Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّؕ-ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ(۱۹) (پ۲۶، ق :۱۹)

ترجمۂ کنزالایمان:اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ ، یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا ۔

 تو آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔ فرمایا: پھر پڑھو، میرے بیٹے ! پھر پڑھو ۔ عَرض کی: کیا پڑھوں فرمایا: سورۂ ق پڑھو ۔ بیٹے نے پھر پڑھنا شروع کی یہاں تک کہ دوبارہ اِسی آیت پر پہنچے تو حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیززو ر زور سے رونے لگے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۱۷)

طَالب ِ   مغفِرت   ہوں  یااللّٰہ     بخش دے بہرِ مرتَضٰی یارب

                    کردے جنّت میں تو جَوار اُن کا     اپنے  عطّارؔ کو عطا یارب(وسائلِ بخشش ص۸۸)

(۴)  غلطی نکالنے کا ہوش تھا!

            قرآن مجید کو سن کرحضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز پر محویت کا عالم طاری ہوجاتا تھا ۔ ایک بار کسی شخص نے ان کے سامنے قرآن مجید کی ایک سورۃ پڑھی تو حاضرین میں سے ایک صاحب بول اٹھے کہ اس نے پڑھنے میں غلطی کی ہے ، حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے فرمایا کہ قرآن مجید سنتے وقت ان کو اِس کا ہوش تھا!(سیرت ابن جوزی ص۲۲۷ ملخصًا)

(۵)  تلاوت ہو تو ایسی ہو!

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے انتقال کے بعد ان کی زوجۂ محترمہ حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ بنت ِ عبدالمَلِک رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہا بہت زیادہ رویا کرتیں یہاں تک کہ اُن کی بینائی جاتی رہی ۔ ایک مرتبہ ان کے بھائی مَسلَمَہ اورہِشَام آئے اور کہا:’’ پیاری بہن! آخر آپ اتنا کیوں روتی ہیں ؟ اگر آپ اپنے شوہر کی جدائی پر روتی ہیں تو وہ واقعی ایسے مردِ مجاہد تھے کہ ان کے لئے رویا جائے ، اگر دُنیوی مال ودولت کی کمی رُلا رہی ہے تو ہم اور ہمارے اَموال سب آپ کے لئے حاضر ہیں ؟‘‘ حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ بنتِ عبدالمَلِکرحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہا نے فرمایا: ’’میں ان دونوں باتوں میں سے کسی پر بھی نہیں رو رہی ۔ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! مجھے تو وہ عجیب وغریب اوردَرد بھرا منظر رُلا رہا ہے جو میں نے ایک رات دیکھا ۔ اس رات میں یہ سمجھی کہ کوئی اِنتہائی ہولناک منظر دیکھ کرحضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی یہ حالت ہوگئی ہے اور آج رات آپ کا اِنتقال ہوجائے گا ۔ ‘‘بھائیوں نے تفصیل پوچھی توفرمایا :’’ میں نے دیکھا کہ وہ نَماز پڑھ رہے تھے ، جب قرا ء َت کرتے ہوئے اس آیت پر پہنچے :

یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ(۴) وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) (پ۳۰، القارعۃ:۴ ۔ ۵)

ترجمۂ کنزالایمان: :جس دن آدمی ہوں گے جیسے پھیلے پتنگے اورپہاڑ ہوں گے جیسے دُھنکی اُون ۔

             تویہ آیت پڑھتے ہی ایک زور دار چیخ مار کر فرمایا:’’ ہائے ! اس دن میرا کیا حال ہوگا ۔ ہائے ! وہ دن کتنا کٹھن ودشوار ہو گا ۔ ‘‘ پھر منہ کے بَل گر پڑے اورمنہ سے عجیب وغریب آوازیں آنے لگیں پھر ایک دم ایسے خاموش ہوگئے کہ مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں دَم نہ نکل گیا ہو!کچھ دیر بعد انہیں ہوش آیا تو فرمانے لگے : ’’ہائے ! اس دن کیسا سخت معاملہ ہوگا ۔ ‘‘اور آہ وزاری کرتے ہوئے بے قراری سے صحن میں چکرلگانے لگے اور فرمایا:’’ ہائے ! اس دن میری ہلاکت ہوگی جس دن آدمی پھیلے ہوئے پتنگوں کی طرح اورپہاڑ دُھنکی ہوئی اُون کی طرح ہو جائیں گے ۔ ‘‘ ساری رات ان کی یہی کیفیت رہی ۔ جب صبح فجرکی اَذانیں شرو ع ہوئیں تو دوبارہ گر پڑے ، اب کی بارتو میں سمجھی کہ روح پرواز کر گئی ہے مگر کچھ دیر بعد ان کو ہوش آ ہی گیا ۔ اتنا کہنے کے بعد   حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ بنت ِ عبدالمَلِک رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہا نے فرمایا:خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! جب بھی مجھے وہ رات یاد آتی ہے تو میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگتے ہیں باوجودکوشِش میں اپنے آنسونہیں روک پاتی ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۲۳)

خوف آتا ہے نارِ دوزخ سے     ہو کرم بہرِ مصطَفٰے یارب

میرا نازُک بدن جہنَّم سے        بہرِ غوث و رضا بچا یارب(وسائلِ بخشش ص۸۸)

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو

اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمارے بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِین خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے کس طر ح لَرزَاں وتَرساں رہا کر تے تھے ، بہت زیادہ عبادت ورِیاضت اور گناہوں سے حد درجہ دُوری کے باوجود وہ پاکیز ہ خصلت لوگ حَشرنَشر کے بارے میں کس قدر فکر مند رہتے تھے اور ایک ہم ہیں کہ اپنی آخرت اور حساب و کتاب کو بھولے بیٹھے ہیں ، نفس وشیطان کے بہکاوے میں آکر ہم نے گناہوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے ، گناہوں کے اِرتکاب پر ندامت نہ نیکیوں سے محرومی پر شرمندگی ، اے کاش! ان پاکیزہ ہستیوں کے صدقے ہمیں بھی اشکِ ندامت نصیب ہوجائیں ،   ؎

نَدامت سے گناہوں کا اِزالہ کچھ تو ہوجاتا

ہمیں رونا بھی تو آتا نہیں ہائے نَدامت سے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

امیرالمؤمنین کا خوفِ خدا

            دنیا میں اور بھی بہت سے عظیم المرتبت بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِین گزرے ہیں جن کا دل خشیتِ الہٰی سے لَرَزتا رہتا تھا لیکن حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکی اِنفِرادیت یہ ہے کہ جو مَنصَب ووَجاہت انسان کے دل کو سَخت کردیتاہے اُسی نے ان کے دل کو نَرم کردیا تھا ۔ عِزّت وحَشمَت انسان کو غافِل کردیتے ہیں لیکن حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز 



Total Pages: 139

Go To