Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

کھجوریں کھاکر اس پر پانی پی لے تو کیا خیال ہے یہ رات تک اس کے لئے کافی ہوگا؟ چونکہ کھجوریں بہت کم تھیں اس لئے میں نے  عَرض کی:مجھے صحیح اندازہ نہیں ، میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ اس پر آپ نے چُلُّو بھرکھجوریں اٹھائیں اورپوچھا:اب کیا خیال ہے ؟ اب چونکہ مِقدار زیادہ تھی اس لئے میں نے کہا: یاامیرَالمُؤمنین ! اس سے کچھ کم مقدار بھی کافی ہوسکتی ہے ۔ کچھ توقُّف کے بعد فرمایا: پھر انسان اپنا پیٹ کیوں نارِ جہنَّم (یعنی حرام) سے بھرتاہے ؟ یہ سن کر میں کانپ اٹھا کیونکہ ایسی نصیحت مجھے پہلے کبھی نہیں کی گئی ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۳۴)

دورانِ بیان رونے لگے

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز ایک بار بیان کے لئے کھڑے ہوئے ، ابھی اتنا ہی فرمایا تھا :’’یٰاَ یُّھَا النَّاس! (یعنی اے لوگو!) ‘‘ کہ روتے روتے آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکی ہچکی بندھ گئی، کچھ سکون ہوا تو فرمایا :’’ اے لوگو! ‘‘ لیکن پھر ہچکی بندھ گئی اور کچھ نہ بول سکے ، جب کچھ اِفاقہ ہوا تو فرمایا:’’ اے لوگو! جس آدمی نے اس حالت میں صبح کی ہو کہ اس کے آباؤاَجداد میں سے کوئی بھی زندہ نہ ہو، وہ یقیناً موت کے منہ میں ہے ، اے لوگو! تم دیکھتے نہیں کہ تم ہلاک ہونے والوں کا چھوڑا ہوا سامان استعمال کرتے ہو اور مرنے والوں کے گھروں میں رہتے ہو، دُنیا سے کُوچ کرجانے والوں کی زمینوں پر قابِض ہو ، کل وہ تمہارے پڑوسی تھے اور آج وہ قبروں میں بے نام و نشان پڑے ہیں ، کسی کی روح قیامت تک اَمن اور چین میں ہے اور کسی کی رُوح قیامت تک مبتلائے عذاب ہے ۔ دیکھو! تم ان کو اپنے کندھوں پر لاد کر لے گئے اور زمین کے پیٹ (یعنی قبر) میں ڈال آئے جب کہ اس سے پہلے وہ دنیا کی  عَیش و عِشرَت اور نازو نعمت میں مَگَن تھے ، اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُون، اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُون، ‘‘پھر فرمایا:’’واللّٰہ !میری خواہش ہے کہ اِصلاح کا آغاز مجھ سے اورمیرے خاندان سے ہو، تاکہ ہماری اور تمہاری مَعِیشَت (یعنی مالی حیثیت) برابری کی سطح پر آجائے ، واللّٰہ! اگر مجھے اس کے علاوہ کوئی بات کہنی ہوتی تو اس کے لیے خوب زبان چلتی ۔ ‘‘یہ کہہ کر آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے چادر چہرے پر ڈال لی اور بچوں کی طرح بِلک بِلک کر رونے لگے ، آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکا یہ اَنداز دیکھ کر حاضِرین پر بھی رِقَّت طاری ہوگئی اور وہ بھی آپ کے ساتھ رونے لگے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۱۲)

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو

اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

یہ دل گورِ تِیرہ سے گھبرا رہا ہے             پئے مصطفٰے جگمگا یاالٰہی

بقیعِ مبارک میں تدفین میری                 ہو بہرِشہِ کربلا یاالٰہی

تُو عطارؔ کو چشمِ نَم دے کے ہر دم

             مدینے کے غم میں رُلا یاالٰہی(وسائل بخشش ص ۸۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

تقویٰ وپرہیزگاری

            تقویٰ کی بنیاد یہ ہے کہ اپنے نفس کواللّٰہعَزَّوَجَلَّکی نافرمانی سے بچایا جائے ۔ کُفر و شِرک سے ، صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے ، ظاہِری و باطِنی نافرمانیوں اور بُری خصلتوں سے بچنا سب تقویٰ میں داخل ہے ۔ شَہَنشاہِ اَبرار ، متقیوں کے سردارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا فرمانِ مشکبارہے : کوئی بندہ اُس وقت تک مُتَّقِینمیں شمار نہیں ہو گا جب تک کہ وہ بے ضَرَر(یعنی نقصان نہ دینے والی ) چیز کو اِس خوف سے نہ چھوڑ دے کہ شاید اس میں ضَرَر (یعنی نقصان) ہو ۔ (تِرمِذی ج۴ ص۲۹۴، الحدیث ۲۴۵۹ ) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بعض چیزیں بظاہِر جائز ہوتی ہیں لیکن شُبہے سے خالی نہیں ہوتیں ان  سے بچنا بھی تقویٰ ہی ہے اور یہ وَصف حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز میں بَدرجۂ اَتم موجود تھا، ایسی 16 حِکایات ملاحظہ ہوں ، چنانچِہ

(۱)  شاہی گھوڑے بیچ دئیے

             اَصطَبَل کے نگران نے شاہی گھوڑوں کے لئے گھاس اور دانے وغیرہ کا خَرچ طَلَب کیا توحضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے فرمایا:’’ ان گھوڑوں کو بیچنے کے لئے شام کے مختلف شہروں میں بھیج دواور ان کی قیمت میں ملنے والی رقم بیت المال میں جمع کر دی جائے ، میرے لئے میرا خچر ہی کافی ہے ۔ ‘‘(تاریخ الخلفاء ، ص ۲۳۴)

(۲)  بیت المال کا گرم پانی

             ایک غلام گرم پانی کا برتن لے کر آتا اور حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز اس سے وُضو کرلیتے ۔ ایک دن آپ کی توجُّہ ہوئی تو غلام سے فرمایا: ’’غالباً تم یہ لوٹا مسلمانوں کے مَطبَخ (یعنی کچن) میں لے جاتے ہو اور وہاں آتَش دان کے پاس رکھ کر گرم کرلیتے ہو؟‘‘ عَرض کی:’’ جی ہاں !‘‘ فرمایا: ’’تم نے گڑ بڑ کر دی ۔ ‘‘پھر’’ مُزاحِم‘‘ سے فرمایا :’’ یہ برتن بھر کر گرم کرو اور دیکھو اس میں کتنااِیندھن صرف ہوتا ہے ، پھر ان تمام دنوں کا حساب کرکے اتنا اِیندھن  مَطبَخ میں داخل کرو ۔ ‘‘(سیرت ابن عبدالحکم ص۴۰)

(۳)  سخت سردی کی ایک رات

            اِسی طرح ایک مرتبہ سخت سردی کی رات میں حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیرکو غُسلکی حاجت ہوئی، خادم نے پانی گرم کرکے پیش کیا، دریافت فرمایا :’’کہاں گرم کیا ہے ؟ ‘‘عَرض کی :’’ مَطبَخِ عام میں ۔ ‘‘ فرمایا:’’ پھر اسے اُٹھالو ۔ ‘‘ اور ٹھنڈے پانی سے  غُسلکرنے کا اِرادہ فرمایا مگرکسی نے عَرض کی: ’’یاامیرَالمُؤمنین ! میں آپ کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا واسطہ دیتا ہوں ، اپنی ذات پر رحم کیجئے ، اگر  مَطبَخ کا گرم شدہ پانی اپنے لیے جائز نہیں سمجھتے تو اس کی قیمت لگا کر بیت المال میں داخل کردیجئے ۔ ‘‘چنانچہ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہنے پہلے بیت المال میں قیمت جمع کروائی پھر  غُسلکیا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۴۰)

(۴)   بیت المال کے مال سے بنے مکانوں میں ٹھہرناگوارا نہیں کیا

            حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیر ایک مرتبہ خُنَاصِرہ تشریف لے گئے تو وہاں پر بنے ہوئے مکانات میں ٹھہرنا پسند نہیں کیا کیونکہ وہ اگلے خلفاء نے بیت المال کے مال سے



Total Pages: 139

Go To