Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

            ایک رات حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز سورۂ وَاللَّیْل پڑھ رہے تھے ، جب اس آیت پر پہنچے :

فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰىۚ(۱۴) ۳۰، اللیل :۱۴)

ترجمۂ کنزالایمان:تو میں تمہیں ڈراتا ہوں اس آ گ سے جو بھڑک رہی ہے ۔

تو روتے روتے ہِچکی بندھ گئی ، آگے نہیں پڑھ سکے ، نئے سِرے سے تِلاوت شروع کی، جب اس آیت پر پہنچے تو پھر وہی کیفیت طاری ہوئی اور آگے نہیں پڑھ سکے ، بالآخر یہ سورت چھوڑ کر دوسری سورت پڑھی ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۴۲)

 رونے والے کو جنّت ملے گی

             میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تِلاوت میں رونا اِس قَدَر پسندیدہ عمل ہے کہ سرکارِ مدینہ سُرورِ قلب وسینہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  اِسکی رغبت دِلاتے تھے ۔ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُناجَریر بن عبداللّٰہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے ، نبیوں کے سَرْوَر، مدینے کے تَاجْوَر، محبوبِ ربِّ اکبرصلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ہم سے فرمایا: ’’میں تمہارے سامنے سورۃُ التَّکاثُر پڑھتا ہوں تم میں سے جو روئے گا وہجنّتمیں داخِل ہو گا ۔ چُنانچِہ سرکارِ مدینہصلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے اِسے پڑھا ۔ ہم میں سے کچھ تو روئے اور کچھ نہ روئے ، جو نہیں رو سکے تھے اُنہوں نے عَرْض کی: یَارَسُولَ اللّٰہصلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم! ہم نے رونے کی کوشِش کی مگر نہ روسکے ۔ آپصلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اِنِّی قَارِئُہَا عَلَیْکُمْ الثَّانِیَۃَ فَمَنْ بَکَی فَلَہ ٗالْجَنَّۃَ ، وَمَن لَّمْ یَقْدِرْ اَن یَّبْکِیَ فَلْیَتَبَاکَیعنی میں تمہارے سامنے اِسے دوبارہ پڑھتا ہوں جو روئے گا اُس کے لئے جنّت ہو گی اور جو نہ رو سکے وہ رونے کی سی شکل ہی بنالے ۔  (در منثور ج۸، ص۶۱۰)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سورۃُُالتَّکاثُرمیں غفلت کے ساتھجَمْعِ مال  کی حَوصلہ شکنی اور قَبْرو جہنَّم کا ہولناک تذکِرہ ہے ۔ کاش! اس کو پڑھ سُن کر ہم گنہگار بھی رو دیا کریں ۔

رونے کا طریقہ

            حضرت سَیِّدُنا عبدُاللّٰہ بنِ عبّاس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں : ’’جب آیتِ سَجدہ پڑھو سجدہ کرنے سے پہلے رو ؤ، اگر تم میں سے کسی کی آنکھ نہ روئے تو دِل کو رونا چاہئے ۔ (تفسیر کبیر7/551) بَتَکلُّف رونے کا طریقہ یہ ہے کہ عالَمِ اَرواح میں کئے ہوئے اپنے عَہد(کہ میں نافر مانی نہیں کروں گا) کو یاد کرے اور بَدعَہدی کی صورت میں قرآنِ پاک میں وارِد ہونے والی عذاب کی وَعِیدوں کو تصوُّر میں لائیں ۔ اُ سکے اَحکامات اور اپنی نافرمانیوں پر غورکریں اس سے امّید ہے دل میں غم کی کیفیّت پیدا ہوگی ۔ اگر دِل بَہُت زیادہ سَخت ہے کہ اس طرح بھی رونا نہ آئے تو پھر اپنے دِ ل کی سَختی پر روئے ۔    ؎

    نَدامت سے گناہوں کا اِزالہ کچھ تو ہوجاتا       

مجھے رونا بھی تو آتا نہیں ہائے نَدامت سے

             دورانِ تلاوت اگر کوئی خوف کی آیت آتی توحضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز گریہ وزاری کرتے ، اگر رحمت کی آیت آتی تودعا کرتے ۔ جب اُن آیتوں کو پڑھتے تھے جن میں اَحوالِ قیامت کا ذِکر ہوتا تو بے ساختہ رو پڑتے ، بعض اوقات توبے ہوش ہوجایاکرتے تھے ۔ ایسی ہی مزید5 حکایات ملاحظہ ہوں ، چنانچِہ

(۱)  آنسوؤں کی جھڑی

            حضرت سیدتنا اسماء بنت ابوبکر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما کے غلام ابوعمر کا بیان ہے کہ جب حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزگورنر تھے میں جدّہ سے ان کے لئے تحائف لے کر مدینۂ منوَّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً وَّ تَکْرِیماً  پہنچا تو وہ فجر کی نَماز ادا کرنے کے بعد مسجد ہی میں موجود تھے اور گود میں قراٰن پاک لئے تلاوت کررہے تھے اور ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی تھی ۔ (سیرت ابن جوزی۴۲)

فلموں سے ڈِراموں سے عطاکردے تُو نفرت

بس شوق مجھے نعت و تلاوت کا خدا دے (وسائل بخشش ص ۱۰۵)

(۲)  دھاڑیں مار مار کر رونے لگے

            ایک شخص نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزکے پاس پارہ 18سورۂ فُرقان کی آیت 13پڑھی:

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ(۱۳) (پ۱۸، الفرقان :۱۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب اس کی کسی تنگ جگہ میں ڈالے جائیں گے زنجیروں میں جکڑے ہوئے تو وہاں موت مانگیں گے ۔

توآپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہدھاڑیں مار مار کر رونے لگے ، آخرِ کار وہاں سے اٹھے اور گھر میں داخِل ہوگئے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۱۷)

کاش  لَب پر مِرے رہے جاری             ذِکْرْ آٹھوں  پَہَرتِرا  یا رب

چشمِ  تَر  اور قلْبِ مُضْطَردے                اپنی اُلْفت کی مَے پِلا یارب

(۳)  بیٹے سے تلاوت سُنی

                ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے اپنے بیٹے سے فرمایا: بیٹا !قرآن پاک سناؤ ۔ عَرض کی : کیا پڑھوں ؟ فرمایا:’’سورۂ ق ۔ ‘‘بیٹے نے پڑھنی شروع کی جب وہ اس کی آیت19 پر پہنچے :

 



Total Pages: 139

Go To