Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

ایسی بات کہوں جو آج آپ کو ناپسند اور کل پسندیدہ ہو، ورنہ ’’امیرُ المؤمنین‘‘ سمجھ کر ایسی گفتگو کروں جو آج آپ کو محبوب اور کل مَبغُوض(یعنی ناپسند) ہو؟ فرمایا:کَلِّمْنِیْ وَاَنَاعُمَرُ فِیْمَا اَکْرَہُ الْیَوْمَ وَاُحِبُّ غَدًا  یعنی مجھے ’’عُمَر‘‘ سمجھ کر وہی بات کہو جو آج مجھے ناپسند اور کل پسند ہو ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۰۲)

(۸)  تعریف کرنے والے کو جواب

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعزیزخاکساری کی وجہ سے مَدَّاحی(یعنی تعریف وتوصیف) کو پسند نہیں فرماتے تھے ، چنانچہ ایک بار کسی شخص نے ان کے سامنے ان کی تعریف کی تو فرمایا:لَوْعَرَفْتَ مِنْ نَفْسِیْ مَااَعْرِفُ مِنْھَا مَانَظَرْتَ فِیْ وَجْھِیْ یعنی جو کچھ میں اپنے بارے میں جانتا ہوں اگر تمہیں معلوم ہوجائے تو میرا چہرہ دیکھنا بھی پسند نہ کرو ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۰۶)

(۹)  ’’خلیفۃُ اللّٰہ‘‘ کا مِصداق

            ایک شخص نے حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کو’’ یا خلیفۃَ اللّٰہ فِی الْاَرْضِیعنی اے زمین میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے خلیفہ‘‘ کہہ کر پکاراتو فرمایا : دیکھو ! جب میں پیدا ہوا تو والدین نے میرے لئے ایک نام منتخب کیا چنانچہ میرا نام ’’عُمَر‘‘ رکھا اگر تم مجھے ’’یا عُمَر‘‘ کہہ کر پکارتے تو میں جواب دیتا، پھر جب میں بڑا ہوا تو میں نے اپنے لیے ایک کنیت’’ابوحَفْص‘‘ پسند کی اگر تم ’’ابوحَفْص‘‘ کی کنیت سے مجھے بلاتے تو بھی میں جواب دیتا ، پھر جب تم لوگوں نے امرِ خلافت میرے سپرد کیا تو تم نے میرا لَقَب ’’امیرُ المؤمنین‘‘ رکھا اگر تم مجھے ’’امیرُ المؤمنین‘‘ کے لَقَب سے مخاطب کرتے تب بھی مُضَایَقہ نہیں تھا، باقی رہا’’ خلیفۃُ اللّٰہ فِی الْاَرْض‘‘ کا خطاب ! تو میں اس کا مِصداق نہیں ہوں ، ’’ خلیفۃُ اللّٰہ فِی الْاَرْض‘‘ توحضرتِ سیِّدُنا داوٗد عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اور ان جیسے دوسرے حضرات تھے ۔ پھر آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے پارہ 23سورۂ ص کی آیت 26پڑھی:

یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ    (پ۲۳، ص:۲۶)

ترجمۂ کنزالایمان:اے داؤد بیشک ہم نے تجھے زمین میں نائب کیا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۴۶)

(۱۰)  اسلام نے مجھے فائدہ دیا ہے

            ایک شخص نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزسے کہا: اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اسلام کی خدمت کرنے پر آپ کو جزائے خیر دے ۔ مگر آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے فرمایا: نہیں ! بلکہ یوں کہوکہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ   مجھے فائدہ دینے پر اِسلام کو جزا دے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۰۶)

(۱۱)  شان وشوکت کے اِظہار کی مُمَانَعَت

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزکے کاتب کا بیان ہے کہ اَحکام وفَرامِین جاری کرتے وقت آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ مجھے ہمیشہ تاکید فرمایا کرتے تھے کہ میں اَحکام وفرامین میں ان کی شان وشوکت اور عظمت ورِفعَت کا اِظہار بالکل نہ کروں ۔ (تاریخ الخلفاء ص۱۹۱)

(۱۲)   مجلس برخاست کرنے کا معمول

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کوتنہائی درکار ہوتی اور حاضِرین مجلس کو اٹھانا چاہتے تو حکم دینے کے انداز میں یہ نہیں کہتے تھے کہ اٹھ جائیے  بلکہ یہ فرمایا کرتے : ’’اِذَا شِئْتُمْ یعنی جب آپ چاہیں ! اللّٰہ آپ پر رحم فرمائے ۔ ‘‘لوگ اس اِشارے کوسمجھ جاتے اور وہاں سے اٹھ جاتے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۷۶)

(۱۳)  جب سلام کرنا بھول گئے

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیزایک بار چند لوگوں کے پاس بغیر سلام کئے بیٹھ گئے ۔ جب آپ کو یاد آیا تو اُٹھ کر پہلے سب کوسلام کیا پھر تشریف فرما ہوئے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص ۶۴)

          میٹھے میٹھے اسلا می بھا ئیو ! سلا م کر نا ہمارے پیا ر ے آقا، تا جدا ر مد ینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی بہت ہی پیار ی سنت ہے (بہارِ شریعت ، حصہ ۱۶، ص۹۸) حضرت ابوہُریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مَروِی ہے ، کہ حضورِ اکرم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا :’’ تم جنت میں داخل نہیں ہوگے جب تک تم ایمان نہ لاؤ اور تم مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ تم ایک دوسرے سے محبت نہ کرو ۔ کیا میں تم کو ایک ایسی چیز نہ بتاؤں جس پر تم عمل کرو تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو ۔ اپنے درمیان سلا م کو عام کرو ۔ ‘‘(سنن ابی داؤد ، کتاب الادب ، باب فی افشاء السلام، الحدیث ۵۱۹۳، ج۴، ص۴۴۸)

                بعض اسلامی بھائی جب آپس میں ملتے ہیں تو اَلسَّلَا مُ عَلَیْکُمْ سے ابتدا کرنے کے بجائے ’’آداب عرض‘‘ کیا حال ہے ؟’’ مِزاج شریف ‘‘ صبح بخیر‘‘’’شام بخیر ‘‘وغیرہ وغیرہ عجیب وغریب کلمات سے اِبتداء کرتے ہیں ، یہ خلافِ سنت ہے ۔ رُخصت ہوتے وقت بھی ’’خدا حافظ‘‘’’گڈبائی‘‘’’ٹاٹا‘‘وغیرہ کہنے کے بجائے سلام کرنا چاہئے ۔ ہاں رخصت ہوتے ہوئے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْکے بعد اگر خدا حافظ کہہ دیں تو حرج نہیں ۔ سلام کے بہترین الفاظ یہ ہیں ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ  یعنی تم پر سلامتی ہواور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی طر ف سے رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ۔ (ماخوذ از فتاویٰ رضویہ، ج۲۲، ۴۰۹) چھوٹا بڑے کو ، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو ، تھوڑے زیادہ کو اور سوار پیدل کوسلام کرنے میں پہل کریں ۔ سر کارمدینہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے : سوار پیدل کو سلام کرے ، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو ، اور تھوڑے لوگ زیادہ کو ، اور چھوٹا بڑے کو سلام کرے ۔ (صحیح مسلم، کتاب السلام، باب یسلم الراکب علی الماشی والقلیل علی الکثیر ، الحدیث۲۱۶۰، ص۱۱۹۱)

          ہزاروں سنّتیں سیکھنے کے لئے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ دو کُتُب (۱) 312 صَفحات پرمشتمل کتاب بہارِ شریعت حصّہ 16 اور(۲) 120 صَفحات کی کتاب ’’سنَّتیں اور آداب‘‘ہدِیَّۃً حاصِل کیجئے اور پڑھئے ۔ سنَّتوں کی تربیّت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر بھی ہے ۔

لوٹنے رَحمتیں قافلے میں چلو                                         سیکھنے سنّتیں قافلے میں چلو

ہوں گی حل مشکلیں قافلے میں چلو                                        ختم ہوں شامتیں قافِلے میں چلو

 



Total Pages: 139

Go To