$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

ہوں گے جورسولُاللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے زمانے میں اداکرتے تھے ، آپ نے مُرتَدِّین کے مقابلہ کے لئے تلوار نیام سے نکالی، جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے ، آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  اہل باطِل پرغالِب آئے ، ان کی عزت وغُرورکوخاک میں ملادیااورزمین ان کے خون سے سیراب کرڈالی تاآنکہ وہ جس دروازے سے نکلے تھے انہیں دوبارہ اسی میں داخل کردیا، آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہنے ان سے حاصل ہونے والے ’’مالِ فَے ‘‘سے معمولی  سی چیزیں قبول کیں ، یعنی ایک دودھ دینے والی اونٹنی جس کادودھ پیاکرتے تھے ، ایک اُونٹ جس پرپانی ڈھویاجاتاتھااور حبشن لونڈی جوآپ کے بچے کودودھ پلاتی تھی ۔ جب آپ کی وفات کاوقت قریب آیاتوآپ نے محسوس کیاکہ یہ بارِخلافت ان کے حَلق کاکانٹااورکندھے کابوجھ ہے ، چنانچہ آپ نے یہ بارحضرتِ سیِّدُنا عمربن خطاب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہپرڈال دیااورنبیِّ پاک صاحبِ لَولاکصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنت پر(چلتے ہوئے ) اللّٰہ کوپیارے ہوگئے ۔ آپ کے بعدحضرتِ سیِّدُنا عمربن خطاب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے بارِخلافت سنبھالا، شہرآبادکئے ، سختی ونرمی کوباہم ملایا، نہایت مستعدی وخوش اُسلُوبی سے اس کو نبھایا اور ہرکام کے لئے موزوں ترین افراد مقررکئے ۔ حضرتِ سیِّدُنا مُغِیرہ بن شُعبہرضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے ایک غلام نے جوفیروزکہلاتاتھااورجس کی کُنیت ابولُؤلُؤتھی، آپ پر قاتلانہ حملہ کیا ۔ آپ نے حضرتِ ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما سے کہا کہ وہ لوگوں سے پتہ کرکے بتائیں کہ ان کاقاتِل کون ہے ؟لوگوں نے بتایاکہ آپ کومُغِیرہ بن شعبہ کے غلام ابولؤلؤنے قتل کیاہے ۔ یہ سن کرآپ نے بآوازِ بُلندالحمدللّٰہ کہی کہ وہ کسی مسلمان کے ہاتھ سے قَتل نہیں ہوئے ۔ پھرآپ نے اپنے قرضوں پر غور کیا تو ان کی ادائیگی کاباراپنی اولادکے ذمّہ ڈالنامناسب نہیں سمجھا، بلکہ جائدادفروخت کرکے اسے بیتُ المال میں داخل کردیا ۔ یہ سلسلۂ خلافت چلتا رہا یہاں تک کہ آپ دنیا کے سامنے  ہیں ، دنیاکے بادشاہوں نے آپ کو جنم دیا، سلطنت کی آغوش میں پلے ، اُسی کے پِستانوں سے دودھ پیااورممکن ذرائع سے سلطنت کے متلاشی رہے یہاں تک کہ جب وہ اپنے تمام خطرات کے ساتھ آپ تک پہنچی توآپ نے اسے نفرت وحقارت کی نظرسے دیکھا، آپ نے معمولی توشہ کے علاوہ اس سے کچھ فائدہ نہیں اٹھایا، بلکہ اس کووہیں ڈال دیاجہاں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے اسے ڈالاتھا ۔ پس اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کابے حدشُکرہے کہ آپ کے ذریعے ہمارے گناہوں کواس نے زائل اورہماری پریشانیوں کو دُور کردیا اورآپ کی بدولت ہمیں راست گواورراست باز بنادیا ۔ بس آپ اپنی اس روش پرچلتے رہیے اوراِدھراُدھراِلتِفات نہ کیجئے کیونکہ حق پرہوتے ہوئے کوئی چیزذلیل نہیں ہو سکتی اورنہ باطِل پرہوتے ہوئے کوئی چیز معزز ہوگی ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۹۱)

(۱۴)   دھوکے باز دُلہن

             حضرت سیِّدُنا حَسَن بَصرِی علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی نے حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کویہ نصیحت آموز خط لکھا:بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ط امَّا بَعد:یاامیرَالمُؤمنین !   یاد رکھئے کہ یہ دنیا ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں ، دنیا کو پچھاڑنابے حدضروری ہے ، جو اسے شکست دیتا ہے یہ اس کی تعظیم کرتی ہے اور جواس کی تعظیم کرتا ہے یہ اسے ذلیل وخوار کردیتی ہے ۔ دُنیا وہ میٹھا زہر ہے جسے لوگ بڑے مزے سے کھاتے ہیں اور ہلاک ہوجاتے ہیں ۔ دنیا میں زادِ راہ یہ ہے کہ دنیوی آسائشوں کو تَر ک کردیا جائے ، دنیا میں تنگدستی غناء ہے ، جو یہاں فقر وفاقہ کا شکار ہے  درحقیقت وہی غنی ہے ۔ یاامیرَالمُؤمنین ! دنیا میں اس مریض کی طرح رہئے جو اپنے مرض کے علاج کی خاطر دواؤں کی کڑواہٹ اور تکلیف برداشت کر تاہے تاکہ اس کا زخم اورمرض مزید نہ بڑھے ، اس تھوڑی تکلیف کو برداشت کرلیجئے اِنْ شَا ءَاللہ عَزَّوَجَلَّ بڑی تکلیف سے بچ جائیں گے ۔ بے شک عظمت اور فضیلت کے لائق وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ حق بات کہتے ہیں ، اِنکساری وتَواضُع سے چلتے ہیں ، اُنکارِزق حلال وطَیِّب ہوتا ہے ، ہمیشہ حرام چیزوں سے اپنی نگاہوں کو محفوظ رکھتے ہیں ، وہ خشکی میں بھی ایسے خوفزدہ رہتے ہیں جیسے سمندرمیں مسافر اور خوشحالی میں ایسے دعائیں کرتے ہیں جیسے مصائب وآلام میں دعا کی جاتی ہے ۔ اگر موت کا وقت متعین نہ ہوتا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  سے ملاقات کے شوق ، ثواب کی امید اور عذاب کے خوف سے ان کی روحیں ان کے اجسام میں لمحہ بھر بھی نہ ٹھہرتیں ، خالقِ لم یَزَلْ کی عظمت اور ہیبت ان کے دلوں میں راسِخ ہے اور مخلوق ان کی نظرو ں میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی (یعنی وہ فقط رضائے الہٰی عَزَّوَجَلَّ  کے طلب گار ہوتے ہیں )  ۔ یاامیرَالمُؤمنین !  یاد رکھئے کہ غور وفکر کرنانیکیوں اور بھلائی کی طرف لے جاتا ہے ، گناہوں پر ندامت برائیوں کو چھوڑنے میں مدد کرتی ہے ، دنیاوی سازوسامان کتناوافر کیوں نہ ہوباقی رہنے والا نہیں ، یہ اور بات ہے کہ لوگ اس کی خواہش رکھتے ہیں ۔ اس تکلیف کا بر داشت کرنا جس کے بعد ہمیشہ کا آرام ملے اُس راحت سے بہتر ہے جس کے بعد طویل غم واَلَم، تکالیف اور نَدامت وذلت کا سامنا کر نا پڑے ۔ اس بے وفا، شکست خُوردہ اور ظالِم دنیا سے آخرت کی زندگی کئی در جے بہتر ہے ۔ یہ دُنیا بڑی دھوکے بازہے ، لوگو ں کے سامنے خوب بن سنور کر آتی ہے اور تباہ وبرباد کرڈالتی ہے ، لوگ اس کی جھوٹی اداؤں کی وجہ سے ہلاکت میں جاپڑتے ہیں ، یہ اس دھوکے باز دلہن کی طر ح ہے جو خوب سجی سجائی ہو ، اس کا بناوٹی حسن وجمال آنکھوں کو خیر ہ کرنے لگے ، مگر جب اس کا شوہر اس کے قریب جائے تو وہ اسے ظالمانہ طریقے سے قتل کرڈالے ۔ یاامیرَالمُؤمنین ! عبرت پکڑنے والے بہت کم ہیں ، اب تو حال یہ ہے کہ دُنیا کی محبت عِشق کے درجے تک جاپہنچی ہے ، دُنیا اور اس کا عاشِق دونوں ہی ایک دوسرے کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں ، دُنیا کو پانے والا سمجھتا ہے کہ میری کامیابیوں کی مِعراج ہوگئی اور اپنے مقصدِ حیات اورمیدانِ محشر میں ہونے والے حساب وکتاب کو بھول جاتا ہے ، وہ نیکیاں کمانے کے مواقع کھو دیتا ہے پھرجب حالت ِنزع میں سختیاں طاری ہوتی ہیں تو اس کی آنکھیں کھلتی ہیں اوراپنی کامیابیوں پر پُھولے نہ سمانے والا یہ شخص اس حقیقت سے آگاہ ہوجاتا ہے کہ وہ تو دُنیا سے بُری طرح دھوکہ کھا چُکا ہے ، اس کے بعد وہ عاشِقِ نامُراد کی مانند دُنیا سے رخصت ہوجاتا ہے اور بے وفا دنیا کسی اور کو دھوکا دینے چلی جاتی ہے ۔ یاامیرَالمُؤمنین ! اس دنیا اور اس کی فریب کاریوں سے بچ کر رہئے ، اس دنیا کی مِثال اس سانپ کی طرح ہے جسے ہاتھ لگائیں تو نرم ونازُک معلوم ہوتاہے لیکن اس کا زہر جان لیوا ہوتا ہے ، اس دُنیا سے ہر گز محبت نہ کیجئے گا کیونکہ اس کا اَنجام بہت بُرا ہے ۔ دُنیا کا عاشِق جب دنیا حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو یہ اسے طر ح طرح سے پریشان کرتی ہے ، اس کی خوشیوں کو غم میں بدل دیتی ہے ، جو اس کی فانی اشیاء کے ملنے پر خوش ہوتا ہے وہ بہت بڑے دھوکے میں پڑا ، اس کا فائدہ  پانے والادَر حقیقت شدید نقصا ن میں ہے ، دنیاوی آسائشوں تک پہنچنے کے لئے انسان تکالیف ومصائب کا سامنا کرتا ہے ، جب اسے خوشی ملتی ہے تو یہ خوشی غم و مَلال میں تبدیل ہوجاتی ہے کیونکہ اس کی خوشی دائمی ہے اور نہ ہی اس کی نعمتیں ، ان کا ساتھ توکچھ دیر کا ہے ۔ یاامیرَالمُؤمنین !  اس دنیا کو تارِکُ الدنیا کی نظرسے دیکھئے نہ کہ عاشِقِ دنیا کی نظر سے ، جو اس دارِ ناپائیدار میں آیا وہ یہاں سے ضرور رُخصت ہوگا ۔ یہاں سے جانے والا کبھی واپس نہیں آتا اور نہ کوئی اس کی واپسی کا انتظار کرتا ہے ۔ سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار، شہنشاہِ اَبرار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کو دنیا اوراس کے خزانوں کی چابیاں عطا کی گئیں تو آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمنے لینے سے اِنکار فرمادیا ، حالانکہ آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمکو ان کی طَلَب سے منع نہ فرمایا گیا تھا اور اگر آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمان چیزوں کو قبول بھی فرمالیتے تب بھی آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمکے مرتبہ میں کوئی کمی واقع نہ ہوتی اور جس مَقام ومرتبہ



Total Pages: 139

Go To
$footer_html