا(۶۷) ( پ۱۹ فرقان ۶۷) ترجَمۂ کنزالایمان: اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں ، نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں ۔ (ملَخَّصاً احسن الوِعاء لآِداب الدُّعاء ص ۵۷ ) بَہَرحال اگرقَناعت اور سادَگی کے ساتھ سستے کھانوں اورسادہ لِباسوں کو اپنا لیا جائے ۔ فَقَط حسبِ ضَرورت مکانات رکھے جائیں ، بے جا سجاوَٹوں اور نُمائشی دعوتوں کے مُعامَلے میں خود پر پابندی ڈالی جائے تو خود بخود مہنگائی کاخاتِمہ ہو اور غُربت رخصت ہوجائے ۔ (فیضانِ سنت ، ج۱، ص۴۶۴ ملتقطًا)

ایک حبشن کنیزکا خط خلیفہ کے نام اور مسئلے کا فوری حل

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے زمانے میں سرکاری ڈاک لانے والے کا یہ دستور تھا کہ جب وہ ڈاک لے کر چلتا تو راستہ میں جو لوگ اسے کوئی خط دیتے ان سے وُصول کرلیتا، ایک بار وہ مِصرجارہا تھا کہ’’ ذِی اَصبَحَ ‘‘کی آزاد کردہ’’ فَرْتُونہ ‘‘نامی حبشن کنیز نے اسے خط دیا جس میں خلیفہ کے نام تحریر تھا کہ اس کے اِحاطے کی دیواریں چھوٹی ہیں لوگ انہیں پھلانگ کر اندر آجاتے ہیں اس کی مرغیاں چوری ہوجاتی ہیں ۔ قاصد نے جب یہ خط لا کر امیرُ المُؤمنین کودیا تو آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے جواب میں تحریر فرمایا:بسم اﷲ الرحمن الرحیم، امیر المومنین !عمر بن عبدالعزیز کی جانب سے ذی اصبح کی کنیز فرتونہ کے نام! تمہارا خط ملا جس میں لکھا تھا کہ تمہارے مکان کی دیواریں نیچی ہیں اور لوگ انہیں پھلانگ کر تمہاری مرغیاں چُرا لیتے ہیں ، میں نے ایوب بن شُرَحبِیل کو جو مِصر میں نَماز کے امام اور جنگ کے افسرِ اعلیٰ ہیں لکھ دیا ہے کہ وہ تمہارے مکان کی مرمت کرا کر اسے پوری طرح محفوظ کرادیں ۔ والسلام

             اور ایوب بن شُرَحْبِیل کو خط لکھا:’’ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے بندے امیر المومنین عمر کی جانب سے ابن  شُرَحْبِیل کے نام، اما بعد! ذی اصبح کی کنیز’’ فرتونہ‘‘ نے مجھے لکھا ہے کہ اس کے مکان کی دیواریں چھوٹی ہیں اور اس کی مرغیوں کی چوری ہوجاتی ہے ، وہ چاہتی ہے کہ اس کا مکان محفوظ کردیا جائے ، جب میرا یہ خط ملے تو خود سوار ہو کر وہاں  پہنچو اور اپنی نگرانی میں اس کا مکان مرمت کراؤ، والسلام ۔ ‘‘

            جب ایوب بن شُرَحْبِیل کو خلیفہ کا یہ فرمان پہنچا تو انہوں نے فوراً اپنے اونٹ پر سوار ہو کرمذکورہ علاقے کا رخ کیا وہاں پوچھتے پوچھاتے ’’فرتونہ ‘‘نامی کنیز کے گھر پہنچے تو دیکھا کہ وہ بے چاری نہایت مِسکِین قسم کی بڑھیا ہے ۔ ایوب بن شُرَحْبِیل نے اسے بتایا کہ امیر المومنین نے تمہارے بارے میں مجھے یہ  حُکم نامہ بھیجا ہے ، پھر اس کے مکان کی مرمت کروا دی ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۵۶)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس حِکایت میں حَاجَت رَوَائی اوردلجوئی کا  تَذکِرہ ہے ، یقینامسلمانوں کی دِلجوئی کی اَھمِّیَّت بَہُت زیادہ ہے چُنانچِہ حدیثِ پا ک میں ہے :’’فرائض کے بعد سب اَعمال میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو زِیادہ پیارا مسلمان کا دل خوش کرنا ہے ۔ ‘‘( المعجمُ الکبیر ج۱۱ ص ۵۹ حدیث ۱۱۰۷۹ )  واقِعی اگرہم سب ایک دوسرے کی غمخواری وغمگُساری میں لگ جائیں تو آناً فاناً دُنیا کا نقشہ ہی بدل کررَہ جائے ۔ لیکن آہ!اب تو بھائی بھائی کے ساتھ ٹکرا رہا ہے ، آج مسلمان کی عزّت وآبرواوراُس کے جان ومال مسلمان ہی کے ہاتھوں پامال ہوتے نظر آرہے ہیں ۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  ہمیں نفرتیں مٹانے اور مَحَبَّتیں بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے ۔  ٰ امِیْن بِجَاہِ النبی الامین صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

امیرالمومنین کی تھکا دینے والی مصروفیات

            انسان میں مختلف قابلیتیں بہت کم جمع ہوتی ہیں مثلاًجو لوگ دماغی اور عقلی حیثیت سے ممتاز ہوتے ہیں ان میں اَخلاقی اوصاف عُمُوماًبہت کم پائے جاتے ہیں اور جو لوگ ملکی و سیاسی کاموں کو نہایت سَرگرمی کے ساتھ اَنجام دیتے ہیں وہ اِنفِرادی عِبادت ورِیاضت پر خاطر خواہ توجُّہ نہیں دے پاتے لیکن حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز جس پابندی اور مستعدی کے ساتھ خِلافت کے فرائض اَنجام دیتے تھے ، اسی شوق و شَغَف کے ساتھ اِنفِرادی عِبادت ورِیاضت بھی کیا کرتے تھے ، عام معمول یہ تھا کہ دن بھر رِعایا کے معاملات اور مقدمات کے فیصلہ میں مشغول رہتے ، نَمازِ عشاء کے بعد چراغ جلا کے بیٹھتے اور پھر یہی کام شروع ہوجاتا، اس کے بعد اَرباب رائے سے اُمورِ خِلافت کے متعلِّق مختلف مشورے لیتے ، پھر جو وَقت بچتا وہ عِبادت ورِیاضت اوراِستراحت میں  صَرف کیاکرتے ۔ ان کی تھکا دینے والی مصروفیات کو دیکھ کربعض حضرات تَرس کھاتے تھے اور اُن کو آرام کرنے کی ترغیب دیتے لیکن حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز پر ان کی نصیحتوں کا کوئی اثر نہیں پڑتا تھا ۔ چنانچِہ ایک دن حضرت سیِّدُنامیمون بن مِہران رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے جو ان کے مُشیر خاص تھے ، کہا : امیر المومنین! دن بھرآپ کے اوقات رِعایا کے معاملات میں  صَرف ہوتے ہیں ، رات گئے فرصت کا تھوڑا ساجو وَقت ملتا ہے اس کو ہماری صحبت میں  صَرف کردیتے  ہیں !جواب دیا: لوگوں کی ملاقات سے  عَقل بڑھتی ہے ۔ (تاریخِ دِ مشق، ج۴۵ ، ص۲۲۷)

سیر وتفریح کا مشورہ دینے والے کو جواب

             ایک دن حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے بھائی ریان  بن عبدالعزیز نے انہیں مشورہ دیا کہ کبھی کبھی سیرو تفریح کے لئے بھی نکل جایا کیجئے ۔ فرمایا:’’کَیْفَ لِیْ بِعَمَلِ ذٰلِکَ



Total Pages: 139

Go To
$footer_html