$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

کاآپصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمسے وعدہ کیا گیا ہے وہ ضرور آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمکو ملتا، لیکن ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمجانتے تھے کہ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کویہ دنیانا پسند ہے لہٰذا آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمنے بھی اس کو قَبول نہ فرمایا، جب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں اس کی کوئی وُقعت نہیں تو حضورصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمنے بھی اس کو کوئی وُقعت نہ دی ، اگر آپصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّماسے قبول فرما لیتے تو لوگوں کے لئے دلیل بن جاتی کہ شاید آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّماس سے محبت کرتے ہیں ، لیکن آپصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمنے اسے قبول نہ فرمایا، کیونکہ یہ کیسے ہوسکتا ہے ایک شے اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں ناپسند ہو اورآپصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّماسے قبول فرمالیں ۔ یاامیرَالمُؤمنین ! موت سے پہلے جتنی نیکیاں ہوسکتی ہیں کر لیجئے ورنہ بوقت ِنزع فائدہ نہ ہوگا، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  ان نصیحت آموز باتو ں سے ہمیں اور آپ کو خوب نفع عطا فرمائے ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  آپ کو اپنی حفظ وامان میں رکھے ۔ والسَّلام   (عیون الحکایات ص۹۹مُلخصًا)

دنیا کی مذمت پرچاراحادیثِ مبارکہ

                 دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ50 صفحات پر مشتمل رسالے ’’جنتی محل کا سودا‘‘کے صفحہ 35پر ہے :

{1} دنیا کے لئے مال جمع کرنے والے بے عقل ہیں

            اُمُّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہ ، طیِّبہ ، طاہِرہ، عابِدہ، زاہدہ، عفیفہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے کہ نبیِّ اکرم، رسولِ مُحتَشَم، سراپا جودو کرم، تاجدارِ حَرم، شَہَنْشاہِ اِرَم  صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا فرمانِ عِبرت نشان ہے :’’اَلدُّنْیَا دَارُ مَنْ لَا دَارَ لَہُ وَمَالُ مَن لَا مَالَ لَہ ٗوَلَہَا یَجْمَعُ مَنْ لَا عَقْلَ لَہ ٗ یعنی دُنیا اُس کا گھر ہے جس کا کوئی گھر نہ ہو اور اُس کا مال ہے جس کا کوئی مال نہ ہو اور اِس کے لئے وہ جمع کرتا ہے جس میں عَقل نہ ہو ۔ ‘‘                  (مِشْکَاۃُ الْمَصَابِیح ج۲، ص۲۵۰، حدیث۵۲۱۱)

{2}دنیا کی مَحَبت باعثِ نقصانِ آخِرت ہے

            حضرتِ سَیِّدُنَاابو مُوسیٰ اَشعَری  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ ہاشِمی، مکّی مدنی، محمدِ عَرَبیصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کا فرمانِ عبرت نشان ہے :مَنْ اَحَبَّ دُنْیَاہُ اَضَرَّ بِآخِرَتِہِ وَ مَنْ اَحَبَّ آخِرَتَہُ اَضَرَّ بِدُنْیَاہُ فَآثِرُوْا مَا یَبْقٰی عَلٰی مَا یَفْنٰییعنی جس نے دُنیا سے مَحَبَّت کی وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچاتا ہے اور جس نے آخرت سے مَحَبَّت کی وہ اپنی دنیا کو نقصان پہنچاتا ہے ، تو تُم باقی رہنے والی (آخرت ) کو فنا ہونے والی(دُنیا) پر ترجیح دو ۔ ‘‘  (اَلْمُسْتَدرَک لِلْحَاکِمج۵، ص۴۵۴، حدیث۷۹۶۷)

{3}آخِرت کے مقابلے میں دُنیا کی حیثیت

          حضرتِ سَیِّدُنَامُسْتَورِدبن شدّاد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ اللّٰہ کے مَحبوب ، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوبصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے اِرشاد فرمایا:’’وَاللّٰہِ مَا الدُّنْیَا فِی الْآخِرَۃِ إِلَّا مِثْلُ مَا یَجْعَلُ اَحَدُکُمْ إِصْبَعَہُ ہَذِہٖ فِی الْیَمِّ فَلْیَنْظُرْ بِمَ یَرْجِِعُ یعنی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی قسم!آخرت کے مقابلے میں دُنیا اتنی سی ہے جیسے کوئی اپنی اِس اُنگلی کو سَمُندَر میں ڈالے تو وہ دیکھے کہ اس اُنگلی پر کتنا پانی آیا ۔ ‘‘( صَحِیح مُسلِم، ص۱۵۲۹، حدیث۲۸۵۸)

          مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان  فر ما تے  ہیں :یہ بھی فقط سمجھانے کے لئے ہے ، ورنہ فانی اورمُتناہی(مُ ۔ تَ ۔ ناہی یعنی انتہاکو پہنچنے والے ) کو باقی غیر فانی غیر مُتنَاہی سے (اتنی) وجہ نسبت بھی نہیں جو(کہ) بھیگی اُ نگلی کی تَری کو سمند رسے ہے ۔ خیال رہے کہ دنیا وہ ہے جواللّٰہسے غافِل کر دے ، عاقِل عارِف کی دنیا تو آخِرت کی کھیتی ہے ، اُس کی دُنیا بہت ہی عظیم ہے ، غافِل کی نَماز بھی دُنیا ہے ، جو(کہ) وہ نام نُمود کے لئے ادا کرتا ہے ، عاقِل کا کھانا ، پینا ، سونا، جاگنا بلکہ جینا مرنا بھی دین ہے کہ حُضُور (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کیسنّت ہے ، مُسلمان اِس لیے کھائے پئے سوئے جاگے کہ یہ حُضُور (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کی سنتیں ہیں ۔ حیاۃُ الدُّنیا اور چیز ہے ، حیٰوۃٌ فِی الدُّنیا اور، حیاۃٌ للِّدُّنیا کچھ اور ، یعنی دنیا کی زندگی ، دنیا میں زندگی ، دنیا کے لئے زندگی ۔ جو زندگی دنیا میں ہو مگر آخرت کے لئے ہودنیا کے لئے نہ ہو ، وہ مبارَک ہے ۔ مولانا فرماتے ہیں ، شعر:

آب دَر کشتی ہلاکِ کِشتی اَست                     آب اَندرزَیرِ کِشتی پشتی است

(کشتی دریا میں رہے تو نجات ہے ، اور اگر دریا کشتی میں آجاوے تو ہلاکت ہے ) (مراٰۃ ج ۷ ص ۳ )

{4}بَھیڑ کامرا ہوا بچّہ

          حضرتِ سَیِّدُنَاجابر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رحمتِ عالم ، نُورِ مجَسَّم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم   بھَیڑ کے مُردہ بچے کے پاس سے گزرے اِرشاد فرمایا:’’تم میں سے کو ئی یہ پسند کرے گا کہ یہ اسے ایک دِرہم کے عِوَض(عِ ۔ وَ ۔ ض) ملے ؟ انہوں نے عرض کی :ہم نہیں چاہتے کہ یہ ہمیں کسی بھی چیز کے عِوَض(بدلے ) ملے ۔ تو اِرشاد فرمایا:’’ اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی قسم!  دنیا  اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے ہاں اس سے بھی زیادہ ذلیل ہے جیسے یہ تمہارے نزدیک ۔ ‘‘(مِشْکَاۃُ الْمَصَابِیح ، ج۲ص۲۴۲حدیث۵۱۵۷)

اللّٰہ!  حُبِّ دُنیا سے تُو مجھے بچانا

سائل ہوں یاخدا میں عِشقِ محمدی کا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

امیرالمؤمنین کی عاجزی

زمین پر بیٹھ گئے

            خلفائے  بَنُو اُمَیَّہ کا دَستور تھا کہ جب کسی جنازے میں شریک ہوتے تھے تو ان کے بیٹھنے کے لیے ایک خاص چادر بچھائی جاتی تھی ۔ ایک بار حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیزعَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز ایک جنازہ میں شریک ہوئے اور حسبِ معمول ان کے لیے بھی یہ چادر بچھائی گئی لیکن آپ  رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے اپنے لئے اِس اِمتیاز کو پسند نہیں کیا اور اس چادر کو پاؤں سے ایک طرف ہٹا کر زمین پر



Total Pages: 139

Go To
$footer_html