$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

مال میں صَدقہ ہے جِزیہ نہیں ۔ (الکامل فی التاریخ، ج۴، ص۳۲۱ ملتقطًا)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

نظامِ سلطنت کی بنیادخوفِ خدا پر تھی

            سیاسی کام عُمُوماً مصلحت اور ضَرورت کے تحت اَنجام دیئے جاتے ہیں لیکن حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیزکے نظامِ سلطنت کی بنیاد صِرف خوفِ خدا پر قائم تھی، وہ جو کچھ کرتے تھے خدا عَزَّوَجَلَّکے ڈر، قِیامت کی پکڑ اور موت کے خوف سے کرتے تھے ۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز مکّۂ مکرَّمہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماًحاضِر ہوئے ، جب واپَس آرہے تھے توگورنر سمیت کچھ لوگ اَلوداع کہنے کے لئے آپ کے ساتھ ساتھ تھے ، اسی دوران ایک شخص نے عَرض کی: اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  امیرالمومنین کو بھلائی سے نوازے ، مجھ پر ظُلم ہواہے اورمشکل یہ ہے کہ میں اسے بیان بھی نہیں کرسکتاکہ گورنر نے مجھ سے قسم لی ہوئی ہے ۔ آپ نے گورنرکومخاطب کرکے فرمایا:’’بڑے افسوس کی بات ہے تم نے اس سے قسم لے رکھی ہے ؟پھرآپ نے اس شخص سے فرمایا:’’اگرتم سچے ہوتوبلاخوف وخطرٹھیک ٹھیک بتاؤ ۔ ‘‘اس نے ڈرتے ڈرتے گورنر کی طرف اِشارہ کر کے عَرض کی: اس نے مجھ سے میرے مال کا 6000دِرہم میں سودا کرناچاہامگرمیں اتنی رقم پرفروخت کرنے پرآمادہ نہ تھا، اِسی دوران میرے ایک قرض خواہ نے اس کے پاس دعویٰ دائر کیا، اسے تو گویابدلہ چُکانے کاموقع مل گیااوراس نے پکڑکرمجھے جیل میں ڈال دیا، پھرجب تک میں نے اپنامال اسے تین ہزارمیں نہیں بیچا، اس نے مجھے رہا نہیں کیا اور اس نے مجھ سے شکایت نہ کرنے کی طلاق کی قسم لے رکھی ہے (یعنی اگرکبھی میں نے اس کی شکایت کی تو میری بیوی کو طلاق ہو) ۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے غصے سے گورنرکی طرف دیکھا، پھراپنے ہاتھ کی چھڑی اس کی آنکھوں کے درمیان نشان میں چبھوتے ہوئے فرمایا:’’تمہاری اس محراب نے مجھے فریب دیا ۔ ‘‘پھراس شخص سے فرمایا: جاؤ! تمہارا مال واپَس کیا جاتا ہے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۱۴)

گورنر نہیں بنوں گا

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کے پاس ان کے ایک گورنر کی کوئی شکایت پہنچی تو آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے اسے مکتوب روانہ کیا جس میں موت اور عذابِ نار کی یاد تھی ، اس نے جیسے ہی وہ مکتوب پڑھا ، طویل سفر کر کے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کی بارگاہ میں حاضِر ہوگیا ، جب آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے دریافت فرمایا: کیسے آنا ہوا؟عَرض کی: آپ کے مکتوب نے مجھے ہِلاکررکھ دیا ہے اب میں مرتے دم تک کبھی گورنر نہیں بنوں گا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۲۰)

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ ٰ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

ذمہ داران کو مختلف نصیحتیں

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے اپنے ذمّہ داران کو مَدَنی پھول دیتے ہوئے اِرشاد فرمایا:٭اپنی ذمہ داریوں کی بَجاآوری میں رب تعالیٰ سے ڈرواور اس کی گِرِفت میں تاخیر کی وجہ سے اس کی خُفیہ تدبیر سے بے خوف نہ رہو کیونکہ گرفت کرنے میں جلدی وہی کرتا ہے جو موت سے ہمکنار ہونے والا ہو (اور رب تبارک وتعالیٰ موت سے پاک ہے ) ٭جب تمہارے اِختیارات تمہیں لوگوں پر  ظُلم ڈھانے پر آمادہ کریں تو خود پر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کی قدرت کو یاد کر لیا کرو ۔ ٭ اِعْمَلْ لِلدُّنْیَا عَلٰی قَدْرِ مَقَامِکَ فِیْھَا وَاعْمَلْ لِلْاٰخِرَۃِ عَلٰی قَدْرِ مَقَامِکَ فِیْھَا یعنی دنیا کے لئے اُتنی تیاری کرو جتنا عرصہ دنیا میں رہنا ہے اور آخِرت کے لئے اتنی تیاری کرو جتنا وہاں رہنا ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۲۱)

امین کیسے ہوں

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے گورنر عدی بن اَرْطَاۃکولکھا:تمہارے امین درمیانے طبقہ کے لوگ ہونے چاہئیں کیونکہ وہ بہترین لوگ ہوتے ہیں نہ حق کوچھوڑتے ہیں نہ باطِل کماتے ہیں ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۴۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

یہ ہمارے لئے رشوت ہے

            ایک بار حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز نے دورانِ گفتگو سیب کی خواہش ظاہرکی ، ان کے خاندان کا ایک شخص اُٹھا اور اُن کی خدمت میں ایک سیب ہدیۃً بھیج دیا ۔ جب آدمی سیب لے کر آیا تو اس کو قبول تو نہیں کیا لیکن اخلاقاً فرمایا : جا کر کہہ دو کہ آپ کا ہدیہ قبول ہوا ۔ اس نے کہا :یہ تو گھر کی چیز ہے کیونکہ آپ کے رشتہ دار نے بھیجی ہے ، آپ کو معلوم ہے کہ رسولُاللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہدیہ قبول فرماتے تھے ۔ ‘‘ فرمایا: رسولُاللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے لئے ہدیہ بلا شبہ ہدیہ ہی تھا لیکن ہمارے حق میں رشوت ہے ۔ (تاریخِ دِ مشق، ج۴۵ ، ص۲۲۰)

سیبوں کے طباق

            مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1548صفحات پر مشتمل بین الاقوامی شہرت یافتہ  کتاب ’’فیضانِ سنت ‘‘ جلد اوّل کے صفحہ541پر ہے :حضرتِ سیِّدُنافُرات بن مسلِم علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الاکرم کا بیان ہے : ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کوسیب کھانے کی خواہِش ہوئی مگرگھرمیں کوئی ایسی چیزنہ ملی جس کے بدلے سیب خرید سکیں ۔ چُنانچِہ ہم ان کے ساتھ سُوارہوکرنکلے ۔ دیہات کی جانب کچھ لڑکے ملے جنھوں نے سَیبوں کے طَباق (تحفۃً پیش کرنے کیلئے ) اُٹھائے ہوئے تھے ۔ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے ایک طَباق اٹھاکر سُونگھا اور پھر واپَس کردیا ۔ میں نے ان سے اس بارے میں عَرض کی تو فرمایا ، مجھے اِس کی حاجت نہیں ۔ میں نے عَرض کی، کیاسیِّدُنارسولُ اللّٰہ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰ لہٖ وسلم ، سیِّدُناابوبکرصِدّیقِ اکبر اور سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما تُحفہ قَبو ل نہیں فرمایا کرتے تھے ؟ اِرشادفرمایا ، بِلاشُبہ یہ اُن کے لئے تَحائف ہی تھے مگران کے بعدکے عُمّال(یعنی حُکاّم یا ان کے نُمائندوں ) کے لئے رِشوت ہیں ۔              

(عمدۃ ُالقاری  ج ۹ص ۴۱۸)  

 



Total Pages: 139

Go To
$footer_html