$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

سِپہ سالار کے نام خط

            حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیرنے اپنے ایک لشکر کے سپہ سالار منصور بن غالب کے نام جو خط تحریر فرمایااس میں یہ بھی تھا:تمہیں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کے  حُکم سے جو حالت بھی پیش آئے اس میں تقویٰ کو لازِم پکڑلو کیونکہ تقویٰ سب سے بہتر سامان، سب سے عمدہ تدبیر اور سب سے بڑی قوت ہے ، اپنے رفقاء کے لئے کسی دشمن سے بچنے کا جس قَدَر اِہتِمام کرتے ہو اس سے کہیں بڑھ کر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی  نافرمانی سے بچنے کا اِہتِمام کرو کیونکہ میرے نزدیک گناہ دشمن کی سازشوں سے زیادہ خوفناک ہیں ، کسی انسان کی عَداوت سے بڑھ کر اپنے گناہوں سے ڈرو اوریہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رکھو کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی جانب سے تم پر فِرِشتے مقرر ہیں جو تمہارے تمام اَعمال کو لکھ رہے ہیں ، اپنے سفر و حَضَر میں ان سے حیا کرو اور انکی اچھی صحبت کا حق ادا کرو اور انہیں  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی نافرمانیوں سے اِیذا نہ دو ۔ اپنے نفس کے مقابلہ میں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ سے مدد کی اسی طرح دُعا کرو جس طرح تم اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کی دُعا کرتے ہو ۔ والسلام علیک ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۷۳)

تقویٰ بہترین توشہ ہے

            ایک بیان میں مَدَنی پھول لُٹاتے ہوئے فرمایا:ـدنیاتمہارے قیام کی جگہ نہیں ، یہ ایساگھرہے جس کے متعلِّق اللّٰہ تعالیٰ نے فَنَامقرر کردی ہے اوریہاں سے اس کے رہنے والوں پرکُوچ کرنافرض کردیا، بہت سے آباد کرنے والے یقیناعنقریب خراب کرنے والے ہیں اوربہت سے اقامت پذیر حِرص کرنے والے تھوڑی دیر بعد رختِ سفرباندھنے والے ہیں ۔ اللّٰہ تعالیٰ تم پررحم کرے ، اس جگہ سے جتناجلدہوسکے اچھا سفرکرو اور توشہ لے جاؤ، بہترتوشہ تقویٰ ہے ، دنیاتوہٹنے والے سائے کی طرح ہے جوتھوڑاچل کرختم ہوجاتاہے ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص ۳۲۵)

ہماری حیثیت زَرخرید غلام کی سی ہے

            حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیرنے عُمَّال (یعنی حکومتی  عہدیداران) کے نام تحریر فرمایا : اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کے بندے عمر امیرُ المُؤمنین کی طرف سے حکام کے نام ، اَ مَّا بَعْد ! میں تو صاحبِ سلطنت کی حیثیت اس زَر خرید غلام کی سی پاتا ہوں جسے آقانے اپنی زمین کی نگرانی پر مقرر کردیا ہو، اس پر لازِم ہے کہ وہ اس زمین کی اِصلاح کی ہر ممکن کوشِش کرے اگر وہ عمدہ کارکردگی دکھائے گا تو اچھے اَ جرکا مُستَحِق ہوگا ۔ پس تم اپنے آپ کو تمام معاملات میں اِسی مرتبہ میں سمجھو، اپنی پسند کے حصول اور ناپسند کے دَفع کرنے میں صَبر سے کام لو اور ہر پوشیدہ اور ظاہری معاملے میں اپنے نفس کو اس چیز پر مجبور کرو جس کے ذریعہ تمہیں اپنے پروردگارعَزَّوَجَلَّ  کے  یہاں نجات کی اُمّید ہوسکتی ہے ، یہاں تک کہ جب تم اپنی اس دنیا سے جُدا ہو اور ممکن ہے کہ یہ جُدائی بہت جلد ہوجائے تو نیکو کار اور مُستَحِق اَ جر ٹھہرو، اپنے گذشتہ زمانے کے  اَعمال کا محاسبہ کیا کروپھر ان میں جو ناپسندیدہ ہوں ان کی اِصلاح کرلو قبل اس کے کہ کسی دوسرے کو ان کی اِصلاح کرنا پڑے اور اس سلسلہ میں تمہیں لوگوں کی چہ میگوئیوں کا اندیشہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ جب اللّٰہعَزَّوَجَلَّ جانتا ہے کہ تم یہ کام اس کی خاطر  کررہے ہو تو اس پر دنیا میں پیش آنے والے خطرات سے وہ خود ہی تمہاری کفایت فرمائے گا، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے جس رِعایا کا تمہیں نگران بنایا ہے ان کے دین اور عزت  کے معاملات میں ان کے خیر خواہ بن کررہو، جہاں تک ممکن ہو ان کے عیوب کی پردہ پوشی کرو البتہ ایسی چیز جس کو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے ظاہر کردیا ہو اس کی پردہ پوشی تمہارے  لیے رَوا(یعنی جائز) نہیں ہوگی ۔ اپنی چاہت اور اپنے غصّہ کے وَقت ضبطِ نفس سے کام لو، تاکہ حتی الامکان وہ معاملہ بہتری اور خوش اسلوبی سے طے ہوجائے ، اور جب تم سے کوئی فیصلہ جلدی میں ہوجائے یا کسی معاملہ میں اپنی چاہت یا اپنے غصّہ کا دخل ہو تو اس فیصلے سے رجوع کرلیا کرو ۔ یہ نصیحتیں جو میں نے تم کو لکھی ہیں اپنی اِستطاعت کے مطابق حق سمجھ کر لکھی ہیں ، ہم اللّٰہعَزَّوَجَلَّ سے مدد چاہتے ہیں اور اس سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ا عمال کی اِصلاح فرمائے ۔ والسلام

حجاج کی روش سے بچنا

            گورنرعدی بن اَرطاۃکولکھاکہ مجھے یہ خبرملی ہے کہ تم حجاج بن یوسف کے طریقے کواپناتے ہو، اُس کی رَوِش اِختیارنہ کرناکیونکہ وہ نَمازاپنے وَقت میں نہیں پڑھتاتھا، ناحق زکوٰۃلیتاتھااوراس کے علاوہ کاموں کوزیادہ ضائع کرنے والاتھا ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص ۳۷۹)

یزید کو امیرالمؤمنین کہنے والے کو 20کوڑے مارے

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز اگرچہ خلیفہ کے انتخا ب کے متعلِّق اسلام کے نظام کو دوبارہ قائم نہ کرسکے اور انہیں مجبوراً سلیمان بن عبدالملک کی وصیت کے موافق اِس امانت کو یزید بن عبدالملک کے سِپُرد کرنا پڑا، تاہم وہ دل سے اس شخصی نظام کو پسند نہیں کرتے تھے ۔ شاید یہی وجہ تھی حضرتِ عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیزقاتلِ حسین ’’یزید پلید‘‘ کو خلیفہ نہیں تسلیم کرتے تھے ، چنانچہ ایک بار دورانِ گفتگوکسی نے یزید کو امیر المومنین کہا تو اس سے فرمایا:تم یزید کو امیرالمؤمنین کہتے ہو؟ پھر اسے 20کوڑے مارنے کا  حُکم دیا ۔ (تاریخ الخلفاء ص۱۶۶)

برائی کونہ روکنے کااَنجام

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے نیکی کی دعوت کی اہمیت اُجاگر کرتے ہوئے اپنے بعض گورنروں کو خط میں لکھا:’’امابعد!کبھی ایسانہ ہواکہ کسی قوم میں کوئی برائی ظاہر ہو اوراس قوم کے نیک لوگ اس پرروک ٹوک نہ کریں پھراللّٰہعَزَّوَجَلَّ  نے اس قوم کوکسی عذاب میں نہ پکڑاہو ۔ یہ عذاب کبھی براہِ راست اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کی جانب سے آتاہے اورکبھی بندوں کے ہاتھوں ظہور پذیرہوتاہے اورلوگ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کی گرفت اورسزاسے اسی وَقت تک محفوظ رہتے ہیں جب تک کہ اہل باطِل کودباکررکھاجائے اورگناہ علانیہ نہ ہونے پائیں ، لوگوں میں یہ صلاحیت ہوکہ جونہی کسی سے ارتکابِ حرام کاظہورہوفوراًاس کی روک تھام کریں ، لیکن جب حرام کاموں کااِرتکاب کھلے بندوں ہونے لگے اورمعاشرے کے نیک اورصالح افرادبھی روک ٹوک کرنے میں سُستی کریں توآسمان سے زمین پر عذابوں کانزول شروع ہوجاتاہے جو گنہگاروں اورتساہُل پسنددینداروں دونوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ، کیونکہاللّٰہعَزَّوَجَلَّ  نے قراٰن مجید فُرقانِ حمید میں جہاں ایسے  عذاب کاذِکرفرمایا، وہاں میں نے یہ نہیں سناکہ ایک کوہلاک کردیا ہو اورایک کو بچالیا ہو سوائے ان لوگوں کے جوبرائی سے روکتے تھے ۔ اگربالفرض اللّٰہعَزَّوَجَلَّ گنہگاروں کونہ توآسمانی عذاب سے پکڑے ، نہ



Total Pages: 139

Go To
$footer_html