$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

نَرمی کا فائدہ

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزفرمایا کرتے تھے : وَمَا رَفَقَ عَبْدٌ بِعَبْدٍ فِی الدُّنْیَا إِلاَّ رَفَقَ اللَّہُ بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِیعنی جو شخص دنیا میں دوسروں پر نَرمی کرتا ہے بروزِ قِیامت اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اس پر نَرمی فرمائے گا ۔ (سیرت ابن جوزی، ص۲۴۳)

’’نَرمی‘‘ کے چار حروف کی نسبت سے نَرمی کی فضیلت پر 4فرامینِ مصطفٰے صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

            {1}اِنَّ الرِّفْقَ لَا یَکُونُ فِی شَیْئٍ  اِلَّا زَانَہُ وَلَا یُنْزَعُ مِنْ شَیْء ٍ إِلَّا شَانَہُیعنی نَرمی جس چیز میں ہوتی ہے اُسے زِینت بخشتی ہے اور جس چیز سے نَرمی چھین لی جا تی ہے اسے عیب دار کردیتی ہے ۔ ‘‘(مسلم، کتاب البروالصلۃ، الحدیث۲۵۹۲ ، ص ۱۳۹۸)

            {2}اِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَ جَلَّ لَیُعْطِی عَلَی الرِّفقِ مَا لَا یُعْطِی عَلٰی الْخُرْقِ وَاِذَا اَحَبّ اللّٰہُ عَبْداً اَعْطَاہُ الرِّفْقَ مَا مِنْ اَہْلِ بَیْتٍ یُحَرَمُوْنَ الرِّفْقَ اِلَّا قَدْ حُرِمُوْا یعنیاللّٰہعَزَّوَجَلَّ  نَرمی پروہ اِنعا م عطافرماتا ہے جو جہالت وحَماقت پرعطانہیں فرماتا ہے اور جب اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کسی بندے سے محبت فرماتاہے تو اسے نَرمی عطا فرماتا ہے اورجو گھر نَرمی سے محرو م رہا وہ محرو م ہی ہے ۔ ‘‘

(المعجم الکبیر، مسند جریر بنعبداللّٰہ، الحدیث ۲۲۷۴، ج۲، ص ۳۰۶)

            {3} اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِمَنْ یَحْرُمُ عَلَی النَّارِ اَوْ بِمَنْ تَحْرُمُ عَلَیْہِ النَّارُ عَلَی کُلِّ قَرِیبٍ ہَیِّنٍ سَہْلٍیعنی سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمارصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں خبر نہ دوں جو جہنم پرحرا م ہے ، ( یایہ فرمایاکہ) جس پر جہنم حرام ہے ؟ جہنم ہر  نَرم خُو  نَرم دل اوراچھی خُو والے شخص پرحرا م ہے ۔ ‘‘ (ترمذی ، کتاب صفۃ القیامۃ، رقم باب ۴۵، الحدیث ۲۴۹۶، ج۴، ص۲۲۰)

            {4}مَنْ اُعْطِیَ حَظَّہُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ اُعْطِیَ حَظَّہُ مِنَ الْخَیْرِ وَمَنْ حُرِمَ حَظَّہُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ حُرِمَ حَظَّہُ مِنَ الْخَیْرِیعنی’’ جسے نَرمی میں سے حصہ دیا گیا اُسے بھلائی میں سے حصہ دیا گیااو رجو نَرمی کے حصے سے محرو م رہا وہ بھلائی میں سے اپنے حصے سے محرو م رہا ۔ ‘‘     (ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب فی الرفق، الحدیث ۲۰۲۰، ج۳، ص ۴۰۷)

ہے فلاح وکامرانی نَرمی وآسانی میں

ہر بنا کام بگڑ جاتا ہے نادانی میں

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد 

والدین کے نافرمان کے ساتھ تعلق نہ جوڑنا

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے ایک مرتبہ کسی کو نصیحت فرمائی:والدین کے نافرمان سے ہرگز دوستی نہ کرنا کیونکہ جس نے اپنے ماں باپ سے قَطع رحمی کی وہ تم سے کیونکر حُسنِ سُلُوک کرے گا؟(سیرت ابن جوزی ص۲۴۶)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس مَدَنی پھول میں والدین کے نافرمانوں کے لئے عبرت ہی عبرت ہے ، والدین کی فرمانبرداری کا اِنعام اور نافرمانی کا اَنجام ملاحظہ ہو، چنانچِہ

جنّت یا جَہَنَّم کا دروازہ

             سلطانِ دوجہان صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : ’’جس نے اس حال میں صُبح کی کہ اپنے ماں باپ کا فرمانبردار ہے ، اُس کیلئے صُبح ہی کو جنّت کے دو دروازے کُھل جاتے ہیں اور ماں باپ میں سے ایک ہی ہو تو ایک دروازہ کُھلتا ہے ۔ اورجس نے اِس حال میں شام کی کہ ماں باپ کے بارے میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کرتاہے اس کے لئے صُبح ہی کو جہنَّم کے دو دروازے کُھل جاتے ہیں اور (ماں باپ میں سے ) ایک ہوتو ایک دروازہ کھلتاہے ۔ ایک شخص نے عَرض کی: اگرچِہ ماں باپ اُس پر  ظُلمکریں ۔ فرمایا: اگر چِہ  ظُلم کریں ، اگرچِہ  ظُلم کریں ،  اگرچِہ  ظُلم کریں ۔ ‘‘   [1]؎    (شُعَبُ الْاِیمان  ج۶ ص۶ ۰ ۲ حدیث ۷۹۱۶ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

غفلت بھی ایک طرح سے نعمت ہے

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے فرمایا: اِنَّمَا جَعَلَ اللّٰہُ ہٰذِہِ الْغَفْلَۃَ فِیْ قُلُوْبِ الْعِبَادِ رَحْمَۃً کَیْلَا یَمُوْتُوْا مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰییعنی اللہتعالیٰ نے غفلت کو اپنے خائفین (یعنی خوف رکھنے والے بندوں ) کے دلوں کے لئے رحمت بنایا ہے تاکہ وہ خوفِ خدا سے مر ہی نہ جائیں ۔ (احیاء العلوم، ج۴ ص۲۲۸)

            حقیقی معنوں میں خوفِ خدا رکھنے والے کو کھانے پینے اور سونے میں لُطف آہی نہیں سکتا ، شاید اِسی وجہ سے ان کی توجُّہ کچھ دیر کے لئے دنیاوی کاموں کی طرف کر دی جاتی ہے ، اس مَدَنی پھول کی وضاحت اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکے فرمان سے بھی ہوتی ہے ، چنانچہ دعوتِ اسلامی کے  اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 561 صفحات پر مشتمل کتاب ’’ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ‘‘کے صفحہ496 پر ہے : اکابِر اولیاء پر بھی اَکل وشُرب و نَوم (یعنی کھانے ، پینے ، اور سونے ) کے وَقت ایک گونہ (یعنی چند لمحوں کے لئے ) غفلت دی جاتی ہے ورنہ کھانے پینے پر قادِر نہ ہوں ۔ (ملفوظات اعلیٰ حضرت ص ۴۹۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اِعترافِ ذَہانت

 



[1]    والدین کے حُقُوق کے بارے میں ضروری معلومات کے لئے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسالے ’’سمندری گنبد‘‘کا مطالعہ کیجئے ۔



Total Pages: 139

Go To
$footer_html