$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

مہمان خانے سے تم کوئی چیز نہ کھانا، اس کا کھانا صر ف مسافروں اور غرباء وفقراء کے لئے ہے ۔ ایک مرتبہ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ گھر آئے تو  کنیز کے ہاتھ میں ایک پیالہ دیکھا جس میں چند گھونٹ دودھ تھا ۔ پوچھا : ’’یہ کیا ہے ؟‘‘ کنیز نے عَرض کی :’’یاامیرَالمُؤمنین !  آپ کی زوجہ محترمہ حامِلہ ہیں ، انہیں چند گھونٹ دودھ پینے کی خواہش ہو رہی تھی اور جب حاملہ عورت کو وہ چیز نہ دی جائے جس کی اسے خواہش ہو تو اس کا حَمل ضائع ہو نے کا ڈر ہوتا ہے ، لہٰذا اسی خوف سے میں یہ تھوڑا سا دودھ مہمان خانے سے لے آئی ہوں ۔ ‘‘ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے بآوازِبلند فرمایا: ’’ اگر اس کا حَمل فقیروں ، محتاجوں اور مسافروں کا حق کھائے بغیر نہیں ٹھہر سکتا تواللّٰہ تبارک وتعالیٰ اسے نہ روکے ۔ ‘‘ پھر کنیز کو ساتھ لیا اور اپنی زوجۂ محترمہ کے پاس پہنچے ، وہ آپ کا یہ اَنداز دیکھ کر حیران وپریشان ہو گئیں اور عَرض کی:’’ میرے سَرتاج! کیا بات ہے ؟‘‘آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا:’’ اِس کنیز کا یہ خیال ہے کہ جو تیرے پیٹ میں  حَمل ہے وہ مسکینوں ، محتاجوں اورمسافروں کا حق کھائے بغیر نہیں رُک سکتا ، اگر یہی بات ہے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تیرے   حَمل کونہ روکے ۔ ‘‘ سعادت مندزوجہ نے جب یہ سنا تو کنیز سے کہا:’’ جاؤ!یہ دودھ واپس لے جاؤ، خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں اسے ہر گز نہ چکھوں گی ۔ ‘‘ چنانچہ کنیز دودھ کا پیالہ واپس لے گئی ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۲۹۵)

            سُبْحٰنَ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ! جن کی حکومت کے ڈَنکے عَرَب وعجم میں بج رہے تھے ، ان کے گھر والو ں کی مالی کیفیت کیا تھی؟ اسلام کے وہ پاسبان کیسے دِیانت دار تھے کہ بھوکا پیاسا رہنا منظور تھا لیکن کسی کے حق میں سے ایک گھونٹ لینے کو بھی تیار نہ تھے ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ایسے خلفاء کے صدقے ہمیں بھی دِیا نت ، اِخلاص اور اپنا خوف عطا فرمائے ۔ اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(۱۵)  شہد بیچ ڈالا

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کو شہد بہت پسند تھا ۔  ایک بار ان کی زوجہ محترمہ نے ایک آدمی کوشہد لینے بھیجا ، وہ ڈاک کی سواری پر گیا اوردو دینار کا شہد خرید لایا ۔ جب شہد حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکے سامنے آیا اور سارا واقعہ معلوم ہوا تو آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے اس کو فر وخت کر ڈالا اور دو دینار واپس لے کر بقیہ قیمت بیت المال میں داخل کردی اورفرمایا: تم نے مسلمانوں کے جانور کو’’ عُمَر‘‘ کے لیے تکلیف دی !دوسری روایت میں ہے کہ آپ  رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے فرمایا :’’ اگر مسلمانوں کو میری قَے سے فائدہ پہنچ سکتا تو میں  کردیتا ۔ ‘‘(سیرت ابن جوزی ص۱۸۸)

(۱۶)  یہ گوشت تم ہی کھا لو

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے اپنے غلام کوگوشت کاایک ٹکڑابُھوننے کے لئے روانہ کیا ۔ وہ جلدہی واپس آگیا، آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے اس سے فرمایاتم نے اتنے جلدی کیسے کی؟اس نے کہامیں نے یہ گوشت  مَطبَخ (باورچی خانہ) میں بُھوناہے (اس جگہ مسلمانوں کاایک مطبخ تھاجس میں صبح شام ان کا کھانا پکتا تھا) ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے غلام سے فرمایا:اب یہ ساراکھانا تم ہی کھالو ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص ۳۲۴)  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

خلافت سے پہلے کی آسائشیں اور بعد کی آزما ئشیں

            چونکہ حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے والدکے پاس دولت و ثَروَت کی فَراوانی تھی لہٰذا آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ کی پَروَرِش نازو نِعَم اور عیش وآرام کے ماحول میں ہوئی، جس کا اثر خلیفہ بننے تک قائم رہا ۔ آرائش وزَیبائش میں کوئی آپ کا ہَمسَر نہیں تھا، یوں لگتا تھا کہ دنیا کی ساری نعمتیں اور آسائشیں آپ پر نچھاور کردی گئی ہیں ۔ خوش لِباسی، خوش گُفتاری اور رہن سہن میں آپ کا ذوق بڑا بلند تھا، عہدِ شَباب میں اچھے سے اچھا لباس پہنتے ، دن میں کئی بارپَوشاک تبدیل کرتے ، خوشبو کو بے حد پسند کرتے ، ان کے لئے خصوصی طور پر خوشبو تیار کی جاتی جس میں کثرت سے لَونگ ڈالی جاتی تھی، جس راہ سے گزرتے فضا مہک جاتی، داڑھی پر نمک کی طرح عنبر چھڑکتے تھے ۔ جس محفل میں بیٹھ جاتے ایسا لگتا گویا مشک وعنبر میں  غُسل کرکے آئے ہیں ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۷۹ملخصا)  

اخلاقی برائیوں سے کَوسوں دور تھے

          حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکے نازواَنداز اور ان ظاہِری علامات کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ خلیفہ بننے کے بعد ان کی زندگی میں بہت بڑا اِنقلاب آنے والا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس قدر نازونِعَم میں پلنے کے باوجود حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزاَخلاقی بُرائیوں سے کَوسوں دور تھے حتی کہ آپ کے حاسِدین بھی آپ پر دو ہی الزام لگا سکے : ایک نعمتوں کو فَراوانی سے استعمال کرنے کا اور دوسرا مغروروں کی سی چال چلنے کا ۔ (تاریخِ دمشق ، ج۴۵ ص۱۳۸)

عُمری چال

            پہلے پہل حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز ناز وخِرام کی ایک مخصوص چال چلا کرتے تھے ، جو انہی کی نسبت سے ’’عُمری چال‘‘مشہور ہوگئی حتّٰی کہ نوعمر دوشیزائیں اس چال کو سیکھنے کی کوشش کیا کرتی تھیں ، چلنے کے دوران آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی چادر زمین کی جارُوب کشی کیا کرتی تھی ، اگر کبھی جوتے میں پھنس جاتی تو اسے زور سے کھینچ کر پھاڑ دیتے مگر جوتا اُتارنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے تھے ، اگر سواری کی حالت میں کبھی جوتا پاؤں سے نکل کر گر جاتا تو اس کی پرواہ نہیں کرتے تھے ، اگر کوئی خادِم لا کر دوبارہ پیش بھی کردیتا تو اسے ڈانٹ دیتے تھے ۔ لیکن جب آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے مَسنَدِ خلافت کو رونق بخشی تو چلنے کے اِس انداز سے پیچھا چھڑانے کی بہت کوشش کی مگر مکمل طور پرکامیاب نہ ہو سکے ۔ بَسا اوقات اپنے غلام  مُزاحِم کو تاکید کرتے کہ جب کبھی مجھے ’’عُمری چال‘‘ چلتے ہوئے دیکھو تو یاد دِلا دینا ، پھر جب وہ عَرض کرتے تو آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فوراً سنبھل جاتے مگر بعد میں وہی چال چلنے لگتے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۲۲)

لوہے کی زنجیریں

            ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز مسجِدکی طرف جارہے تھے ، راستے میں آپ پرانی عادت کے مطابق ہاتھ ہِلا ہِلا کر چل رہے تھے ، اچانک آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے اپنے ہاتھوں کو روکا اور رونا شروع کردیا ، کسی نے رونے کی وجہ دریافت کی تو فرمایا: میں گھبراگیا تھا کہ کہیں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ میرے اِس طرح چلنے کی وجہ سے بروزِ قیامت ان ہاتھوں میں لوہے کی



Total Pages: 139

Go To
$footer_html